حسن کاظمی ۔ ریڈیو پاکستان کی ایک پہلوُدار شخصیّت ۔ از سیّد علی اصغر کاظمی 02.12.2014, 01:01am , منگل (GMT+1)
سیّد علی اصغر کاظمی
حسن کاظمی ستر کے عشرے کے اواخر میں لاہور ریڈیو پر میرے شریک کار تھے اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ انکی اہلیہ رضیہ حسن پی ٹی وی کی کہنہ مشق اداکارہ رہی ہیں۔ میں نے حسن کاظمی کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا اہم وقت گزارا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دوہزار گیارہ میں انکی وفات کراچی میں ہوئی اور مجھ جیسے باخبر کو بھی اس کے بارے میں دوہزار تیرہ میں چند روز پہلے سید علی اصغر کاظمی سے معلوم ہوا ہے۔ افسوس کہ ریڈیو پاکستان کا کوئی ساتھی بھی اس نیک سیرت اور خوبصورت انسان کے بارے میں مجھے مطلع نہ کر سکا۔ حسن کاظمی صفدر ھمدانی تم سے شرمندہ ہے۔ میں نے اس خبر کو سننے کے بعد سید علی اصغر کاظمی سے درخواست کی کہ وہ حسن کاظمی کے بارے کچھ تحریر کریں۔ میں انکا اس تحریر پر ذاتی طور پر اور عالمی اخبار کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں صفدر ھمدانی۔مدیر اعلیٰ۔عالمی اخبار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئینِ کرام، میں کوئی مُصنّف ہوں اور نہ کالم نِگارلیکن جناب صفدر ہمدانی کے مُحبّت آمیز حُکُم پر اپنی مُختصریاد داشتیں ضابطۂِ تحریر میں لا کر حاضِر ہو رہا ہوُں۔ وجۂِ تَسمیہ اس کی وہ نِسبت بنی جو کہ مُجھے اپنے بھائی حسن کاظمی سے ہے۔ اِس وضاحت کی ضرورت یوُں محسوُس ہوئی کہ اس تحریر میں پائی جانے والی ادبی و علمی اغلاط کی ذِمّہ داری سے براَت حاصِل کر سکوُں۔ اُمّید ہے آپ سب میری اس معصوُمانہ جسارت کو درگُذر فرمائیں گے۔
ہر دِلعزیزی ایک ایسا وصف ہے جوہر کس و ناکس کو ودیعت نہیں ہوتانہ ہی اِس کوعَمَداً کسی شخصیّت کا حصّہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ کسی کی ذات کے مختلِف النّوع پسندیدہ پہلوُ ہؤا کرتے ہیں جو اُس کو عوامُ النّاس اور حلقۂِ احباب میں مقبوُل بناتے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے معروُف براڈکاسٹر حسن کاظمی بھی ایسی ہی پُر کشش شخصیّت کے مالک تھے اورہرایک کو پہلی ہی مُلاقات میں اپنا گرویدہ بنانے پر قادِر تھے۔ دِلکش آواز، رُعب دار لیکن نرم گُفتار، بزرگوں کے لئے مودَّب اور چھوٹوں کے لئے مُشفِق، مختلف شعبہ ہائے زندگی کی معلوُمات سے سیر، فنونِ لطیفہ پر خصوُصی مہارت، خود اعتمادی و لطیف حِسِ مزاح سے بھرپوُر، اور مددگار شخصیّت رکھنے والے حسن کاظمی سے ایک بار ملنے کے بعد دوبارہ ملنے کی خواہش پر قابوُ پانا مُمکِن ہی نہیں تھا۔
حسن کاظمی میرے لیئے صرف بڑے بھائی ہی نہیں بلکہ محبّت کرنے والے ایک شفیق دوست بھی تھے۔ اِس حقیقت کی وضاحت میں اِس طرح کروُں گا کہ اُنھوں نے لڑکپن کے دور میں درپیش جذباتی بحرانوں سے نمٹنے میں نہ صرف میری رِہنُمائی کی بلکہ مُکمّل اخلاقی مدد بھی فراہم کی۔ (مُجھے یقین ہے کہ میرے قابِل قارئین کے لئے اِن بحرانوں کی نوعیّت کی تشریح کی چنداں ضروُرت نہیں ہو گی)۔
حسن کاظمی کی علی اصغر کاظمی اور اہل خاندان کے ساتھ یادگار تصویر
طلعت حُسین، حسن شہید مِرزا، اور محموُد خان موُدی کے ہم عصر اِس فن کار کے فنِ صداکاری پر عبوُر کا یہ عالم تھا کہ بعض ڈراموں میں بہ یک وقت ایک سے زیادہ کردار بھی ادا کیئے۔ اُن کی اِس صلاحیّت کا مُشاہِدہ میں نے ایک تاریخی ڈرامے جنرل بخت خان کی ریہرسل کے موقع پر کیا تھا۔ یاد رہے کہ اُس زمانے میں ایڈیٹنگ کی وہ سہوُلیات میسّرنہیں ہؤا کرتی تھیں جو آج کل دستیاب ہیں بلکہ بعض اوقات تو اسٹوڈیو نمبر ۹ سے ڈرامے براہِ راست بھی نشر کیئے جاتے تھے۔
اُن کی شخصیّت کا ایک پہلوُ ایسا بھی ہے جو غالِباً بہت کم لوگوں کے عِلم میں ہو گا۔اور وہ یہ کہ موصُوف کو گُلوکاری سے بھی خاص شغف تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اُنھوں نے اِس شوق کو اپنی ذاتی زندگی تک ہی محدوُد رکھا اور عملی زندگی میں کبھی اس کا مُظاہرہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔محمّد رفیع او ر اُستاد مہدی حسن خاں صاحب اُن کے پسندیدہ گُلوُکار تھے او ر ’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘ اُن کا پسندیدہ گیت تھا۔اُن کی اپنی آواز میں یہ گیت آج بھی میرے پاس ۱۹۶۰ کی دہائی میں استعمال ہونے والے کسی میگنیٹک اسپوُل میں محفوُظ ہے لیکن افسوس کہ اِسے بازیافت کرنا بہ ظاہِر مُمکِن نہیں رہا۔
دِہلی کے ایک معزّز سیّد گھرانے سے تعلّق رکھنے والے حسن کاظمی ۲۳ اگست ۱۹۴۵ عیسوی کو اس دُنیا میں تشریف لائے۔ وہ اپنے والدین کی اوّلین اور والدہ کی واحِد اولاد تھے۔ اپنی گھریلوزندگی میں وہ ایک محبّت کرنے والے فرزند، بھائی، شوہر، اور ایک مُشفِق باپ تھے۔ اُن کی اہلیہ رضیہ حسن اور اکلوتے صاحبزادے عدنان بھی ریڈیو سے وابستہ ہیں۔
گریجویشن کے بعد ۱۹۶۰ کی دہائی میں ریڈیو پاکستان کے حیدرآباد اسٹیشن سے بطورِ اِناؤنسر اور ڈرامہ آرٹسٹ اپنے فنّی سفر کا آغاز کیا۔ کراچی، لاہور، اور خُضدار میں بھی تعیّنات رہے۔ بعد میں ڈرامہ نگاری پر بھی توجّہ مبذوُل کی اور تاریخ و ادب سے خصوُصی شغف کی بِناء پر تاریخی واقعات پر مبنی ڈرامے بھی تحریر کیئے۔ کراچی مُنتقل ہونے کے بعد پروڈیوسر کی حیثیّت سے ہمہ اقسام کے پروگرام ترتیب دیئے اور بعدُہُ بطور ڈپٹی کنڑولربھی مُختلِف مراکِز پر خِدمات انجام دیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نہ صرف نجی پروڈکشن ہاؤسز کے لیئے کام کرتے رہے بلکہ کراچی کے جناح کالج میں ماس کمیونیکیشن کی تدریس کے فرائض بھی بخوُبی انجام دیئے۔
سیّد جلیل حیدر کاظمی المعروُف حسن کاظمی ۱۸ ستمبر ۲۰۱۱ عیسوی کو اس دارِ فانی سے کوُچ کر کے خالِقِ حقیقی سے جا مِلے۔ اِنّاللّلہ و اِنّا اِلیہِ راجعوُن۔ حسب دستوُر ایک طویل عرصے تک ریڈیو کے ادارے کی گرانقدر خِدمات انجام دینے والی ہمہ جہت اور جلیلُ القدر شخصیّت کی رِحلت کی خبر ذرائع ابلاغ میں وہ اہمیّت نہ پا سکی جس کی کہ وہ بجا طور پرحق دار تھی۔ پروردِگار مُحَمَّدؐ و آلِ مُحَمَّدؐ کے صدقے میں اُنہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔ آمین!۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں