اصحاب امام حسین علیہ السلام (حصۂ اول)
(دائرۃ المعارف کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ہاشمی ناصروں پر ایک دقیق نظر)
تحقیق و تبصرہ: حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر
دوستی ایک ایسا پاک و پاکیزہ اور روحانی رشتہ ہے کہ جس کے ذریعہ دوستوں کے درمیان محبت،عشق، ہمدلی، رفاقت، یاوری اور ایثار جیسی نیک صفات وجود میں آتی ہیں، لہذا اس رشتہ کو دین اسلام نے مقدس رشتہ قرار دیتے ہوئے اس کے معیارات کو معین فرمایا ہے، امام علی علیہ السلام دوست کے بارے میں فرماتے ہیں: الصدیق الصدوق من نصحک فی عیبک، و حفظک فی غیبک، و آثرک علی نفسہ (غرر الحکم جلد ۲ ص ۷۶) سچا دوست وہ ہے جو اپنے دوست کے عیب کو بیان کرے، اسکی غیر موجودگی میں اسکی حفاظت کرے، اور اس کو خود پر مقدم رکھے۔
اس حدیث مبارکہ کے پہلے دو معیارات پر عمل کرنا تو ممکن ہے لیکن ایسے افراد بہت کم نظر آتے ہیں جو دوست کو خود پر مقدم رکھ سکیں، تاریخ بشریت میں صرف کربلا معلی ہی ایسا مقام ہے کہ جہاں اصحاب امام حسین علیہ السلام نے دوستی کے تمام فرائض کو پورا کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کو امام حسین علیہ السلام پر قربان کیا، یہی وجہ ہے کہ امامؑ نے ان کے بارے میں فرمایا: فانی لا اعلم اصحابا اوفی و لا خیرا من اصحابی، و لا اھل بیت ابر و لا اوصل من اھل بیتی، فجزاکم اللہ عنی جمیعا خیرا، میں نے اپنے اصحاب اور ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور بہتر اصحاب نہیں دیکھے، اور نہ ہی اپنے اہلبیت سے زیادہ نیک و صالح اور ہمدل کوئی اہلبیت پائے ہیں، اللہ تعالی آپ سب کو میری طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے، امام حسین علیہ السلام کی اس گفتار سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کے اصحاب رسول اسلام اور تمام ائمہ کے اصحاب پر ہر اعتبار سے برتری رکھتے ہیں ۔
انصار امام حسین علیہم السلام کی عظمتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حسینی دائرۃ المعارف کے مصنف آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے اس دائرۃ المعارف کی ۶ جلدوں کو معجم انصار حسینؑ (ہاشمی و غیر ہاشمی، مرد و عورت) سے مختص فرمایا ہے جس میں مصنف نے ان کی حیات طیبہ پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے، ہم اس مقام پر معجم انصار امام حسینؑ (ہاشمی انصار) کی جلد اول( جو ۵۴۹ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۲۰۰۸ عیسوی میں زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہے) میں موجودہ مطالب پر روشنی ڈالتے ہیں۔
کربلا میں ہاشمی شھداء
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کربلا میں شہید ہونے والے تمام ہاشمی شہداء جناب ابوطالب کی آل سے تھے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا کسی نے انکار نہیں کیا، اگر تاریخ اسلام کا دقت کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ابتدائے اسلام سے واقعۂ کربلا تک ابوطالب اور ان کی آل ہی نے اپنی قربانیوں کے ذریعہ اس دین کی جڑوں کو مضبوط کیا ہے، لہذا ہم اس مقام پر سب سے پہلے جناب ابوطالب اور انکی آل کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جس ذریعہ یہ بات واضح ہوجائے گی کہ کربلا میں ہاشمی شہداء صرف ابوطالب کی آل سے تھے ۔
ابوطالب اور انکی آل:
جناب ابوطالب کا نام شیبۃ الحمد تھا، آپ کا عقد فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی سے ہوا ، آپ اور آپ کی زوجہ دونوں ہاشمی نسب تھے، اللہ تعالی نے فاطمہ بنت اسد سے آپ کو آٹھ اولاد عطا فرمائی، جن کے نام بترتیب یہ ہیں:
۱۔ طالب(ولادت: ۵۳قبل از ہجرت، وفات: ۲ ہجری)۔۲۔ فاختہ (ولادت: ۴۸ قبل از ہجرت، وفات: ۶۰ ہجری)۔ ۳۔ عقیل (ولادت: ۴۳ قبل از ہجرت، وفات: ۶۰ ہجری)۔ ۴۔ جمانہ(ولادت: ۳۸ قبل از ہجرت، وفات: ۶۱ ہجری)۔ ۵۔ جعفر طیار (ولادت: ۳۳ قبل از ہجرت، وفات: ۸ ہجری)۔۶۔ ریطہ(ولادت: ۲۸ قبل از ہجرت)۔ ۷۔ علیؑ ابن ابیطالب (ولادت: ۲۳ قبل از ہجرت، شہادت:۴۰ ہجری)۔۸۔ اسماء (ولادت ۱۸ قبل از ہجرت)۔
جناب ابوطالب نے رسول اسلام کے لئے پدری کی اور فاطمہ بنت اسد نے ایک ماں کی طرح آنحضرت کی خدمت فرمائی یہی وجہ ہے کہ رسول اسلام انھیں ماں کہہ کر مخاطب فرماتے تھے، جب جناب ابوطالب کا سنہ ۳ قبل از ہجرت میں انتقال ہوا تو رسول اسلام نے اس سال کو عام الحزن قرار دیا، اور فاطمہ بنت اسد کے انتقال پر آنحضرت نے ان کی تشییع میں پا برہنہ شرکت کی، اپنے دستہای مبارک سے آپ کی لحد کو کھودا اور اس میں لیٹ کر یہ دعا پڑھی: اللہ الذی یحیی و یمیت وھو حی لایموت، اللھم اغفر لامی فاطمۃ بنت اسد، و لقنھا حجتھا، و وسع مدخلھا، بحق نبیک محمد و الانبیاء الذین من قبلی فانک ارحم الراحمین، اللہ ہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ایسا زندہ ہے جس پر موت نہیں آتی، اے اللہ میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما، اور انھیں ان کی حجت سے آگاہ فرما، اور ان کی قبر میں وسعت عطا فرما، اپنے نبی محمد اور جو انبیاء مجھ سے پہلے گزرے ہیں ان کے حق کا واسطہ، کہ تو ہی رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، اور پھر رسول اسلام نے فاطمہ بنت اسد کو اپنی خاص چادر اڑھائی، جب اصحاب آپ کی اس روش سے متعجب ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا:البستھا قمیصی لتلبس من ثیاب الجنۃ، واضطجعت فی قبرھا لیخفف عنھا من ضغطۃ القبر فانھا کانت من احسن خلق اللہ صنیعا بی بعد عمی ابیطالب، میں نے انھیں اپنی قمیص پہنائی تاکہ وہ جنت کا لباس زیب تن کریں، اور میں نے انھیں قبر میں لٹایا ہے تاکہ ان سے قبر کی سختی کم ہوجائےکیونکہ وہ میرے لئے میرے چچا ابوطالب کے بعد تمام مخلوق خدا سے زیاد نیک سلوک کرنے والی خاتون تھیں (طبقات کبری جلد ۸ صفحہ ۲۲۲، بحار الانوار جلد ۵۳ صفحہ ۱۸۰)۔
ابوطالب کے بعد دین محمدی کی فروغ میں آپ کی اولاد میں سے جناب طالب، جناب عقیل، جناب جعفر طیار اور مولا علیؑ اور ان کی اولاد نے عظیم خدمات انجام دیئے، ہم اس مقام پر ان حضرات کی خدمات او ر انکی آل کا تذکرہ کرتے ہیں:
طالب بن ابو طالب:
جناب طالب دین ابراہیمی کے پیروکار تھے، آپ نے اسلام قبول فرمایا لیکن مکہ کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھا، جب جنگ بدر میں کفار مکہ نے آپ کو مشرکین کے ساتھ چلنے پر مجبور کیا تو رسول اسلام نے فرمایا: انی قد عرفت رجالا من بنی ہاشم قد خرجوا الی بدر کرھا فمن لقی منکم احدا منھم فلا یقتلہ، بیشک جنگ بدر میں کفار کے ساتھ کچھ بنی ہاشم اجبارا لائے گئے ہیں لہذا اگر تم میں سے کوئی بھی انھیں میدان جنگ میں دیکھے تو انھیں قتل نہ کرے (تارٰیخ طبری جلد ۲ صفحہ ۲۸۲) رسول اسلام کا اشارہ جناب طالب کی طرف تھا کیوکہ کفار انھیں بالاجبار اس جنگ میں لے کر آئے تھے، مکہ سے نکلتے وقت آپ نے ان اشعار کے ذریعہ کفار مکہ سے مخالفت کا اظہار فرمایا: یا رب اما خرجوا بطالب، فی مقنب من ھذہ المقانب، فلیکن المطلوب غیر طالب، و الرجل المغلوب غیر الغالب، اے خدا یہ لوگ مجھے اپنے ساتھ جنگ میں لے جا رہے ہیں،خدا کرے ان کی مراد پوری نہ ہو ،اور میرا شمار ان میں نہ ہو جو کہ مسلمانوں پر غلبہ پیدا کریں۔
آپ کی شہادت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ جب کفار مکہ کو آپ کے ایمان کا علم ہوا تو نھوں نے آپ کو آپ کے گھوڑے کے سمیت دریا میں غرق کردیا، یہی وجہ ہے کہ جنگ بدر کے بعد کسی کو جناب طالب کا پتہ نہ چل سکا، لہذا تاریخ میں آپ کے عقد اور فرزندوں کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے ۔
عقیل بن ابو طالب:
جناب عقیل اپنے بڑے بھائی طالب کی ولادت کے دس سال بعد متولد ہوئے، ابوطالب آپ سے بیحد محبت کرتے تھے اسی لئے رسول اسلام نے آپ کے بارے میں فرمایا: انی لاحبک حُبین، حبا لک و حبا لابیطالب، میں آپ سے دوہری محبت کرتا ہوں، ایک خود آپ کی وجہ سے اور دوسرے آپ کے (بابا) ابوطالب کی وجہ سے، اور ایک بار آنحضرت نے حضرت علی سے فرمایا: انی احب عقیلا حبین حبا لہ و حبا لحب ابیطالب لہ، و ان ولدہ لمقتول فی محبۃ ولدک تدمع علیہ عیون المومنین و تصلی علیہ الملائکۃ المقربون ثم بکی رسول اللہ و قال الی اللہ اشکو ما تلقی عترتی بعدی،( کتاب شہید مسلم ابن عقیل: ۷)، مجھے عقیل سے دو حوالوں سے محبت ہے، ایک خود ان کے اپنے حوالہ سے اور دوسری اس حوالہ سے کہ ابوطالب کو ان سے محبت تھی اور یہ کہ ان کا فرزند آپ کے فرزند کی محبت میں قتل کیا جائے گا جس پر مومنین کی آنکھیں اشکبار ہوں گی اور ملائکہ مقربین اس پر نماز پڑھیں گے، یہ کہہ کر حضرت رسول خدا رونے لگے اور فرمایا: میں اپنا دکھ خدا کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں کہ میرے بعد میری عترت کن حالات سے دوچار ہوگی۔
اسلام سے پہلے جناب عقیل بھی دین ابراہیمی کے پیروکار تھے، آپ نے قبل از ہجرت اسلام کا اظہار کیا لیکن کفار کے گزند سے محفوظ رہنے کے لئے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا، آپ کو کفار نے جنگ بدر میں شرکت کرنے پر مجبور کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ رسول اسلام نے تاکید فرمائی کہ وہ ہاشمی جو اس جنگ میں دشمن کے ساتھ مکہ سے جبرا لائے جائیں انھیں قتل نہ کیا جائے، جنگ کے اختتام پر جناب عقیل رسول اسلام کے ہمراہ ہوئے اور آپ نے ساری عمر آنحضرت اور اپنے بھائی حضرت علیؑ کی خدمت میں گذاردی۔
جناب عقیل عرب کے ماہر نسب شناس بھی تھے، آپ مسجد نبوی میں بیٹھ کر لوگوں کو ان کے نسب کی تفصیلات سے آگاہ کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت امیر المومنین اپنے فرزند امام حسینؑ کے لئے ایک شجاع یاور و بھائی کا اہتمام کرنا چاہتے تھے تو آپ نے جناب عقیل ہی سے مشورہ کیا تھا اور ان کی تجویز پر حضرت علیؑ نے فاطمہ کلابیہ سے شادی کی جن سے جناب عباس متولد ہوئے۔
جناب عقیل کے یہاں مختلف ازواج سے ۱۸ فرزند اور ۸ بیٹیاں متولد ہوئیں، جن کے نام تاریخ میں کچھ اس طرح سے ملتے ہیں:
لڑکیوں کے نام:
۱۔ زینب: آپ جناب عقیل کی بیٹیوں میں سب سے بڑی تھیں اور کہا جاتا ہے کہ آپ نے امام حسین علیہ السلام کے لئے مرثیے کہے ہیں۔ ۲۔ ام عبد اللہ ۔ ۳۔ رملہ: آپ بھی شاعرہ تھیں اور آپ نے کربلا میں شہید ہونے والے آل عقیل کے لئے مرثیے کہے ہیں۔ ۴۔ ام القاسم ۔ ۵۔ ام ہانی: آپ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی با حیات تھیں۔ ۶۔ فاطمہ ۔ ۷۔ ام نعمان (ام لقمان): آپ نے بھی شہدائے آل عقیل اور امام حسین علیہ السلام کے لئے مرثیے کہے ہیں۔ ۸۔ اسماء : آپ نے امام حسین علیہ السلام کے لئے مرثیے کہے ہیں۔
روایت میں منقول ہے کہ بعد از شہادت امام حسین علیہ السلام ام لقمان، اپنی بہنوں یعنی اسماء، ام ہانی، رملہ، زینب کے ساتھ قبر رسول پر تشریف لے جاتیں اور گریہ و بکا کے بعد مہاجرین و انصار کے سامنہ شہدائے کربلا کے لئے مرثیہ پڑھتی تھیں۔
فرزندوں کے نام:
۱۔ یزید، اسی فرزند کے نام پر جناب عقیل کی کنیت ابویزید قرار پائی ۔۲۔ سعید ۔۳۔ ابان ۔۴۔ عثمان ۔ ۵۔ عبد الرحمان ۔۶۔ حمزہ ۔۷۔ جعفر الاکبر ۔۸۔ عبد اللہ الاکبر ۔۹۔ عبد اللہ الاصغر ۔ ۱۰۔ جعفر الاوسط ۔۱۱۔ جعفر الاصغر ۔۱۲۔ علی الاکبر ۔ ۱۳۔ علی الاصغر ۔۱۴۔ عیسی ۔ ۱۵۔ محمد الاکبر ۔۱۶۔ مسلم ۔۱۷۔ ابوسعید الاحول ۔۱۸۔ عبد مناف، مورخین نے جناب عقیل کے اور بھی فرزندوں کے نام درج کئے ہیں جن کے اسامی مذکورہ ترتیب کے مطابق یہ ہیں: ۔۱۹۔ محمد الاصغر ۔۲۰۔ حکم ۔۲۱۔ عقیل ۔۲۲۔ معین ۔۲۳۔ عبد اللہ الاوسط ۔۲۴۔ احمد ۔۲۵۔ فضل۔
جناب عقیل ابن ابیطالب کے مذکورہ تمام فرزندوں میں سے مندرجہ ذیل ۱۶ فرزند کربلا میں شہید ہوئے:
۱۔ ابوسعید۔ ۲۔ احمد ۔۳۔ جعفر الاکبر ۔۴۔ حکم ۔۵۔ حمزہ ۔۶۔ سعید ۔۷۔ عبد الرحمان الاکبر۔ ۸۔ عبد اللہ الاصغر۔ ۹۔ عبد اللہ الاکبر ۔ ۱۰۔ عقیل۔ ۱۱۔ علی الاکبر ۔۱۲۔ عون ۔۱۳۔ محمد الاکبر۔ ۱۴۔ مسلم۔ ۱۵۔ معین۔ ۱۶۔ موسی۔
جعفر بن ابوطالب
جعفر طیار ابوطالب کے تیسرے فرزند تھے جو سنہ ۳۳ قبل از ہجرت کو پیدا ہوئے اور آپ نے سنہ ۸ ہجری میں جنگ موتہ میں شہادت پائی، رسول اسلام نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی جعفر کو انکی چار خصلتوں کی وجہ سے دوست رکھتا ہے:
۱۔ انکا کبھی شراب نہ پینا ۔۲۔ کبھی جھوٹ نہ بولنا ۔۳۔ کبھی زنا نہ کرنا۔ ۴۔ کبھی کسی بت کے سامنے سجدہ نہ کرنا، جبکہ یہ تمام امور زمانۂ جاہلیت میں عام تھے۔
اللہ تعالی نے جناب جعفر طیار کو اسماء بیت عمیس سے آٹھ فرزند عطا فرمائے، جن کے اسماء یہ ہیں:
۱۔ عبد اللہ الاکبر ۔۲۔ عون (شہید کربلا)۔۳۔محمد الاکبر (آپ جنگ صفین میں شہید ہوئے) ۔۴۔ محمد الاصغر (شہید کربلا)۔۵۔حمید ۔۶۔ حسین۔ ۷۔ عبد اللہ الاوسط ۔۸۔ عبد اللہ الاصغر۔ بعض مؤرخین نے آپ کے فرزندوں میں حمزہ کا بھی تذکرہ کیا ہے، یہاں اس بات کا احتمال ہے کہ حمید اور حمزہ دونوں ایک ہی فرد کے دو نام ہوں، چونکہ جنھوں نے حمزہ کا تذکرہ کیا ہے انھوں نے حمید کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
علی بن ابیطالب:
حضرت علی ابن ابی طالب جناب ابوطالب کے چوتھے فرزند تھے، آپ نے مختلف زمانوں میں آٹھ عقد فرمائے، آپ کی ازواج میں حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا، امامہ العبشمیہ، فاطمہ کلابیہ، خولہ حنفیہ، اسماء خثعمیہ، محیاۃ الکلبیہ، ام سعید الثقفیہ، لیلی النھشلیہ شامل ہیں،ان از ازواج میں سے ہر ایک سے اللہ تعالی نے آپ کو فرزند عطا فرمائے، ان کے علاوہ چند کنیزوں سے بھی آپ کو اولاد ہوئی ہے، ہم اس مقام پر ہر زوجہ اور کنیز سے امام علیؑ علیہ السلام کی اولاد کا تذکرہ کرتے ہیں:
۱۔ فاطمہؑ زہرا بنت محمدؑ: آپ زوجہ امام علیؑ تھیں اور امام حسنؑ، امام حسینؑ، حضرت زینبؑ، حضرت ام کلثومؑ اور جناب محسنؑ آپ کی اولاد تھے ۔۲۔ امامہ بنت ابی العاص العبشمیہ: آپ زوجہ امام علیؑ تھیں اور محمد الاوسط اور عبد الرحمان آپ کے فرزند تھے ۔۳۔ فاطمہ بنت حرام الکلابیہ: آپ زوجہ امام علیؑ تھیں اور عباس الاکبر، جعفر الاکبر، عبد اللہ الاکبر، عثمان الاکبر آپ کے فرزند تھے ۔۴۔ خولہ بنت جعفر الحنفیہ: آپ زوجہ امام علیؑ تھیں اور محمد الاکبر (ابن حنفیہ) آپ کے فرزند تھے ۔۵۔ صہباء بنت عباد بن ربیعہ التغلبیہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور عمر الاکبر اور رقیہ الکبری آپ کے فرزند و دختر تھے ۔۶۔ اسماء بنت عمیس الخثعمیہ: آپ زوجہ امام علیؑ تھیں اور یحیی، عون اور مسلمہ آپ کے فرزند و دختر تھے ۔۷۔ ام عون الاکبر: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور عون الاکبر آپ کے فرزند تھے ۔۸۔ ام معین: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں، اور معین آپ کے فرزند تھے ۔۱۰۔ محیاۃ بنت امرؤ القیس الکلبیہ: آپ امام علیؑ کی زوجہ تھیں اور ام یعلی آپ کی دختر تھیں ۔ ۱۱۔ ام شعیب المخرومیہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور نفیسہ،زینب الصغری،رقیہ الصغری آپ کی دختر تھیں ۔ ۱۲۔ ام میمونہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور میمونہ آپ کی بیٹی تھیں ۔ ۱۳۔ ام امامہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور امامہ آپ کی بیٹی تھیں ۔ ۱۴۔ ام فاطمہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور فاطمہ آپ کی دختر تھیں ۔۱۵۔ ام رملہ الصغری: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور رملۃ الصغری آپ کی بیٹی تھیں ۔ ۱۶۔ام تقیہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور تقیہ آپ کی دختر تھیں ۔۱۷۔ ام جعفر الاصغر: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور جعفر الاصغر آپ کے فرزند تھے ۔۱۸۔ ام فاختہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور فاختہ آپ کی بیٹی تھیں ۔۱۹۔ والدۃ ام سلمہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور ام سلمہ آپ کی دختر تھیں ۔۲۰۔ ام امۃ اللہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور امۃ اللہ آپ کی بیٹی تھیں ۔۲۱۔ والدۃ ام ابیھا: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور ام ابیہا آپ کی دختر تھیں ۔۲۲۔ والدۃ ام الکرام: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور ام الکرام آپ کی بیٹی تھیں ۔۲۳۔ لیلی بنت مسعود النھشلیہ: آپ زوجۂ امام علیؑ تھیں اور عبد اللہ الاصغر، ابوبکر، عبید اللہ آپ کے فرزند تھے ۔۲۴۔ الورقاء ام محمد الاصغر: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور محمد الاصغر، عباس الاصغر آپ کے فرزند تھے ۔۲۵۔ ام عمر الاصغر المصطلقیہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور عمر الاصغر آپ کے فرزند تھے ۔۲۶۔ ام عثمان الاصغر: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور عثمان الاصغر آپ کے فرزند تھے ۔۲۷۔ ام القاسم: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور قاسم آپ کے فرزند تھے ۔۲۸۔ ام الفضل: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور فضل آپ کے فرزند تھے ۔۲۹۔ ام خدیجہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور خدیجہ آپ کی دختر تھیں ۔ ۳۰۔ ام جمانہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور جمانہ آپ کی بیٹی تھیں ۔۳۱۔ ام ابراہیم: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور ابراہیم آپ کے فرزند تھے ۔۳۲۔ ام اسماء: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور اسماء آپ کی دختر تھیں ۔۳۳۔ ام تمیمہ: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور تمیمہ آپ کی دختر تھیں ۔۳۴۔ ام عتیق: آپ امام علیؑ کی کنیز تھیں اور عتیق آپ کے فرزند تھے۔
محقق آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے اس مقام پر مولا امیر المومنین کی ازواج مطہرہ اور آپ کی تمام کنیزوں کی حیات طیبہ پر مفصل روشنی ڈالی ہے جس کے بعد آپ کی اولاد میں سے کربلا میں شہید ہونے والے فرزندوں کے ناموں کو اس ترتیب کے ساتھ درج فرمایا ہے:
۱۔ امام حسین علیہ السلام ۔۲۔ ابوبکر ۔۳۔جعفر الاصغر ۔۴۔ جعفر الاکبر ۔۵۔ ابراہیم ۔۶۔ عباس الاصغر ۔۷۔عباس الاکبر ۔۸۔ عبد الرحمان ۔۹۔ عبد اللہ الاصغر ۔۱۰۔ عبد اللہ الاکبر ۔۱۱۔ عتیق ۔۱۲۔عثمان الاصغر ۔۱۳۔ عثمان الاکبر ۔۱۴۔ عمر الاصغر ۔۱۵۔ عون ۔۱۶۔ فضل ۔۱۷۔ قاسم۔ ۱۸۔ محمد الاوسط۔
کربلا میں امیر المومنین کی اولاد کے ساتھ ساتھ آپ کے پوتے بھی شہید ہوئے جن کے نام تاریخ میں ہمیں کچھ اس طرح سے ملتے ہیں:
امام حسن علیہ السلام کی اولاد: ۱۔ احمد بن حسنؑ ۔۲۔ بشر بن حسنؑ ۔۳۔زید بن حسنؑ ۔۴۔ عبد اللہ الاصغر بن حسنؑ ۔۵۔ یحیی بن حسن ۔۶۔ قاسم بن حسن ۔۷۔ عبد اللہ بن حسن ۔۸۔ عمر بن حسنؑ۔
امام حسین علیہ السلام کی اولاد: ۱۔ ابراہیم بن حسینؑ۔۲۔ ابوبکر بن حسینؑ ۔۳۔حمزہ بن حسینؑ ۔۴۔زید بن حسینؑ۔۵۔عمر بن حسین ۔۶۔قاسم بن حسینؑ ۔۷۔محمد بن حسینؑ۔۸۔عبد اللہ بن حسینؑ۔۹۔ علی اکبر بن حسینؑ۔۱۰۔ علی الاصغر بن حسینؑ۔
حضرت عباس کی اولاد: ۱۔ عبید اللہ بن عباس الاکبر ۔۲۔ قاسم بن عباس الاکبر ۔۳۔محمد بن عباس الاکبر۔
عبد اللہ بن جعفر الطیار و زینب کبری کی اولاد: عون و محمد
محمد ابن عقیل و زینب صغری کے فرزند : جعفر
مسلم ابن عقیل اور رقیہ الکبری کے فرزند: عبد اللہ
عبد الرحمان بن عقیل و خدیجہ کے فرزند: عقیل
عبد اللہ الاکبر بن عقیل اور ام ہانی کے فرزند: محمد
مذکورہ اسماء شہداء کے تذکرہ کے بعد مصنف نے الفباء کی تربیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے تمام شہدائے بنی ہاشم کی سوانح حیات کو بیان فرمایا ہے، ہم اس مقام پر اسی ترتیب کو مد نظر رکھتے ہوئے اجمالا ہر ایک شہید کا تذکرہ کرتے ہیں:
ابراہیم بن حسینؑ بن علیؑ بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
آپ تقریبا سنہ ۴۸ ہجری میں متولد ہوئے، آپ کے بارے میں تاریخ سے بہت کم معلومات حاصل ہوتی ہیں، شاید آپ کی والدہ کا نام عاتکہ بنت زید العدویہ تھا، کربلا میں آپ کی شہادت امام حسین علیہ السلام کے سامنے ہوئی، اور احتمال اس بات کا ہے کہ آپ نے دشمنوں کے اجتماعی حملہ میں شہادت پائی ہو۔
ابراہیم بن علی بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن ہاشم القرشی:
ابراہیم بن علی سنہ ۴۰ ھ کو متولد ہوئے، آپ کی ماں ام ولد ( کنیز) تھیں، آپ کی عمر کربلا میں تقریبا بیس (۲۰) سال تھی، آپ کو زید بن دفاف نے شہید کیا۔
ابراہیم بن مسلم بن عقیل بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابراہیم بن مسلم سنہ ۵۴ ھ کو مدینہ میں متولد ہوئے، آپ کا لقب مطہر تھا، آپ کو اور آپ کے بھائی محمد (جنکا لقب طاہر تھا) کو حارث بن عروۃ نے کوفہ میں جناب مسلم ابن عقیل کی شہادت کے بعد ابن زیاد سے انعام پانے کی عرض سے بڑی بے رحمی کے ساتھ شہید کیا۔
ابوبکر بن حسن بن علی بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب امام حسن علیہ السلام کے ۲۴ بیٹے اور اور ۱۴ بیٹیاں تھیں جن کے اسامی الفبا کی ترتیب سے کچھ اس طرح ہیں:
۱۔ ابوبکر (شہید کربلا) ۔۲۔ احمد (شہید کربلا) ۔۳۔اسماعیل۔۴۔بشر (بشیر) (شہید کربلا) ۔۵۔ جعفر ۔۶۔ حسن مثنی، آپ کربلا میں حاضر ہوئے تھے ۔۷۔ حسین ۔۸۔ حمزہ ۔۹۔ زید (آپ کربلا میں حاضر ہوئے تھے) ۔۱۰۔ طلحہ ۱۱۔ عبد الرحمان ۔۱۲۔ عبد اللہ الاصغر (شہید کربلا) ۔ ۱۳۔ عبد اللہ الاکبر (شہید کربلا) ۔۱۴۔ عبد اللہ الاوسط (شہید کربلا) ۔۱۵۔ عقیل ۔۱۶۔ علی الاصغر ۔۱۷۔ علی الاکبر ۔۱۸۔ عمر، آپ کربلا میں بہت کمسن تھے۔۱۹۔ قاسم (شہید کربلا) ۔۲۰۔ محمد الاصغر ۔۲۱۔ محمد الاکبر ۔۲۲۔مرازم ۔۲۳۔یحیی ۔۲۴۔ یعقوب۔
۱۔ ام الحسن (الکبری) ۔۲۔ ام الحسن ( الوسطی) ۔۳۔ ام الحسن (الصغری) ۔۴۔ ام الحسین ۔۵۔ ام الخیر ۔۶۔ام سلمہ ۔۷۔ ام عبد الرحمان ۔۸۔ ام عبد اللہ ۔۹۔ بنت الحسن ۔۱۰۔ رقیہ ۔۱۱۔زینب ۔۱۲۔سکینہ ۔۱۳۔ فاطمہ الکبری ۔۱۴۔ فاطمہ الصغری۔ اگر ام الخیر کا نام رملہ نہ ہو تو امام حسن علیہ السلام کی بیٹیوں کی تعداد ۱۵ ہوگی۔
ابو بکر بن حسنؑ کربلا میں شہید ہوئے آپ پر امام عسکریؑ نے زیارت ناحیہ میں یوں سلام بھیجا ہے: السلام علی ابی بکر بن حسن، اسی زیارت کے مطابق آپ کے قاتل کا نام عبد اللہ بن عقبہ الغنوی تھا جس نے اپنے تیر کے ذریعہ آپ کو شہید کیا۔
ابو بکر بن حسین بن علی بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
بعض ارباب مقاتل نے جن میں مسعودی، بلاذری، ابو الفرج اصفہانی شامل ہیں ابوبکر کو امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں شامل کیا ہے، لیکن ممکن ہے کہ یہ ابوبکر بن حسنؑ ہوں چونکہ بعض کتب میں جہاں ابوبکر بن حسن کا تذکرہ آیا ہے وہاں ابوبکر بن حسین کا نام نظر نہیں آتا۔ واللہ العالم۔
ابوبکر بن علی بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
آپ سنہ ۳۸ھ میں متولد ہوئے، مندرجہ ذیل رجز کو آپ نے کربلا میں مبارز طلب کرتے وقت پڑھا تھا:
شیخی علی ذو الفخار الاطول، من ھاشم الصدق الکریم المفضل، ھذا حسین ابن النبی المرسل، عنہ نحامی بالحسام المصقل، تفدیہ نفسی من اخ مبجل، یارب فامنحنی ثواب المنزل، میرے بزرگ علی ہیں جو نہایت بلند پایہ شخصیت ہیں، جو ہاشمی خاندان سے ہیں کہ جو صداقت ، بزرگی اور فضیلتوں والے ہے، یہ حسین ہیں جو نبی مرسل کے فرزند ہیں، ہم ان کی حمایت کرتے ہیں تیز دھار تلواروں کے ساتھ، میری جان میرے جلیل القدر بھائی پر فدا ہو، پروردگارا مجھے آخرت کا ثواب عطا فرما۔
ابو سعید بن عقیل بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابوسعید سنہ ۱۶ ھ میں پیدا ہوئے، آپ کی زوجہ فاطمہ بنت علیؑ تھیں جو کربلا میں حاضر ہوئیں، آپ کی شہادت کے بارے میں زیادہ تفاصیل موجود نہیں ہیں یہ امر مسلم ہے کہ آپ سنہ ۶۱ ھ کو کربلا میں شہید ہوئے۔
احمد بن حسن بن علی بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
احمد بن حسن سنہ ۴۴ ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، ابو مخنف فرماتے ہیں کہ جب امام حسین کے یاور و انصار شہید ہو چکے تو آپ نے اپنے داہنی اور بائیں جانب نگاہ کی اور فرمایا: وا غربتاہ وا عطشاہ وا قلۃ ناصراہ، اما من معین یعیننا، اما من ناصر ینصرنا، اما من مجیر یجیرنا، اما من محام یحامی عن حرم رسول اللہ،ہائے غربت، ہائے پیاس، ہائے مددگاروں کی کمی، کیا کوئی ہمارا مددگار ہے؟ کیا کوئی ہے جو ہماری نصرت کرے؟ کیا کوئی ہے جو ہمیں سہارا دے؟کیا کوئی ہے جو رسول خدا کی مخدرات کا دفاع کرے؟ یہ سن کر احمد بن حسنؑ اور قاسم بن حسنؑ لبیک لبیک کہتے ہوئے خیمہ سے باہر تشریف لائے، پہلے جناب قاسم نے شربت شہادت کو نوش فرمایا اور ان کے بعد احمد بن حسن کی شہادت واقع ہوئی۔
احمد بن محمد بن عقیل بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
آپ تقریبا سنہ ۴۴ ھ میں متولد ہوئے، ابو مخنف کی روایت کے مطابق آپ اپنے چچا موسی بن عقیل کی شہادت کے بعد معرکۂ جنگ میں وارد ہوئے اور یہ رجز پڑھا:
الیوم ابلو حسبی و دینی، بصارم تحملہ یمینی، احمی بہ عن سیدی و دینی، ابن علی الطاھر الامین، آج میں اپنے حسب اور اپنے دین کی قوت دکھاتا ہوں اس تلوار کے ساتھ جو میرے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کے ذریعے میں اپنے دین اور اپنے آقا کا دفاع کرتا ہوں کہ جو طاہر و امین ہستی علی کے فرزند ہیں، اس رجز کے بعد آپ نے حملہ کیا اور ۸۰ دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔
احمد بن مسلم بن عقیل بن ابیطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
احمد بن مسلم نے اسحاق بن مالک الاشتر کے بعد امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جنگ کی اجازت لی اور میدان جنگ میں وارد ہو کر اس رجز کو پڑھا:
اطلبُ ثارَ مسلم من جَمْعکم، یا شر قوم ظالمینَ فَسَقَہ، اضربُکم بصارم ذی رَوْنَق، ضَرْبَ غُلام صادق من صَدقہ، لا انثنی عمن لقانی ناکصا، وَ لَمْ اکن مِمن یُحِب الشفقہ، کم جاھد لما التقانی فی الوَغی، صیّرتُہ کاللَبنۃ المُفَلّقَہ، میں تم سے مسلم کے خون کا بدلہ لیتا ہوں، اے ظالم و فاسق لوگو، میں اس چمکتی تلوار کے ذریعے تم پر ایک ایسی کاری ضرب لگاؤں گا کہ جو ایک سچا بہادر جوان لگاتا ہے، مجھے اپنے اوپر آنے والی کسی مصیبت کی پرواہ نہیں ، اور نہ ہی میں ان میں سے ہوں جو ہمدردیوں کو پسند کرتے ہیں، کتنے جنگجو میدان میں میرے مقابلے میں آئےکہ میں نے انھیں بھیڑ بکری کی طرح چیر پھاڑ دیا، اس رجز کو پڑھ کر آپ نے حملہ کیا، اور جمع کثیر کو واصل جہنم فرما کر جام شہادت کو نوش فرمایا۔
مصنف آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے مذکورہ تمام شہدائے کربلا کی زندگانی پر تفصیلی تحقیقی و بررسی کے بعد فہارس کتاب کو درج کیا ہے جس میں فھرست آیات مبارکہ، فھرست احادیث و اخبار، فھرست امثال و حکم، فھرست اعلام و شخصیات، فھرست قبائل و انساب و جماعات، فہرست طوائف و ملل، فہرست اشعار، فہرست تاریخ، فہرست لغوی، فہرست مصطلحات شریعت اور دیگر مفید فہرستیں شامل ہیں، ان فہارس کے بعد عراق کے وزیر جاسم محمد جعفر کا مقالہ درج کیا گیا ہے جس میں انھوں نے مصنف کی قدردانی کرتے ہوئے فرمایا کہ معجم انصار حسین ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے ذریعہ انصار امام حسین علیہم السلام کے زندگی کے تمام جوانب روشن ہوتے ہیں۔