معاشرہ عربی زبان کا لفظ ہے ۔جس کے معینی مل جل کر رہنا ہے ۔ایسا معاشرہ جس کے فکر و عمل میں ہم آہنگی ہو رسم و رواج اور رہن سہن کے طریقے زیادہ تریکساں ہوں ۔معاشرتی عدم استحکام اس کی ترقی اور تنزل کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔جس کی وجہ سے کوئی معاشرہ ترقی کی راہ پر نہیں رہتا ۔اور جلد انتشار اور تنزل کا شکار ہوجاتا ہے ۔کسی بھی معاشرے کے زوال کے اسباب ایک ہی جیسے ہوا کرتے ہیں۔معاشرے کے زوال کی ایک اہم اور بڑی وجہ افلاس اور بے روزگاری ہی ہے ۔اچھے زہن اور تعلیم یافتہ افراد زندگی کا قیمتی سرمایہ اپنی ڈگریاں لئے گھر بیٹھے ہیں۔جو نا امیدی اور مایوسی کی انتہائی حالت اور کیفیت میں مبتلا ہوکر خود کشی کرلیتے ہیں۔کچھ نشے کی لت میں مبتلا ، اور کچھ جرائم پیشہ افراد کے چنگل میں پھنس کر اور کچھ غلط راہوں پر چل کر چوری ،ڈاکہ ،اسمگلنگ کرنے لگتے ہیں۔کچھ افراد بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کے لالچ میں آکر لاقانونیت کی گرفت میں پھنس کر اپنی زندگی عذاب بنالیتے ہیں۔
بعض افراد اپنا حق چھین کرلینے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔بے روزگاری سے بھوک افلاس اور بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے افراد میں بے چینی بڑھ جاتی ہے ۔اور معاشرتی خرابیاں بڑھنے لگتی ہیں۔اسی طرح ہر نئی حکومت سابقہ حکومت کی برائیاں کرتی ہے ۔پھر آخر کار خود ہی برائیوں کی لپٹ میں آجاتی ہے ۔جس سے عوام کا حکومتوں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے ۔یہ عدم اعتماد کا ماحول معاشرے کو بہت نقصان پہنچاتا ہے ۔ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو قانون نافذ کرنے ادارے ہمیشہ بھاری رشوت لیکر اپنی جیبیں گرم رکھتے ہیں۔اور قانون کے دائرہ اختیار سے صاف چھپے رہتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم دلچسپی سے معاشر ے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے ۔امن و امان کی صورت حال قابو سے باہر ہے ۔آئے دن جھگڑے ،فساد،لوٹ مار کے واقعات ، چھینا جھپٹی اور منٹوں و سیکنڈوں پلک جھپکتے انسان کو قتل کر دیا جاتا ہے ۔اور مجرم آزادانہ انداز میں رفو چکر ہوجاتے ہیں۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ہم نے ناکامی اور مایوسی کو اپنا مقدر سمجھ لیا ہے ہم جاننے کی کوشش ہی نہیںکرتے ہیں کہ اس معاشر ہ میںکتنی بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں کہ انہوں نے اپنے عزم و استقلال سے دنیا میں عزت پائی ۔ہمت و جوانمردی سے مقابلہ کیا ۔تدبیر و عمل سے ثابت کیا ۔ انہوںنے عزت ،شہرت ،شان ،شوکت سب جہد مسلسل سے حاصل کیا ۔ہمت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا ۔اپنے ارادے کو چٹان کی طرح مضبوط رکھا۔ایک لمحے کیلئے اپنے مقصد سے غافل نہیں ہوئے۔فضول گفتار وں میں اپناوقت ضائع نہیں کیا۔اگر وہ گفتار کے غازی تھے تو ساتھ ساتھ کردار کے بھی غازی تھے۔ان کی کامیابی کا راز عمل ،ہمت اورمحنت پر تھا ۔ ان کی زندگیاں ہمیں دعوت فکر اور عمل دے رہی ہیںکہ انسان کی زندگی اس کے اپنے اعمال و کردار سے بنتی ہے
چھپا دست ہمت میں زور قضا ہے
مشل ہے کہ ہمت کا حامی خداہے
افراتفری کے اس دور نے تعلیم پر بھی بہت برے اثرات مرتب کئے ہیں اور اس کی وجہ سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ ہے برداشت میں کمی اور اس سے پیدا ہونے والا غصہ ۔اس کے علاوہ بدگمانی اور شک نے بھی زندگیوں میں نفرت اور تعصب کا زہر گھول دیا ہے ۔پھر سیاسی و مذہبی جماعتیں عوام میں اپنا اعتبار اور بھروسہ کھوچکی ہیں خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ افراد کی پناہ بن گئیں ہیں ۔جبکہ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی سرپرستی بھی کی جارہی ہے ۔عجیب عالم نفسانفسی ہے ۔ہر کوئی وقت کے ساتھ بھاگ رہا ہے ہمارا پورا معاشرہ ہی اپنے اپنے مفادات کی رو میں بہہ رہا ہے کسی کو کسی کوئی سروکار نہیں ہے ۔احساس نام کا جذبہ ہمارے وجود سے ڈائینو سارس کی طرح معدوم ہوتا جا رہا ہے ۔ایسا لگتا ہے جیسے آنے والے وقتوں میں ہم اپنا ئیت کے سارے رنگ کھوبیٹھیں گے اور پتھر کے انسان بن جائیں گے اس لئے اب ضروری ہوگیا ہے کہ تعلیم سے زیادہ کردار سازی پر توجہ دی جائے ۔اور کردار کو اتنا بلند کرو کہ لو گ ایک دوسرے پر رشک کریں یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں انسانیت کا خطرناک دشمن انسان ہی ہے ۔بہت لمحہ فکریہ اور غور طلب بات ہے ۔ ہم بکھر رہے ہیں ،ہم منتشر ہو رہے ہیں ۔ ہم تقسیم ہورہے ہیں جانتے ہیں لیکن پھر بھی بے بسی کی تصویر بنے نہ جانے کس کا انتظار کر رہے ہیں۔