
لیجئے
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ججوں کی بحالی کے معاملے پر بہت سے لوگوں کو بہت سی
امیدیں تھیں لندن میں میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ہونےوالی
ملاقات کے بارے میں۔مگر میں اپنے تمام احباب کو اُس وقت بھی کہہ رہا تھا
کہ یہ معاملہ‘‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ والا ہوگا اور مجھے چند روز پہلے کا
اپنا وہ قطعہ بھی یاد ہے جو میں نےالقمر آن لائن کے بلاگ سیکشن میں اپنے
محترم بزرگ دوست وینکور کے جناب شمس جیلانی کے قطعے کے جواب میں لکھا تھا
تو میرے دوست مجھے رجائیت پسند کہتے تھے اور طعنہ یہ تھا کہ مجھے روشن
پہلو دیکھنے کی عادت نہیں۔
وہی قطعہ اب نواز شریف اور آصف زرداری
کے لندن کے ناکام مزاکرات کے بعب قند مقرر کے طور پر پیش ہے کہ سارے
معاملے کا جواب صرف چار مصرعوں میں۔
لندن کا یہ میلہ بھی دکھانے کے لیئے ہےہر ایک بیان اُن کا سُنانے کے لیئے ہےممکن نہیں اس طرح ججوں کی ہو بحالییہ کھیل مشرف کو بچانے کے لیئے ہےاب دل چاہتا ہے کہ اپنے ان تمام دوستوں سے پوچھوں کہ جب کسی چیز کا ہر پہلو تاریک ہو تو کوئی بتلائے کہ روشن پہلو کیسے دیکھا جائے؟

آصف
زرداری ، میاں نواز شریف اور انکے ساتھیوں نے ججوں کی بحالی پر پہلے
مزاکرات اسلام آباد میں کیئے اور اسکے بعد دوسرا دور دبئی میں ہوا جس میں
بارہ مئی کی تاریخ مقرر ہوئی اور جب اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرار دار
کا مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی مسودے کی تیاری میں ناکام ہو گئی تو تیسرے
دور کے مزاکرات یہاں لندن میں ہوئے جو مزاکرات کم اور ڈرامہ زیادہ تھے۔
ایسا
ڈرامہ تو اسوقت بھی نہیں ہوا تھا جب پاکستان کی مدد کے ساتھ امریکہ کے
وزیر خارجہ ہینری کیسنجر چین کے خفیہ دورے پر گئے تھے لیکن یہاں لندن کا
ڈرامہ میرے اپنے خیال میں بالکل اسی طرح ہوا جیسے اس کا مسودہ لکھا گیا
تھا۔
امریکہ جس نے اس ڈرامے کی ہدایت کاری کے فرائض سرانجام دیئے
اپنی اس فخریہ پیشکش کی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہا اور انکے نائب وزیر
خارجہ رچرڈ باؤچر نے خود یہاں لندن آ کر اس ڈرامے کا ڈراپ سین دیکھا ہے
اور واپس وائٹ ہاؤس کو برقی پیغام بھیجا ہے کہ‘‘ سب اچھا ہے‘‘ اور وائٹ
ہاؤس نے یہی پیغام اسلام آباد میں ایوان صدر کو دیا ہے کہ ‘‘ سب اچھا ہے‘‘۔

یہ
سب کس حد تک اچھا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن مجھ جیسے کروڑوں
عام پاکستانی تو یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا عوام نے اٹھارہ فروری کے انتخابات
میں پیپلز پارٹی کو اتنا بھاری مینڈیٹ صرف اس لیئے دیا تھا کہ آصف زرداری
پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفادات کی بجائے امریکہ اور اسکے پٹھو
ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے مفادات کے لیئے کام کریں۔
آصف زرداری اور شیری رحمان کے ساتھ رحمان ملک
(ان رحمان ملک کا شیری رحمان سےکوئی تعلق ہیں)اور
حسین حقانی بھی اب آئین کے ماہر بن چکے ہیں اور اس بیچارے آئین کی ‘‘غریب
کی جورو‘‘ کی طرح جس کا جیسے جی چاہتا ہے تشریح کر رہا ہے اور وہ فخر
الدین ابراہیم، اعتزاز احسن اور حفیظ پیرزادہ خود کو آئین کو تشریح سے
معذور سمجھ رہے ہیں جو برسوں سے عدالتوں میں ججوں کے سامنے یہی تشریح کرتے
رہے ہیں۔ اسی کو تو بوالعجبی کہتے ہیں۔

پاکستان
کی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے تو اب کھُل کر کہا ہے کہ میاں نواز شریف جس
طرح ججوں کی بحالی چاہتے ہیں اس طرح ججوں کی بحالی سے ملک میں سیاسی اور
آئینی بحران پیدا ہوجائے گا۔ہفتےکی شام کو موبائیل ٹیکسٹ کے ذریعے بھیجے
گئے اس پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ’اگر پولیس نے جج بحال کیے، جس طرح
نواز شریف تجویز کرتے ہیں تو اس سے ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا
ہوجائے گا‘۔
وزیر اطلاعات کے مطابق ججوں کی اس طرح بحالی پر سپریم کورٹ
میں پہلے سے موجود جج پرانے ججوں کے خلاف فوری طور پر حکم جاری کریں گے۔ہم
پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے تمام ججوں کوکھپا سکتے ہیں،۔شیری رحمٰن نے مزید
کہا ہے کہ جب ملک میں پہلے ہی تنازعات ہوں، اقتصادی اور سماجی دباؤ موجود
ہوں تو ایسے میں غیر ضروری تصادم سے گریز کرنا چاہیے اور ذمہ داری کا ثبوت
دیا چاہیے۔
ججوں
کی بحالی کے لیئے لندن میں ہونے والے مزاکرات اس کے سوا کچھ نہیں کہ
‘‘کھایا پیا کچھ نہیں،صاحب نے صرف گلاس توڑا۔ چار روپے لے لو استاد‘‘۔کسی نے مجھ سے یہ پوچھا کہ آپ بھی تو تبصرہ نگار ہیں یہ بتائیں کہ امریکہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کیوں کرتا ہے؟

میں
نے عرض کی کہ پہلے تو اس بات کی توضیح کر دوں کہ الحمد اللہ میں شریف
گھرانے کا (نواز شریف گھرانے کا نہیں) شریف فرد ہوں اس لیئے مجھے تبصرہ
نگار کہنے سے تو گریز ہی کیجئے اور دوسری بات یہ کہ امریکہ کب ہمارے
اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرتا ہے۔ اس بات کے کئی رُخ ہیں۔ اول تو
یہ کہ ہمارے اندرونی معاملات ہیں کون سے؟ دوسرے یہ کہ امریکہ کون سا غیر
ہے۔بھلا ہو بھائی مشرف بااسلام کا کہ انہوں نے پاکستان کو امریکہ کی 53ویں
ریاست بنوا کر ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔اور تیسری بات
یہ کہ جب ہم اپنے گھر کا دروازہ کھلا رکھیں تو چور سے شکایت کیسی؟

آپ
میں سے بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے ایک اور آمر مطلق جنرل
ضیا الحق نے کہا تھا کہ ‘‘یہ سیاستدان میرے پیچھے دُم ہلاتے ہوئے آئیں
گے‘‘۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اس فقرے کا بُرا منایا تھا لیکن جوں جوں وقت
گزرتا چلا جا رہا ہے پاکستان کے سیاستدان خود کو وہی دُم ہلانے والا ثابت
کر رہے ہیں۔ یہ ان سیاسی جماعتوں،سیاسی قائدین اور سیاستدانوں کی ‘‘ہیجڑہ
پن‘‘ ہے کہ ان کو اپنے ہر کام کے لیئے امریکہ کی اجازت کی ضرورت ہے۔
اسلامی
جمہوریہ پاکستان میں اب ضرورت ہے کہ ‘‘فقہ امریکہ‘‘نافذ کر دی جائے اور یہ
اعزاز بھی جنرل ریٹائرڈ مشرف اور آصف زرداری کو حاصل ہو جائے ۔امریکہ ججوں کی بحالی کیوں نہیں چاہتا؟ آصف زرداری ججوں کی بحالی کیوں نہیں چاہتے؟ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ججوں کی بحالی کیوں

نہیں چاہتے؟
امریکہ
ہی کی زبان میں‘‘بدی کی اس مثلث‘‘ کے مفادات ایک ہیں۔ امریکہ کو یہ ڈر ہے
کہ آزاد جج اور آزاد عدلیہ پاکستان کے گم شدہ افراد کے معاملے کو اٹھائے
گی اور ان میں سے گم شدہ افراد کی بڑی تعداد تو امریکہ میں ہے جنہیں صدر
مشرف نے امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ آصف زرداری کو یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ
جس ‘‘مشرف بے نظیر معاہدے‘‘ کے تحت ان کے سب گناہ ثواب میں بدل گئے ہیں
اور وہ جن تمام مقدمات سے‘‘باعزت‘‘ بری ہو گئے ہیں آزاد جج اور آزاد عدلیہ
اسکے غیر قانونی اور غیرآئینی قرار نہ دیدے اور انہیں لینے کے دینے پڑ
جائیں۔
رہی مشرف صاحب کی بات تو اس کے لیئے تو کسی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ انہیں آزاد جج اور آزاد عدلیہ کیوں درکار نہیں۔
لندن
بھی ایک عجیب شہر ہے۔ ہر اس بدعنوان اور ملک دشمن سیاستدان کو انسانی حقوق
کے نام پر اپنے ہاں پناہ دیتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے ممالک میں انسانی
حقوق کو تہہِ تیغ کیا ہوتا ہے۔ باقی ممالک کو تو چھوڑیں اپنے پاکستان کے
الظاف حسین بھی یہیں ہیں بلکہ اب تو وہ برطانوی

شہری
ہیں،بے نظیر مرحومہ بھی زیادہ تر یہیں رہتی تھیں،نوازشریف اور شہباز شریف
کا قیام بھی اسی شہر میں رہا ہے۔گورنر سندھ عشرت العباد تو باقاعدہ گورنر
کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی برطانوی حکومت سے گزارہ الاؤنس لیتے رہے
ہیں۔عزیزِ مصر کی قسمت والے شوکت عزیز بھی پاکستان کا قرضے کا کشکول توڑ
کر اور قوم کو قرضے کی دیگ دیکر اسی شہر کے باسی ہو گئے ہیں۔
مسلہ
پاکستان کا ہوتا ہے اورمزاکرات لندن میں ہوتے ہیں۔بیماری پاکستان میں لگتی
ہے اور علاج لندن میں ہوتا ہے۔ یہ بھی کیا مذاق ہے اس ملک کے حاکموں کا
ملک کے غریب عوام کے ساتھ کہ انہیں بیماریاں بھی ایسی لگتی ہیں کہ جنکا
اپنے ملک میں یا تو علاج نہیں یا پھر انہیں اپنے ڈاکٹروں پر اعتبار نہیں۔
بات
ہورہی تھی ججوں کی بحالی کے ناکام لندن مزاکرات کی۔ میں نے ایک سیاسی
جماعت کے ایک مشیر سے یہاں لندن میں پوچھا کہ آخر یہ مزاکرات اپنے ملک میں
کیوں نہیں ہو سکتےِ کیوں دبئی اور لندن میں ہوتے ہیں؟ بھولے مشیر نے مجھے
بھی ان پڑھ اور جاہل عوام کی طرح سمجھتے ہوئے ارسطو صفت جواب دیا کہ‘‘جناب
پاکستان میں ہر جگہ پر خفیہ والوں نے بگنگ کر رکھی ہے اور ہر بات اوپر
والے سنتے ہیں‘‘۔

میں
نے حیرت سے پوچھا کہ حکومت تو آپ کی ہے اور خفیہ والے کس کے تحت ہیں؟ میرے
اس سوال پر ایک لمحہ توقف کے بعد انہوں نے کہا کہ ‘‘جناب آپ تو یہاں لندن
میں رہ کر مزے لےرہے ہیں آپ کو کیا معلوم کہ اپنے ملک میں کیسی کیسی خفیہ
ایجنسیاں ہیں اور کس کس کے ماتحت ہیں؟ اسکے بعد ان مشیر صاحب کے پاس تو
شاید ہر بات کا جواب ہوتا لیکن میرے پاس سوال کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
نواز
شریف واپس پاکستان روانہ ہو گئے ہیں اور جاتے ہوئے یہ کہہ گئے ہیں کہ وہ
پاکستان جا کر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں
کہ اتحاد کو قائم رہنا چاہیئے۔ یہ منطق شاید کسی کی بھی سمجھ میں نہ آئے۔
اب لندن سے تو یہ ڈرامہ کمپنی واپس روانہ ہو گئی۔ ہدایت کار واپس امریکہ گئے اور اداکار واپس پاکستان۔
دیکھنا
یہ ہے کہ کیا پاکستان کے وہ عوام جنہوں نے ان سیاسی جماعتوں کو بھاری
تعداد میں ووٹ دیئے تھے ان کا احتساب کرتے ہیں یا نہیں؟ کہ یہ سب کچھ انکے
مینڈیٹ کی توہین ہی تو ہے۔