وزارت اسلامی ثقافت وگائیڈنس کے شعبہ قرآن وعترت کی جانب سے پورے ایران کے قرآنی مراکزاور انسٹی ٹیوٹس کے درمیان عنقریب پہلا قرآن وعترت اولمپک منعقد ہو رہا ہے۔
وزارت اسلامی ثقافت وگائیڈنس کے شعبہ قرآن وعترت کے محکمہ تعلیم کے سربراہ مرتضی خدمتکار نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عنقریب قرآن وعترت کے مختلف مراکز میں پہلا قرآن وعترت اولمپک منعقد ہو رہا ہے۔
خدمتکار نے اس اولمپک کے اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اولمپک کے انعقاد کا مقصد قرآنی سنٹرز اور انسٹی ٹیوٹس کی تعلیمی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور انہیں مزید فروغ دینا حفاظ قرآن کریم قراء اور قرآنی سرگرمیوں میں بہترین کار کردگی پیش کرنے والے قرآنی مراکز اور انسٹی ٹیوٹس کا تعارف کروانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ وزارت اسلامی ثقافت وگائیڈنس کے شعبہ قرآن وعترت کی تعلیمی کونسل کی جانب سے یہ پروگرام پیش کیا گیا ہے اور اس اولمپک کا دیگر تمام قرآنی مقابلوں سے فرق یہ ہے کہ یہ اولمپک مختلف شعبوں میں منعقد ہو گا اور مختلف قرآنی مراکز اور انسٹی ٹیوٹس قرآنی ٹیموں کی صورت میں اس اولمپک میں حصہ لیں گے جبکہ دیگر قرآنی مقابلوں میں افراد ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔
تاتاری زبان میں پہلی تفسیر قرآن جمہوریہ تاتارستان میں عنقریب شائع ہو جائے گی۔ تاتاری زبان میں پہلی تفسیر قرآن نامور محقق انس ہالدوف نے 2001ء میں تحریر کی تھی۔ لیکن ہالدوف کی رحلت کی وجہ سے یہ تفسیر قرآن شائع نہیں ہو سکی۔ اب روس کی اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر رزوا صفیولینا نے اس تفسیر قرآن کو مکمل کیا ہے اور اب یہ تفسیر قرآن عنقریب جمہوریہ تاتارستان میں شائع ہو گی۔
یاد رہے کہ تاتاری زبان میں پہلی تفسیر قرآن 20 ویں صدی کے اوائل میں برھان صرف نے تحریر کی تھی لیکن بعد میں اس تفسیر کا مسودہ گم ہو گیا۔
برطانیہ میں ايك مہم كے ذريعے اسكولوں كے تاريخی مضامين میں اسلامی تاريخ سے مربوط اسباق شامل كرنے كی كوشش كی جارہی ہے تاكہ اس ملك كی علمی ترقی میں مسلمانوں كا كردار ہميشہ ياد ركھا جائے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «OnIslam»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہاہے كہ اس مہم كا مقصد اسكولوں میں اسلام كے بارے میں معلومات كے فقدان كے باعث اسلام اور اس كے پيروكاروں كو منفی نظر سے ديكھنے والے برطانوی طلبا كو طول تاريخ میں اسلام اور مسلمانوں كی حاصل كردہ كاميابيوں سے آشنا كرنا ہے ۔
واضح رہے كہ برطانیہ كی اسلامی كونسل كے تعاون سے شروع ہونے والی اس مہم كا افتتاح وزارت تعليم كی جانب سے تاريخ كی نئی كتابوں كی تدوين كے قواعد و ضوابط پر مشتمل مسودہ تيار كرنے كی دعوت كے بعد كيا گيا ہے ۔
اسلامی کونسل کے عہدیداروں نے پیرس کے اسٹن سنٹ ڈنیز شہر کی میونسپل کمیٹی کے تعاون سے اس علاقے کی مسجد کی تعمیر نو نماز جماعت کے قیام اور اس اسلامی مکان کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو احیاء کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبررساں ایجنسی شبستان نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پیرس کے علاقے سنٹ ڈنیز میں واقع اسٹن مسجد نے ۱۹۹۸ء کو اپنی ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ اس مسجد کے مینار اور گنبد نہیں ہیں اور وسائل کی کمی کے باوجود مسلمان اس جگہ پر نماز جماعت قائم کرتے اور اسلامی سرگرمیاں انجام دیتے رہے ہیں۔
اسٹن شہر کے میئر میشل بومال نے انجمن گفتگو کے سربراہ موسی دیالو کے تعاون سے اس مسجد کی تعمیر نو کا آغاز کیا ہے۔اس علاقے میں تقریبا ۲۰۰۰مسلمان زندگی بسر کر رہے ہیں لہذا اس جگہ پر ایک مسجد کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
اسٹن شہر کے مئیر نے اس بارے کہا ہے کہ میں اپنے پورے وجود سے آرزو کرتا ہوں کہ اس مسجد کی تعمیر کا منصوبہ کامیابی سے اختتام پذیر ہو۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ اسلام ایک وسیع دین ہے کہ جو دیگر شہریوں کے حقوق کا احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔