14.10.2026, 07:38pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔31ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
10.03.2013, 12:05am , اتوار (GMT+1)

سید اکمل حسین لندن
لندن و پیرس کی عبادت گاہ کے انتخابات کے چند امیدوار

کراچی میں عباس ٹاؤن پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے نے ایک بار پھر پاکستان کے مظلوم،غریب اور بےصدا آواز عوام کے ساتھ ساتھ عام مسلمان اور خاص طور پر ھدف بننے والی ملت جعفریہ کو کر رکھ دیا ہے۔ حکومت کی بے حسی اور بے بسی کے بارے میں کچھ کہنا وقت برباد کرنے والی بات ہے کیونکہ ایسی حکومت یزید کی حکومت کے برابر ہو تی ہے

نہ جانے لوگ کیوں اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ زرداری کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔قطعی نہیں۔یہ بالکل جھوٹ ہے اور شیعت کو بدنام کرنے کا ایک طریقہ۔ جس محمد علی جناح نے پاکستان بنایا اور وہ شیعہ مسلک سے تھے تو انکو متنازعہ بنا دیا۔ آج زرداری جیسے حاکموں کا کوئی دین مسلک نہیں ہوتا انکے ہاں تو قتل اور ہلاکت بھی شہادت کہلاتی ہے۔ بھٹو خاندان میں صرف نصرت بھٹو ہی مسلک  سے شیعہ تھیں اور وہ اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس میں مجالس کا اہتمام بھی کرتی تھیں لیکن بے نظیر نے صاف طور پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انکی ماں شیعہ تھیں باقی کوئی نہیں

لیکن شیعت کو بدنام کروانے والے زرداری نے نصرت بھٹو کی آخری رسومات بھی مسلک شیعہ کے مطابق نہ ہونے دیں۔

اسی حکومت میں فردوس عاشق اعوان جیسی نام نہاد بھی شامل ہے جس نے ذاکرین پالنے کا کام کیا ہے لیکن بے حسی ایسی کہ شیعوں کی نسل کشی پر ہمت نہ ہوئی کہ مستعفی ہو جاتی یا اسمبلی میں لفظی احتجاج ہی کر لیتی۔ 

اس عذاب کے دوران جو ایک وقتی دینی قیادت ابھری تھی وہ اس بار پردہ سکرین سے بالکل غائب ہے اور انکی جگہ تیسرے درجے کے لوگ ٹی وی پر بیانات دیتے نظر آتے ہیں، میری جواپنی معلومات ہیں اگر وہ لکھ دیں تو پھر ایک بار گالیوں کے فون شروع ہو جائیں گے۔کیا اچھا ہو کہ ان ملاؤں کے گماشتے ہی اس بات کی وضاحت کر دیں کہ آخر یہ سب لوگ کہاں روپوش ہو گئے اور کوئٹے کا ہونے والا سمجھوتہ کہاں گیا۔ مریض کراچی بھیجنے کے علاوہ اور کس کس شق پر عمل ہوا؟ اگر اسکو قیادت کہتے ہیں تو ہم جیسے بلا قائد ہی اچھے۔

مجھے تو ابھی ایک نام نہاد مولوی نے جو خود کو خود ہی عالم دین لکھتا ہے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ شیعت میں اسوقت تک ایمان مکمل نہیں جب تک آپ توحید،رسالت اور امامت کے ساتھ ایران کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتے۔ انااللہ۔ یہ لوگ ہیں جنکی وجہ سے آل رسول کے دین کی یہ نہج بدنام ہوتی ہے۔ ایسے لوگ تو اس مسلک کے قائدین کہلاتے ہیں۔ اسی کو قحط الرجال کہا جاتا ہے


گزشتہ رپورٹ میں لندن کی ایک امام بارگاہ میں الیکشن کی گما گھمی کا تذکرہ کیا تھا  اور یہاں بھی قیادت کی لڑائی ہے۔ ایک گروپ کسی نہ کسی طرح بس منتخب ہونا چاہتا ہے اور اگر انکا بس چلتا تو کسی کو اپنے مقابلے میں کھڑے ہی نہ ہونے دیتے یا پھر انتخابات ہی نہ کرواتے۔ قائد بننے کا شوق تو ہے لیکن قیادت کا فقدان ہے۔ یہاں کے انتخابات میں اگر یوں بھی کوئی دھاندلی نہ ہو تو  انتخابات کے انعقاد کے لیئے ہونے والے اقدامات سے متعدد امیدواروں نے اتفاق نہیں کیا لیکن کوئی سننے والا نہیں کہ انتخابات کی نگرانی کرنے والی ٹیم میں کچھ کی تو عمر ہی اتنی ہے کہ سنائی ہی نہیں دیتا

یہاں بننے والے الیکشن کمیشن اور پاکستان کے الیکن کمیشن میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ بھی ایک ہی جیسے ہیں ۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق جو رائے دہندگان کی فہرست امیدواران کو مہیا کی گئی ہے وہ ایک نا مکمل فہرست ہے جس میں نہ تو رائے دہنگان کہ فون نمبر اور نا ہی پتے مہیا گئے ہیں تاکہ تمام امیدوارن ان سے رابطہ نہ کر سکیں اور ادھوری سی فہرست نوٹس بورڈ پر آویزں کر دی گئی ہے۔ حالت تو یہ ہے سینکڑوں پاؤنڈ مولوی اور تبرک پر خرچ کرنے والے اس قابل بھی نہیں کہ امیدواروں کو رائے دہندگان کی فہرست کی فوٹو کاپی مہیا کریں۔ ہم نے بھی امیدواروں کی طرح اس کی تصویر نوٹس بورڈ سے اتاری ہے۔

میں نے خود رائے دہندگان میں سے کچھ سے رابطہ کر کے کچھ معلومات لیں تو پتہ چلا کہ سوائے ایک دو امیدواروں کے کسی نے بھی رائے دہندگان سے رابطہ بھی نہیں کیا کہ انہیں ووٹ دیا جائے۔ اب اس صورت حال میں جو انتخابات ہونگے انکی صداقت کیا ہوگی۔وہی بعد از حیات والی صدارت رہے گی۔

خزانچی کے دو امیدواروں میں سے ایک امیدوار ہی یہاں لندن میں موجود نہیں لیکن چونکہ اسے جیتنے کی یقین دہانی کروا کے ایک قبضہ گروپ نے اپنے ساتھ شامل کیا ہے اس لیئے اسکے یہاں نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ منتخب ہو ہی جائے گا

میں نے بہت کوشش کی کہ کم از کم صدر کے امیدواروں کا موقف تحریری طور پر کسی طرح مل جائے کہ یہ تو علم ہو سکے کہ وہ صدر بن کر آخرکیا کرنا چاہتے ہیں

ایسے میں دو امید واران نے  اپنا موقف کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے کہ وہ اس ادارے کے ترقی اور تعمیر کے لئے کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے تجربات کو کسی طرح قوم اور ملت کی ترقی کے لئے بروئےکار لایا جا سکتا ہے یہ امید وار  ملت اور قوم کی امید پر کیسے پورے اُتر سکتے ہیں 

اگر رائے دہندگان نےاپنی رائے کو درست طور پر استمعال کیا تو یہ امید وار امامبارگاہ کو دینی اور مزہبی اور شرعی طور پر درست راہ پر لے جاسکتے ہیں۔ 

انتخاب میں جن امیدوارن کے نام سامنے آئے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں صدرات کے امیدوار سید محمد نقوی ، اشتیاق خان ، سید حسین باقر نقوی نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں اسی طرح آفس سیکرٹری کے لئے پرانے امیدوار جاوید حسین اور دو  امید وار منصور حیسن اور سید صالح عباس بخاری کے کاغزات نامزدگی سامنے آئے ہیں ۔ منصور حسین پہلے بھی ناکام سیکرٹری ثابت ہو چکے ہیں لیکن علم نہیں پھر کیا انکے دماغ میں آئی ہے۔ اسی طرح صدر کے عہدے کے ایک امیدوار کو طویل مدت منصب داری میں مالی اور دیگر الزامات کا سامنا رہا ہے اور ان میں سے جناب اشتیاق خان کے الزامات کا جواب آج تک کوئی نہیں دے پایا۔

خزانچی کئے لیئے دو افراد نے کاغزات دیئے ان امیداوان کے نام سید افتخار حیدر اور سید عارف علی جو پہلے بھی اس کمیٹی کی ممبر رہ چکے ہیں

 جوائنٹ سکیرٹری اور نائب صدر بلا مقابلہ مقرر ہو چکے ہیں جو دو افراد بلا مقبلہ منتخب  ہوئے ہیں ان میں جوائٹ سکیرٹری رضا احمد اور نائب صدر شیخ ارشاد حسین شامل ہیں

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اشتیاق خان کے صدر منتخب ہونے کی زیادہ امید ہے اور کمیونٹی ان کی کارکردگی سے زیادہ خوش نظر آتی ہے لیکن یہ مسلہ اپنی جگہ موجود ہے کہ  امیدوارن کو مکمل طور پر رائے دہندگان کی فہرست بھی فراہم نہیں کی گئی کہ وہ لوگوں سے براہ راست رابطہ کرتے۔ ووٹنگ  کی پرچی کو بذریعہ ڈاک روانہ کر دیا ہے ۔یہ پوسٹ بکس کا نظام تو حکومتوں میں درست کام نہیں کرتا یہاں کیسے کرے گا ۔علم نہیں

ہماری کوشش ہو گی کہ انتخابات کے دن ہم خود بھی وہاں موجود ہوں اور بے لاگ رپورٹ دیں

لندن سے پیرس کا رخ کرتے ہیں کہ فرانس پیرس میں امام بارگاہ  امامیہ شاہ نجف فرانس پیرس میں سپریم کونسل کے انتخابات کا عمل گزشتہ اتوار کو مکمل ہو چکا ہے امیدوران جو کامیاب ہوئے ان کے اسمائے گرامی سید زاہد علی نقوی (انجم نقوی) حیدر رضار شیرازی، نوید الحسن شیرازی ضیغم چوہدری اور چنگیز خان بلتی نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ سید زاہد علی نقوی نے سب سے زیادہ ووٹ لے کر شاندار کامیابی حاصل کی اور امید کی جا رہی ہے کہ سید زاہد علی نقوی امامیہ  امبارگاہ شاہ نجف میں اپنی کابینہ بنانے میں کامیاب رہیں گے 

اس سپریم کونسل کے زیر انتظام اور فرانس کے مومنین ایک مجلس ترحیم برائے ایصال ثواب شہدائے ملت جعفریہ پاکستان  مورخہ 9 مارچ کو بوقت 7بجے شام اہتمام کر رہے ہیں جس میں مولانا مشرف حسینی برطانیہ 8بجے شب خطاب کریں کے اور فلسفہ شہادت پر گفتگو کریں گے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس میں گردو نواح کے تمام مومینن و مومنات شرکت کر کے شہدائے ملت جعفریہ کے لئے دعائے مغفرت کریں گے مجلس کے بعد نذر امام عالی مقام کا انتظام بھی ہو گا ۔ 

بریشیا اٹلی کی شیعہ عبادت گاہ کے انتخابات بھی مکمل ہو گئے ہیں انکی تفصیل بعد میں




مجھےہمیشہ کی طرح آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا


:دیگر مضامین
(04.03.2013) کراچی کے عباس ٹاون کے مکینوں کو لہو میں نہلا دیا گیا۔ الجزیرہ رپورٹ
(01.03.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔30ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(26.02.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔29ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(25.02.2013) بزم ادب کینبرا کےزیر اہتمام ڈاکٹر نگہت نسیم کی کتابوں کی رسم اجرا اور فکری نشست
(19.02.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔28ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(16.02.2013) یادوں کی کہکشاں ۔ معروف صداکارہ اور اداکارہ عصمت طاہرہ کی خود نوشت کی تیسری قسط
(14.02.2013) وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا لندن میں یو کے پی سی سی ائی کے عشایئے سے خطاب
(10.02.2013) لندن میں ایلنگ ہسپتال کے باہر سرکاری ہسپتالوں کی بندش کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ
(09.02.2013)  اقلیتی خواتین میں قائدانہ صلاحتیوں کے فروغ۔۔۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔مسعود رضوی
(08.02.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔27ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(05.02.2013) یادوں کی کہکشاں ۔ معروف صداکارہ اور اداکارہ عصمت طاہرہ کی خود نوشت کی دوسری قسط
(04.02.2013)  یادوں کی کہکشاں ۔ معروف صداکارہ اور اداکارہ عصمت طاہرہ کی خود نوشت کی پہلی قسط
(04.02.2013) برطانوی جیلوں کو فراہم کئے جانے والے حلال فوڈز میں سور کے اجزا کا انکشاف
(31.01.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔۔26ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(29.01.2013) حلقہؑ دانشوراں جدّه كی سالانہ محفلِ نعت و نعتیہ مشاعرہ 24 جنوری کو منقد ہوئی
(23.01.2013) رحیم یار خان کا باب علی علیہ السلام تیس لاکھ روپے میں تعمیر ہوا ہے
(21.01.2013)  لندن میں آرٹ اور ثقافت کے نام سے ایک تنظیم گلوبل آرٹ اور کلچر کا افتتاح
(20.01.2013) برطانیہ میں برفباری کی نئی لہر . پورا ملک شدید سردی کی لپیٹ میں
(16.01.2013) پندرہ جنوری دوہزار بارہ۔اسلام آباد ڈی چوک میں ڈاکٹر طاہر القادری کا خطاب
(14.01.2013) کتنے ہی شہیدوں کا لہو ہاتھوں پہ تیرے ۔از۔ صفدر ھمدانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں