|
اسلام میں ظلم کے بارے میں احکامات ۔ سیدہ رافعیہ گیلانی ۔ راجن پور
07.03.2013, 01:10am , جعمرات (GMT+1)
سیدہ رافعیہ گیلانی ۔راجن پور
ایک بار پھر کوئیٹہ میں مظلوم ہزارہ برادری کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا یہ بات بڑے کرب و ازیت کی ھے کے یہ سب مسلمان ملک میں ھو رہا ھے اور نام نہاد مسلمان یہ ظلم کر رھے ھیں ، جب کہ اگر اسلام کی روح کو سمجھیں تو یہ سب غیر اسلامی ھے - حقیقت ھے بھی یہی اگر کوئی بھی شخص یا گروہ اسلام کو استعمال کر کے کسی قسم کا بھی ظلم کرتا ھے کسی دوسرے انسان سے تو وہ اسلام کا اللہ کا اور رسول اللہ کا باغی ھے اور اللہ کے قہر کو للکارتا ھے کیوں کے مزہب اسلام میں کسی صورت بھی ظلم غارت گری کی اجازت نھیں ھیں اس سلسلہ میں بے شمار قرآنی آیات اور احادیث موجود ھیں سورت نسا آیت نمبر 92 میں ارشاد پاک ھے کسی مسلمان کو زیبا نھیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے چاھے وہ جان بوجھ کر ھو یا انجانے میں ، پھر اسی سورت نسا کی آیت میں ھی ارشاد خداوندی ھے اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ھے جس میں وہ ھمیشہ رہے گا۔
اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ھے اور اللہ نے اس کے لئے بھت بڑا عزاب تیار کر رکھا ھے ۔ اسی ا سی طرح سورت بنی اسرائیل آیت نمبر 33 ھے اور کسی ایسے شخص کو قتل نا کرو جسے اللہ نے قتل کرنا حرام قرار دیا ھے سورت فرقان آیت نمبر 67 اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نھیں ٹھراتے نا ھی اس کی حرام کی ھوئی چیز یا کسی جان کو نا حق قتل کرتے ھیں اسی طرح بے شمار احادیث بھی ھیں جن میں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ھیں ، حضور کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ھے اور اس سے جنگ کرنا یا قتال کرنا کفر ھے ،۔ دوسری حدیث مبارکہ ھے حضور صلے اللہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کفار بن کر نا پلٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارتا پھرے ۔
یوں قران و حدیث میں درس اخلاق دے کر اللہ نے تمام قسم کے ظلم کی ممانعت فرما دی ھے کیوں کے یہ زمین اللہ کی اور انسان کو بھی اللہ نے تخلیق کیا ھے اور حکم کا اختیار بھی صرف اس کے پاس ھے کسی کی یہ مجال نھیں ھونی چاھیئے کہ وہ اللہ کی بنائی حدود کی خلاف ورزی کرے یا ان سے تجاوذ کرے اگر کرتا ھے تو اپنا انجام خود دیکھ لے گا کہ اللہ کے پاس ھر بندہ کا نامہ اعمال موجود ھے جو روز محشر اس کو دکھا کر جواب طلب کیا جائے گا ،۔ لوگ کس قدر بھٹکے ھوئے اور ظالم ھیں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ھوئے ذرا بھی نھیں گھبراتے ھیں ، کسی مسلمان کو تو اتنا بھی اجازت نھیں کے وہ کسی دوسرے مسلمان کو گالی دے بے عزت کرے تو کجا اس کی جان لینا اس پر ظلم کرنا ،اللہ کیسے معاف کرے گا ،۔
قران میں اور حدیث میں ظلم کی مزمت بھی شدید الفاظ میں کی گئی ھے اگر انسان سہی معنوں میں اسلام کو سمجھ لے تو کبھی کسی کو زرا برابر بھی تکلیف نا دے آج کے دور میں انسانیت دم توڑ رھی ھے جھوٹی انا گھمنڈ قوت برداشت کی کمی طاقت کا نشہ غرور بغض کینہ حسد نفس پرستی لالچ رعونت انسان میں اس قدر سرایت کر گئی ھیں یہ برائیاں کے وہ اللہ کا باغی بن گیا ھے اللہ تعالی کا ارشاد ھے کسی ایسے انسان پر دوسرے انسان کا ظلم جو میرے سوا کسی کو مدد گار نا رکھتا ھو میرے غضب کو بھڑکا دیتا ھے پھر حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا ھے کہ جو شخص کسی ظالم کو اس کے ظلم میں مدد دے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ھے اور اگر کوئی کسی جھگڑے میں کسی ظالم کی مدد کرے گا وہ اس وقت تک اللہ کے غضب میں رھے گا ۔
جب تک کے واپس نا پلٹ آئے یا ظلم کے راستہ کو چھوڑ نا دے ، پھر ایک اور جگہ حضور کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط سے گزرتے ھوئے منادی ندا کرے گا کے اے ظالموں اے بد بختو اے سر کشو بے شک اللہ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ھے کہ آج ظالم کا گزر پل صراط سے نھیں ھو گا یعنی ظالم پل صراط سے نھیں گزر سکتا ،۔ پھر مظلوم ظالم کو پہچان لے گا جس نے دنیا میں اس پر کسی بھی طرح سے ظلم کیا ھو گا پھر اللہ تعالی اس کی تما م نیکیاں مظلوم کے حصے میں ڈال دے گا اور اس کے تمام نیک عمل اگر جو بھی ھونگے وہ اس سے لے کر مظلوم کو دے دئے جائیں گے اور اس کو جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں پھینک دیا جائے گا یوں وہ جھنم رسید ھو گا حضور کریم صلے اللہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کسی نے کسی کو ایک چابک بھی ماری ھو گی تو اس کا بھی اس شخص سے بدلہ لیا جائے گا ناحق جان لینے والے ظلم کرنے والے جان لیں اللہ کی لاٹھی بے آواز ھے جو یقینآ ان پر پڑنے والی ھے انشاللہ وہ دن دور نھیں جب مظلوموں کے بے گناہ خون کا حساب لیا جائے گا ۔
|