16.10.2026, 07:10am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

اردو مرثیے کی آبرو جوش ملیح آبادی کی ۲۲فروری کو اکتسویں برسی منائی گئی
23.02.2013, 09:12am , ہفتہ (GMT+1)

صفدر ھمدانی لندن
برصغیرپاک وہندکے نامورشاعر اور اردو مرثیے کی آبرو جوش ملیح آبادی کی آج 23فروری 2013کو اکتسویں برسی منائی جارہی ہے۔ان کے نثری اور شعری مجموعے آج بھی ان کے مداحوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔

شبیر حسین خاں جوش ملیح آبادی اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔جوش ملیح آبادی کو شاعر انقلاب ، شاعر شباب ، شاعر خمریات اور شاعر فطرت کے القاب سے جانا جاتا ہے۔ وہ پانچ دسمبراٹھارہ سواٹھانوے کو اترپردیش ہندوستان کے علاقےملیح آباد کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔

تقسیم ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کر کے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جوش نہ صرف اردو میں ید طولیٰ رکھتے تھے بلکہ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ اپنی اِسی خداداد لسانی صلاحیتوں کے وصف انہوں نے قومی 
 
اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپور علمی معاونت کی۔ 

جوش ملیح آبادی کثیر التصانیف شاعر و مصنف تھے۔ ان کے شعری مجموعوں اور تصانیف میں نثری مجموعے یادوں کی بارات۔۔ مقالات جوش۔دیوان جوش۔۔ اور شاعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے۔۔ طلوع فکر۔۔جوش کے سو شعر،نقش و نگار اورشعلہ و شبنم کولازوال شہرت ملی۔

کراچی میں1972 میں شائع ہونے والی جوش ملیح آبادی کی خود نوشت یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست واویلا مچا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جوش کو ان کی خود نوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی کیونکہ اس میں بہت سی متنازع باتیں کہی گئی ہیں۔ 

بائیس فروری انیس سوبیاسی کو یہ عظیم شاعر اپنے مداحوں اور چاہنے والوں کو سوگوارچھوڑکرخالق حقیقی سے جاملے۔

آپ کثیر التصانیف شاعر و مصنف تھے۔ آپ کے شعری مجموعوں اور تصانیف میں مندرجہ ذیل نام اہم ہیں۔
روح ادب
آوازہ حق
شاعر کی راتیں
جوش کے سو شعر
نقش و نگار
شعلہ و شبنم
پیغمبر اسلام
فکر و نشاط
جنوں و حکمت
حرف و حکایت
حسین اور انقلاب
آیات و نغمات
عرش و فرش، رامش و رنگ
سنبل و سلاسل
سیف و سبو
سرور و خروش
سموم و سبا
طلوع فکر
موجد و مفکر
قطرہ قلزم
نوادر جوش
الہام و افکار
نجوم و جواہر
جوش کے مرثیے
عروس ادب (حصہ اول و دوم)
عرفانیات جوش
محراب و مضراب
دیوان جوش
نثری مجموعے
مقالات جوش
اوراق زریں
جذبات فطرت
اشارات
مقالات جوش
مکالمات جوش
یادوں کی بارات (خود نوشت سوانح)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؑ
چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں حسینؑ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پٹنہ بھارت کے رضوان علی خان نے حضرت جوش کے بارے میں تحریر کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عظیم شاعر جوش ملیح آبادی کا انتقال اسلام آباد میں 22 فروری سنہ 1982 کو ہوا تھا ۔  لیکن اس عرصے میں بھی جوش کے نام پر تنازعات کم نہیں ہوئے۔

ان کاخاندانی نام شبیر احمد خاں تھا۔  جسے بعد میں بدل کر شبیر حسن خاں کر دیا گیا تھا۔  ان کی پیدائش پانچ دسمبر 1898 کو ملیح آباد کے ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی۔  ان کے والد بشیر احمد خاں بشیر بھی شاعر تھے اور داد انواب احمد خاں کا بھی شاعری سے تعلق تھا۔  اس کے علاوہ ان کے پر دادا نواب فقیر محمد خاں صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کے خاندان میں خواتین شاعرات بھی موجو د تھیں۔  جوش کی دادی بیگم نواب محمد احمد خاں، مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔  اس طرح جوش کو شاعری ورثے میں ملی تھی۔  لیکن جوش صرف شاعر نہیں تھے ایک ہشت پہلو شخصیت تھے۔   جہاں انہیں شاعری پر زبر دست کمال حاصل تھا۔  وہیں نثر پر بھی انہیں درک تھا۔ ان کی نثر اپنی مثال آپ ہے۔ 

جوش کا تعلق فلم اور صحافت سے بھی رہا انہوں نے دہلی سے ایک ادبی رسالہ ” کلیم “ شائع کیا تھا لیکن مالی مشکلات کے سبب بہت دنوں تک جاری نہیں رہ سکا۔ بعد میں وہ بھارت سرکاری کے رسالہ ” آج کل “ کے مدیر بنائے گئے تھے لیکن یہاں بھی زیادہ دنوں نہیں ٹک سکے ۔

در اصل جوش کی طبیعت میں اجتماع ضدین تھا اسی لئے وہ کہیں بھی ٹک کر نہیں رہ سکے، نظام حیدر آباد کے دارالترجمہ میں تھے تو  نظام کے خلاف ہی نظم لکھ دی اور انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ بعد میں وہ بھارت سرکار کے رسالہ ” آج کل “ کے مدیر ہوئے لیکن سنہ 1955 میں پاکستان ہجرت کر گئے۔  وہاں بھی ان کی وابستگی ترقی اردو بورڈ میں رہی۔  لیکن اختلافات کے سبب ان کو وہاں سے بھی سبکدوش ہونا پڑا۔ 
جوش نے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا تھا اور سنہ 1943 سے سنہ  1948 کے درمیان متعدد فلموں کے گانے اور مکالمات لکھے۔
جوش کے شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں:
روح ادب، شاعر کی راتیں، نقش و نگار، شعلہ و شبنم، فکر و نشاط، جنون و حکمت، حرف و حکایت، آیات ونغمات، عرش وفرش، رامش و رنگ، سنبل وسلاسل، سیف و سبو، سرود و سروش، سموم و صبا، طلوع فکر، الہام و افکار، موحد و مفکر، نجوم و جواہر۔

ان کی نثری کتابوں کے نام ہیں:

مقالات زریں، اوراق سحر، ارشادات، اور یادوں کی بارات۔
جوش ملیح آبادی کی خود نوشت یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست واویلا مچا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جوش کو ان کی خود نوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی کیونکہ اس میں بہت ہی متنازع باتیں کہی گئی ہیں۔  یادوں کی بارات سنہ 1972 میں کراچی سے شائع ہوئی تھی اور جوش کا انتقال 22 فروری سنہ 1982 کو ہوا۔

 ایک طرح سے وہ دس برسوں تک تنازعات میں گھرے رہے اور اس کے باعث انہیں بے حد دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کے عتاب کے بھی شکار ہوئے۔  لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جوش جہاں ایک عظیم شاعر تھے وہیں وہ صاحب طرز نثاربھی تھے او رکیوں نہ ہوتے انہوں نے صرف 9 برس کی عمر میں کہا تھا :
 
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ مرا فن خاندانی ہے
 
لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ شاعری جوش کو راس نہیں آسکی۔  اسی لئے انہیں ’ یادوں کی بارات“ میں لکھنا پڑا:
”آخر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اس قوم میں کسی صاحب قلم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہرادیب و شاعر کو چاہئیے کہ وہ خود کشی فرما لے ۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جوش کے مرثیے کا ایک رنگ






اس تحریر میں انٹر نیٹ مواد سے بھی مدد لی گئی ہے

:دیگر مضامین
(22.02.2013) پیرس میں گزشتہ دنوں مغرب کتاب میلہ 2013 کا شاندار اہتمام کیا گیا
(22.02.2013) کوئٹے میں ہونے والی سفاکی اور دہشت گردی کے خلاف پیرس میں احتجاج
(20.02.2013) سیتاپور۔ بزم اردو کے خصوصی ماہانہ ششم طرحی مشاعرہ کا ویڈیو
(19.02.2013) تم کتنے انساں مارو گے؟ از۔۔۔۔۔سلیم سید۔ہیوسٹن امریکہ
(18.02.2013) معروف عالم دین، شاعر و ادیب مولانا ڈاکٹر حامد الانصاری انجم کا انتقال پر ملال
(18.02.2013) کراچی : گیارہ دنوں میں 86 افراد جبکہ کوئٹے میں ایک ہی دن میں 80جاں بحق
(13.02.2013) امام حسین علیہ السلام کے روضے کی نئی ضریح کا ایران سے عراق کی جانب سفر
(08.02.2013) اردو کے معروف بزرگ شاعر سید امین اشرف کا علی گڑھ میں انتقال ہو گیا۔
(07.02.2013)  ایسی جائے نماز ایجادہوئی ہے جو قبلہ رخ ہوتے ہی روشن ہو جاتی ہے
(05.02.2013) مرثیہ نگار سید علی نقی زیدی نشاط واسطی کی زوجہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں
(04.02.2013) لندن کے سید مظہر حسین شاہ کاظمی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے
(03.02.2013) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف 59 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
(02.02.2013) معروف سندھی ادیب اور دانشور سراج الحق میمن انتقال کرگئے
(31.01.2013) آپ چاہیں تو خود دیکھ سکتے ہیں کہ چاند کی پیدائش کی صورت حال کیا ہے
(30.01.2013)  فارسی کے سینئر اِسکالر اور اردو کے ممتاز شاعر ڈاکٹر ولی الحق انصاری کا اِنتقال
(27.01.2013) سید الشہد امام حسین کے روضہ مبارک کی پرانی ضریح کو نئی ضریح سے تبدیل کیا جا رہا ہے
(23.01.2013) بزم اردو ۔ گہر خیرآبادی کوغزل ایوارڈ کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے
(23.01.2013) حلقہؑ دانشوراں جدّه کے زیرِ اھتمام سالانہ محفلِ نعت و نعتیہ مشاعرہ
(22.01.2013) پیرس میں امامیہ آرگنائزیشن فرانس اور ہزارہ برادری کے افرا د کی طرف سے مظاہرہ
(21.01.2013) عظیم گلو کارہ مہناز بیگم کی وادی حسین قبر ستان میں تدفین کردی گئی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں