آج کل نیوز چینلوں اور مسلکی چینلوں کی چمک دمک ماند پڑ رہی ہے؟
روز رات کو آٹھ سے دس بجے کے درمیان پاکستان اور مسلکی ٹیلی ویژن کے نیوز چینلوں کے ٹاک شوز پر ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک ہی طرح کے پروگرام نشر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ایک میزبان، تین مہمان اور بہت سارا گرم مسالہ۔ مگر مسلکی چینلوں کے پاس تو کوئی مسالہ بھی موجود نہیں ہوتاسوائے رقم مانگے کے وہ تو ہر حادثہ کا انتظار کرتے ہیں کہ کب کوئی حادثہ رونما ہو اور کب ان کی عید ہو جاے ۔
دس سال قبل جب نجی ٹی وی چینلوں پر مذاکرے شروع ہوئے تو ریاستی ٹیلی ویژن کے بعد بڑے انوکھے لگے۔ پاکستان میں پہلی بار سیاست دانوں سے عوام کے سامنے مکالمہ کیا جا رہا تھا۔ لیکن اب ناظرین کے خیال میں ان پروگراموں میں تجزیے سے زیادہ تفریح دکھائی جاتی ہے۔
اسی بارے میں
,نشریات پر پابندی: شکایت اور تردید، قوم سے دین کے نام پر رقوم جمع کرنے کے پروگرام
سکیورٹی خدشات اور انتخابی معرکہ
تنخواہیں نہ دینے پر ٹی وی چینلز کیخلاف احتجاج
متعلقہ عنوانات
پاکستان
اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتوں کہتی ہیں، ’میں نے نیوز چینلز یا مسلکی چینلز اس لیے دیکھنا چھوڑ دیے ہیں کیونکہ ان میں فلمی گانے اور ڈرامہ اور مسلکی باتیں زیادہ ہوتی ہے، خبریں اور معلومات کم۔ اس سے بہتر ہے کہ ہم انٹرٹینمنٹ چینل ہی کیوں نہ دیکھ لیں؟‘
اسلام آباد کے ایک اور رہائشی کے خیال میں ’زیادہ تر ٹاک شوز میں گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑا زیادہ ہوتا ہے اور سننے کے لیے بات کم۔‘
نشریاتی اور مسلکی چینلوں کے نگراں ادارے پیمرا کے مطابق پاکستان میں تقریبا 85 نجی چینل ہیں، جن میں انٹرٹینمٹ، خبروں کے، مذہبی اور علاقائی اور مسلکی اور ملا مافیا چینل بھی شامل ہیں۔ ان چینلوں کی بھرمار کی بنیادی وجہ اشتہارات یا مختلف افراد کی امداد سے جو آمدن ہے ایک اندازے کے مطابق اس صنعت کی سالانہ مالیت 35 ارب ڈالر ہے۔
مصنوعات بنانے والے اداروں کے لیے میڈیا سٹریٹجی تشکیل دینے والی کمپنی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس کا تعین ریٹنگ پر ہوتا ہے کہ کس چینل کو کتنا حصہ ملے گا۔ اور مالک کو کتنا اور کون سا پروگرام کس ملا کی مرضی سے نشر کیا جائے گا۔ اور کسی کا نام پرگرام میں لینا ہے یا کہ اس کو بیں کرنا ہے چاہے وہ کسی مفکر کا ہو اور بعد میں اس کی تحریر کو اس چینل پر بھی پڑھا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیوز چینلوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ وہ انٹرٹینمنٹ چینلوں سے شکست کھا رہے ہیں: ’شروع شروع میں ٹاک شوز میں لوگوں کی بڑی دلچسپی تھی جس کی وجہ سے ان کی ریٹنگ اچھی تھی۔ لیکن اب لوگ تھک گئے ہیں، اب وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔‘
ایک نجی چینل کے اینکر کو یہ معلوم ہے کہ پرائم ٹائم یعنی رات آٹھ سے دس بجے کے درمیان نشر ہونے والے پروگراموں نے چینل کی آمدنی کا بڑا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے چینلوں میں دونوں قسم کے پرواگراموں کی گنجائش ہوتی ہے:
’ہر چینل میں دو قسم کے اینکر ہوتے ہیں، ایک نوجوان جن کی دل کی دھڑکن ریٹنگز کے ساتھ اوپر نیچی ہوتی ہے اور دوسرے سنجیدہ صحافی۔ میں خود بعض اوقات محسوس کرتا ہوں کہ پروگرام میں ہلاگلا ہونا چاہیے، لیکن میں مسلسل ایسے پروگرام پسند نہیں کرتا۔‘
ریٹنگز کیا ہوتی ہیں اور کیسے بنتی ہیں؟
"یہ کاروبار ہے۔ نیوز چینلوں اور مسلکی چینلوں کا مال خبریں ہوتی ہیں، جب خبریں ہوں گی، تو چینل کی بازار میں قدر بھی بڑھے گی۔"
لاہور میں واقع میڈیا کے انیکروں سے گفتگو سے معلوم ہوا کہ یہ ایک خود کار نظام ہے جس کو ’پِیپل میٹر‘ کہا جاتا ہے۔ آبادی کے نمائندہ نمونے کو لے کر نو شہروں میں قریبا سات سو گھرانوں میں ایک آلہ لگایا گیا ہے جس کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ کون سا چینل کس وقت دیکھا جا رہا ہے۔ ان گھرانوں سے رپورٹ خودکار طریقے سے میڈیا لاجک کے دفتر میں لگے کمپیوٹروں میں جمع ہوتی رہتی ہے، جس کے بعد ڈیٹا کی چھان بین کر کے میڈیا صنعت سے منسلک کمپنیوں کو بھیجی جاتی ہے۔
تاہم سلمان دانش اس نظام کی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں، ’پاکستان میں اس وقت اس سے بہتر کوئی اور نظام نہیں ہے، اسی لیے ان نو شہروں میں یہ چار ہزار افراد پورے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ریٹنگ کا یہ نظام تین شہروں سے شروع ہوا تھا اور ان کی کمپنی کی کوشش ہے کہ اس کو بڑھا کر 25 شہروں میں پیپل میٹر لگایا جائے۔ ’ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ میڈیا کی صنعت، جو پاکستان میں ابھی خاصی چھوٹی ہے، ریٹنگ کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے کتنے پیسے دے سکتی ہے۔‘
پاکستان میں جب ٹیلی وژن پر نجی چینلوں کو نشریات شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی تو اس وقت ایک ہی کمپنی ریٹنگز کا تعین ڈائری کے ذریعے کرتی تھی، یعنی متخب لوگ ایک کاپی میں نوٹ کرتے تھے کہ وہ کس وقت کون سا چینل دیکھ رہے ہیں۔
تاہم یہ نظام زیادہ قابلِ اعتبار نہیں تھا۔جب چینلوں اور ناظرین کی تعداد بڑھی تو جدید نظام کی ضرورت محسوس ہوئی۔
یہ نظام بالآخر 2007 میں متعارف کیا گیا، جب نیوز چینلوں کا راج تھا۔ سلمان دانش کہتے ہیں کہ اب رجحان بدل رہا ہے۔ ’ایک دم بہت سارے نیوز چینل آ گئے تھے جس کی وجہ سے بہت دیکھے گئے۔ دوسرا، پاکستان ایسا ملک ہے جہاں ہر روز بڑی خبریں آتی ہیں۔ لیکن گذشتہ دو یا تین سالوں سے، انٹرٹینمنٹ چینل بازی لے گئے ہیں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ اپریل سے، یعنی انتخابی سیزن میں، نیوز چینلوں کی ریٹنگز بڑھ رہی ہیں، ’لیکن یہ عارضی ہے۔
انتخابات کی گرما گرمی جب تک ٹھنڈی نہیں ہوتی، نیوز چینل تو اس عرصے کا پورا فائدہ اٹھائیں گے۔ مثال کے طور پر پہلی بار نشریاتی اداروں کی تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اشتہارات مفت میں نہیں چلائیں گے۔
میڈیا صنعت اور مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک افراد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا ’جو جماعتیں جیت جاتی تھیں، ان کو تو ہم چھو نہیں سکتے تھے اور جو ہار جاتی تھیں وہ ہمیں کہتے تھے کہ ہمارے پاس پیسے ختم ہوگئے ہیں۔
تاہم اینکروں جو دوسرں کے پروگرام کی نقل تو کرتے ہوئے نظر آتے مگر اس بات کا ہر گز خیال نہیں رکھتے کہ وہ کیس دوسرے ملسک کی توہین یا کسی ملا کو مدد کے طور پر استمعال کر رہے ہیں اور بے راہ روای کی جانب قوم اور مسلک کے افراد کو ورغلا رہے ہیں۔ ایسے چینلوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہ تو پہلے ہی کسی اور کے پرگرام کی کاپی کر کے اپنے مونو گرام کے ساتھ چلاتے ہیں ۔ جب سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا ہے ، تمام نیوز چینلوں نے اپنے اشتہارات کے نرخوں میں 20 فیصد کا اضافہ کیا ہے:
’یہ کاروبار ہے۔ نیوز چینلوں اور مسلکی چینلوں کا مال خبریں ہوتی ہیں، جب خبریں ہوں گی، تو چینل کی بازار میں قدر بھی بڑھے گی۔‘