سیتاپور۔
بہترین شاعری تسکین دل اور اصلاح معاشرہ کا مؤثر ذریعہ ہوتی ہے یہ وہ صنف سخن ہے جو اچھے اشعار پر کسی بھی شخص کو زندۂ جادید بنا سکتی ہے۔ کوئی بھی عمارت یا تاریخ زیادہ دنوں تک معاشرہ اور ماحول پر اپنا اثر قائم رکھنے میں بھلے ہی

کامیاب نہ ہو لیکن ایک اچھا شعر صدیوں تک اسی انداز میں زندہ رہتا ہے جیسے کہ وہ شاعر کی زندگی میں تر و تازہ تھا۔ میر تقی میر، مرزا غالبؔ ، سوداؔ ، مجازؔ لکھنوی ، پنڈت برج نرائن چکبستؔ اور شاعر مشرق علامہ اقبال ؔ جیسے شعراء اس بات کا ثبوت ہیں کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آج تک وہ صرف اپنے کلام کے ذریعہ ہماری زندگی میں رچے بسے ہوئے ہیں۔ مذکورہ بات بزم اردو سیتاپورکے ساتویں ماہانہ طرحی مشاعرہ کی صدارت کرتے ہوئے مشہور و معروف شاعر و صحافی مستؔ حفیظ رحمانی نے کہی ۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب لوگ اردو سے دور ہوتے جا رہے ہیں تب بھی اردو شاعری عوام میں انتہائی مقبولیت کا درجہ رکھتی ہے وہ لوگ بھی جو اردو سے نابلد ہیں اپنی بات میں وزن پیدا کرنے یا اپنی بات کو موئثر انداز میں بیان کرنے کے لئے اردو کے اشعار کا استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومتیں اردو کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا بند کر دیں تو وہ دن دور نہیں جب اردو ایک بار پھر سے ہندوستان کے دل کی دھڑکن بن کر راج کرتی نظر آئے گی۔ اس موقع پر گزشتہ ماہ کے مشاعرہ میں بہترین غزل کا ایوارڈ حاصل کرنے والے شاعر ڈاکٹر مخمورؔ کاکوروی کو بزم اردو کے اراکین کی جانب سے غزل ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
ڈاکٹرمخمورؔ کاکوروی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بزم اردو کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ ۴۳؍ برس سے جس طرح بزم اردو ادب کی شمع روشن کئے ہوئے ہے وہ اپنے آپ میں مثال ہے۔ بزم اردو سیتاپور نے نہ صرف ادب میں گراں قدر اضافہ کیا اور آل انڈیا مشاعرے و سیمینار کئے بلکہ شعراء کی ایک بڑی جماعت بھی تیار کی ۔یہ جان کر انتہائی خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ ان سلسلہ وارسات مشاعروں کے درمیان تین نئے لوگوں نے شعر گوئی کی طرف رخ کیا اور باقائدہ شعر کہ رہے ہیں۔ مشاعرہ کی نظامت کے فرائض جواں سال خوشگلو شاعر رضوانؔ خان نے بحسن و خوبی انجام دئے ۔ مشاعرہ کنوینر خوشتر ؔ رحمانی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ ماہ کا مشاعرہ پانچ مئی۲۰۱۳ ء کو صبح دس بجے مسلم جونئیر ہائی اسکول کے کمپیوٹر ہال میں منعقدہوگا جس کا مصرع طرح اُس کا احساس اکیلا نہیں رہنے دیتا ہے جسمیں ’’اکیلا‘‘ قافیہ اور’’ نہیں رہنے دیتا ‘‘ ردیف ہوگی۔ مشاعرہ کنوینر کے مطابق الف اور ہ کی قید کے ساتھ شعراء کو کلام پیش کرنا ہوگا۔ اس موقع پر

طرحی مشاعرہ میں جناب مستؔ حفیظ رحمانی، ڈاکٹر مخمورؔ کاکوروی، ضیاؔ رحمانی، اشتیاق علی صباؔ ، سلیم ؔ صدیقی، منظر یٰسین، سلیم اخترؔ ، عمرانؔ انواروی، خوشترؔ رحمانی ، رضوانؔ خان، عارف محمد عارفؔ ، حیدر ؔ علوی، حکمت ؔ شاہ آبادی، محفوظؔ رحمانی، قاری محمد اعظم جہانگیرآبادی، عرفان ؔ لکھنوی، ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاقؔ ، شہرتؔ انصاری، ڈاکٹر عزیزؔ خیرآبادی ، کوثرؔ عثمانی، محترمہ ریحانہ عاطفؔ ، بشریٰؔ ناز، گلشنؔ خیرآبادی، مسعودؔ محمودآبادی،ڈاکٹر محمد الیاس تائب، نفیسؔ سیتاپوری،نعیم ؔ بسیتوی، عالمؔ رائے بریلوی، اطہرؔ کملاپوری، علیم ساحلؔ لہرپوری، ابن عمرؔ ، رئیس خیرآبادی وغیرہ نے اپنا طرحی کلام پیش کیا۔ مشاعرہ میں پسند کئے گئے اشعار اس طرح ہیں۔
آئیں گے پھر نگاہ میں منظر نئے نئے
میری طرح سے خود کو کوئی بھول جائے تو
مستؔ حفیظ رحمانی
تو نے ثبوت قتل کے یکسر مٹائے تو
مظلوم کا لہو ہے اگر رنگ لائے تو
ڈاکٹر مخمورؔ کاکوروی
اشعار چاہے جتنے سنائے کوئی مگر
کیا چیز شاعری ہے ضیاؔ کو بتائے تو
ضیاؔ رحمانی
ترک تعلقات پہ بھی یاد آئے تو
اب دل کا کیا کروں نہ اسے بھول پائے تو
اشتیاق علی صباؔ
پھر دیکھئے کہ تیرگی مٹتی ہے یا نہیں
کوئی خلوص دل سے دیا اک جلائے تو
سلیم اخترؔ
نادان دل ہے پہلے کوئی زخم کھائے تو
جو ضابطے ہیں عشق کے ان کو نبھائے تو
عمرانؔ انواروی
مانا کہ میری پیاس پہ پانی حرام تھا
لیکن تمہارے واسطے کوزے بنائے تو
سلیمؔ صدیقی
پتھرا گئیں ہیں آنکھیں مجھے اس کا غم نہیں
مدت کے بعد آئے مگر پھر بھی آئے تو
منظرؔ یٰسین
آندھی کی کیا مجال بجھائے جو شمعِ دل
لیکن ہے شرط کوئی لہو سے جلائے تو
خوشترؔ رحمانی
تیری طرف بڑھائے گا اللہ دس قدم
اس کی طرف تو پہلے قدم اک بڑھائے تو
رضوانؔ خان
سب کچھ لٹا دوں شوق سے میں تیرے عشق میں
لیکن ترے لبوں پہ مرا نام آئے تو
عارف محمد عارفؔ
نزدیک آ کے میرے ذرا مسکرائے تو
ویران سے کھنڈر کو ذرا جگمگائے تو
حیدرؔ علوی
احساس ہجر و غم مجھے سچ ہے رلائے تو
لیکن کروں بھی کیا جو نہ دل بھول پائے تو
حکمتؔ شاہ آبادی
سب کو ہی پاس کرنا ہے جب بے پڑھائے تو
بچوں کو ایک حرف بھی آئے نہ آئے تو
محفوظؔ رحمانی
وہ صورت بہار کسی لمحہ آئے تو
اجڑے ہوئے چمن میں کوئی گل کھلائے تو
قاری محمد اعظمؔ جہانگیرآبادی
کیوں آپ کہ رہے ہیں یہ کار محال ہے
تارے ہم آسماں سے اگر توڑ لائے تو
عرفاؔ ن لکھنوی
تم نیم پیرہن پہ بہت مسکرائے تو
بیٹی بھی ایسے کپڑے پہن کر جو آئے تو
ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاقؔ
آ جائے اس کے ہاتھ میں عالم کی باگ ڈور
یہ قوم بس ذرا سا اگر جاگ جائے تو
شہرتؔ انصاری
جو چاہتا ہے چہرۂ تہذیب پر ضیا
بچوں کو اپنے گھر میں وہ اردو پڑھائے تو
ڈاکٹر عزیزؔ خیرآبادی
ان کو تمام پیار کے قصے سنائے تو
پھر کیا کریں جو ان کی سمجھ میں نہ آئے تو
کوثرؔ عثمانی
عاطفؔ کہے گا کیسے کوئی تم کو با ہنر
پہلے تمہاری شاعری ذہنوں پہ چھائے تو
ریحانہ عاطفؔ
شکرِ خدا ہے گرنے سے پہلے سنبھل گئے
کچھ دور تک ہمارے قدم لڑ کھڑائے تو
بشریٰ ناز بارہ بنکوی
جاؤں کہا کوئی مجھے اتنا بتائے تو
تیری ہر ایک بات مرا دل دکھائے تو
گلشنؔ خیرآبادی
بیٹی نظر کا نور کا ہے دل کا سرور ہے
بیٹی ہر ایک دل میں مگر پیار پائے تو
مسعودؔ محمودآبادی
تائبؔ تجھے ملے گا یقیناً بقا کا راز
بحر فنا میں ڈوب کے ہستی مٹائے تو
ڈاکٹر محمد الیاس تائبؔ
لازم نہیں کہ یاد میں تڑپے تمام عمر
وہ میرا شعر کوئی کبھی گنگنائے تو
نفیسؔ سیتاپوری
بیدار سوئی قوم کو کر دے جو آج ہی
نغمہ زباں سے کوئی بھی ایسا سنائے تو
نعیمؔ بسیتوی
ایسا نہیں کہ تیری دعا میں اثر نہ ہو
لیکن خدا کے سامنے تو گڑ گڑائے تو
عالمؔ رائے بریلوی
دل کے ہر ایک زخم پہ مرحم لگائے تو
ہمدرد جو مرا ہے مرے کام آئے تو
اطہرؔ کملاپوری
میں بھی محبتوں میں لہو کو بہاؤں گا
میرے لئے وہ اپنا پسینہ بہائے تو
علیمؔ ساحل
کر دے گا سرفراز وہ سارے جہان میں
اُس رب کے سامنے تو اگر سر جھکائے تو
ابن عمرؔ
روشن مری طرح سے ہو اس کی بھی کائنات
وہ شمع آرزو کبھی دل میں جلائے تو
رئیس ؔ خیرآبادی