16.10.2026, 06:56pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

تہران ہو گرعالم مشرق کا جنیوا.از۔ سلطان محمود شاہین
06.02.2009, 02:00pm , جمہ (GMT+1)

سلطان محمود شاہین

جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا جو خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھا تھا رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے 11 فروری 1979 ء  کو اس کی بنیاد رکھ دی یہی انقلاب مستقبل میں کرۂ ارض کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بنے گا۔ علامہ اقبال نے فرمایا :۔
؂ تہران ہو گرعالم مشرق کا جنیوا
شائد کہ کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

اگر ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلامی انقلاب کی طرف نظر دوڑائیں تو یوں لگتا ہے جیسے 11 فروری 1979 ء  کا سورج ابھی کل ہی غروب ہوا ہے ۔ یہ ایران میںاسلامی انقلاب کی سالگرہ کادن ہے ۔

 اس دن ایران میں اس صدی کاایک ایساانقلاب عظیم برپا ہوا جس نے ساری دنیاکو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور عالم انسانیت کوسوچنے پر مجبور کردیا کہ دنیا میں تاریخ کے رخ یوں بھی بدلے جا سکتے ہیں ۔ ایک ایسی انہونی جو کرئہ ارض کے اربوں انسانوں نے اپنی جاگتی آنکھوں سے رونما ہوتے ہوئے دیکھی ایک ایسی تبدیلی جوزندہ حقیقت کا روپ دھار کر شوق ،جذبے اور جنون کی داستان بن گئی ساری دنیا حیران تھی باطل پر لرزا طاری تھا اوراستعماری قوتوں کے بت پاش پاش ہوچکے تھے انقلاب عظیم نے نئی صبح کی نوید دی جس سے امیدوں کے چرا غ جل اٹھے اور تمام دنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار ہونے لگا ۔

ایک ایسا سنہری انقلاب جس نے ایک لاکھ فرزندان توحید کے خون سے کفر وباطل پر کاری ضرب لگائی اور اپنی حق و صداقت کی روشنی سے کرئہ ارض کومنورکر دیا ۔ یہ سچائی کا انقلاب تھا جوحضرت امام خمینی کی ایمان افروز اور ولولہ انگیز قیادت کا عالیشان معرکہ اور مظہر تھا جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تیس سال قبل منظر عالم پر نمودار ہونے والا یہ انقلاب جو اسلامی افکار کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بیداری کی نوید ہے ۔

 جو تمام عالم اسلام کے لئے فخرکاباعث ہے ۔اس وقت حضرت امام خمینی کے بلند وبالا کردار اور اسلامی انقلاب کے اثرات دنیا بھر میں دن بدن پھیلتے چلے جارہے ہیں ۔ مادیت پرستی ختم ہوکر حق پرستی میں تبدیل ہو رہی ہے دنیا بھر کی شیطانی اور کفریہ طاقتیں اپنے تمام تر ظلم ، جبر اور جنگ و جدل کے باوجود ناکامی و نامرادی کی دلدل میںدھنس رہی ہیں۔

عالم انسانیت میں فکرو سوچ کی یہ تبدیلی کرۂ ارض پر امن و سکون کے قیام کا ذریعہ بنے گی خوشیوں کے شادیانے بجیں گے۔ فرش زمین پر پیا ر ، محبت اور امن کے پھول کھلیں گے یہ ایک ایسا تاریخی انقلاب تھا جس کی بدولت ہرسو اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہونے لگیں حضرت امام خمینی کا تاریخی کردار رہتی دنیا تک ایک یادگار پیغام بن کر انسانوں کے دلو ں کو گرماتا اور انھیں اسلام کے اعلیٰ وارفع نصب العین کی طرف رہنمائی کرتا رہے گا آئندہ آنے والی نسلیں اس کی روشنی میں اپنی زندگی کے راستے متعین کریں گی ۔

کرۂ ارض کی بے قراری کو قرار آئے گا ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرائے گا اس میں کوئی شک نہیںکہ یہ سب حضرت امام خمینی کے لائے ہوئے انقلاب عظیم کا ثمر ہے جس کی بدولت اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں ان کا کردار زندہ جاویدرہے گا۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت میں ایرانی عوام نے ہر قسم کی جانی و مالی قربانیاں پیش کیں جن کے نتیجہ میں شاہ ایران 16 فروری 1978ء کو ایران سے فرار ہونے پر مجبور ہوا اور اس طرح پہلوی خاندان کے ظلم و ستم کی سیاہ رات ختم ہو گئی ۔

یکم فروری 1989ءکو جب رہبر انقلاب حضرت امام خمینی تہران پہنچے تو پچاس لاکھ افراد نے ان کا استقبال کیا۔ ایرانی عوام اپنے محبوب رہنما کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے چین تھے ۔ 11 فروری 1979 ء کو باقاعدہ طور پر انقلاب اسلامی کی فتح و کامرانی کا دن قرار دیا گیا ۔ جس سے ایران میں عیش و طرب کی مغرب زدہ زندگی کے چراغ بجھ گئے ۔ اسلامی طرز معاشرت کا رنگ چارسو نظر آنے لگا ۔ اور اس کی کرنیں دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئیں۔

 یوں تو اس انقلاب کے دور رس اثرات کو محدود کرنے کی عالمی پیمانے پر سازشیں پہلے دن سے شروع ہیں لیکن اس بڑھتے ہوئے طوفان کو روکنا مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔ حضرت امام خمینی نے گیارہ سال کی قیادت میں اس حقیقت کو نہ صرف ثابت کیا بلکہ اہل دنیا یہ یقین کر لینے پر مجبور ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ اگر کوئی شخص پختہ عزم و ارادے سے قدم اٹھالے تو وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ حضرت امام خمینی ؒ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام کو جو قوت ایمانی بہم پہنچائی ۔

 آنے والی نسلیں اس سے فیض یاب ہوتی رہیں گی ۔ آپ ؒ نے گیارہ سالہ ایرانی سرپرستی کے بعد 3جون 1979ء کو وفات پاگئے ۔ لیکن اسلامی انقلاب کا جو راستہ انہوں نے متعین فرمایا اسے اختیار کرکے صاحب ایمان لوگ تمام دنیا کو اسلام کی روشنی سے منور کر سکتے ہیں اسلامی انقلاب کے موجودہ نتائج سے یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں عالمی استعمار ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
نسلی، گروہی اور لسانی امتیازات ختم ہو جائیں گے ۔ فرقہ پرستی اپنی موت آپ مر جائے گی ۔ اجتہاد عظیم کے ذریعہ تمام اختلافات دور کردیے جائیں گے ۔ حضرت امام خمینی کی وفات حسرت آیات کے بعد جناب آیت اللہ خامنہ ای کو بھاری اکثریت سے آپ کا جانشین چنا گیا ۔ آپ کا تعلق مشہد کے علمی گھرانے سے ہے ۔ ابتدائی تعلیم بھی مشہد اور قم میں حاصل کی۔ حضرت امام خمینی کی زیر قیادت تحریک اسلامی انقلاب میں بھرپور حصہ لیا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ اپنی عمر کا کافی حصہ مختلف علوم و فنون کی تدریس میں صرف کیا اور کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔

عالمی حالات و واقعات اور سیاسیات پر نہ صرف ان کی ماہرانہ نظر رہی بلکہ ان کی زیر سرپرستی اسلامی جمہوریہ ایران نے ترقی اور خوشحالی کی طرف قدم بڑھایا اور اسلامی فکرو سوچ میں بھی اضافہ ہوا۔ جمہوری اسلامی ایران کی موجودہ قیادت اسلامیان عالم کی خصوصی توجہ اور امید کا مرکز ہے ۔ آج کی ماڈرن دنیا کے لئے صدر احمدی نژاد کی شخصیت ایک قابل تقلید نمومہ اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ آپ کی قیادت میں ایران نے دنیا کو اپنی انفرادی حیثیت سے متعارف کرایا ہے اور ہر شعبۂ زندگی میں قابل ذکر ترقی کرکے ایک مثال قائم کی ہے ۔ جمہوری اسلامی ایران کے صدر احمدی نژاد اور ان کی ٹیم نے اپنے عمل وکردار کے ذریعہ مسلم امّہ کو وحدت کا عظیم پیغام دیا ہے ۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

ایران اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں ۔ ایران کا سرکاری نام جمہوری اسلامی ایران ہے ۔ حدود اربعہ کے لحاظ سے ایران کے مشرق میں پاکستان اور افغانستان واقع ہیں۔ مغرب میں ترکی اور عراق، جبکہ شمال میں سوویت یونین اور بحرۂ کیپسین واقع ہے ۔ خلیج فارس ایران کے جنوبی حصے میں ہے۔ اس کا کل رقبہ سولہ لاکھ اڑتالیس ہزار ایک سو پچانوے مربع کلو میٹر ہے ۔

آبادی کے تناسب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔ ایران کا چوتھائی حصہ رقبہ قابل کاشت ہے باقی رقبے پر پہاڑ، جنگل اور صحرا ہیں۔ ایران کا سب سے بڑا دریا 790 کلو میٹر لمبا ہے اس میں جہاز رانی ہوتی ہے ۔ یہاں کی آب و ہوا پہاڑی علاقوں میںنم دار اور ساحلی علاقوں میں گرم معتدل ہے جبکہ دیگر علاقوں کی فضا خشک ہے۔

 ملک کا دارالحکومت تہران ہے یہ ایک زرعی ملک ہے یہاں پر چاول، گندم، جو، آلو، کپاس،چائے کے علاوہ کھجور، سبزیاں اور پھل وغیرہ ہوتے ہیں۔ گائے بکری اور دیگر باربرداری کے جانور بکثرت پرورش پاتے ہیں۔ ہوائی اور بحری سفر کی سہولتیں موجود ہیں ریلوے لائنوں اور سڑکوں کا بھی جال بچھا ہوا ہے ۔ تیل ،قیمتی پتھر، سونا ، تانبا، ناریل، تازہ پھل ، معدنیات، تیل اور گیسوں کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ بجلی کی پیداوار کے لئے کئی جگہوں پر ڈیم بنائے گئے ہیں ۔

صنعت و تجارت ، سائنس اورٹیکنالوجی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ اصفہان میں فولاد سازی کا بڑا کارخانہ ہے ۔ جو ملکی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ صنعتی و زرعی آلات کے علاوہ کاریں، جیپیں، موٹر سائیکل اور دیگر گاڑیاں ملک کے اندر ہی بنائی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے کثیر زرمبادلہ کی بچت ہوتی ہے ۔

ایران کا قومی پرچم سبز، سفید اور سرخ ہے اور اس پر بائیس مرتبہ اللہ اکبر لکھا ہو ا ہے ۔ اللہ اکبر کے یہ الفاظ انقلاب اسلامی کی تاریخ کو بھی ظاہر کرتے ہیں ایران میں بہت سی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن یہاں کی قومی زبان فارسی ہے۔ ایران سر سبز و شاداب گلزاروں، لق ودق صحراؤں، گنجان جنگلات، بلند و بالا اور بڑے دیو ہیکل پہاڑوں اور ان کی چوٹیوں سے بہتی آبشاروں ، لہلہاتے کھیتوں، صاف شفاف چشموںاور خوبصورت بہتے دریاؤں کی سرزمین ہے۔

یہاں پر ہر سال ہزاروں ملکی اور غیرملکی سیاح قابل دید اور تاریخی مقامات دیکھنے آتے ہیں اس کے علاوہ مشہد ، شیراز، تہران وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے مزارات ہیں جن کی زیارت کے لئے ہر سال بے شمار لوگ ایران کی سیاحت پر آتے ہیں۔ پاکستان سے جو لوگ ایران جاتے ہیں تو سفارت خانہ اسلامی جمہوری ایران اسلام آباد ان کی بہتر رہنمائی اور ہر قسم کا تعاون بہم پہنچاتا ہے۔

 سفارت خانہ جمہوری اسلامی ایران اسلام آباد ہر سال اپنے قومی دنوں کی تقریبات منعقد کرتا ہے جس سے انقلاب کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ انقلاب محروم طبقات اور کمزور اقوام کی طرف سے ہر ظالم ،جابر ، مادیت پرست اور وقت کے فرعون کے لئے پیغام عبرت ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہی ہے جس نے زمین پر اپنے کمزور بندوں کو قوت دی جس سے متحد ہو کر انہوں نے انقلاب عظیم کی بنیاد ڈالی ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

ترجمہ : " ۔۔۔۔۔۔۔وہی قادر مطلق ہے جس نے اپنی مدد اور مومنین کے ذریعہ سے تم کو طاقت دی اور مسلمانوں کے دلوں میں باہم الفت ڈال دی۔ اگر تم روئے زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے اور لیکن وہ تو اللہ ہی ہے جس نے لوگوں میں الفت پیدا کردی بے شک وہ زبردست حکمت والا ہے " باوجود اس کے کہ استعماری قوتوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے لیکن باطل آخر کار ناکام ونامراد ہوگا اور حق فتح یاب ہوگا۔

جمہوری اسلامی ایران کے سفیر معظم جناب ماشاء اللہ شاکری اور محترمہ مسز نیرّہ شاکری خلوص دل سے پاکستان اورایران کے مابین حکومتی اور عوامی سطح پر رابطے مضبوط کرنے میں کوشاں ہیںانہوں نے دونوں ملکوں کے آپس کے تعلقات ، دوستی، بھائی چارے اور مختلف شعبوں میں تعمیر و ترقی کے لئے بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔

پاکستان اور ایران کے عوام کی اکثر تہذیبی و ثقافتی اقدار آپس میں ملتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ موجودہ سفیر جمہوری اسلامی ایران کی شبانہ روز کوششوں سے پاکستانی وایرانی قوم کی آپس میں دوستی بھائی چارہ اور اسلامی تعلقا ت میں دن بدن اضافہ ہوگا۔ اور دونوں عوام مل جل کر دنیا میں ترقی اور کامیابی کی جانب رواں دواں رہیں گے۔


:دیگر مضامین
(06.02.2009) Peaceful demonstration in front of the Pakistani High Commission london
(06.02.2009) شوہر بیتی جس سے کوئی محفوظ نہیں
(04.02.2009) اصغر کرمانی اور سعیدہ نثار کے بھائی اور جعفر رضوی کی والدہ کے لیئے دعائے صحت
(04.02.2009) ابھی تو میں جوان ہوں’: ملکہ پکھراج کی یاد میں
(02.02.2009) دو بچوں کا مکالمہ
(02.02.2009) سویڈن میں ایک تاریخ رقعم ہوئی ہے
(30.01.2009) دنیا پر اسلام کے احسانات اور مغرب کے مظالم
(24.01.2009) موہن جو ڈارو کے بعد اب لکھن جو دڑو کی دریافت
(23.01.2009) عالمی اخبار کے نام
(23.01.2009) امام سید سجاد ابن الحسین کی شہادت
(23.01.2009) آپ سے درخواست ہے اسے مت دیکھیں
(22.01.2009) ون ٹو کا فور،فور ٹو کا ون
(18.01.2009) بجلی کا بل اور سانپ کی بل
(17.01.2009) توکیو سے جناب اطہر صدیقی کا تہنیتی پیغام
(15.01.2009) ھلال اور حلال میں اب کوئی فرق نہیں
(14.01.2009) برسلز میں سید علی رضا کی والدہ کے ایصال ثواب کی مجلس عزا
(13.01.2009)  فرینکفرٹ میں عزاداریء نواسۂ رسول
(10.01.2009) لکھنؤ عزاداری کا تاریخی مرکز
(10.01.2009) امن کی فاختہ لہو لہان
(05.01.2009) کربلا ایک درسگاہ کہ جو زمان و مکان کی قید میں نہیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں