ضمیرِ
انسانی ایک ایسی چیز ہے جو کبھی تو صرف ایک اڑتی ہوئی چڑیا کے ٹوٹے ہوئے
پر،سڑک کے کنارے پڑی ہوئی لاوارث لاش،روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیئے ہاتھ
پھیلائے معصوم بچے یا پھر انتہائی غربت کی چکی میں پستے ہوئے اپنے کسی ایک
ہم وطن کو بھی دیکھ کر بیدار ہو جاتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اسی
ضمیرِ انسانی پر سورہ اسرافیل بھی پھونک دی جائے تو یہ بیدار نہیں ہو پاتا۔
یہی
ضمیر ہے جو دراصل انسان کو حق شناسی کے جوہر سے آگاہ کرتا ہے اور اسے اپنے
ساتھ ساتھ دوسروں کے ہونے کا بھی ادراک بخشتا ہے۔ یہی ضمیر ہے جو بیدار
رہے تو فقیر شہنشاہ بن جائے اور یہی ضمیر مردہ ہو جائے یا پھر کم ازکم سو
جائے تو شہنشاہ بھی فقیر سے بدتر ہو جائے۔ میں نے یہاں فقیر کا لفظ فلسفے
یا فقر کے حامل فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایسے غربت زدہ فرد کے طور پر کیا
ہے جس کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا،جس کے اردگرد مصاحبین
اورتعریفیں کرنے والوں کے ایک ہجوم کے باوجود ایک بھی وہ دوست نہیں ہوتا
جو اسے سچ کہے،سچ بتائے اور حقیقت حال سے آگاہ کرے۔

ایسی
ہی صورت حال یوں تو عمومی طور پر پاکستان کی سیاست اور پاکستان کے
حکمرانوں میں رہی ہے کہ جب وہ حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو انکی آنکھیں،کان
اور ضمیر کسی حد تک بیدار ہوتا ہے چاہے نیم بیدار ہی سہی لیکن جونہی انہیں
اقتدار ملتا ہے تو کلام لاریب قرآن حکیم کے الفاظ میں ان کے دل ‘‘مقفل‘‘
ہو جاتے ہیں،عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے،سماعت اور بصارت ساتھ چھوڑ دیتی ہے
اور یہ صرف وہ سنتے اور دیکھتے ہیں جو یہ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے افراد،ایسے اداروں ایسی حکومتوں اور ایسے حاکموں کے دن بہت کم اور اقتدار بہت مختصر ہوا کرتے ہیں۔
ضمیر
کی بیداری کی سزا بھی انسان کو ضرور بھگتناپڑتی ہے اور خاص طور ہمارے جیسے
معاشروں میں جہاں ہر کامیابی کا اولیں زینہ دھوکہ دہی،رشوت ستانی، اقربا
پروری، عدل کُشی، عوام کے حقوق سے روگردانی اور صرف اپنے اور اپنی خواہشات
کے لیئے زندہ رہنا ہے۔
ضمیر کی بیداری کے حوالے سے اس قدرے طویل
تمہید کی وجہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے اور سب سے پس ماندہ
اور غربت زدہ صوبے بلوچستان کے موجودہ نسبتاََ نوجوان گورنر ذوالفقار مگسی
کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے پندرہ مئی دو ہزار آٹھ جمعرات کے روز کوئٹہ
میں صوبائی محتسب کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر کی۔
میرے اپنے
خیال میں یہی وہ منزل ہے جب قادر مطلق کسی کی آنکھ کھول دے اور کسی کے
ضمیر کو بیدار کر دے اور اسے وہ سب کچھ نظر آنے لگے جو دراصل سامنے ہے وہ
نہیں جسے وہ خود دیکھنا چاہتا ہے۔

کوئٹہ
سے میرے ایک دوست نے جو اس تقریب میں موجود تھے بتایا کہ ذوالفقار مگسی
دراصل اس موقع پر تقریر نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں منتظمین اور
میزبانوں کے اصرار پر جب وہ تقریر کے لیئے ڈائس پر آئے تو انکے‘‘اے ڈی
سی‘‘ نے پہلے سے تیار شدہ تقریر انکی طرف بڑھائی جسے انہوں نے وہیں میز پر
رکھ دیا اور پھر رٹے رٹے فقروں کی بجائے انہوں نے وہ کچھ کہنا شروع کیا
جسے سن کر اس پنڈال میں موجود لوگ کچھ دیر کے لیئے تالیاں بجانا بھول گئے۔
ذوالفقار مگسی کی اس ‘‘چشم کُشا‘‘ تقریر کے کچھ فقرے کسی تبصرے کے بغیر۔×غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے سرگرداں ہیں اور ملک پر فوج،بیوروکریسی ،وڈیرے اور نواب حکمران ہیں×
تقریب میں موجود باوردی فوجیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘یہ بتائیں
کہ اس ملک کے مالک فوجی ،بیوروکریسی اور نواب یا وڈیرے ہیں یا پھر غریب
عوام‘‘؟ ×حکومت کو عوام سے دروغ گوئی سے کام نہیں لینا چاہیئے کیونکہ ایسے جھوٹ پر عوام حکومت کا احتساب کرسکتے ہیں۔×لوگوں کو دھوکہ نہ دیں کہ پھر وہ دن بھی آئے گا جب لوگ ہمیں اُلٹا لٹکائیں گے اور وہ دن نزدیک آنے والا ہے‘۔ ×ججوں کی بحالی کا مسلہ تو حل نہیں کر سکتے اور باتیں انصاف کی کرتے ہیں‘۔×ہمیں اپنے آپ میں خوف خدا پیدا کرنا چاہیئے اور اپنے اعمال بہتر بنانا چاہیے۔یہ
ذوالفقار مگسی کی مکمل تقریر نہیں اس تقریر کے صرف اہم نکات ہیں جنہیں پڑھ
کر ایک لمحے کے لیئے یوں لگتا ہے کہ اس نام کے ذوالفقار کی سچ کی ذوالفقار
بالآخر نیام سے نکل ہی آئی اور نام کا یہ مگسی ایک بار ظالم پر جھپٹنے
والا عقاب نظر آیا۔(مگس فارسی میں مکھی کو کہتے ہیں اور شہد کی مکھی کے
ڈنگ سے کون واقف نہیں)

اس
ملک کے حکمرانوں کی آنکھیں اور ضمیر دونوں بند ہیں اور ان کو آنے والے
لمحوں کی چاپ سنائی نہیں دیتی۔ ان کو تاریخ کے وہ اسباق و واقعات بھی یاد
نہیں کہ جب غربت زدہ عوام ایک سیلاب کی صورت میں نکلتے ہیں تو پھر ان کے
سامنے ایوان صدر اور جی ایچ کیو کی بلند فصیلیں بھی ریت کی دیواریں ثابت
ہوتی ہیں۔
حالیہ تاریخ میں ایسے بھی ملکوں اور عوام سے لاتعلق
حکمرانوں کے واقعات موجود ہیں جنہیں ووٹ دیکر اقتدار میں لانے والے عوام
نے خود ہی سڑکوں اور چوراہوں پر لگی ہوئی پھانسیوں پر لٹکا دیا۔ اس کے
برعکس ایسے واقعات بھی تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں کہ حکمرانوں نے عوام
کی غربت و مصائب کا ادراک کر کے خود کو تاحیات اقتدار کا حامل بنا لیا۔
ذوالفقار
مگسی اب چاہے بلوچستان کے گورنر رہیں یا نہ رہیں لیکن انکی اس غیر معمولی
اور جرآت مندانہ تقریر کی بازگشت بہت دیر تک اس ملک کی مغموم اور موسوم
فضا میں موجود رہے گی۔

فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ
‘‘ جب راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہو تم بھی ہو‘‘اور خود میں نے اپنی ایک حالیہ نظم میں بھی ایسی ہی صورت حال کی نشاندہی کی تھی۔
‘‘شہر در شہر قطاروں میں کھڑے لوگوں نےدو کلو آٹے کی خاطر وہ اٹھائی ذلتدیکھ کر جس کو ہواؤں کا بھی دن گھُٹنے لگااور یہاں اونچے محلات میں ان حاکموں کے کتوں کوگھی میں گوندھی ہوئی روٹی کا ثمر ملتا تھاووٹ دے کے جو انہیں لائے تھے ایوانوں میںاُن کے شہروں میں نہ بجلی نہ میسر پانیاور یہاں رقص کی محفل تھی سجی حجروں میںبے حیائی تھی لکھی جیسے جلی حرفوں میںایک نحوست تھی اُگی ایسے کریہہ چہروں میںاور اک رات میں پھر جیسے یہ سب ڈوب گیارنگ لائی ہے غریبوں کی دہائی دیکھوتاج اور تخت کی لٹتی ہے کمائی دیکھواک عجب طرح سے بدلا ہے نظامِ ہستیجو بلندی ہی بلندی تھے ہوئے ہیں پستیاور اب آئے ہیں جو وہ بھی یہ باور کر لیںووٹ میں فاقہ زدہ شخص کے یہ طاقت ہےوہ اگر چاہے تو حاکم کو رعایا کر دےظلم کے ساتھ میں ظالم کا صفایا کر دےووٹ دے کر جو تمیں لائے ہیں ایوانوں میںیہ ہی ہیں منبعء طاقت انہیں تسلیم کرؤیہ ہی ہیں رازِ حکومت انہیں تسلیم کرؤیہ ہی ہیں معدنِ جرآت انہیں تسلیم کرؤآخری یہ ہیں عدالت انہیں تسلیم کرؤیاد رکھنا کہ انہیں اب ہے شعورِ ہستیسرکشوں کا وہ جو ہے سرغنہ باقی ہے ہنوزاسکو بھی اپنے مظالم کا چکانا ہے حساباسکو بھی دینا ہے ان بھوک کے مارے ہوئے بچوں کو جواباسکا بھی آئے گا اس دنیا میں ہی روزِ حسابیاد رکھو کہ کبھی اتنی سی مہلت بھی نہیں ملتی ہےاور پھر سانس کا ہر تار بکھر جاتا ہےیاد تو ہو گا کبھی ہم نے قلم سے اپنےیہ بھی لکھا تھا کہ سر جھکنے کو تیار نہیںاور اک رات میں جو قصہء پارینہ ہوئےوہ بھی یہ یاد کریں‘‘ہم نہ کہتے تھے کہ دستار میں سر ہوتا ہے‘‘