احتساب ایک ایسی زنجیر ھے جس میں تمدن اخلاق مذہب اور معاشرت کی تمام جز یات جکڑی ھوئی ھیں اگر اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے تو نظام درہم برہم ھو جاتا ھے جنگل کے قانوں جیسا ماحول بن جاتا ھے جیسا کہ آجکل وطن عزیز میں ھو رہا ھے ہر انسان بدلہ کے جنوں میں مبتلا ھے نظریاتی اختلاف پر اور اپنے دوسرے مذہب والوں کو سزا دینا حق بجانب سمجھتا ھے اسی سوچ کو لے کر شیعہ قوم کے معصوم لوگوں کا قتل عام کیا جاتا ھے ۔
اگر ایک منٹ کے لئے یہ بات مان لی جائے کہ کوئی کافر ھے تو کیا ھمیں یہ اختیار ھے کہ ھم اس کی جان لے لیں جب کہ جزا سزا کا عمل اللہ نے اپنے لئے رکھا ھے ھم بحثیت مسلمان کسی کو اپنے نظریات سے مخلافت کی بنا پر سزا دینے کے حقدار نھیں ھیں لاھور میں اب عیسائی برادری کے گھر جلا دئے گئے یہ جواز بنا کر کے قران پاک کی توھین کی گئی ھے اس سلسلہ میں قانون ھے قانون کی جنگ لڑکر بھی یہ سزا دی جا سکتی تھی یہ اسلام میں کسی کو بھی سزا دینے کا اختیار نھیں ھے۔
پھر جن لوگوں نے عیسائی لوگوں کے گھروں کو آگ لگائی وہ اپنا احتساب کریں کہ وہ خود کتنا قران کا حق ادا کرتے ھیں قران کا حق صرف یہ نھیں کی غلاف میں لپیٹ کر رکھ لیں کہ گھر میں موجود ھے ،مسلمان ھونے کی حثیت سے ھم پر فرض ھے کہ ھم سمجھ کر پڑھیں عمل کریں اگر ان لوگوں نے جو دین کہ ٹھیکیدار بنے پھرتے ھیں۔
قران کو سمجھا ھوتا تو کبھی اس طرح کی حرکت نھیں کرتے کیوں کہ اسلام تو نام ھی سلامتی کا ھے ایسے لوگ دین اسلام کے نام پر دھبہ ھیں جو اسلام کی شکل ظلم غارت گری بدلہ دشمنی کی صورت میں بنا کر دنیا کو دکھا رھے ھیں کیوں کہ اسلام کو دیکھنے کے لئے اکثر لوگ مسلمان انسان کو دیکھتے ھیں نا کہ ھمارے قران کو پڑھ کر اسلام کو سمجھتے ھیں ایک مسلمان کا چہرہ کردار جو نظر آئے گا دنیا کی نظر میں وہی اسلام ھے اس لئے آج مسلمان دہشت گر د ظالم اور سفاک مشہور ھیں اللہ ہدایت دے ایسے لوگوں کو جو دین کا نام استعمال کر کے اپنے تشددپسند جذبات کی تسکین کرتے ھیں اللہ دین کی حفاظت فرما ۔۔۔۔۔آمین