دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔28ویں قسط ۔ سید اکمل حسین 19.02.2013, 06:04am , منگل (GMT+1)
سید اکمل حسین لندن
اس قسط میں تفصیلی ذکر ان خاتون کا کرنا تھا جو یورپ امریکہ میں ذکر حسین سے کمانے والے خطیر رقم ڈاکٹر طاہر القادری جیسے انسان کی خدمت میں پیش کر دیتی ہیں۔وہ طاہر القادری کو شیعیوں کو مشرک کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتا اور جو صرف یا علی کا نام لیکر عام مومن کو بلیک میل بھی کرتا ہے اور خود کو عاشق اہلبیت بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہی ڈاکٹر طاہر القادری ہے جس نے کیو ٹی وی کے پروگراموں اور یو ٹیوب پر پڑی ہوئی وڈیوز میں اپنے تئیں پورا زور لگا دیا ہوا ہے کہ مولائے کائنات ، نفس رسول حضرت علی علیہ السلام نے اپنی بیٹی ام کلثوم کی شادی خلیفہ دوئم حضرت عمر رضی اللہ سے کر دی تھی
ایسی گمراہی پھیلانے والے کے لیئے مومنین کے پیٹ کاٹ کر ڈالروں اور پاؤندز میں کمائی جانے والی رقم میں سے ڈاکٹر قادری کو پچاس لاکھ روپے عطیہ کے طور پر دینا اور اسکی تحریک کی حمایت کرنا عام مومن کی عقل میں نہیں آتا
میں نے ڈاکٹر قادری کے ساتھ انکی جو تصویر شائع کی تھی وہ میں نے گھر میں نہیں بنائی تھی بلکہ اسے طاہر القادری نے خود اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کروایا تھا جس میں منبر پر خواتین کو مکمل پردے کا درس دینے والی خاتون کس طرح تشریف فرما تھیں۔
کچھ لوگوں نے مجھ سے اس تصویر کے بارے میں اعتراض کیا ہے تو انکی خدمت میں بھی عرض ہےکہ یہ تصویر آپ بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں
اسی ڈاکٹر قادری کے ساتھ جب ہم جیسوں نے آقا مرتضی پویا اور مجلس وحدت المسلمین کے مولانا حضرات کو قادری کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا تھا تو یہی اعتراض کیا تھا کہ ایسے عناصر کی تحاریک کی مدد کرنا دراصل اپنی تحریک کو کمزور کرنا ہے اور ہمارا یہ نکتہ نظر آج پھر ایک بار درست ثابت ہوا ہے کہ کوئٹے میں شیعہ ہونے کے جرم میں ایک بار پھر اسی سے زائد عاشقان حسین کو بے گناہ شہید کر دیا گیا۔اب اتنے روز گزرنے کے بعد کیا کسی نے اسی ڈاکٹر قادری کی زبان سے کوئی مزمتی بیان سنا یا پڑھا؟
ہم نے اس سے ایک ماہ پہلے بھی کوئٹے میں نوے کے قریب عاشقان حسین کے جنازے چار دن علمدار روڈ پر پڑے رہنے کے بعد دفنائے تھے اور اب بھی احتجاج کے طور پر پھر لاشوں سمیت تا دم تحریر دھرنا جاری ہے۔ کبھی سوچیں کہ آخر کب تک یہ سب اسی طرح چلے گا۔
وہ قومیں اور ملت جنکی قیادت کمزور ہو انکو تاریخ میں اسی طرح کے عذاب سے گزرنا پڑتا ہے۔ کون ہے جو آج کی قیادت کا مقابلہ مفتی جعفر حسین مرحوم اور عارف الحسینی مرحوم جیسے قائدین سے کر سکے گا۔آج کا قائد تو صرف ٹی وی کے ایک انٹرویو پر یا وزیراعظم سے تصویری ملاقات پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ بند کمرے میں فیصلے کچھ ہوتے ہپیں اور باہر آکر ٹی وی کیمروں کے سامنے بیان کچھ اور دیئے جاتے ہیں۔ یہی قول فعل کا تضاد ہے جو عمل کی قوت کو کمزوری میں بدل دیتا ہے
ڈاکٹر طاہر القادری کی حمایت کرنے والی اور انکی قیادت کے گن گانے والی خاتون کے بارے میں انکا اصل چہرہ دکھانے کے لیئے تفصیل سے لکھنا مجھ پر قرض ہے کہ یہ قلم میرے پاس وارثان قلم کی امانت ہے اور مجھ فقیر کو گالیاں دینے والے بھی جانتے ہیں کہ میں نے نوے کے عشرے سے اب تک کہاں کہاں اور کس کس طرح خوشنودی آل رسول کے لیئے کام کیا ہے جسکا ایک پیسہ بھی کبھی معاوضہ نہیں لیا اور عزا خانوں اور عبادت گاہوں کے منتظمین اور ریزیڈنٹ مولویوں کو اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ میری آنکھیں چندھیا گئی ہیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے درمیان کی کالی بھیڑوں کو طشت از بام کرتے ہیں۔ کردار اور عمل کے وعظ کرنے والے بے کردار اور بے عمل لوگوں کو سامنے لاتے ہیں ۔ہماری ذات کا اسمیں کوئی عمل دخل نہیں۔ ہمیں کسی ٹی وی کا کیمرہ نہیں سنبھالنا،ہمیں کسی عبادت گاہ کا منتظم نہیں ہونا اور ہمیں کسی بھی ملت کا قائد نہیں بننا اور نہ ہی کسی عبادت گاہ کا منبر اور محراب سنبھالنی ہے
مجھ جیسوں نے عام آدمی کو آگاہ کرنے اور اسے بیدار رکھنے کا یہ مشکل راستہ اپنے آئمہ سے ہی سیکھا ہے کہ جنہوں نے وقت کے سخت اور بدترین حاکم کے سامنے بھی کلمہ حق کہا۔ جنگ صفین سے واپسی پر اپنے ایک خطبے میں امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جتنی تکلیف مجھے اپنے لوگوں نے دی ہے دشمن نے نہیں دی۔ آج ہمارا حال بھی ایسا ہی ہے۔
ایک ماہ قبل جب کوئٹہ کی ہزارہ برادری کی شہادتوں کا واقعہ ہوا تھا اور اس یزید صفت حکومت سے کچھ لوگوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر ایک لاش فروش قسم کا معاہدہ کیا تھا تو میں نے اسوقت بھی لکھا تھا کہ ایسے جابر حاکموں سے مزاکرات عام آدمی یا ملا مولوی کا کام نہں۔ یہ انتہائی شاطر اور دروغ گو لوگ ہوتے ہیں۔ اور پھر یہی ہوا کہ لوگوں کے سامنے ان مزاکرات کے جن نکات کا اعلان ہوا وہ سب جھوٹے نکلے اور ایک پر بھی عنمل درآمد نہ ہوا تا آنکہ اب ایک بار پھر اللہ و رسول کے دشمنوں نے آل رسول سے محبت کرنے والوں کو شہید کر دیا
کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ اس معاہدے کے تحت کس ایک شق پر عمل ہوا؟ کتنے مقدمات واپس ہوئے؟ کتنے اہل تشیح رہا ہوئے؟ ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کے لیئے کیا انتظامات ہوئے؟ چپکے چپکے یہ بلوچستان اسمبی کیسے بحال ہو گئی اور اسکے اجلاس اسپیکر کی صدارت میں کیسے شروع ہو گئے؟ یقین کیجئے کہ ان گزشتہ مزاکرات میں ہماری آنکھوں میں دھول جھونکی گئی اور ہمارے لوگ اندرون ملک اور بیرون ملک ٹی وی کیمروں کے سامنے بیٹھ کر بغلیں بجاتے رہے کہ ہم نے حکومت کو گٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور اپنے تمام مطالبات منوا لیئے۔
بس ایک بات کا کوئی جواب دے کہ شہدائے کوئٹہ کے نام پر دنیا بھر میں جمع ہونے ولی رقم میں سے کتنی رقم اصل متاثرین تک پہنچی ہے، کیا کوئی اسک حساب کتاب دے گا؟
مجھے یہاں لندن کے ایک صاحب نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ تحریر اور یہ تصاویر بھیجی ہیں جو کسی تبصرے کے بغیر حاضر ہیں
ان صاحب نے لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔قوم کے عطیات جو مسلکی ٹیلی ویژن کے مالکان اللہ و رسول اور امام زمانہ کے نام پر جمع کرتے ہیں اس کا مصرف کہاں پر ہوتا ہے۔ہوٹلوں میں ایسے پر تکلف دعوتوں میں؟یہ عمل اس تصویر سے صاف ظاہر ہو رہا ہے شہدا کے نام پر جو رقم اکھٹا کی گئی اگر کوئی فرد ان سے حساب مانگے تو ہو ان کا مجرم ہے اور وہ ان کے نزدیک دین سے خارج ہے۔ فیصلہ آپ پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھےہمیشہ کی طرح آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں