15.10.2026, 04:58pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ایران کا ایٹمی پروگرام اور عالمی طاقتوں کی کوششیں
08.02.2009, 01:02am , اتوار (GMT+1)

کشور مصطفٰی

 ایران کا ایٹمی پروگرام ایک عرصے سے مبہم یا غیر واضح سمجھا جاتا ہے۔ باراک اوباما کے امریکہ کے صدارتی منصب پر فائز ہونے کے بعد آج پہلی بار اقوام متحدہ کی پانچوں ویٹو پاورزاورجرمنی کے ترجمان ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں صلاح و مشورے کے لئے جرمن شہرویزباڈن میں ملاقات کررہے ہیں

ایران کا ایٹمی پروگرام ایک عرصے سے مبہم یا غیر واضح سمجھا جاتا ہے۔ تہران حکومت بارہا یہ یقین دلاتی رہی ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام سول مقاصد کے لئے ہے۔ دوسری جانب اس قسم کی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹم بم بنانے کی تیاریاں کررہا ہے۔ آج جرمن شہر ویزباڈن میں ایران کے ساتھ اس کے ایٹمی پروگرام کے باارے میں ہونے والے عالمی مذاکرات کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے جرمنی کے سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو ایک نئی اور مثبت پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 جرمن پارلیمان میں فری ڈیمو کریٹک پارٹی اف ڈی پی کی بین الاقوامی امور کی نگراں الکے ہوف ویز باڈن مذاکرات کے ممکنہ زاویوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتی ہیں’’میرا خیال ہے کہ ویزباڈن اجلاس میں ایران پرمزید پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال ہوگا۔ لیکن ذاتی طور پرمیرا یہ ماننا ہے کہ ایران کے ایٹمی مقاصد کہ بارے میں کسی واضح نتیجے پر پہنچنے کے لئے یہ طرزعمل کارآمد ثابت نہیں ہوگا۔ ہمیں اس مسئلے پر بحث کا نئے سرے سے آغاز کرنا ہوگا۔‘‘

الکے ہوف کا کہنا ہے کہ ایران کو چاہئے کہ ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادائی کو ایران کی ماضی کی اور موجودہ تمام ایٹمی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرے اورایران کی یورنیم کی افزودگی کی کوششوں کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔

دوسری جانب نئے امریکی صدر کے ایماء پرایران سے متعلق پالیسی کی  نئی حکمت عملی کے بارے میں جو بات چیت ہو رہی ہے اس کے تحت جلد ازجلد ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز کا رخ کیا جائے۔ فری ڈیموکریٹک پارٹی ایف ڈی پی کے لیڈر ہوف کے مطابق ایران ایٹمی تنازعہ جیسے عالمی اہمیت کے حامل مسئلے کا حل تنہا امریکہ پیش نہیں کرسکتا۔ جرمنی کو یورپ کے اقتصادی اور سیاسی طور پراہم ترین ملک کی حیثیت سے امریکہ کے سات مل کر عالمی تنازعات کے حل کے لئے سرگرم ہونا چاہئے۔

جرمنی ایران کے ایٹمی تنازعہ کے حل میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟

الکے ہوف کا کہنا ہے کہ سیاسی اور سفارتی سطح پر جرمنی کو ایک نئی حکمت عملی وضح کرنا ہوگی کیونکہ ایران کے ساتھ شیریں زبانی کے ساتھ ساتھ سختی کرنے کی کوششوں  کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ایران پر یہ پالیسی اثر اندازنہیں ہو سکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام بین الاقوامی قوتیں مشترکہ طور پرایک مؤثر حکمت عملی کے تحت اشتراک عمل سے کام کریں۔ ’’بنیادی بات یہ ہے کہ ایران کا جوہری توانائی کی مدد سے مسلح ہونے کا عمل کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران کے سلامتی کے مفادات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہئے۔‘‘

 عالمی طاقتیں ایک عرصے سے ایران سے جوہری پروگرام کی بندش کا مطالبہ کر رہی ہیں
ادھرآج ویزباڈن میں منعقدہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات کے بارے میں ماحول پسند گرین پارٹی نے بھی ایک پریس ریلیزجاری کیا ہے۔ گرین پارٹی کے پارلیمانی دھڑے کے سربراہ یورگن ٹریٹین اورپارٹی کی خارجہ پالیسی کی ترجمان کیرسٹین میولرنے امید ظاہر کی ہے کہ ویزباڈن مذاکرات میں ویٹو پاورزیعنی امریکہ، چین، روس، فرانس اوربرطانیہ کے علاوہ یورپی یونین کے اہم ملک جرمنی کے مابین کوئی مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق ہوسکے گا۔

 دونوں لیڈروں نے نئے امریکی صدرباراک اوباما کی ایران کے بارے میں نئی پالیسی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے حل کی راہ میں رکاوٹ بننے والے سخت گیرموقف میں لچک کا باعث بنے گی۔ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات ناگزیر ہیں جن کا دروازہ سابق امریکی صدرجارج بش نے بند کر رکھا تھا۔

بشکریہ ڈوئچے ویلے


:دیگر مضامین
(07.02.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں(پہلی قسط)
(06.02.2009) تہران ہو گرعالم مشرق کا جنیوا.از۔ سلطان محمود شاہین
(06.02.2009) Peaceful demonstration in front of the Pakistani High Commission london
(06.02.2009) شوہر بیتی جس سے کوئی محفوظ نہیں
(04.02.2009) اصغر کرمانی اور سعیدہ نثار کے بھائی اور جعفر رضوی کی والدہ کے لیئے دعائے صحت
(04.02.2009) ابھی تو میں جوان ہوں’: ملکہ پکھراج کی یاد میں
(02.02.2009) دو بچوں کا مکالمہ
(02.02.2009) سویڈن میں ایک تاریخ رقعم ہوئی ہے
(30.01.2009) دنیا پر اسلام کے احسانات اور مغرب کے مظالم
(24.01.2009) موہن جو ڈارو کے بعد اب لکھن جو دڑو کی دریافت
(23.01.2009) عالمی اخبار کے نام
(23.01.2009) امام سید سجاد ابن الحسین کی شہادت
(23.01.2009) آپ سے درخواست ہے اسے مت دیکھیں
(22.01.2009) ون ٹو کا فور،فور ٹو کا ون
(18.01.2009) بجلی کا بل اور سانپ کی بل
(17.01.2009) توکیو سے جناب اطہر صدیقی کا تہنیتی پیغام
(15.01.2009) ھلال اور حلال میں اب کوئی فرق نہیں
(14.01.2009) برسلز میں سید علی رضا کی والدہ کے ایصال ثواب کی مجلس عزا
(13.01.2009)  فرینکفرٹ میں عزاداریء نواسۂ رسول
(10.01.2009) لکھنؤ عزاداری کا تاریخی مرکز



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں