باقی باتیں بعد میں پہلے یہ ایک رونگٹے گھڑے کرنے والی خبر سنیں کہ عبادت گاہوں میں کیسا کیسا کام ہوتا اور کیا جاتا ہے۔ کیا یہی اسلام کی خدمت ہے۔اسلام ایک غیر مسلم ملک میں مسلماں کے ہاتھوں ہی بدنام ہو رہا ہے
نکاسٹر میں جامعہ الکوثرسکول میں مبینہ جنسی زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات کے سلسلہ میں تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، دو کا تعلق بلیک برن اور ایک کا بولٹن سے ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ لڑکیوں کے اس اسلامی سکول میں خواتین پولیس آفیسر کی نگرانی میں تلاشی لی جارہی ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تحقیق کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور سکول اور لوکل اتھارٹی کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں تاکہ الزامات کے بارے

میں مکمل چھان بین کی جاسکے۔
پولیس نے اپنی پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ پچھلے ہفتے کچھ طالبات کی طرف سے ملنے والی رپورٹ پر پولیس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا جو انتہائی پیچیدہ نوعیت کی ہے۔ جامعہ الکوثرسکول کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سکول پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی یہ تحقیق مکمل ہوجائے گی۔
بولٹن کا 40سالہ شخص اور بلیک برن کے 30 اور 53 سالہ شخص ابھی تک پولیس کی حراست میں ہیں۔ لنکاسٹر میں تھوڑی تعداد میں مسلمان کمیونٹی رہائش پذیر ہے اور سکول کے نزدیک پُرسکون رہائشی علاقہ میں تشویش پائی جارہی ہے۔ کئی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ 30 سے40 کے قریب پولیس کی نفری سکول میں داخل ہوئی اور ابھی تک سکول کے باہر پولیس کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔
یارکشائر کے ایک خاندان نے اس شرط پر کہ ان کا نام نہ ظاہر کیا جائے کہا کہ ان کی بیٹی کچھ عرصہ اس سکول میں جاتی رہی لیکن پھر اس نے وہاں جانا چھوڑ دیا لہذا وہ موجودہ صورت حال کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتا سکتے۔ لنکاشائر مساجد کی کونسل کے چیرمین سلیم مُلا نے کہا کہ لنکاسٹر جو بلیک برن سے کافی فاصلہ پر ہے اور سکول میں مقامی لڑکیوں کی بجائے زیادہ تر بیرون ممالک اور دوسرے علاقہ سے ہیں لہٰذا انہیں اس سکول کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں البتہ یہ خبر سن کر انہیں کافی پریشیانی ہوئی کیونکہ نسل پرست تنظیمیں اسلام کے خلاف اس کیس کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔
سلیم مُلا نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ صرف شک وشبہ کی بنیاد پر الزامات ہیں اور ہمیں اس سلسلہ میں محتاط رہنا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر سکول انتظامیہ ان سے مدد و تعاون کا کہیں تو وہ ان کی ہرممکن مدد کریں گے ۔ لنکاسٹر میں جامعہ الکوثر سکول1996 میں سابقہ رائل البرٹ ہسپتال کی تاریخی عمارت میں قائم کیا گیا جس کا مقصد دنیا بھر سے آنے والی مسلمان لڑکیوں کو اسلامی اور دنیاوی تعلیم دینا ہے۔
سکول میں اس وقت 450 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں اور سکول ہی کے احاطہ میں ان کی رہائش کا بھی اہتمام ہے جن میں برطانیہ کے علاوہ امریکہ اور یورپ سے آنے والی طالبات شامل ہیں۔ سکول میں 16سال سے کم عمر لڑکیوں کے لئے جی ایس سی کے کورسز پڑھائے جاتے ہیں اور سکول پریسٹن کالج کے ساتھ منسلک ہے جبکہ مدرسہ تعلیم کے لئے بہت سے کورسز بھی پڑھائے جاتے ہیں جو ایک سے چھ سال دورانیہ کے ہیں جس میں لڑکیوں کو اردو اور عربی میں تعلیم دی جاتی ہے
سکول میں 11سے 18سال تک کی عمر کی لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ پولیس نے اپنی پریس کانفرنس میں ان والدین کے لئے ایک ہیلپ لائن قائم کی ہے جن کی لڑکیاں سکول میں زیر تعلیم ہیں اور وہ اس بارے میں فکر مند ہیں تو وہ 0800 092 0410 پر فون کرسکتے ہیں اور جو والدین برطانیہ سے باہر ہیں وہ 0207 158 0124 پر فون کرسکتے ہیں۔
ہماری شرمندگی کے لیئے یہ خبر ہی کافی ہے اس پر اگر کوئی تبصرہ کیا تووردی پوشوں کی فوج پھر گالم گلوچ پر اتر آئے گی۔ اس بات کو یہیں چھوڑ کر دوسرے موضوع کی طرف چلتے ہیں
ایک کہاوت مشہور ہے کہ آئنیہ سامنے سے جتنا صاف اور شفاف نظر آتا ہے اتنا ہی اپنے عقب سے سیاہ ہوتا ہے ایسے ہی جب سانپ زندہ ہو تو وہ جیونٹیاں کھاتا ہے اور جب سانپ مر جائے تو چیونٹیاں اُسے کھا تی ہیں ۔ ایسے ہی یہ ملا مافیا بھی آج کل کے دور میں مذہبی عبادت گاہوں اور مسلکی ٹیلی ویژن کے مالکان اور سربراہان اور کارکنان کے ہمراہ مل کر ایسی گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ خدا کی پناہ ابھی دو روز قبل ایک مسلکی ٹیلی ویژن پر ایک عجیب بات دیکھنے کو ملی جو بات دیکھنے کو ملی وہ میں بعد میں عرض کروں گا مگر اس سے پہلے میں ایک چھوٹا سا واقعہ آپ سب کی نظر کرنا چاہتا ہوں
ویسے تو یہ مسلکی ٹیلی ویژن اس بات کے خلاف ہیں کہ کہ کوئی بھی خاتون اگر وہ اکیلی کوئی نعت ،منقبت یا سلام و نوحہ پڑھنا چاہتی ہیں ان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے اور فورا کال کاٹ دی جاتی ہے کہ آپ اس طرح سے ذکر محمد و آل محمد نہیں کر سکتی ظاہر ہے جب اکیلی خاتون کو پڑھنے کی اجازت نہیں تو کھلے سر وہ ان مسلکی نشریات میں کہاں نظر آ سکتی ہیں اور دوسری طرف اس بات پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ کوئی خاتون کسی نا محرم کے ہمراہ بیٹھ کر کوئی مزہبی پروگرام پیش نہیں کر سکتی
مگر افسوس کہ دو روز قبل لندن میں اہلبیت کے نام سے منسوب ایک مسلکی ٹیلی ویژن نے ان تمام شرعی حدود کی پرواہ کئے بغیر ایک انگریز خاتون اور وہ بھی موسیقی کی ماہر خاتون کو بنا حجاب ایک زر خرید کارکن کے ہمراہ پروگرام کرتے ہوئے پیش کیا جب کہ ٹیلی فون پر اس بات کی جانب توجہ دلوائی گئی تو وہی مسلمانوں والے حربے استمعال کئے گئے کہ ہم تو اب خبریں بھی دکھا رہے ہیں ان میں بھی تو خواتین بے پردہ نظر آتی ہیں
ارے بھائی ایک عام جگہ اور ٹیلی ویژن اسٹوڈیو میں یہ ہی فرق ہے اور آپ خود کونسی محنت کر کے خبر تیار کرتے ہیں ۔کہیں سے چوری کر کے خبر دیکھا دینا کون سا بڑا تیر مارنا ہے ۔
عوام کا پیسہ جو محمد و آل محمد کے نام پر جمع کیا جاتا ہے جس طرح سے آپ سب مل کر ضیاع کر رہے ہیں اس کو جواب تو آپ سب کو روز آخرت ہی دینا ہو گا۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ مولانا مشرف حسین حسینی صاحب بھی اس پروگرام میں شرکت فرما رہے تھے ان کو بھی اس بات کا خیال نہ آیا کہ خاتون بنا حجاب کے اس کے ہمراہ تشریف رکھتی ہیں۔ اسی کو تو قول و فعل میں تضاد کہتے ہیں
بہر حال ملکان خود تو ایک قافلہ لے کر خانہ خدا کی زیارات کو تشریف لے گئے ہیں پیچھے کارکن یا ان کے محسن اور احسانات کا ثمر کھانے والے جو کچھ دکھائیں عوام کو تو دیکھنا ہی پڑے گا ۔
بلوچستان میں گورنر راج کی میعاد ختم ہوگئی ، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گورنر راج میں توسیع کی منظوری نہ ہونے کی وجہ سے نواب اسلم رئیسانی کی مخلوط حکومت خودبخود بحال ہو گئی ہے۔ بلوچستان میں تیرہ جنوری کی شب سانحہ علمدار روڈ

کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 234کے تحت دو ماہ کیلئے گورنر راج کا نفاذ کیا گیا تھا۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی سربراہی میں صوبے میں قائم مخلوط حکومت کو معزول کردیاگیا تھا۔
بلوچستان میں گورنر راج کی اپنی معیاد پوری ہونے پر رات بارہ بجے ختم ہوگیا۔قانونی ماہرین اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے گورنر راج کی میعاد میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سے نواب اسلم رئیسانی کی مخلوط حکومت خودبخود بحال ہوگئی ہے مگر ان شہدا کو کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ ہی کسی نے ان کو کوئی جو امداد کے نام پر جمع کی گئی ہے ابھی تک نہیں پہچائی بلکہ ہماری اطلاعات کے مطابق اس رقم میں سے چند ملا پاکستان کے دورے پر گئے ہوئے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ کوئٹہ کے دورے پر گئے ہیں شہدا کے وارثان کو رقم پہچانے جب کہ پاکستان کا ٹکٹ اس رقم سے خریدا گیا ہے۔
اب چلتے ہیں ان الیکشن کی جانب جن کی آج کل لندن کے مذہبی عبادت گاہوں میں گہاما گمی ہے تازہ تریں اطاعات کے مطابق معلوم ہوا ہوا ہے کہ الیکشن معنقعد کروانے والی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جو پوسٹ بکس رائل میل سے کرایہ پر حاصل کیا گیا ہے اس کو الیکشن میں حصہ لینے والے نمائیندگان کے مقررہ کردہ نمائندے کے سامنے پوسٹ آفس سے لا کر کھولا جائے گا جو ایک خوش آئیند عمل ہو گا اور اس سے کسی قسم کی
دھاندلی کے امکان کم کم نظر آتے ہیں
دوسری جانب اسی کمیٹی نے ایک اور قدم بھی اُٹھایا ہے اور انتخاب میں حصہ لینے والے نمائیندگان کو رائے دہندگان کی فہرست بمع پوسٹ کوڈ مہیا کر دی ہے یاد رہے کہ جو پہلے فہرست نوٹس بورڈ پر آویزان گی گئی تھی وہ نامکمل تھی ۔۔۔
اور ایک بات اور سامنے آئی ہے کہ تقریبا 66 ووٹ جو انتخابت کمیٹی نے جاری نہیں کئے تھے وہ بھی جاری کر دیئے ہیں اور ان افراد کے نام فہرست میں شامل کر لئے گئے ہیں۔
ابھی تک کی اطلاعات کی مطابق اشتیاق خان کی پوزیشن مضبوط نظر آ رہی ہے اور اُمید کی جا رہی ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو جائیں گئے ۔ ان کے مقابلے میں جناب سید محمد نقوی اور باقر نقوی نے ابھی تک رائے دہندگان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی اپنا منشور زبانی یا تحریری طور پر کسی رائے دہندہ کو مہیا کیا ہے
ان انتخابات کا اعلان 17 مارچ کو کیا جائے گا۔
مجھےہمیشہ کی طرح آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا