ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
اس خوب صورت شعر کے خالق خالد احمد سترہ اور اٹھارہ مارچ دوہزار تین کی درمیانی شب کی اولین ساعتوں میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون. خالد احمد 9 جون 1943 کو لکھنئو میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انھوں نے لاہور میں اقامت اختیار کی ۔۔
شعری مجموعوں میں تشبیب، ایک مٹھی ہوا، ہتھیلیوں پہ چراغ، پہلی صدا پرندوں کی، دراز پلکوں کے سائے سائے اور نم گرفتہ جبکہ نثری مجموعوں میں لمحہ لمحہ اور بین السطور کے نام شامل ہیں ۔۔
وہ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور خدیجہ مستور ، ہاجرہ مسرور اور توصیف احمد خان کے بھائی تھے
عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے خالد احمد کی وفات پر اظہار افسوس کے ساتھ انکے اہل خانہ سے تعزیت اور انکی مغفرت کی دعا کی ہے