آپ جس وقت یہ کالم پڑھ رہے ہونگے کوئٹہ میں ایک سو تیرہ شہدا کی تدفین کا عمل شروع ہونے والا ہو گا کہ انیس فروری کا دن اس ضمن میں انتہائی ڈرامہ خیز اور ہر لمحے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ گزرا۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کی سماعت

کی اور حکومت کی ناکامی پر اظہار افسوس اور سرزنش کی اور خفیہ ایجنسیوں کے تفصیلی رپورٹیں طلب کر لیں
سپریم کورٹ کی سماعت کے ساتھ ہی حکومت نے اپنے واحد فعال وزیر اور حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے والے وزیر قمر الزمان کائرہ کی قیادت میں ایک چھ رکنی پارلیمانی وف مزاکرات کے لیئے کوئٹہ بھیجا جس نے شیعہ قیادت اور ہزارہ قیادت کے ساتھ سیکورٹی ایجنسیوں اور گورنر کی موجودگی میں بند کمرے میں مذاکرات کیئے اور پھر مولانا حضرات کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس میں مزاکرات کی کامیابی کی نوید سنائی اور وحدت المسلمین کے مولانا امین شہیدی کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دھنے ختم کرنے کا اعلان کیا اور ہزارہ سردار سے کہا کہ وہ لاشوں کی تدفین کے وقت کا اعلان کر دیں
یہ سرکاری ڈرامہ تو براہ راست ت وی پر نشر ہوا لیکن اسکے بعد جو کچھ ہوا وہ چند ہی لمحوں میں خبر بن گیا کہ شہدا کے ورثا نے گزشتہ تجربے کے پیش نظر مولانا حضرات کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا اور دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا اور پھر لگ بھگ چار گھنٹے بعد ایک بار پھر یہ خبر آن لائن بریکنگ نیوز بنی
مجلس وحدت المسلمین نے ایک بار پھر ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان ایک سو تیرہ شہدا کے ورثا کی موجودگی میں کیا ہے ۔مولانا امین شہیدی کو پریس کانفرنس کے دوران شہدا کے ورثاکی جانب سے تند وتیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اعلان کیا گیا ہے کہ بدھ کی سبح نو بجے شہدا کی تدفین کا عمل شروع ہو جائے گا ۔اس سے قبل سرکاری ٹیم کی پریس کانفرنس کے بعد مجلس وحدت المسلمین کی طرف سے دھرنے ختم کرنے کے اعلان کو شہدا کے ورثا نے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد کوئٹہ ،لاہور اور کراچی میں دھرنے ختم کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
اس سے قبل سرکاری پریس کانفرنس میں قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ چار دہشت گرد ہلاک کیئے گئے ہیں اور اب تک ایک سو ستر افراد گرفتار کیئے گئے ہیں اور یہ کاروائی نتائج حاصل کرنے تک جاری رہے گا۔اب تک کی کاروائی کے دوران بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادہ اور اسلحہ پکڑا گیا ہے
مجھ جیسے لاکھوں لوگ یہ سن کر حیران ہو رہے تھے کہ کئی برس کی دہشت گردی کے دوران حکومت اور ایجنسیاں ایسا کوئی کارنامہ نہ کر سکیں لیکن اٹھارہ گھنٹے میں برسوں کا کام ہو گیا
جنرل سیکرٹری مجلس وحدت مسلمین علامہ امین شہیدی نے اس امر کا اعتراف کیا کہ دھرناختم کرنیکے اعلان کے بعد بعض نوجوانوں نے اعتراض کیا، جس کے بعد یہ تاثرپھیل گیاکہ شہداکے اہلخانہ نے دھرناختم کرنیکافیصلہ قبول نہیں کیا، یہ غلط ہے کہ شہداکے لواحقین نے فیصلہ قبول نہیں کیا۔ اسکے بعد ٹی وی کیمرے پر چند ورثا سے یہ بیان دلوایا گیا کہ جو مولانا نے کہا ہے وہ اس سے اتفاق کرتے ہییں
اس دوسری پریس کانفرنس کے دوران سانحہ کوئٹہ کے لواحقین نے دھرناختم کرنے کااعلان کردیا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ دھرنے ختم کرناعلماکی گزارش ہے اس لیے عمل ہوناچاہیے۔
امین شہیدی نے اپیل کی کہ ملک بھرمیں دھرنے کے شرکاپْرامن طورپرمنتشرہوجائیں،اُن کا کہنا تھاکہ خدانخواستہ دوبارہ ایساکوئی واقعہ ہواتوپھرملک بھرمیں دھرنے دیں گے۔گورنر بلوچستان کی سربراہی میں حکومتی وفد اور شیعہ علما کے درمیان اس بات پر اتفاق کرلیا گیا ہے کہ علامہ امین شہید کی سربراہی میں شیعہ عمائدین کی تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی جسے کوئٹہ میں ہونے والے آپریشن میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ رکھا جائیگا۔
مجھے اس دوسری پریس کانفرنس سے یوں لگا کہ امین شہیدی حکومت کا کام آسان کر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ کام انہیں سونپا گیا ہو۔ دوسری پریس کانفرنس میں وہ ایک خاتون کے مسلسل سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ خاتون
کا تقاضہ تھا کہ جو سمجھوتہ دستخط ہوا ہے اسکی کاپی شہدا کے ورثا کو دی جائے۔لیکن خطابت کے دھنی مولانا نے بات طریقے سے ٹال دی۔ یہ ہزارہ برادری بنیادی طور پر معصوم لوگ ہیں جنکو اس موقع پر بھی شاید بہلایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کیسی کمال کی حکومت ہے جس نے اٹھارہ گھنٹے میں ایک سو ستر گرفتاراورسات دہشت گرد ہلاک کر ڈالے جن میں علمدار روڈ کا ماسٹر مائینڈ بھی شامل ہے۔ دیکھا آپ نے انہوں نے ماسٹر مائینڈ شاہ ولی کو ہی مار دیا۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ یہ کتنا پرانا کھیل ہے پولیس مقابلے میں مارے جانے کا
ان لمحہ با لمحہ بدلتے حالات میں فیس بک کا سوشل میڈیا بھی ایک رخ پیش کر رہا تھا جہاں یہ گفتگو ہو رہی تھی
لاشوں پر لیڈری چمکانے والے لیڈر, حکومت اور ایجنسیاں ایک بار پھر اپنا کام دکھا گئے ۔ ۔ ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ کرے کہ اس بار گزشتہ معاہدے کی طرح دھوکہ نہ ہو۔ہم میں سے کون چاہتا ہے کہ ہمارےعزیز مرتے رہیں۔ لیکن گزشتہ بار بھی معاہدے کے بعد ہم جیسے لوگوں نے اسے لاش فروشی کہا تھا تو احباب نے ایسی ہی باتیں کی تھیں۔ میں آپکو آج کی صرف ایک مثال دیتا ہوں فیصلہ آپ خود کر لیجئے۔صدر،وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں وزیر قانون نے یہ مشورہ دیا جو مان لیا گیا کہ فوج کو اس معاملے سے الگ رکھا جائے اور مسلہ سیاست دان اور مقامی فورسز حل کریں۔ لیکن شاید آپ سب نے براہ راست ٹی وی پر سرکاری وفد کے قائد قمر الزمان کائرہ کو یہ کہتے سنا ہو گا کہ کل سے شروع ہونے والا آپریشن فوج ہی کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔اب کس کی بات درست ہے؟ برادران مجھ جیسے فقیروں نے یہ اقتدار کی راہداریاں بہت قریب سے دیکھی ہوئی ہیں۔یقین کیجئے جو ٹی وی کیمروں پر بتایا جا رہا ہوتا ہے ایسا نہیں ہوتا۔ گزشتہ معاہدے کے بعد ہم نے کہا تھا کہ طے شدہ نکات میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں ہوا اور آج ہماری یہ بات سچ ثابت ہوئی جب ہزارہ برادری کے قائد سعادت ہزارہ نے اس بات کی تصدیق و توثیق کی۔ اللہ کرے اس بار پھر ہمارے ساتھ دھوکہ نہ ہو جائے
ایک صاحب نے لکھا کہ ۔۔۔۔۔ جیسی حکومت بس ویسی ہی ہماری قیادت۔ ساجد نقوی جو گزشتہ بار سین سے غائب تھے اس بار بھی غائب ہیرہے اور سارا میلہ امین شہیدی نے لوٹ لیا۔ میڈیا بڑی ظالم چیز ہے زیرو کو ہیرو بنا دیتا ہے۔میں آپکو پوری زمیداری سے بتا رہا ہوں کہ یہ آپریشن فوج نہیں کر رہی۔ کائرہ نے خالص سیاسی بیان دیا ہے۔ میں نے خود اپنے ذرائع سے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ ایک سو سترہ افراد کی گرفتاری کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ذرا پلیز کائرہ کو بار بار سنیں۔اس نے کہیں نہیں کہا کہ ایک سو سترہ دہشت گرد گرفتار کیئے ہیں۔اس نے کہا ہےکہ اتنے افراد گرفتار کیئے ہیں۔ یاد رکھیں میرا تجربہ یہ ہے کہ کسی بھی حکومت میں سب سے جھوٹا انسان اس حکومت کا ترجمان ہوتا ہے
ایک اور صاحب نے سوشل میڈیا میں لکھا کہ ۔۔۔۔۔۔ ہمارے مومنین اتنے معصوم نہ ہوتے تو ان تجارت پیشہ وردی پوشوں کے ذہنی غلام نہ ہوتے۔ کل لندن کے ایک مسلکی ٹی وی پر پاکستان سے بھاگا ہوا ایک ملاں بیچارے مومنین کو یہ کہہ کر بے وقوف بنا رہا تھا کہ یہاں رکھے رجسٹر میں اپنا نام درج کر دیں کہ اس طرح آپ امام زمانہ کی فوج میں شامل ہو جائیں گے۔کاش اس ملا نے یہ بھی پڑھا ہوتا کہ منتقم خون حسین جب تشریف لائیں گے تو کس طبقے کو سب سے پہلے تہہ تیغ کریں گے
سیدہ حنا نقوی نے کوئٹہ الرٹ کے عنوان سے لکھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیعہ ھزارہ کی اپیل: "ہم دھرنا ختم نہیں کر رھے کیونکہ صرف 13 خاندانوں کو بہلا پھسلا کر تدفین کے لئے آمادہ کیا گیا ہے، جن لوگوں کے علاقوں میں دھرنا ختم ہو گیا ہے وہ قریبی دھرنے کا حصہ بن جائیں، صبح لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
اسی دوران کراچی میں ایک پریس کانفرنس ہوئی جس مین معروف عالم علامہ طالب جوہری نے کہا کہ خون ناحق کا بہنا کسی کو پسند نہیں جو حکمراں عوام کی جان ومال کا تحفظ نہیں کر سکتے انہیں قتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ایم کیو ایم کے ڈپٹی

کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی انتہا پر پہنچ گئی ہے حکمراں ہوش کے ناخن لیں۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ دہشت گردی کے انسداد کے لئے تمام جماعتوں کا یکجا ہونا خوش آئند ہے۔ فوجی آپریشن سے مسئلے حل نہیں ہوتے حکومت کو قانون کی بالا دستی پر عمل کرنے کے اقدمات کرنے چاہئیں
ادھر یہ خبر بھی ملی کہ حساس اداروں نے کوئٹہ سے گرفتار افراد کی نشاندہی پر لاہور میں کارروائی کی اور ایک شخص داد محمد کو گرفتار کر لیا۔ دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد اکبری منڈی کی دکان وارث کیمیکل سے ایک ایک کلو کی مقدار میں خریدا گیا۔۔۔۔۔واہ واہ واہ۔کمال ہو گیا نا۔ دیکھا آپ نے کہ اگر نیت درست ہو تو برسوں کا کام گھنٹوں میں ہو جاتا ہے
اس ساری صورت حال میں مختلف رد عمل بھی سامنے آئے۔ سب سے عجیب رد عمل لندن کراچی کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد الطاف بھائی کا سامنے آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کے باوجودیکطرفہ طورپردھرنے کے خاتمے کا اعلان کیاگیا، شیعہ اکابرین نے احتجاجی دھرنے کے خاتمے کا اعلان کرکے سوگواروں کومایوس کیا، یہ عمل شیعت اور اہل تشیعوں کے عقیدے کو مجروح کرنی کے مترادف ہے۔ الطاف حسین نے مزید کہا کہ بعض عناصر شہداکی لاشوں پر سیاست چمکانے کی کوشش کررہے ہیں، سانحہ پرپارلیمانی کمیٹی بھیجناشہداکے لواحقین کامذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ایم کیو ایم قائد کا کہنا تھا کہ مسلح افواج اور خفیہ ادارے بتائیں کہ خون کی ہولی کب تک کھیلی جائیگی، مفتی اعظم بتائیں کہ اس سانحہ پرقرآنی تعلیمات کیادرس دیتی ہیں۔
میں کم علم تو اس بیان کو سمجھ نہیں پایا شاید اپ کچھ سمجھے ہوں؟
راولپنڈی مین قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ معاہدے کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کوئٹہ کے مظلومین کو دوسری مرتبہ چکمہ د ینے کی کوشش کی ہے کوئٹہ و کراچی کو فوج کے حوالے کئے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔اپنے رد عمل میں انہوں نے اس موقف کو دہرایا کہ اگر بجلی کے میٹر چیک کرنے اور ووٹر لسٹیں چیک کرنے کیلئے فوج کی مدد لی جاسکتی ہے تو امن کے قیام کیلئے فوج طلب کرنے میں کیا امر مانع ہے ۔
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ قابل دیرپا معاہدہ وہی ہوگا جسے عوام اور ہزارہ برادری کے نمائندگان منظور کریں گے غیر نمائندہ تنظیموں کا کوئی فیصلہ عوام قبول نہیں کریں گے
اب میرے لیئے یہ سمجھنا محال ہے کہ یہ غیر نمائیندہ تنظیمیں کونسی ہیں؟ کاش موسوی صاحب اسکی بھی وضاحت فرما دیتے
خیر اب یہ ساری صورت حال آپ کے سامنے ہے فیصلہ آپ خود کیجئے کہ کیا شہدا کے لاشوں پر ہر تنظیم اور قائد تجارت نہیں کرنا چاہ رہا؟