16.10.2026, 12:09am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

جب راج کرے گی خلق خدا !
14.10.2008, 04:06pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن


ضمیرِ انسانی ایک ایسی چیز ہے جو کبھی تو صرف ایک اڑتی ہوئی چڑیا کے ٹوٹے ہوئے پر،سڑک کے کنارے پڑی ہوئی لاوارث لاش،روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیئے ہاتھ پھیلائے معصوم بچے یا پھر انتہائی غربت کی چکی میں پستے ہوئے اپنے کسی ایک ہم وطن کو بھی دیکھ کر بیدار ہو جاتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اسی ضمیرِ انسانی پر سورہ اسرافیل بھی پھونک دی جائے تو یہ بیدار نہیں ہو پاتا۔

یہی ضمیر ہے جو دراصل انسان کو حق شناسی کے جوہر سے آگاہ کرتا ہے اور اسے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے ہونے کا بھی ادراک بخشتا ہے۔ یہی ضمیر ہے جو بیدار رہے تو فقیر شہنشاہ بن جائے اور یہی ضمیر مردہ ہو جائے یا پھر کم ازکم سو جائے تو شہنشاہ بھی فقیر سے بدتر ہو جائے۔ میں نے یہاں فقیر کا لفظ فلسفے یا فقر کے حامل فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایسے غربت زدہ فرد کے طور پر کیا ہے جس کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا،جس کے اردگرد مصاحبین اورتعریفیں کرنے والوں کے ایک ہجوم کے باوجود ایک بھی وہ دوست نہیں ہوتا جو اسے سچ کہے،سچ بتائے اور حقیقت حال سے آگاہ کرے۔

ایسی ہی صورت حال یوں تو عمومی طور پر پاکستان کی سیاست اور پاکستان کے حکمرانوں میں رہی ہے کہ جب وہ حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو انکی آنکھیں،کان اور ضمیر کسی حد تک بیدار ہوتا ہے چاہے نیم بیدار ہی سہی لیکن جونہی انہیں اقتدار ملتا ہے تو کلام لاریب قرآن حکیم کے الفاظ میں ان کے دل ‘‘مقفل‘‘ ہو جاتے ہیں،عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے،سماعت اور بصارت ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور یہ صرف وہ سنتے اور دیکھتے ہیں جو یہ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسے افراد،ایسے اداروں ایسی حکومتوں اور ایسے حاکموں کے دن بہت کم اور اقتدار بہت مختصر ہوا کرتے ہیں۔

ضمیر کی بیداری کی سزا بھی انسان کو ضرور بھگتناپڑتی ہے اور خاص طور ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں ہر کامیابی کا اولیں زینہ دھوکہ دہی،رشوت ستانی، اقربا پروری، عدل کُشی، عوام کے حقوق سے روگردانی اور صرف اپنے اور اپنی خواہشات کے لیئے زندہ رہنا ہے۔

ضمیر کی بیداری کے حوالے سے اس قدرے طویل تمہید کی وجہ پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے اور سب سے پس ماندہ اور غربت زدہ صوبے بلوچستان کے موجودہ نسبتاََ نوجوان گورنر ذوالفقار مگسی کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے پندرہ مئی دو ہزار آٹھ جمعرات کے روز کوئٹہ میں صوبائی محتسب کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر کی۔

میرے اپنے خیال میں یہی وہ منزل ہے جب قادر مطلق کسی کی آنکھ کھول دے اور کسی کے ضمیر کو بیدار کر دے اور اسے وہ سب کچھ نظر آنے لگے جو دراصل سامنے ہے وہ نہیں جسے وہ خود دیکھنا چاہتا ہے۔

کوئٹہ سے میرے ایک دوست نے جو اس تقریب میں موجود تھے بتایا کہ ذوالفقار مگسی دراصل اس موقع پر تقریر نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن وہاں منتظمین اور میزبانوں کے اصرار پر جب وہ تقریر کے لیئے ڈائس پر آئے تو انکے‘‘اے ڈی سی‘‘ نے پہلے سے تیار شدہ تقریر انکی طرف بڑھائی جسے انہوں نے وہیں میز پر رکھ دیا اور پھر رٹے رٹے فقروں کی بجائے انہوں نے وہ کچھ کہنا شروع کیا جسے سن کر اس پنڈال میں موجود لوگ کچھ دیر کے لیئے تالیاں بجانا بھول گئے۔

ذوالفقار مگسی کی اس ‘‘چشم کُشا‘‘ تقریر کے کچھ فقرے کسی تبصرے کے بغیر۔

×غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے سرگرداں ہیں اور ملک پر فوج،بیوروکریسی ،وڈیرے اور نواب حکمران ہیں
× تقریب میں موجود باوردی فوجیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘یہ بتائیں کہ اس ملک کے مالک فوجی ،بیوروکریسی اور نواب یا وڈیرے ہیں یا پھر غریب عوام‘‘؟
 ×حکومت کو عوام سے دروغ گوئی سے کام نہیں لینا چاہیئے کیونکہ ایسے جھوٹ پر عوام حکومت کا احتساب کرسکتے ہیں۔
×لوگوں کو دھوکہ نہ دیں کہ پھر وہ دن بھی آئے گا جب لوگ ہمیں اُلٹا لٹکائیں گے اور وہ دن نزدیک آنے والا ہے‘۔
×ججوں کی بحالی کا مسلہ تو حل نہیں کر سکتے اور باتیں انصاف کی کرتے ہیں‘۔
×ہمیں اپنے آپ میں خوف خدا پیدا کرنا چاہیئے اور اپنے اعمال بہتر بنانا چاہیے۔

یہ ذوالفقار مگسی کی مکمل تقریر نہیں اس تقریر کے صرف اہم نکات ہیں جنہیں پڑھ کر ایک لمحے کے لیئے یوں لگتا ہے کہ اس نام کے ذوالفقار کی سچ کی ذوالفقار بالآخر نیام سے نکل ہی آئی اور نام کا یہ مگسی ایک بار ظالم پر جھپٹنے والا عقاب نظر آیا۔(مگس فارسی میں مکھی کو کہتے ہیں اور شہد کی مکھی کے ڈنگ سے کون واقف نہیں)

اس ملک کے حکمرانوں کی آنکھیں اور ضمیر دونوں بند ہیں اور ان کو آنے والے لمحوں کی چاپ سنائی نہیں دیتی۔ ان کو تاریخ کے وہ اسباق و واقعات بھی یاد نہیں کہ جب غربت زدہ عوام ایک سیلاب کی صورت میں نکلتے ہیں تو پھر ان کے سامنے ایوان صدر اور جی ایچ کیو کی بلند فصیلیں بھی ریت کی دیواریں ثابت ہوتی ہیں۔

حالیہ تاریخ میں ایسے بھی ملکوں اور عوام سے لاتعلق حکمرانوں کے واقعات موجود ہیں جنہیں ووٹ دیکر اقتدار میں لانے والے عوام نے خود ہی سڑکوں اور چوراہوں پر لگی ہوئی پھانسیوں پر لٹکا دیا۔ اس کے برعکس ایسے واقعات بھی تاریخ کے صفحات میں موجود ہیں کہ حکمرانوں نے عوام کی غربت و مصائب کا ادراک کر کے خود کو تاحیات اقتدار کا حامل بنا لیا۔

ذوالفقار مگسی اب چاہے بلوچستان کے گورنر رہیں یا نہ رہیں لیکن انکی اس غیر معمولی اور جرآت مندانہ تقریر کی بازگشت بہت دیر تک اس ملک کی مغموم اور موسوم فضا میں موجود رہے گی۔

فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ ‘‘ جب راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہو تم بھی ہو‘‘

اور خود میں نے اپنی ایک حالیہ نظم میں بھی ایسی ہی صورت حال کی نشاندہی کی تھی۔

‘‘شہر در شہر قطاروں میں کھڑے لوگوں نے
دو کلو آٹے کی خاطر وہ اٹھائی ذلت
دیکھ کر جس کو ہواؤں کا بھی دن گھُٹنے لگا
اور یہاں اونچے محلات میں ان حاکموں کے کتوں کو
گھی میں گوندھی ہوئی روٹی کا ثمر ملتا تھا
ووٹ دے کے جو انہیں لائے تھے ایوانوں میں
اُن کے شہروں میں نہ بجلی نہ میسر پانی
اور یہاں رقص کی محفل تھی سجی حجروں میں
بے حیائی تھی لکھی جیسے جلی حرفوں میں
ایک نحوست تھی اُگی ایسے کریہہ چہروں میں
اور اک رات میں پھر جیسے یہ سب ڈوب گیا
رنگ لائی ہے غریبوں کی دہائی دیکھو
تاج اور تخت کی لٹتی ہے کمائی دیکھو
اک عجب طرح سے بدلا ہے نظامِ ہستی
جو بلندی ہی بلندی تھے ہوئے ہیں پستی
اور اب آئے ہیں جو وہ بھی یہ باور کر لیں
ووٹ میں فاقہ زدہ شخص کے یہ طاقت ہے
وہ اگر چاہے تو حاکم کو رعایا کر دے
ظلم کے ساتھ میں ظالم کا صفایا کر دے
ووٹ دے کر جو تمیں لائے ہیں ایوانوں میں
یہ ہی ہیں منبعء طاقت انہیں تسلیم کرؤ
یہ ہی ہیں رازِ حکومت انہیں تسلیم کرؤ
یہ ہی ہیں معدنِ جرآت انہیں تسلیم کرؤ
آخری یہ ہیں عدالت انہیں تسلیم کرؤ
یاد رکھنا کہ انہیں اب ہے شعورِ ہستی
سرکشوں کا وہ جو ہے سرغنہ باقی ہے ہنوز
اسکو بھی اپنے مظالم کا چکانا ہے حساب
اسکو بھی دینا ہے ان بھوک کے مارے ہوئے بچوں کو جواب
اسکا بھی آئے گا اس دنیا میں ہی روزِ حساب
یاد رکھو کہ کبھی اتنی سی مہلت بھی نہیں ملتی ہے
اور پھر سانس کا ہر تار بکھر جاتا ہے
یاد تو ہو گا کبھی ہم نے قلم سے اپنے
یہ بھی لکھا تھا کہ سر جھکنے کو تیار نہیں
اور اک رات میں جو قصہء پارینہ ہوئے
وہ بھی یہ یاد کریں
‘‘ہم نہ کہتے تھے کہ دستار میں سر ہوتا ہے‘‘

:دیگر مضامین
(14.10.2008) رداری،امریکہ اور مشرف مفادات کے نگہبان؟
(14.10.2008) سید قمر عباس کی پہلی برسی
(14.10.2008) ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
(14.10.2008) الف سے آٹا،ف سے فاٹا،ج سے جوتا ج سے جمہوریت
(14.10.2008) کابینہ کے مجرم یا مجرموں کی کابینہ
(14.10.2008) عبیدہ سید۔ہمہ جہت قلمکاراورمنفردشخصیت
(14.10.2008) اب ٹوٹ جائیں گی زنجیریں اب ایوانوں کی خیر نہیں!
(14.10.2008) غیر ملکی لکھاریوں کا نام نہاد پاکستانی پبلشرز کے ہاتھوں استحصال
(14.10.2008) الفاظ کی طلب نہیں تصویر کو ذرا
(14.10.2008) بے راہ اور بے عمل قوم اپنی موت خود ہوتی ہے
(14.10.2008) سید حسن عباس ایک یادجو برسوں ذہن میں تازہ رہے گی
(14.10.2008) کشمیر سنگھ رہا لیکن جسٹس افتخار چوہدری؟
(14.10.2008) جنرل ریٹائرڈ مشرف۔خطرے کی گھنٹی بج گئی
(14.10.2008) ‘‘اب یہ بہتر ہے کہ سرکار بھی تیاری کریں‘‘
(14.10.2008) ‘‘ہم نہ کہتے تھے کہ دستار میں سر ہوتا ہے‘‘
(14.10.2008) انتخابات کا ایک مرحلہ ختم اوردوسرا شروع
(14.10.2008) حکمران آخر کب سچ بولیں گے؟
(14.10.2008) ‘‘اک کربلا سے مولا ہم بھی گزر رہے ہیں‘‘
(14.10.2008) یپلز پارٹی،عوامی یا خاندانی جماعت
(14.10.2008) باپ قتل،بھائی قتل اور خود بھی قتل



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں