
بنت مریم ۔۔ جی ہاں بنت مریم جو نایاب ہے۔۔۔۔ ہر ملک اور ہر معاشرے میں پائی نہیں جاتی ۔اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف اسلامی ممالک بلکہ نام نہاد اس اسلامی معاشرے میں پائی جاتی ہے جہاں
مولوی صفت مرد اور خواتین اسلام کا پرچار اپنی داڑھی ، اپنی ٹوپی ،عبایہ اور اسکارف (حجاب کی جدید تخلیق ) کے اندر اپنی گندگی اور غلاظت چھپا کر اسی کے سہارے اپنے بھر پور اسلامی ہونے کی سند معاشرے کے بیوقوف لوگوں سے حاصل کر کے دوسروں کے کردار کو اچھالنے کے لئے خلیفہ بن جاتے ہیں ۔ اپنی خوش گوئی کے زریعے دوسروں کو اپنی ٹوپی اور اسکارف کے اندر جھانکھنے نہیں دیتے ۔۔۔
آہ !
سوچتی ہوں کہ اس قوم کے وارث ہم ہی ہیں جس نے اولاد پیغمبر کا تماشہ دیکھا۔
بنت مریم اور بنت حوا دو کیفیتوں اور لازوال کردارو کے نام ہیں ۔ بنت حوا تو ہر قوم و مذہب اور ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے ، جس کی زندگی کا مقصد خاموشی سے مردوں کی دنیا میں اپنے فرائض بغیر احتجاج کے ادا کرنے ہوتے ہیں جبکہ بنت مریم وہ دلیر کردار ہے جو اپنے اوپر اچھالنے والے کیچڑ کی بجائے کنول کا وہ پھول ہے جو کیچڑ میں بھی پاکیزگی کی سند ہے۔ معاشرے کی ہر بنت حوا کو حوصلہ دیتی ہے جب بی بی مریم علیہ السلام کی مانند مرد کے ظالم کٹہرے میں کھڑی کی جائے تو کسی عیسی علیہ السلام کے نزول کا انتظار کرنے کی بجائے خود اپنے کردار کی گواہی بن جائے۔
ا
س موقع پر اپنے زمانہ ظالبعلمی میں ہوئی ایک تخلیق کے چند اشعار یاد آ رہے ہیں
بنت مریم جوکل تھی مظلوم سو اب بھی وہ ہے
سلسہ در سلسلہ ہے سلسلہ زنجیر کا
کل ہوئی نیلام ایک لڑکی کی عزت شہر میں
اور امیر شہر کو موقع ملا تشہیر کا اس سلسلے کی ایک کڑی میری آنکھوں کے سامنے موجود ہے ۔ کمزور لاغر کانپتی ہوئی بنت مریم ۔ تو
آیئے میں آپ سب کو اس بنت مریم کی سچی داستان سناتی ہوں جو اپنے نام اور کردار دونوں سے مریم ہی ہے جسے معاشرے کے کٹہرے میں لا کھڑا کیاگیا ہے جس نے وہ ہر ظلم سہا جو آپ کے سوچ اور تصور میں نہیں آ سکتا ہے ۔ کبھی سوچتی ہوں کہ جناب مریم کے بطن سے ایک نبی کے متفقہ نزول کا مقصد اس زات کے پیش نظر نہ ہوتا اور فقط ایک عورت کی پاکیزگی کی گواہی ہی اصل نزول دنیا ہوتا تو
جناب مریم کے بطن سے اگر ایک مرد کی بجائے ایک نازک اندام یٹی کا جنم ہوتا اور وہ بھی جھولے میں اللہ تعالی کے معجزے سے ماں کی طہارت کی گواہی دیتی تو کیا مردوں کے اس معاشرے میں اس نومولود بچی کی گواہی قبول کی جاتی ؟ میں یہ استدلال پیش کر رہی ہوں کہ میں بھی اس آدھی گواہی کی مخلوق سے تعلق رکھتی ہوں ۔ کیامیں اس بنت مریم کو انصاف دلوا پاؤنگی ؟ ۔ اگر انصاف نہ بھی ملا تو کوئی غمم نہیں ۔ کم سے کم میں نے آواز تو بلند کی تاکہ جناب مریم علیہ السلام کی ملکہ شہزادی کونین حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علہیا کو روز محشر منہ دیکھاسکوں ۔
چاہے کسی ادا سے سہی بولتی تو ہوں
کہ دور پرسکوت میں کوئی صدا تو ہوں
اسلام تو جیب میں رکھے ہوئے ایک کھلونے کی مانند ہو گیاہے جس کو اپنے مقصد کے لئے جب چاہو اپنی جیب سے باہر نکال لاؤ اور جب چاہو اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے واپس جیب میں چھپا کر ماڈرن سوسائٹی کا نعرہ بلند کر دو ۔ ۔
جس بنت مریم کی داستان گوئی میں کررہی ہو اس کی عمر فقط اٹھارہ سال اور کچھ ماہ ہے ۔ عمر چھوٹی اور تجربات بلند ۔۔ اس کا تعلق سید تعلیم یافتہ متوسط گھرانے سے ہے ۔ جہاں تعلیم اور اعلی تربیت کا امتزاج بکثرت پایا جاتا ہے۔ جہاں لڑکی کو نام نہاد پردے میں چھپایا نہیں جاتا بلکہ پیار اور اعتماد کی دولت سے مالا مال کیاجاتا ہے ۔ صبر اور ظلم کا مطلب سمجھایا جاتا ہے ۔ یہ وہ بنت مریم ہے جس نے کراچی کی بہترین درسگاہوں سے انٹر تک تعلیم حاصل کی اور تعلیم کی تکمیل کے دوران ہی جھوٹے وعدوں اور دعووں سے متاثر ہوتے ہوئے رشتہ ازدواج میں باندھ دی گئی ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں لڑکیوں کی شادی کا رواج دوبارہ سے شروع ہو گیا ہے ۔ جس کی سنگین وجہ ملک کے سنگین حالات اور نامتوقع حالات ہیں جس کے پیش نظر ہر والدین کی اولین ٰخواہش ہوتی ہے کہ جلد از جلد بیٹی عزت کے ساتھ اپنے گھر کی ہو جائے ۔ اور اگر کسی ترقی یافتہ ملک امریکہ ، کینیڈا یا آسٹریلیا سے رشتہ آ جائے تو بیٹی والے خود کو خوش قسمت ترین تصور کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس مریم کے رشتہ دار بھی شہر سڈنی میں تقریبا چار سال سے رہائش پذیر تھے اور وہ بھی کسی ایسی فیملی کے دھوکے می آگئے جو مذہب کے لبادے میں لپٹے ہوئے اپنے زہنوں اور گھر کی گندگی کو چھپا کر منبر رسول کے دعودیدار اور معاشرے کے ٹھیکہ دار بنے ہوئے تھے۔
سڈنی کی امام بارگاہوں میں زبردستی بچوں اور بچیوں کی تربیت کا بیڑہ اٹھانے کا ڈرامہ رچاتے تھے ۔۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ بظاہر تین سعادت مند بیٹوں کے والدین کی حثیت سے دنیامیں لڑکیوں والوں کے لئے بور کے ان لڈوں کی طرح بنے ہوئے تھے کہ جسکو دیکھ کر ہر لڑکی کے رفقاء کی رال ٹپکے۔ جو اسلام اور اقوال امام کو غلط انداز میں اپنے زاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے تھے ۔
میرا سوال یہ ہے کہ ان نام نہاد اور ٰخود ساختہ مولوی اور ملانی کو دنیا اور معاشرہ کے سامنے بے نقاب کرنا کس کی زمیداری ہے۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکی کے والدین کو ان دعووں کے ساتھ کہ لڑکی کو تو ہم اپنی پیاری بیٹی بناکر راج کرائیں گے ۔
یہ جھوٹے اور منافق لوگ آسٹریلیا جیسے ملک میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ جو اصل میں بہو کو ایک مفت کی ملازمہ اور بیٹے کے لئے پلاسٹک کی ایسی گڑیا سمجھتے ہیں جو بلا چوں و چرا گھر کے کام انجام دینے کے ساتھ ساتھ بیٹے کے لئے صرف رات کی تاریکی میں ہی نہیں بلکہ دن کی روشنی میں بھی ایک پیشہ ور طوائف کی طرح جنسی ، جسمانی اور زہنی حیوانیت کا بھی شکار ہوتی رہے ۔
باہر کی دنیا ، انٹر نیٹ ، اسکائپ ، فیس بک کو فضول کی عیاشی اور شیطانی ایجادات کا نام دے کر باہر کی دنیا سے لاتعلق کر دیا گیا ۔ حتی کے پہلے دن اس لڑکی کی آسٹریلیا آمد پر پاکستان میں بیٹھے ہوئے بھولے ماں باپ سے پیر دھلائی کی رسم کرتے ہوئے جو بات کروائی گئی تو پھر والدین بیٹی کی شکل تو کیا آواز سننے کو بھی ترس گئے ۔
اف یہ کیاظلم ہے کہ ترقی یافتہ ملک میں بھی جو عورتوں کے حقوق کا علمبردار ہے ایک معصوم اٹھارہ
بنت مریم کو حبس بے جا میں رکھ کر ہر قسم کا زہنی ، جسمانی اور جنسی تشدد کیا گیا ۔ ایک معمولی ملازمہ سے بدتر سلوک کے ساتھ گھر کے سارے کام ، ساس صاحبہ کے نخرے ، ان کی پیروں کی مالش سے لے کر وسیع باغ کی صفائی تک کا سارا کام انجام دلوایا گیا ۔ اور ان کا وحشی بیٹا جو ٹرینوں ، بسوں اور بازاروں میں مریم کو اسکارف پہنا کر ایک کال گرل سمجھ کر جو حرکات کرتا تھا اور اس کے انکار کرنے پر اسے بری طرح مارتا تھا کہ الاں الاماں ۔۔ پر وہ آج ایک مرد ہونے کی حثیت سے صاف کردار کا ٹھہرا ۔
ایک عیسائی عورت کے اطلاع کرنے پر جب پولیس نے مریم سے اس ظلم پر پوچھ گچھ کرنا چاہی تو اس کی سچی مسلمان ساس نے اپنی مادری زبان کا خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے مریم ہی کو ڈرایا ، دھمکایا ، اور اسلام کے برخلاف جھوٹ بولنے کی تلقین کی اور بنت مریم تو ٹھہری ہی مظلوم ۔۔۔
تکلیف کا مقام یہ ہے کہ جب یہ مریم ظالموں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی تو اب اس پر الزامات کی بارش کر کے کردار کشی کی جارہی ہے ۔ کون ہے جو اس مریم کو انصاف دلائے گا ؟ کیونکہ ہرطرف سے روایتی گھر بسانے اور قربانی دینے کے فلسفے کی مالا جپنے والے لوگ اس کو واپس اسی جہنم میں بھیجنے کی بات کر رہے ہیں یا پھر خلع لے کر پاکستان کے روایتی ظالم معاشرے میں دھکیلنے کا مشورہ دے رہے ہیں جہاں قصور صرف ہر حال میں لڑکی کاہی ہوتا ہے ۔ جہاں کنواری کا دوشیزہ کا رشتہ کسی معجزے سے کم نہیں ناکہ طلاق یافتہ اس کم عمر بنت مریم کا ۔۔۔
ایسے لوگو کے لئے اس کے علاوہ کیا کہوں ۔۔۔
تم ہو اوقات میں کشکول کے کھوٹے سکے
کل کے بازار میں نیلام کئے جاؤ گےمجھے نہیں پتہ اس وقت تک کہ جب یہ تحریر آپ کی آنکھوں سے گزرے گی اس کیس کی نوعیت عدالت میں کیا ہوگی کہ پولیس کے اے وی او جاری ہونے کے بعد اپنی اصلیت ظاہر ہونے کے ڈر سے اس ظالم گھرانے کے ہر فرد اور ان جیسے کئی ہم خیال لوگوں کی ٹولی نے شدید دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے ۔ کمال ہے کہ اتنی سفاک رویئے کے بعد بھی یہ دلیرانہ عمل یہ کہتے ہوئے کیا جا رہا ہے کہ صرف
مریم کی اس بیٹی کے ساتھ ساتھ میری کردار کشی میں بھی تقریریں جاری ہیں کیونکہ میں ظلم کے خلاف بولنے کی صلاحیت رکھتی ہوں ۔۔
آپ ایسی سوچ کو اب کیا کہیں گے کہ وہ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا چکر لڑکی کو آسٹرلین شہری بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔ جیسے لوگ ویسی سوچ ۔۔۔ پر مجھے اتنا یقین ہے کہ اتنی غلاظت اہل بیت کے ماننے والوں میں نہیں ہو سکتی کہ آسٹریلین شپ کے لئے اپنی بیٹی کی عزت کو کوئی فروخت کرے گا ۔۔۔ لیکن یہ سارے طعنے ، یہ زیر اور یہ زبر مجھ جیسی کنیز زہرہ کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ میں اپنے اس عمل سے یہ ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ م
یں مظلوم کے ساتھ ہوں بالکل اسی طرح جب جناب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کے لئے جو اگ دہکائی گئی تھی تو اس کے شعلے آسمان تک بلند ہو رہے تھے تو ایک گدھ نے تیزی سے آسمان کی جانب پرواز بلند کی تو اس نے دیکھا کہ چھوٹا سا پرندہ ہد ہد اپنی چونچ میں پانی کا ایک قطرہ لے کر ایک لمباسفر طے کر کے آگ کے شعلوں کے پاس پہنچتا اور آگ پر چھڑک دیتا ۔ پھر واپس پلٹ کر طویل سفر طے کر کے دریا کے پاس پہمنچتا ۔۔ پانی کا قطرہ لے کر یہی عمل دوبارہ دہراتا ۔۔
یہ سارا ماجرا دیکھ کر اس گدھ نے اس پرندے سے کہا “اے ہد ہد تو کتنا نادان ہے ۔۔ کیا تو نہیں جانتا کہ تیری اس مشقت سے اور پانی کے اس قطرے سے ابراہیم کی جان نہیں بچ سکتی ۔۔ کیا تو اپنے اس عمل سے اس دہکتی ہوئی آگ کو بجھا سکتا ہے تو اس نے جواب دیا “ شاید نہیں“ پر میں اپنے اس عمل سے اپنے رب اور دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ ظالم کے ساتھ نہیں ، مظلوم کے ساتھ ہوں ۔۔
میں نمرود کا نہیں میں ابراہیم کا سپاہی ہوں ۔۔ میں بھی ہد ہد کی مانند مریم کو انصاف دلوانے کے لئے آخری سانس تک کوشش کرونگی ۔ دیکھنا یہ کہ میرے علاوہ آپ میں سے کون کون ہد ہد کا کردار ادا کرنے کی ہمت رکھتا ہے ۔۔
اہل ستم کے حلقہ بگوشوں میں ہم نہیں
صد شکر ان ضمیر فروشوں میں ہم نہیں