
جس طرح اسلامی کلینڈر میں ایک مقدس مہینہ رجب ھے ۔اسی طرح اب ایک باحمیت قوموں کے رہنماؤں میں ایک نام “ رجب“ شامل ھو چکا ھے ۔ ناموں کی مماثلت اگرچہ بعض اوقات کوئی بڑی تبدیلی نہیں لاتی لیکن ایسا ھونا کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں ھے ۔
ایک زمانہ تھا جب عام عرب کو عالم ایمان کے طور پر جانا جاتا تھا کہ عرب سے باہر رھنے والا ایک عام مسلمان اسے ایمان کی قوت خیال کرتا تھا مگرآج ایران اورایک، دو ملکوں کے علاوہ مسلم اکثریت عالم بے ایمان میں بدل چکی ھے ۔ویسے سچ تو یہ ھے کہ دنیا تو چلتی ھی خبروں سے ھے اور خبروں سے امید اور یاس کے جو سلسلے بندھ جاتے ھیں وہ بھی جینے اور مرنے کا بہانہ ھو جاتے ھیں ۔ اور جب بھی کوئی خبر کسی تاریک شب کی بیداری کی نوید لے کر آتی ھے تو سبھی حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رھ جاتے ھیں ۔ جیسا کہ ابھی ابھی ایسا ھی کچھ ھوا تھا ۔
ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان “ ڈیووس “ میں عالمی اقتصادی فورم سے انتہائی غصے میں اٹھ کر چلے گئے۔
کسی بھی محفل سے کسی کا بھی غصے سے اٹھ کر چلے جانا ایک اھم بات کی طرف اشارہ کرتا ھے ۔۔۔ ابھی تک تو ھم پاکستان کی اسمبلیوں سے اپوزیشن کا واک آؤٹ ھی سنا کرتے تھے ۔ لیکن ترکی کے صدر کا امریکہ کے آقا اسرائیل کے حضور سے یوں واک آؤٹ کر جانا کچھ حیران کن سا لگا ۔۔ ان کی یہ گستاخی نما جرات ھمیں کسی اور ھی بات کے کچھ اور ھی تیور بتا رھی تھی ۔۔

دور کی بات نہیں بلکہ دس سال پہلے ھی کی تو بات ھے جب ترکی اسرائیل کی ہاں میں ہاں ملاتا تھا اور عرب دنیا میں ترکی کو اس کا حامی سمجھا جاتا تھا ۔ حالانکہ ترکی کے بیانات اس وقت بھی اہل عرب کے درد میں ڈوبے ھوئے ھی ھوتے تھے جو کبھی اہل عرب کو اپنا نہ بنا سکے ۔ اور اسرائیل کو بھی اس طرح کے بیانات کسی ناصح کی بے تکی تکرارا سے زیادہ کچھ نہ لگتے تھے اور طرہ یہ کہ اسرائیل کو کبھی ترکی کی یہ ترکی بہ ترکی گفتگو کبھی سنجیدہ لگی ھی نہیں تھی ۔۔
پھر آج کیا ھو اتھا کہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان اس قدر خفا ھو گئے کہ محفل سے اٹھ آئے ۔۔۔ اور ایسے واپس آئے کمین گاہ سے کہ دنیا بھر نے ھار پھول سے رجب طیب کا مول بڑھا دیا ۔۔ ایسے ھی جیسے منتظر زیدی کا خیر مقدم بش کو جوتے کی سلامی دینے کے بعد ھوا تھا ۔آج بھی یہی ھوا تھا عالمی اقتصادی فورم کے دوران جب اسرایئلی صدر شمعون پیریز نے کہا کہ “ غزہ کے سانحے کی وجہ اسرائیل

نہیں، حماس ہے جس نے وہاں خطرناک ڈکٹیٹر شپ قائم کرلی ہے “ تو رجب طیب اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے اور عالمی اقتصادی فورم کے دوران
رجب طیب اردوغان نے تقریباّ چیختے ہوئے اسرائیلی صدر سے کہا کہ “ غزہ میں بہت سے انسانوں کا خون بہایا گیا ہے اور انہیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ لوگ اسرائیل کی جانب سے اس فوج کشی کے جواز پر تالیاں بھی بجا رھیں ہیں“ ۔ رجب طیب اردگان نے مزید کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ آپ شاید اپنا احساس جرم مٹانے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں اور وہ بھی بلند آواز میں۔ مگر آپ نے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کیا ھے اور میں ان بچوں کو یاد کر رہا ہوں جنہیں ساحل کے قریب مار دیا گیا۔‘
خدا گواہ ھے کہ عالمی اقتصادی فورم میں اس سے پہلے کبھی ایسا منظر دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔
جی دوستو یہی وہ ترکی ھے جو ان گنے چنے مسلمان ملکوں میں سے ہے جن کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں لیکن گزشتہ چند سال سے ان میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور اس کا کھلا ثبوت اسرائیلی جارحیت ھے جو اسے کسی کا بھی دوست نہیں بننے دیتی ۔ ترکی ایک جمہوری، سیکولر اور آئینی جمہوریہ ہے جس کا سیاسی نظام 1923ء میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مصطفی کمال اتاترک نے ترتیب دیا۔ یہ اقوام متحدہ، موتمر عالم اسلامی، او ای سی ڈی اور او ایس سی کا بانی رکن، 1949ء سے یورپی کونسل اور 1952ء سے نیٹو کا رکن ہے اور اس وقت یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کا امیدوار ہے۔
ترکی کا شمار ایک ماڈرن مسلم ملک میں ھوتا ھے جس کی تجارتی ترقی کا گراف اس قدر تیزی سے بڑھ رھا ھے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق آئیندہ دس بارہ سالوں میں وہ ایران ، اسپین اور رشین مسلم ممالک کے لیئے “گیٹ وے “ کے طور پر کام کرے گا ۔ ترکی کے صدر جناب “رجب طیب اوردگان 14 مارچ 2003 سے ترکی کے صدر ھیں اور ان کے تعلقات حماس اور اسرائیل دونوں

سے بہت اچھے ھیں ۔ اتنے اچھے کہ غزہ کی جنگ سے چار دن پہلے وہ اسرائیل کو صدر کو اس بات پر راضی کرنے گئے تھے کہ اسرائیل کو عربوں کے ساتھ بلخصوص حما س کے ساتھ مزاکرات کے زریعے اختلافات کاحل نکالنا چاھیئے ۔ اور بے چارے طیب بھول بیٹھے تھے کہ اسرائیل کا کسی کا ھو جانا ایسے ھی جیسے بنگالی بابا کا جادو چل جائے اور محبوب قدموں میں آ جائے ۔
اسرائیل تو محبوبٍ وقت ھے یعنی امریکہ کا محبوب ھے سو اس پر سب کچھ سجتا ھے جیسے مصر کے ساتھ مل کر غزہ پر دہشت گردی کرنا ۔۔ معصوم بچوں کو مار دینا ۔۔عورتوں اور بوڑھوں پر اپنی حاکمیت جتانا اور انہیں نہتے مار دینا ۔سب جائز سا لگتا ھے ۔۔ کہتے ھیں عشق اور جنگ میں سب جائز ھے ۔۔ سو اسرائیل عشق زدہ بھی ھے اور جنگ خوردہ بھی ۔۔ اس پر سب سجتا ھے اور جائز بھی ھے ۔۔ اب ترکی کو اچھانہیں لگا تو اس کا مسئلہ ، ورنہ وہاں اور بھی پاکستان سمیت مسلمان صاحبٍ دل حکمران تھے ۔۔
اسلام کا قلعہ انڈونیشیا اگرچہ اس تنظیم کا حصہ نہیں ھے لیکن اس کے باوجود کہنے کو جی چاھتا ھے کہ مسلمانوں کے حساب سے بڑا ملک ھے لیکن اس کے صدر یا وزیر اعظم کو ایسے کسی بیان دینے کی ابھی تک کوئی توفیق نہیں ھوئی جبکہ یہی مسلمان ملک ھیں جو سلمان رشدی کے مسئلے سے لے کر تمام متعلقہ اور غیر متعلقہ مسئلے پر طوفان کھڑا کر دیتے ھیں ۔ جن کے نزدیک سب سے آسان کام کسی کو بھی کافر کہہ دینا ھوتا ھے ۔ لیکن اسرائیل کی کھلی جارحیت اور بہیمانہ رویہ انہیں ناتو کافرانہ لگتا ھے اور نا ھی قابل مذمت ۔
ایسے مسلمان ملکوں میں ایک میرا ملک پاکستان بھی ھے جو مسلمانوں کے غم میں اپنے ھی ملک کو آگ لگانے میں ماھر جانا جاتا ھے ، جو اتنا ھمدرد ھے کہ دوسروں کہ لڑائی بھی اپنے گھر سے اپنے ھی لوگو سے لڑتا ھے اور اپنے ھی فوجی اور عوام امن اور دوستی کے نام پر قربان کر دیتا ھے ۔
اسی پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی تشریف رکھتے تھے ۔ انہوں نے اسرائیل کی مذمت تو خیرکیا کرنی تھی ۔۔فلسطین کی حمایت میں رجب جیسے مرد مجاہد کے ساتھ واک آؤٹ بھی نہ کر سکے ۔۔حالانکہ دنیا گواہ ھے کہ جتنا انہیں اس کام میں تجربہ تھا وہاں بیٹھے ھوئے کسی صدر یا وزیراعظم کو نہ تھا ۔پاکستان اگرچ
ہ جغرافیائی اعتبار سے عرم ممالک کا حصہ نہیں ھے لیکن عرب حکمرانوں کے ایوانوں سے چلنے والی بے غیرتی، بے عزتی ، بے شرمی ، خفتہ ضمیری ،اور عوام کشی کی جو ھوا چلی ھے ، اس کا رخ ایوان صدر اور وزیراعظم اور دوسرے سرکاری حلقوں کی طرف ضرور ھوا ھے ۔ اس لیئے وہاں بیٹھے ھوئے پاکستان جیسے کئی سربراہان مملکت کو اسرائیل کا خوش ھونا اور جشن منانا کسی طور بر انہ لگا تھا ۔۔۔ اب رجب طیب اردگان کے اس یک طرفہ ہجرٍ فلسطین کو کیا نام دیا جائے ۔۔؟ شاید اقتصادی عالمی فورم پر ترکی کے صدر کے یوں اٹھ کر چلے جانے سے اسرائیلی ان کا جینا حرام کر دیں لیکن ایسا کرنے کے بعد جو سکون انہیں ملا ھو گا اس کا اندازہ کچھ وہی لگا سکتے ھیں جنہوں نے سر اٹھا کر جینے کی تمنا میں لاکھوں کے سر جھکائے ھوں ۔سو آج ایک مسلمان نے کئی مسلمان ملکوں کی ھولناک اور مجرمانہ خاموشی کا کفارہ بھری محفل میں اد اکر دیا تھا۔۔
اسی طرح ایسی ھی بہادری سے ایک بار منتظر زیدی نے پورے عراق کی بے بسی کا کفارہ بھری محفل میں اپنی جان داؤ پر لگا کر دیا تھا جب اس نے اپنے دونوں جوتے امریکی صدر بش پر یہ کہتے
ھوئے اچھال دیئے تھے کہ “ یہ ھے تمھارا انعام ھم عراقیوں کی طرف سے“ ۔۔ لیکن دوستو بات چاھے ترکی کے سربراہ کی ھو یا عراق میں ایک دردمند صحافی کی ۔۔۔دراصل بات صرف سچ اور حق کی ھے جو ھمیشہ تلواروں کے سائے میں پروان چڑھا ھے ۔۔اور حق سچ کہنے کے لیئے “چنیدہ “ ھونا پڑتا ھے ۔اور ایسے لوگوں کا تعلق کسی بے ایمان عالم سے نہیں ھوتا ۔
شاید رجب اردگان نے یہی سچ بتانے کی کوشش کی تھی کہ مسلمانوں اب بھی وقت ھے اسرائیل کسی کا نہیں ھے وہ صرف اپنے حدف حاصل کرناچاھتا ھے ۔ اس نے یہودی ریاست کا جو نقشہ بنا رکھا ھے ، اسے حاصل کرناھی اس کا خواب ھے ۔ اور اس نقشے میں پورا فلسطین ،اردن، شام،مصر ایک چوتھائی سعودی عرب اور دوتہائی عراق آتا ھے ۔دیکھا جائے تو ترکی کا اس نقشے میں کہیں زکر نہیں ھے تو پھر اس نے بھری محفل میں حق کی بات کیوں کی ۔۔۔ کیوں وہ مسلمانوں کے ہجر میں رسوا ھو رھا ھے ۔۔ کچھ سال پہلے ایسی ھی رسوائی نیلسن منڈیلا نے اٹھائی تھی جب انہوں نے سابق امریکن صدر بش کو عراق پر اپنا غصہ اتارنے کو منع کیا تھا اور کہا تھا کہ “ تم یہ جنگ ھار جاؤ گے “ اور نیلسن منڈیلا نے پوری دنیا سے کہا تھا کہ “یہ غلط ھے کہ امریکہ صرف عراقی نظام کو درست کرنا چاھتا ھے “ بلکہ سچ تو یہ ھے کہ وہ اپنی حاکمیت جتا کر اپنی سالمیت کے لیئے سارے کمزور ملکوں کو اپناغلام بنا کر ، اپنی وحشت اور بربریت سے لوٹنا چاھتا ھے ۔
پھر تاریخ جانتی ھے کہ نیلسن منڈیلا کا کہا ھوا سچ ،حق بن گیا اور ان کے اس کھرے سچ کے بعد عراق کی جنگ لڑنے سے جرمنی ،فرانس، چایئنا ، رشیا کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان نے بھی انکار کر دیا تھا ۔ 
آج کی تاریخ کا مورخ بھی کچھ ایسے ھی حق سچ لکھ رھا ھے ۔۔جیسے ۔۔
“ آج کل صدر اوباما اپنے وزیر دفاع گیٹس سے مل کر اپنی فوجیں عراق سے بلانے کے لیئے تدبیریں کر رھیں
اور رجب طیب کو بھری محفل سے اٹھ آنے پر اسرائیل نے اسلحے کی رسد بند کرنے کی دھمکی دے دی ھے ۔۔۔
اور ایک بار پھر نہتے غزہ پر اسرائیلی جارحیت شروع ھو چکی ھے ۔۔۔اور ۔۔
سچ یہی ھے دوستو کہ ایک بار نیلسن منڈیلا نے امریکہ کی تاریخ میں حسرت اور ناکامی لکھی تھی اور آج رجب طیب اردگان نے اسرائیل کی دائمی شکست کی تاریخ لکھ دی ھے ۔۔
اب اسرائیل کی مرضی ھے وہ امریکہ کی طرح سات سال بعد اپنی فوجیں غزہ کی پٹی سے ھٹا ئے یا آج ھی محاصرہ ختم کر کے امن کاپرچم لہرا دے ۔۔۔ ورنہ تاریخ کو تو فیصلہ کرنا ھی ھے ۔۔۔ جلد یا بدیر ۔۔۔