ملک کے معروف عالم دین، شاعر، ادیب، صحافی اور سحر البیان خطیب مولانا حامد الانصاری انجم کا ان کے آبائی وطن لوہرسن بازار ضلع سنت کبیر نگر، اتر پردیش میں انتقال ہو گیا۔ وہ 84برس کے تھے اور گزشتہ بیس روز سے علیل تھے۔ ان کے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
مولانا حامد الانصاری انجم گورکھوپور کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ لیکن ڈاکٹروں نے بدھ کی شب میں برین اسٹروک کے بعد جواب دے دیا تھا۔ وہ پروسٹیٹ، شوگر، کڈنی اور دماغی مرض میں مبتلا تھے۔ علم و ادب کے میدان میں ان کی بڑی خدمات رہی ہیں۔انھوں نے دہلی کے مدرسہ ریاض العلوم جامع مسجد سے 1950میں فضیلت مکمل کی اور جامعہ طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے 1955 میں تکمیلِ طب کا کورس کیاتھا۔ ان کے بارہ شعری مجموعے (بیشتر نعتیہ اور اسلامی شاعری کے مجموعے) شائع ہوئے ہیں۔
شاعری میں ان کے استاد سرشار کسمنڈوی (جو کہ علامہ مہوی لکھنوی کے شاگرد تھے) اور لطافت علی ہما صدیقی کراچی تھے۔انھوں نے تین اخبارات بھی جاری کیے جن کے نام ’الہلال، الموئتمر اور خبرنامہ‘ ہے۔ ان کا میدان عمل خاص طور پر مشرقی اترپردیش اور ہند- نیپال کا سرحدی علاقہ تھا۔
ان کی حیات اور شخصیت پر دو کتابیں ’نقوش جاویداں‘ اور ’انجم تاباں‘ شائع ہوئیں ہیں۔ ملک کے معروف ادیب و شاعر حماد انجم ایڈوکیٹ، معروف صحافی سہیل انجم اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں شعبہ عربی کے صدر ڈاکٹر شمس کمال انجم کے علاوہ قمر جمال انجم اور آصف ہلال انجم ان کے صاحبزادگان ہیں۔ان کی نماز جنازہ مرحوم کے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر شمس کمال انجم (صدر شعبۂ عربی، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، جموں) نے پڑھائی۔
تکفین و تدفین میں مشرقی یوپی کے مختلف علاقوں اور نیپال سے کثیر تعداد میں علما، صحافی، شاعروادیب اور سماجی کارکن نے شرکت کی۔ متعدد علمی و ادبی شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور ان کے انتقال کو ایک عہد
کے خاتمے سے تعبیر کیا ہے۔
خبر بوسیلہ بزم قلم