
کسی بھی شخص کی شخصیت جاننے کے لئے اس کے کارہائے نمایاں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کی سیاست میں سیاسی کاناموں کی وجہ سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ان کی شخصیت کا جائزہ لینے سے قبل یہ ضروری ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے دور کے مختلف نامور افراد کی آراء کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے آپ کی شخصیت مزید نکھر کر سامنے آئے گی۔جان کنتھر۔۔ مسٹر جناح کی زبان سحر انگیزی پر مشتمل تھی ۔پاکستان ہمارا ہے۔ دین اسلام پر نثار ہو جائیں گے۔ قائد کی زبان سے جب ادا ہوتے ہیں تو دس کروڑ مسلمان ہند فلک شگاف نعرے بلند کرتے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے۔جگت نرائن لال۔وہ کسی بھی طاقت کے آگے جھکنا نہیں جانتیتھے انہوں نے ہر محاذ پر انگریزوں اور ہندوؤں کو شکست دی۔سرتیج بہادر سپرو۔حصول پاکستان قائد اعظم کا ایسا روشن کارنامہ ہے۔ جو رہتی دنیا تک یادگار رہے گا۔لوئی فشر۔ مسٹر جناح ایک ذہین پارلیمانی شخصیت ایک ہوشیار نقاد اور ایک بے لوث سیاستدان ہیں۔
مسولینی۔( سابق سربراہ اٹلی)قائد اعظم کے لئے یہ بات کہنا غلط نہ ہوگی۔ کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت ہیں جو کہیں صدیوں میں جاکر پیدا ہوتی ہیں۔لارڈ سٹرا بولگی۔قائد اعظم نے صحیح قیادت دے کر واشنگٹن،گیری بالڈوگ،اور بسمارک سے بھی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے پاکستان ایک بڑی قوم کا بڑا ملک ہے۔
ڈاکٹر سلطان شہر یار(سابق وزیراعظم انڈونیشیا) مسٹر جناح بہت پُر کشش آدمی ہیں۔ ایک مقناطیسی شخصیت، مسٹر جناح کی جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ ان کی خود اعتمادی اور صاف گوئی ہے۔وہ اپنے مدعا کے مکمل و موئثر اظہار پر ساحرانہ قدرت رکھتے ہیں۔خالدہ ادیب خانم۔قائد اعظم مسلمانوں کے عظیم لیڈر تھے۔قدرت نے انہیں قیادت ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ پار نوالی(ایران) فکر قائد کی روشنی سے عالم اسلام کو فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے قوم کے مستقبل کے لئے اپنا آج کل کے لئے قربان کردیا ۔اور اس وصف کے مدنظر ،وہ تاریخ پاکستان کا ایک درخشاں باب متصور ہونگے۔آقائے رزم آرا(سابق وزیر اعظم ایران)قائد اعظم اتحاد،یقین محکم اور تنظیم کے اصول کے مجسمہ تھے۔انہوں نے ملت پر ان تین صفات کی اہمیت واضح کی۔ آپ ملت کے جذبہ عمل کے سر چشمہ تھے۔ان کی تعلیمات واضح محکم اور اصول پر مبنی تھیں۔آپ نے اپنے پیروؤں کو سیاست اور حکومت کے فن کی ایسی تربیت دی۔ کہ ان کی وفات پر پاکستان کو ضعف نہیں پہنچا۔مسز اینی بسنت۔جناح جیسی شخصیت بنی نوع انسان کی آزادی کے گلے کا ہار ہے۔جس کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی۔ڈاکٹر سی آر داس۔ مسٹر جناح صرف مسلمانوں کی نجی دولت نہیں ہیں۔ بلکہ وہ سارے ہندوستان کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ل

ارڈ ایٹلی( سابق وزیراعظم برطانیہ) قائد اعظم کا بے مثل جذبہ حریت اور شبانہ روز محنت ہی وہ سرمایہ ہے جس نے پاکستان جیسے ملک کی بنیاد ڈلوائی۔نواب وقارالملک: قائد اعظم محمد علی جناحؒ کسی بھی بے اصولی کوبرداشت نہیں کرسکتے تھے۔ بے اصولی ان کی چڑ تھی۔اور اصول ان کی خوشنودی۔ہمیشہ ایسے لوگوں کو پسند کرتے تھے جو اصول کے پابند ہوں خواہ ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے کیوں نہ ہو۔سر راس مسعود۔وہ آزادی کی خاطر انگریزوں سے نبرد آزما ہوئے۔وہ آزادی کی مہم میں کسی طرح بھی غاصبانہ اقدامات کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔مسلمانوں کی ذہنی معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی روایات کو کسی قیمت پر قربان کرنا انہیں گوارا نہ تھا۔
مولانا محمد علی جوہرؒ ۔کاش خداوند عالم جناح کے دل میں ڈال دے کہ مسلمانوں کی راہنمائی اب اس کے سوا کوئی نہ کرسکے گا۔نواب محمد یار جنگ۔قائد اعظم پاکستان کی روح رواں تھے۔ان کی تقریروں سے مسلمانوں کے بجھے ہوئے دلوں میں امید کی کرن پیدا ہو گئی۔ان کے پژ مردہ دلوں پر امید کی کرنیں اور مسکراہٹیں رقصاں ہو گئیں اور اپنے دلوں میں ایک نیا عزم لئے جوق در جوق مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جنع ہو گئے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام انہیں دل و جان سے چاہتے تھے۔
حسین شہید سہروردی( وزیراعظم پاکستان) مسٹر جناح ان لوگوں میں سے ہیں جو ذاتی مقاصد کو لے کر آگے ہیں بڑھتے وہ بڑے دیانتدار اور راست گو ہیں۔ وہ اپنا جواب آپ ہیں۔مولوی عبدالحق۔قائد اعظم مرے نہیں۔وہ زندہ ہیں اور پاکستان کی شکل میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔سر عبدالقادر۔قائد اعظم مرے نہیں۔ جو مشعل راہ انہوں نے فروزاں کی تھی بدستور فروزاں ہے وہ پاکستان کی شکل میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔
حکیم اجمل خان مسٹر جناح عملی طور پر وطن پرست ہیں۔اگر ایک طرف ان کا وہ جوش اور ولولہ کہ ملک سیاسی طور پر آزاد ہو جائے اسے کسی کے سامنے سرنگوں ہونے نہیں دیتا تو دوسری طرف وہ سیاسی حالات سے بے خبر نہیں ہیں اور وہ ہر فرقے کے ساتھ انصاف چاہتے ہیں اور اسی بنیاد پر ملک کی ساسی تعمیر کے متمنی ہیں۔
علامہ عنایت اللہ المشرقی۔قائد اعظم کا عزم پائندہ اور محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھے۔ جو مخالفوں سے ٹکرانے کوئی باک محسوس نہیں کرتے تھے۔مولانا ابوالکلام آزاد۔قائد اعظم بے جا جذباتیت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ ہر مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے تھے۔ اور یہی ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز تھا۔
شیخ ؑ عبداللہ۔قائد اعظم کو اپنے مقصد میں جو اس قدر محیرالعقول کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک سچے مسلمان ہیں۔ انہوں نے قوم کے مفاد کی حفاظت کا فریضہ تندرستی سے انجام دیا۔ وہ ہمیشہ انصاف و دیانت کے مسلک پر کار بند رہے۔سلطان سر محمد شاہ آغا خان۔مجھے اپنی زندگی میں بے شمار سیاستدانوں سے واسطہ پڑا۔لائیڈجارج،چرچل،کرزن،مسولینی،گاندھی۔لیکن جناح ان سب میں منفرد تھے۔ میرے خیال میں کوئی شخص بھی زیادہ مضبوط سیرت و کردار کا مالک نہ تھا ہوش و تدبر،عزیمت و استقامت جو سیست کا سنگ بنیاد ہیں جناح میں بدرجہ اتم ہیں۔

چودھری رحمت علی۔قائد اعظم کی شخصیت بہت ہی غیر معمولی صفات کا مجموعہ تھی۔ وہ ایک فلسفی کی طرح سوچتے ایک منطقی کی طرح گفتگو کرتے اور ایک ماہر قانون کی طرح پابند تھے۔مولانا حسرت موہانی۔جناح ایک لیڈر ہیں۔ جو مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب ہوئے۔موصوف صحیح معنوں میں قائد اعظم کہلانے کے حقدار ہیں۔ ان کی تاریخ پیدائش وہی ہے۔ جو انسانیت کے عظیم المرتبت نجات دہندہ حضرت عیسیٰ کی ہے ۔اسی کی برکت ہے کہ وہ مسلمانان ہند کے سیاسی مسیحا ہیں۔
سر سکندر حیات۔قائد اعظم نے مسلمانوں کے لئے جو کچھ کیا ہے وہ انہیں صحیح معنوں میں قائد اعظم کے لقب کا مستحق بناتا ہے۔ ان کے بدترین ناقد بھی ان کی عظیم صلاحیت،اخلاص اور احساس فرضکا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال۔ہندوستان میں بحیثیت مسلمان آپ ہی کی واحد ہستی ہے جس سے ملت کو یہ توقع وابستہ کرنے کا حق ہے کہ شمالی مغربی یا شاید پورے ہندوستان میں جو سیلاب آرہا ہے اس میں آپ ملت کی صحیح راہنمائی فرمائیں گے۔م
حترمہ فاطمہ جناح۔قائد اعظم گھریلو زندگی میں ہر وقت ہنستے ہنسا نے کے موڈ میں ہوتے باہر سخت طبیعت مگر حقیقت میں نرم طبیعت انسان تھے۔قائد اعظم ایک ایسے صاحب بصیرت ۔ فرض شناس اور دیانت دار شخص تھے جن کا نام بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں میں جو سیاسی تصور فکر اسلامی اور جذبہ حریت کا طوفان اُمڈ رہا تھا وہ قائد اعظم کی جلیل اور عظیم ہستی کے طفیل تھا یہ قائد اعظم کی قیادت کا ہی نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے ہندوؤں اور انگریزوں کی مشترکہ مخالفت کے باوجود پاکستان حاصل کیا۔قائد اعظم کی دیانت کے معترف ان کے دوست تو کیا دشمن بھی تھے۔
سروجنی نائیڈو ( بلبل ہند)میں بڑی مدت سے محمد علی جناح کو چاہتی ہوں۔ شروع شروع میں،میں نے ان کو روکا کہ سیاست ایک گندہ کھیل ہے ،اس میں نہ کودیں،لیکن اب وہ سیاست کے سمندر میں کود پڑے ہیں تو میں ان کے لئے دعا گو ہوں۔ کہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ اور بھگوان انہیں سرخرو کر دے۔آپ ایسے لیڈر ہیں ۔ جن کو نہ خریدا جاسکتا ہے اور نہ بد دیانتی پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر ٹرومین( سابق صدر امریکہ)۔دولت پاکستان کے معمار دنیا میں سب سے بڑی اسلامی مملکت کا بانی حق بات کہنے اور منوانے والا اب اس دنیا میں دوبارہ نہیں آئے گا۔ماسٹر تارا سنگھ۔قائد اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے بچا لیا۔خان لیاقت علی خاں۔قائد اعظم نے واقعات کی رفتار اور زمانے کی روش کو اپنی غیر معمولی ذہانت اور لازوال قومی درد سے آشنا ہو کر اس کو تبدیل کرنے میں شب و روز محنت کی اور ایک منتشر قوم کو یکجا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
سی راجگوپال اچاریہ۔قائد اعظم بلند پایہ شخصیت ہیں۔یہ کوئی معمولی انسان نہیں۔ ملک میں زبردست مقبولیت کے مالک ہیں۔ ان کی اندھی پیروی کی جارہی ہے۔یہی صحیح صحیح اور یہی سچی پیروی ہے۔ وہ اپنی قوم کو بچانا چاہتے تھے ۔وہ اس مقصد میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے ایک نئی مملکت قائم کر لی
لارڈرسل(فلاسفر)۔میں تمام زندگی میں جس شخص سے زیادہ متائثر ہوا ہوں وہ محمد علی جناح کی ذات ہے۔سر ہومی مودی۔ مسٹر جناح مدتوں سے ہماری زندگی کے ایک مہتمم باالشان نمائندہ ہیں۔ان کی روش بظاہر مجموعہ اضداد رہ چکی ہے۔ لیکن ہر تغیر کے ساتھ وہ ایک مستقل اور بنیادی اصول پر جمے رہے۔وہ نڈر ہیں۔ بے خوف ہیں صاف گو ہیں شہرت کے طلب گار نہیں۔ اور سیاسی سازشوں سے باالکل الگ تھلگ۔بہت کم ہیں جنہوں نے انہیں پہچانا،اور بہت کم ہیں۔ جنہوں نے ان کے تنہائی کے قلعے میں رہائی پائی۔ایک شخصیت جو دلوں کو موہ لیتی ہے تم اس کو چاہے ناپسند کرو چاہے اسے بُرا کہو مگر اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔
پی اٹکس لارنس ( انگریز صحافی) ان کا ہر ارادہ مسلمانوں کے لئے حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا حکم مسلمانوں کے لئے آخری فیصلہ ہے۔ جس کی انتہائی خلوص کے ساتھ لفظ بلفظ تعمیل کی جاتی ہے۔
دیوان چمن لال (ایڈووکیٹ جنرل بمبئی ہائیکورٹ) جناح ان لوگوں میں سے ہے جو ذاتی مقاصد و اغراض کو پیش نظر رکھ کر نہیں بڑھتے۔ ان کی دیانت پر کسی طرح حرف گیری نہیں کی جا سکتی ۔وہ اپنی مثال آپ ہیں۔سرکاؤس جی جہانگیر۔جس راستہ کو وہ صداقت ،حقانیت اور انصاف کا راستہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس سے کوئی چیز بھی انہیں منحرف نہیں کرسکتی۔ وہ ہمت و استقلال کے دھنی ہیں۔ میں جرات کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔ کہ ان پر کسی بھی وقت کوئی موقع پرستی اور ابن الوقتی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ انہوں نے کبھی اپنی غرض اور اپنے مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح نہیں دی

۔مسٹر جو کم الوا(ایڈیٹر فورم) جناح کی جرات اور بے ساختگی نے عدالتوں میں ان کی شخصیت کو ہی اجاگر کیا ہے ان کی مقناطیسی کا شہرہ ججوں سے بے خوف مقابلے اور عدالتوں میں بے لاگ قانونی موشگافیوں کے باعث دنیا بھر میں ہے۔جناح ہماری قانون دان برادری کا سب سے زیادہ باہمت انسان ہے ۔کوئی منصف یا جج انہیں چکر دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ایف ای جیمز(سابق لیڈر یورپین گروپ سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی)سیاسی مجاہد کی حیثیت سے ہندوستان میں ان کا کوئی مد مقابل نہیں۔وہ عوامالناس کے بے خوف اور ناقابل تسخیر راہنما تھے۔مولوی فضل حق۔ اعلیٰ کردار اور استقامت ، قائد اعظم کے بڑے ہتھیار تھے۔ان کا دل اسلام اور مسلمانوں کی محبت سے معمور تھا۔
سر سی پی راما سوامی آئر۔ میں جناح کے واضح نظریات اور پبلک معاملات میں ان کی بھی بے غرضی اور بے لوثی کا معترف رہا ہوں۔ انہوں نے عوام میں اپنی مقبولیت کو اپنی ذاتی فوائد کے لئے استعمال کرنے سے احتراز کیا ہے۔ڈاکٹر امبیدکر۔(اچھوت لیڈر)جناح صاحب کے بڑے بڑے دشمنوں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ کہ وہ کسی بھی قیمت پر خریدے نہیں جا سکتے۔ یہ اور بات ہے کہ مسٹر جناح اپنے ارادوں میں پختہ اپنی رائے میں سخت ہیں۔لیکن ین کے رویہ میں کبھی کوئی لوچ نہیں پایا جاتا۔
جواہر لال نہرو۔( سابق بھارتی وزیراعظم) میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں ۔ کہ محمد علی جناح کسی قیمت پر خریدے نہیں جا سکتے۔ ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی۔ اتنی بلند شخصیت تھے جتنی امام ابن تمیمہؓ تھے اس لئے کہ ابن تمیمہؓ نے مسلمانوں کو تاتاریوں سے بچایا۔جبکہ قائد اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ کیا
۔گاندھی جی۔میں نے قائد اعظم کی تقریر سے اندازہ لگایا ہے کہ انہیں ہندوؤں سے کوئی پُرخاش نہیں ہے۔ وہ ان کے ساتھ پُرامن زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ آپ کو مسلم عوام پر بے نظیر قابو حاصل ہے۔آپ سیرت و کردار کی ان بلندیوں پر ہیں کہ کوئی لالچ ،کوئی خوف اور کوئی طعنہ آپ کو اپنی رائے سے نہیں ہٹا سکتا۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن۔ راست بازی میں در یکتا،اندر باہر یکساں ،انگریزی زبان کا درجہ اوّل مقرر، کمزور جسم و جاں کے ساتھ،بارُعب شخصیت، مسلمانان ہند کی اکیلے ناؤ کھینچنے والا اتنا بلند کردار اور قومی لیڈر شاید ہی مسلمانوں میں دوبارہ پیدا ہو۔
سر ونسٹن چرچل۔( سابق برطانوی وزیر اعظم)قائد اعظم کو ایک بہترین سیاستدان اور دنیا کا ذہین و فطین لیڈر قرار دیا۔لارڈ کرپس۔مسٹر محمد علی جناح کے سینے میں شیر کا دل ہے ۔ان کے ارادے اٹل ہیں۔وہ ضرور ہندوستان تقسیم کروائیں گے۔
لارڈ ویول۔( سابق وائسرائے ہند) مسٹر جناح اپنے ارادوں میں اپنی رائے میں بے حد سخت ہیں۔ان کے رویے میں کوئی لچک نہیں پائی جاتی۔وہ مسلم قوم کے مخلص راہنما ہی نہیں بلکہ سچے وکیل بھی ہیں۔
سر شاب موکھم چٹی( انڈین لیجسلیٹو اسمبلی)وہ بلا شبہ ایک بڑے وطن پرست پارلیمانی آداب کے ماہر اور ہندوستان کی زبردست شخصیت ہیں۔جنہیں کسی ترغیب یا تحریص سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ان کی خودداری اور آزادی چھینی جا سکتی ہے۔ان کی زبردست سیاسی شخصیت کا راز اسی اہل اور غیر فانی روح آزادی میں پوشیدہ ہے۔
وجے لکشمی پنڈت۔جناح ناقابل شکست تھے۔ اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی ہوتے تو کانگرس کے پاس صرف ایک جناح ہوتا تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔لارڈ نسلتھگو۔ مسٹر جناح کے تمام الفاظ ہیروں کی طرح قیمتی، ارادے چٹان کی طرح مضبوط وہ حقیقت میں ناقابل تسخیر ہیں۔
نیلسن ( جرنیل اور مدبر)مسٹر محمد علی جناح میں قدرت نے بے پناہ صلاحیتیں دی ہیں جب چاہیں جنگ کا رُخ تبدیل کر سکتے ہیں۔ دس کروڑ انسان ان کے کہنے پر اپنی جان قربان کر سکتے ہیں۔