مسلمان کے لیئےتھوڑی سی شراب’جائز‘ مصری مفتی کے فتوے نے عالم اسلام میں ایک ہلچل مچا دی

دنیا
بھر کے ذرائع ابلاغ خاص طور پر مغربی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر رات دن کسی
نہ کسی صورت میں نشر ہو رہی ہے کہ مصر کے ایک ‘‘معروف‘‘ عالم دین شیخ یوسف
القراداوی نے ایک فتوٰی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے تھوڑی مقدار میں شراب
کو جائز قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعشاریہ پانچ فی صد شراب کی مقدار
کا استعمال خلاف اسلام نہیں۔ ان کے اس فتوے سے ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے
کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت کسی بھی مقدار میں شراب کو حرام سمجھتی ہے۔
یہ
وقت مسلمانوں پر کوئی آج ہی نہیں آیا بلکہ تاریخ اسلام پر اگر صدیوں پہلے
بھی جا کر نظر ڈالیں تو ایسے نام نہاد‘‘معروف‘‘ علمائے دین کی ایک بڑی
کھیپ نظر آئے گی جنہوں نے اپنی اپنی اوقات کے مطابق اسلام کو ،اسکے شعائر
کو،اسکے قوانین کو اپنے مفادات کے لیئے یا شاہ کو خوش کرنے کے لیئے اونے
پونے فروخت کیا ہے۔
رہی بات فتووں کی تو ایسے مفتیوں نے تاریخ
اسلام میں ایسے ایسے فتوے دیئے ہوئے ہیں کہ اگر ان میں سے صرف دو یا تین
فتوے بھی یہاں لکھ دوں تو ‘‘شراب پینے اور خنزیر کھانے والے نام نہاد
مسلمان‘‘ مجھ پر کفر کا فتویٰ لگا کر میرا گھر جلا جائیں اور سچ پوچھیں تو
بچانے والا بھی کوئی نہ ہو۔
ایسی مولویوں،ملاؤں اور مفتیوں کی دنیا
بھر میں کہاں کمی ہے۔ میں ایسے کتنے ہی ملاؤں کو جانتا ہوں جو صرف امریکہ
یا برطانیہ کا ایک ویزہ حاصل کرنے کے لیئے عیسائیت کی شان میں قصیدے پڑھتے
ہیں اور یہاں لندن میں ایک ‘‘مُلا مزاج‘‘ کو تو خود میں نے یہاں تک کہتے
سنا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ جانا اور وہاں پر بیروزگاری الاؤنس لینا
(توبہ نعوذ باللہ) حلال ہے۔ ان ملا صاحب نے جنہیں یہاں لندن کی ایک
کیمونٹی میں ‘‘عالم دین‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے یہاں تک کہا کہ مغربی
ممالک میں ہجرت سنت نبوی ہے اور دلیل اسکی یہ دی کہ نبی اکرم نے اپنے
زمانے میں مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت خود دی تھی اس لیئے
عیسائیوں کے ملکوں میں جانا سنت نبوی ہے‘‘

دیکھا
آپ نے کہ ایسے ‘‘ملائیت ‘‘ کو پھیلانے والے لوگ کس طرح سے اللہ کے محبوب
ترین دین کو بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے کس طرح پیش کرتے ہیں اور تمام
زمانوں کے فعال ترین دین‘‘اسلام‘‘ کے پیروکاروں کو اپنی جہالت کے باعث
کیسے معذور بناتے ہیں۔
یہی وہ ملائیت ہے جسکی مخالفت اقبال جیسے فلسفی
شاعر نے بھی کی ہے اور رازی و سعدی جیسے مفکرین نے بھی۔ یہی وہ ملائیت ہے
جس سے اسلام دوررہنے کی تلقین کرتا ہے کہ ایسی سوچ ‘‘قوم و ملت‘‘ کو اپاہج
بنا دیتی ہے۔
تاریخ اسلام اس حوالے سے بڑی دردناک ہے کہ اسکے کتنے
ہی ادوار میں ملوکیت کے نمائیندوں نے اپنی بقا کے لیئے اسی طرح کے جاہلانہ
فتوے دیئے اور دین کے کتنے ہی بنیادی احکامات کو بدلنے کی کوشش کی۔
کبھی
اس طرح بھی سوچیئے کہ کیا یہ ظلم نہیں کہ جس دین کے پیغمبر نے ہر قسم کی
بڑائی کو سوائے تقویٰ کے انسان کی عظمت کی پہچان بتایا ہو اور جس نبی آخر
نے ساری بادشاہتوں کا خاتمہ کیا ہو اسی کی امت ایسی ملوکیتوں اور
بادشاہتوں کے قبضے میں ایسے ہے کہ سانس بھی لینا محال ہے۔
وہ سر
زمین حجاز جہاں اسلام کا سورج روز حشر تک لے لیئے طلوع ہوا اور جس سرزمین
نے خدا کے حبیب کے قدموں کو چوما اسی سرزمین حجاز میں جدھر بھی دیکھیں ایک
سے ایک بڑی ملوکیت ہے اور انہی ملوکیت کے پروردہ،حاشیہ بردار اور نمک خوار
مفتی ایسے ایسے فتوے دیتے ہیں کہ عام مسلمان کا سر بھی شرم سے جھک جاتا ہے۔
حلال
نبی کو حرام اور حرام نبی کو حلال بنانے والے ہر دور میں موجود رہے ہیں
اور ایسے نام نہاد مفتی و قاضی اپنی موت خود مر جایا کرتے ہیں۔یہ دراصل
عام مسلمانوں کی اپنی دین سے ناواقفیت اور مطالعہ نہ کرنے سزا ہے کہ انکی
اکثریت دنیا بھر میں بلا لحاظ مسلک و مذہب ایسے ہی ملاؤں اور مفتیوں کی
اسیر ہے۔

مجھے
یاد ہے کہ چند ماہ قبل میں جب بیرون ملک ایک دورے پر تھا ایک عزاخانے میں
ایک صاحب نے مجھ سے استفسار کیا کہ ‘‘ھمدانی صاحب آپ علمائے دین کے خلاف
کیوں ہیں؟‘‘ میں نے ان صاحب کو اسی عزا خانے میں ایک طرف لے جا کر بٹھایا
اور کہا کہ میں آپ کے استفسار کے جواب میں کوئی صفائی پیش نہیں کرنا چاہتا
لیکن آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ علمائے دین کسے کہتے ہیں؟ انہوں نے وہی
جواب دیا جسکی مجھے سو فیصد توقع تھی۔ کہنے لگے‘‘ یہ مولانا قبلہ و کعبہ
جو نماز پڑھاتے ہیں اور وعظ کرتے ہیں یہی تو عالم دین ہیں‘‘۔ میں عرض کی
دراصل یہی کمی ہے جس کی بنیاد پر نام نہاد ملا اور مولوی عام مسلمان کو
اپنی ہی ذہینت کا اسیر کر لیتا ہے اور اسے اس طرح ‘‘مسمرائز‘‘ کر لیتا ہے
کہ عامل و معمول والی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔
میں نے ان صاحب سے عرض
کی کہ‘‘ہمیں ان تمام مراحل میں فرق محسوس کرنا ہو گا کیونکہ مُلاں،
مولوی،خطیب،ذاکر،مبلغ،مفتی اور عالم دین کے درمیان بہت فرق ہے اور ہمارا
مسلہ یہ ہے کہ ہم اس شعبے سے منسلک ہر ایک فرد کو بلا تحقیق‘‘عالم دین ‘‘
قرار دے دیتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد ایسے لوگ واقعی خود کو عالم دین
سمجھنے لگتے ہیں اور پھر اسی طرح کے فتوے دیتے ہیں جیسا فتویٰ شیخ یوسف
القراداوی نے دیا ہے۔
باب مدینہ العلم حضرت علی علیہ السلام کا
ارشاد ہے کہ ‘‘ عالم بے عمل کے ہاتھ میں علم ایسے ہے جیسے نا سمجھ بچے کے
ہاتھ میں تلوار‘‘؟ اور اسی فرمودہ علی کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہو گا
کہ کتنے ہی بے عمل عالم خود تو خود کشی کر ہی رہے ہیں لیکن ملت کو بھی
بیگناہ مروا رہے ہیں۔ دراصل ملت کا بھی فرض ہے کہ وہ آنکھیں کھلی رکھے اور
خود مطالعہ کرے اور دین سے آگاہی حاصل کرے کہ روز حشر ہم میں سے ہر ایک
حساب کتاب خود اسی سے ہو گا اور کوئی ملاں یا مولوی کسی کے ایما ہر جواب
نہیں دے گا اور اس حشر کے میدان میں کسی کو یہ کہنے کا یارا بھی نہیں ہو
گا کہ مجھے میری مسجد کے یا محلے کے مولوی نے اس طرح بتایا تھا۔
میری
کسی سے بھی ذاتی پرخاش نہیں اور میں علمائے دین کے پاؤں کی خاک ہوں اور
یہی علمائے دین ہیں جن کو سُن کر اور پڑھ کر ہم میں حق او سچ بولنے اور
لکھنے کا حوصلہ اور ہمت پیدا ہوئی ہے اور ایسے ہی علمائے دین کا احسان ہے
کہ ہم ملاں،مولوی اور علمائے دین میں فرق جانتے ہیں اور ہر کس ناکس کو
‘‘عالم دین‘‘ نہیں کہتے کہ جہاں یہ بہت بڑا اعزاز ہے وہاں بہت بڑی ذمیداری
بھی ہے۔
میں نہیں جانتا کہ آپ میرے اس بیان کو کیا معنی پہنائیں گے
کہ اسلام پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک عہد میں نماز جمعہ اتوار کو بھی
پڑھائی گئی تھی، میں یہاں کوئی نزاعی مسلہ پیدا نہیں کرنا چاہتا لیکن صرف
اشارے کے طور پر تاریخ میں موجود ایک ایسے سانحے کی طرف صرف اشارہ کیا ہے
کہ اسوقت کے مفتی و قاضی نے سربراہ حکومت کو خوش کرنے کے لیئے اس اقدام کو
بھی جائز قرار دے دیا۔
میں یہاں لندن میں کتنے ایسے مسلمانوں کو
جانتا ہوں جو شراب بھی پیتے ہیں اور خنزیر بھی کھاتے ہیں لیکن ایسے کچھ
عیسائیوں کو بھی جانتا ہوں جو نہ شراب پیتے ہیں اور نہ خنزیر کھاتے ہیں۔
اب اس عمل کو آپ کیا نام دیں گے اس کا فیصلہ آپ خود کریں۔

رہی
بات شیخ القرداوی کی تو ان کے بارے میں یہ بھی پڑھ لیں کہ ذرائع ابلاغ کے
مطابق ان حضرت نےحال ہی میں برطانیہ آنے کی کوشش کی تھی تاہم برطانوی حکام
نے انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
اب ہو سکتا ہے کہ انہی
عناصر کو خوش کرنے کے لیئے اور ریٹائرڈ جنرل مشرف والے ‘‘سیکولر اسلام اور
روشن خیالی‘‘ کی روشنی میں موصوف شیخ قرادوی نے یہ فتوٰی دے دیا ہو۔ اب یہ
بھی عرض کرؤں کہ جو فتویٰ دے رہا ہے وہ خود بھی تو اس فتوے پر عمل کرے گا
لہٰذا اس دلیل کی روشنی میں شیخ القرداوی خود بھی اس قدر شراب پیتے ہیں۔
کہا
گیا ہے کہ انہوں نے یہ فتویٰ اس لیئے دیا کہ ان سے ایک سوال کے جواب میں
دیا جس میں زیادہ توانائی بخش مشروبات کی شرعی حیثیت کی وضاحت مانگی گئی
تھی۔فتوے میں انہوں نے شراب کی انتہائی کم مقدار کی بات کی ہے۔ یہ مقدار
ایک ہلکی بیئر کے ایک یونٹ میں شامل شراب کے آٹھویں حصے کے برابر ہے۔
ان
کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر تیار کردہ مشروبات میں اتنی معمولی مقدار میں
شراب کی آمیزش ممنوع نہیں کیونکہ یہ تو قدرتی طور پر ہی ان مشروبات میں
پائی جاتی ہے۔اپنے فتوے کی بنیاد انہوں نے پیغمبر اسلام کی اس حدیث کو
بنایا ہے جس کے مطابق اگر بڑی مقدار میں شراب انسان کو مدہوش کرے تو اس کی
کم مقدار بھی ممنوع ہے۔

رہی
بات حدیث کی تو عالم اسلام اس سے بھی واقف ہے کہ ہر عہد میں کیا حدیثیں
ضرورت کے تحت بنائی نہیں گئیں۔ اس امر سے کس کو انکار ہے کہ آج کی مستند
حدیث کی کتاب‘‘صحیح بخاری شریف‘‘ کتنی ہزارہا حدیثوں کو مسترد کرنے بعد
تدوین کی گئی۔ اس لیئے بلا خوف کسی بھی بات کو حدیث کہنا اور ختمی مرتبت
سے اسے منسلک کرنا گناہ کبیرہ سے بھی آگےکی منزل ہے کہ پروردگار خود یہ کہ
چکا ہے کہ میرا حبیب خود کچھ نہیں کہتا وہ بس وہی کہتا اور کرتا ہے جو میں
چاہتا ہوں۔
ایسی حالت میں یہ کہنا کہ اللہ رحم کرے گا میرے نزدیک اللہ کی رحمانیت کا امتحان ہے
شیخ
قرادوی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص زیادہ توانائی کی حامل ان مشروبات کو
زیادہ مقدار میں بھی پی لے تو اسے نشہ نہیں آئے گا اس لیے یہ مشروبات جائز
ہیں چاہے ان میں شراب کی معمولی آمیزش ہی کیوں نہ ہو۔
شیخ قرادوی
قطر میں مقیم ہیں اور قطر امریکہ کی ایک ریاست ہی تو ہے جہاں ایسے مفتی و
قاضی ضمیر فروشی کی صنعت کے کارندے ہیں۔ قطر ہی کے ایک اخبار کے ایڈیٹر کا
کہنا ہے کہ شیخ قرادوی نے اپنے بیان سے بلاوجہ کا تنازعہ کھڑا کر دیا
ہے۔قطر میں شراب ممنوع ہے۔مذکورہ ایڈیٹر کے بقول شیخ قرادوی جیسی حیثیت کے
حامل عالم کے بیان کا لوگ غلط مطلب نکال کر شراب کو اپنے لیے جائز سمجھ
سکتے ہیں۔شیح قرادوی خود کو ایک اعتدال پسند عالم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
آپ نے دیکھا کہ اعتدال پسندی کو بھی اب کیا معنی دیئے جا رہے ہیں۔
مسلہ یہ ہے ہمارے مولوی،ملاں اور واعظین اسلام کو عوام کی مرضی کے مطابق
پیش کر کے مقبول اور معروف بنتے ہیں وہ دین اسلام کو اللہ اور اسکے رسول
کی مرضی کے مطابق پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں اور یہی بد دیانتی ہے۔
اسلام
میں ‘‘یا یہ یا وہ ‘‘نہیں ہے۔ اسلام کے اصول روز حشر تک کے لیئے اٹل ہیں
اور جہاں ضرورت ہے وہاں خود اسلامی شریعت نے اجتہاد کا تصور دیا ہے لیکن
اس قسم کے فتوے قوم وملت کو گمراہ کرنے کے لیئے ہیں اور یہ کام بھی کوئی
گمراہ شخص ہی کر سکتا ہے۔
ایسے لوگوں سے کوئی بعید نہیں کہ وہ کل کو یہ فتویٰ بھی دے دیں کہ ‘‘تھوڑا سا خنزیر کھانے میں کوئی حرج نہیں‘‘۔

سب
سے بڑی ضرورت اس امر کی ہے مسلمان جس پر ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک علم
حاصل کرنا فرض ہے وہ خود مطالعہ کرے اور تشریح و توضیح کے لیئے علمائے حقہ
کی جانب رجوع کرے اور ایسے شاہ کے وفادار مفتیوں کے فتووں پر عمل سے گریز
کرے کہ ایسے مفتی ملت کو بھی اپنے ساتھ جہنم میں لے جانے کا انتظام کر رہے
ہیں۔