اُردو کے ممتاز اور سینئر فکشن نگار اور محقق (89سالہ) مانک ٹالہ بتاخیر ملنے والی اطلاع کے مطابق گزشتہ منگل(19فروری) کی صبح ممبئی میں اپنے گھر پر اِنتقال کر گئے۔ مانک ٹالا جن کا خاندانی نام گوپال کرشن تھا، لاہور کے قریب ایک

قصبےباغبان پورہ میں21ستمبر1924ءکو پیدا ہوئے تھے۔
جامعہ پنجاب سے انہوں نے بی ایس سی کی ڈگری لی اور انگریزی میں ایم اے بھی کیا بعد میں وہ جرنلزم کر رہے تھے کہ حالات کی خرابی کے سبب تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ اُن کی کہانیوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن کے نام اسطرح ہیں: پیاسی بیل(اپریل1964ئ)، گناہ کا رشتہ (جولائی 1974ئ) پنجرے کے پنچھی (ستمبر1984ئ)، ہوری کا دوسرا جنم (فروری1999) جبکہ ’دامن کی آگ‘
نامی ناولٹ (1972ء) بھی طبع ہوا۔ ان کا ایک مزاحیہ و طنزیہ ناولٹ’ ماڈرن قصہ چار درویش 1971ءمیں منظر عام پر آیا۔
ادب کے جو سنجیدہ قاری ہیں وہ مانک ٹالا کے نام سے بے خبر نہیں مانک ٹالا گزشتہ صدی کے اخیر یعنی پانچویں چھٹے دہے کے ایک مشہور ترین افسانہ نگار تھے ان کے افسانے اُس وقت کے ممتاز اور معیاری جرائد میں بہ اہتمام شائع ہوتے تھے۔ مانک ٹالا نے پریم چند پر تحقیقی کام بھی کیا اور عمر کے آخری حصے میں پریم چند کے کام کے سبب ادبی حلقوں میں ان کی شہرت میں چار چاند بھی لگے اور ان کا وقار بھی بڑھا۔
مانک ٹالا کی فطرت میں علم و ادب کی طلب اس درجے تھی کہ انھوں نے اخیر تک اپنی علمی تشنگی کو تمام نہیں ہونے دِیا ہر چند کہ وہ بطور فکشن نگار معروف و مشہور ہوچکے تھے مگر جب وہ عمر کے ساٹھویں پائیدان پر قدم رکھ چکے تھے تو اس وقت بھی ان کا ذہن توانا اور علم کی جستجو جوان تھی۔
پریم چند پر ان کی پہلی کتاب( پریم چند اور تصانیفِ پریم چند: کچھ نئے تحقیقی گوشے) نومبر 1985ءمیں شائع ہوئی پھر پریم چند: کچھ نئے مباحث،1988میں، اسی طرح پریم چند: حیات نو،1993میں، پریم چند کا سیکولرکردار اور دیگر مضامین(جسے وہ تالیف سمجھتے ہیں) 2001ءمیںشائع ہوئی جبکہ توقیتِ پریم چند 2002ءمیں سامنے آئی۔ دیا نرائن نگم کی ادارت میں شائع ہونے والا کانپور کا مشہور جریدہ
’زمانہ‘ کے پریم چند نمبر کی از سرنو تدوین بھی مانک ٹالا کی سعی ¿ مشکور ہے جس میں انہوں نے کئی تحقیقی خامیوںکی ناشاندہی بھی کی۔یہ کتاب جولائی 2002میں قومی کونسل فروغ برائے اُردو(دہلی) نے شائع کی تھی۔
مانک ٹالا کی تمام کارکردگی پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اگر ہم واقعی ادب کا ذوق اور علم کی جستجو رکھتے ہیں تو ہمیں اس کی فکر نہیں ہونی چائیے کہ ہمیں لوگ جانتے ہیں یا نہیں ہماری شہرت ہے یا نہیں ان کے اس کرادر سے ہم نے یہ معنی بھی اخذ کئے کہ اگر کام کر لیا ہے اور اس میں کوئی خوشبو ہے تو اس کا پھیلنا فطری امر ہے۔ آنجہانی مانک ٹالا ایک جگہ خود لکھتے ہیں کہ” مَیں ایک کم گو، گوشہ نشین آدمی ہوں، بہت کم ادیبوں سے ملاقات ہے اور بہت ہی کم سمیناروں (ادبی تقریبات ) میں حصہ لیتا ہوں۔“ اس کے باوجود مانک ٹالا کو عزت بھی ملی اور شہرت نے بھی ان کے قدموں میں سَر رکھدیا۔ آںجہانی کے لفظوںمیں ہم نے یہ بھی پڑھا کہ ”میں نے اپنی کسی کتاب میں اپنی تصنیفات پر دِیے گئے اعزاز و ایوارڈ کا ذکر نہیں کیا۔ بہر حال آج مختصراً ذکر کرتا ہوں کہ بھاشا وِبھاگ پنجاب، پٹیالہ نے میری تین تصانیف پر مجھے پہلے انعام کا حقدار سمجھا حالانکہ وہاں (مذکور بھاشا وِبھاگ) کسی سے میری جان پہچان نہیں ۔ اسی طرح مہاراشٹر اُردو اکادیمی
نے’ پریم چند کچھ نئے مباحث‘ پر دوسرے اور’ پریم چند حیاتِ نو‘ پر اوّل انعام سے نوازا، یہی نہیں بلکہ اسی (مہاراشٹر) اکادیمی نے اپنے سب سے بڑے اعزاز’ سراج اورنگ آبادی ایوارڈ‘ سے بھی (97۔1996) مجھے سرفراز کیا۔“
مانک ٹالاکے آبا و اجدادپنجاب کے مشہور شہر مالیر کوٹلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے پسماندگان میں بیٹی اور داماد ہیں۔گزشتہ منگل(19فروری) کو دوسرے پہر شیواجی پارک سے قریب شمشان میں اُن
کے جسد خاکی کو نذرِ آتش کیا گیا ۔٭