پاکستان میں آنے والے انتخابات میں جہاں کئی نئے چہرے سامنے آرہے ہیں وہاں کئی سابق اراکین اسمبلی پارلیمانی اکھاڑے سے باہر ہوگئے ہیں، اور انہیں ان کی جماعتوں نے پارٹی ٹکٹ نہیں دیے ہیں۔
نئےانتخابات میں کئی ایسے نام حصہ نہیں لے رہے جن کا ذکر پانچ سال ہوتا رہا۔ان افراد کو مختلف وجوہات کی بنا پر ان کی پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیئے۔ پارٹی ٹکٹ سے محروم رہنماؤں میں سرفہرست جہانگیر بدر ہیں جو پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل بھی رہے ہیں۔ انہیں حال ہی میں اس عہدے سے سبکدوش کیا گیا ہے جبکہ ٹکٹ بھی نہیں دیا گیا۔حج اسکینڈل کیس میں مقدمے کا سامنا کرنے والے سابق وزیر اور ملتان کی قومی اسمبلی کی نشست سے جیتنے والے حامد سعید کاظمی کو پیپلز پارٹی نے ٹکٹ دینے سے گریز کیا ہے۔
دادو سے صوبائی رکن اسمبلی بنائے جانےو الے پیر مظہرالحق کی جگہ ان کے بیٹے بیرسٹر مجیب الحق کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ دیا گیاہے۔
گھوٹکی سے پیپلز پارٹی ہی کے رکن قومی اسمبلی اور پیر آف بھرچونڈی میاں مٹھو گھوٹکی بھی ٹکٹ حاصل نہ کرسکے رنکل کماری کیس میں ان کا نام لیا جاتا تھا پی پی پی کے سینیئر رہنما پیر آفتاب شاہ جیلانی کو پیپلز پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا۔ ان کے بھائی پیر امجد شاہ حیدرآباد کے دیہی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوتے رہے ہیں اس بار ان کی جگہ سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کو ٹکٹ دیا گیا ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے چار اراکین دہری شہریت رکھنے کے باعث آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔یہ اراکین عباس حیدر رضوی، رضا ہارون، عبدالمعید صدیقی، اور فرحت محمد خان ہیں۔