|
جیسی روح ویسے فرشتے ۔۔۔۔از؛ سیدہ رافعیہ گیلانی ۔ رجن پور
17.03.2013, 08:59am , اتوار (GMT+1)
سیدہ رافعیہ گیلانی ۔راجن پور
ملک عزیز میں الیکشن کی آمد آمد ھے اور تما م سیاستدان موسمی بیماریوں کی طرح اپنے اپنے علاقوں یا حلقوں پر نئے سرے سے ووٹ مانگنے کے لئے حملہ آور ھو رھے ھیں تاکہ پھر سے اس ووٹ کی طاقت کو لے کر اسمبلیوں میں براجمان ھوں اکثر یہ تاثر لیا جاتا ھے کہ سیاستدان کرپٹ ھٰوتے ھیں موقع پرست ھوتے ھٰیں مفاد پرست ھوتے ھیں یہ سب باتیں کافی حد تک درست بھی ھیں لیکن اس ضربالمثل کے موافق یہ بات بھی درست ھے جو کہی جاتی ھے کہ جیسی روح ویسے فرشتے جس طرح کی کسی انسان کی روح ھوتی ھے دم آخیر فرشتے بھی اسی طرح کے آتے ھیں اس کی روح قبض کرنے نیک ھیں تو نیکی کے فرشتے آتے ھیں بد اعمال ھے تو ویسے حلیہ میں آتے ھیں ھمارا حال بھی تقریبآ یہی ھی ھے دوسروں کو تو بد دیانت مفاد پرست آسانی سے کہہ لیتے ھیں ھم بحثیت ایک ووٹر کے اپنا محاسبہ کرٰیں ھم اپنے ووٹ کا استعمال کیا ملکی امانت سمجھ کر کسی لالچ طمعہ کے بغیر کرتے ھیں ؟
ووٹ دینے کا حق تو ہر شہری کو ھے خواہ مرد ھو یا عورت لیکن اس کو ھم سھہی سچے کھرے لوگوں کو دیں جو ملکی سلامتی کو سب کچھ سمجھتا ھو جس کی زاتی کوئی ترجیحات نا ھوں صرف ملک اور صرف ملک کے مفاد کو اہم سمجھے اپنا ایمان سمجھے کیا ھم ایسے لوگ منتخب کرنے کے لئے ووٹ دیتے ھیں نھیں تو سب سے پہلے ھم مجرم ھیں بد دیانتی کرتے ھیں ھم اپنے ملک کے ساتھ خود کے ساتھ وہ سچ ھی کھتے ھیں ظلم کے خلاف آواز نا اٹھانے والا بھی ظالم کے ساتھ ظلم کرنے میں برابر کا شریک ھوتا ھے جب ھم اپنے عارضی معمولی مفاد یا فائدہ کی خاطر لمبے عرصے کے فائدے کو جو مجموعی طور پر ملک کے لئے فائدہ مند ھو کو چھوڑ کر صرف اپنی زاتی مفاد کو دیکھ کر ووٹ دیتے ھیں تو پھر ایسے لوگ ھمارے نمائندے بن کر ھمارے رہنما بن کر سامنے آتے ھیں ۔
جنھیں اپنے مفاد فائدے سے مطلب ھوتا ھے ملکی کام ملکی فائدہ ان کے لئے بے معنی ھوتا ھے ھمارے علاقہ میں اکثر ایسے وڈیرے سیاست دان ھیں جو ملک کے بڑے شہروں میں اپنے محل نما کوٹھیوں میں رھتے ھیں لیکن صرف الیکشن کے دنوں میں ھی اپنے علاقؤں کا رخ کرتے ھیں کافی تو ایسے جو صرف ٹیلی فون پر بھی اپنے علاقوں کے لوگوں سے رابطہ نھیں رکھتے پر جیسے ھی الیکشن قریب ھوں اپنے لوگ یاد آجاتے ھیں اور عوام رابطہ مہم پر نکل پڑتے ھیں اور لوگ بخوشی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ھیں ان کی رعونت تکبر خود غرضی کو بھول کر وجہ یہ کہ کسی کا کوئی معمولی کام پھنسا تھا کوئی جھگڑا تھا مقدمہ تھا اس میں ان حضرات نے مدد کر دی جو عارضی مسلہ تھا حل کر دیا ۔
بس اس کی وجہ سے آنئیدہ پانچ سال تک خود پر ایسے لوگوں کو مسلط کر لیتے ھیں یہ عقل مندی کی بات نھیں نا ھی ملک کے ساتھ محبت یا دیانت داری ھے ،دوسری بات جس کی وجہ سے ملک کا جاگیر دار ظالموں کا ٹولہ حاوی رہتا ھے وہ یہ ھے کے نسل در نسل سیاست کا واسطہ دیتے ھیں یہ لوگ کہ ھمارے بڑے تمھارے بڑے ایک ساتھ مل کر رھتے تھے کبھی ھمارے علاوہ کسی دوسرے کو اپنے ووٹ کا حقدار نھیں سمجھتے تھے تم بھی ایسا ھی کرو گے ھمھیں امید ھے بس اپنے بزرگوں کی بات سن کر کافی لوگ مرعوب ھو جاتے ھیں اور پھر سے ایک ھی خاندان سے وفاداری نبھاتے ھوئے ووٹ دے دیتے ھیں یہ بھی کم عقلی ھے کیا کوئی اسلامی فریضہ ھے کہ اسی کو منتخب کیا جائے جس کو اس خاندان کے بڑے پسند کرتے ھیں، یہ سوچ بھی تبدیلی لانے کے لئے بدلنی ھو گی ۔
تیسری بات ھے تعلیم کی اھمیت ، جی کسی کو ووٹ دینے سے پہلے اس کی تعلیمی قابلیت کو ضرور مدنظر رکھیں کیوں کہ تعلیم ہافتہ آدمی یقینآ جاھل کی نسبت بہتر کارکردگی دکھائے گا ماحول تعلیمی ھو گا تو بھت کچھ بدلا ھوا دکھائی دے گا کہ کافی برائیاں جہالت ھی کی وجہ سے پیدا ھوتی ھیں اب ھمیں خود سے عہد کرتے ھوئے بھر پور طریقہ سے عمل کرتے ھوئے اپنے ووٹ کا صحیح استمال کرنا ھے اور ملک کو تمام مسائل سے نکالنا ھے ھم میں سے ہر ایک اس بات کو ازبر کرے کہ اس کے ووٹ کا صحیح استمال ھوگا۔ انشا اللہ
|