اصحاب امام حسینؑ علیہ السلام (حصۂ دوم)
(حسینی دائرۃ المعارف کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ہاشمی مددگاروں پر ایک دقیق نظر)
تبصرہ و تجزیہ: حجت الاسلام و المسلمین میرزا محمد جواد (شبیر)
ہر نبی اور رسول کے چاہنے والے اور پیروکار ہوتے ہیں کہ جنھیں اصحاب یا حواریون کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ افراد کہ جنھیں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رفاقت و مصاحبت حاصل ہوئی انھیں اصحاب کہتے ہیں ۔
لفظ صحابی مصدر صحبۃ سے مشتق ہے، قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اللہ تبارک و تعالی نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے، مثلا ایک مقام پر ذات احدیت نے فرمایا: لا یستوی اصحاب النار و اصحاب الجنۃ اصحاب الجنۃ ھم الفائزون (سورۂ حشر آیت ۲۰) یعنی اصحاب جنت اور اصحاب نار (جہنمی اصحاب) برابر نہیں ہو سکتے، اور اصحاب جنت کامیاب ہیں۔
مذکورہ تعریف اور آیہ مبارکہ کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی پیغمبر کے ساتھ مصاحبت اختیار کرنے والا شخص، محض مصاحبت کی وجہ سے مقدس نہیں ہو سکتا، بلکہ اصحاب اپنے عمل کی بنا پر جنتی یا جہنمی ہوتے ہیں، لہذا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے مرحلہ میں صحابیت کے معیار کو سمجھے اور پھر ان معیارات پر اصحاب پیغمبر کو پرکھے، تاکہ اس عمل کے ذریعہ و ہ خطاکار صحابی سے دوری اختیار کرکے اصحاب الجنۃ کی پیروی کر سکے۔
مسلمانوں کے درمیان صحابی کے لئے مخلتف تعریفیں رائج ہیں لیکن حقیقت میں صحابی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو رسول اسلام کی حیات میں آپ کی زیارت کرے ، آپ پر ایمان لائے اور آپ کی پیروی کرے ، اور اس ایمان اور پیروی پر ساری زندگی قائم رہے ، لہذا وہ صحابی کہ جس نے رسول اسلام کی زندگی میں ان کی اطاعت کی ہو لیکن آںحضرت کی وفات کے بعد وہ ان کی پیروی سے پھر جائے تو ایسا شخص صحابیت کے مقدس مقام کو کھو دیتا ہے اور رضایت محمدی اور رضایت رب بھی اس سے سلب ہو جاتی ہے ۔
آنحضرت کی زندگی کے بعد تاریخ اسلام میں اصحاب کے درمیان شدید اختلافات وجود میں آئے یہاں تک کہ ان کے درمیان جمل، صفین و نہروان جیسی جنگیں وجود میں آئیں، جن میں صحابہ نے ایک دوسرے کو بڑی بے رحمی کے ساتھ قتل کیا، اور سالہا سال ان میں سے ایک فریق نے دوسرے فریق پر سب و شتم کیا۔
جب اصحاب کے درمیان ظالم و مظلوم، قاتل و مقتول، غاصب و مغصوب عنہ دونوں موجود ہوں تو ان میں سے ہر ایک کو برابر درجہ اور مقام دینا عدالت کے منافی قرار پائے گا، لہذا ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ تحقیق و بررسی کے بعد اس صحابی کی پیروی کرے جس کا قول،فعل اور سیرت آنحضرت کے فرمودات کے مطابق ہو تاکہ اس ذریعہ سے اسکی دینی راہ کا تعین ہو اور وہ حق وحقیقت تک رسائی حاصل کر سکے۔
بیشک پیغمبر اسلام کے اصحاب میں سے کچھ ایسے بھی تھے کہ جنھوں نے دین اسلام کی بقا ء کے لئے اپنی جان و مال سے آنحضرت کی نصرت کی، لیکن تاریخ اسلام میں اصحاب امام حسین علیہ االسلام کی قربانیاں بے نظیر ہیں یہی وجہ ہے کہ امام عالی مقام نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا: فانی لا اعلم اصحابا اوفی و لا خیرا من اصحابی، و لا اھل بیت ابر و لا اوصل من اھل بیتی، فجزاکم اللہ عنی جمیعا خیرا، میں نے اپنے اصحاب اور ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور بہتر اصحاب نہیں دیکھے، اور نہ ہی اپنے اہلبیت سے زیادہ نیک و صالح اور ہمدل کوئی اہلبیت پائے ہیں، اللہ تعالی آپ سب کو میری طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔
اصحاب امام حسین علیہ السلام کی عظمت کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ دیگر ائمہ کے اصحاب پر برتری رکھتے ہیں چونکہ واقعہ کربلا سے پہلے رونما ہونے والی تمام جنگوں میں صحابہ کرام نے فتح یابی کی امید میں جنگ کی لیکن کربلائی شہداء نے شہادت کے یقین کے ساتھ امام حسین علیہ السلام پر اس وقت اپنی جانوں کو قربان کردیا جبکہ امام عالی مقام نے انھٰیں ترک جنگ کی پوری اجازت دے رکھی تھی۔
یہی وجہ ہے جو مقام ان فداکار اور جانثار اصحاب کو ملا وہ رتبہ کسی اور معصوم کے صحابی کو حاصل نہ ہو سکا، لہذا ایسے اصحاب کی زندگی تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل ہے، اسی اہمیت کے پیش نظر دائرۃ المعارف کے مصنف آیت اللہ محمد صادق کرباسی نے امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالنے کی غرض سے اس دائرۃ المعارف کی ۶ جلدوں کو معجم انصار حسینؑ (ہاشمی و غیر ہاشمی، مرد و عورت) سے مختص فرمایا ہے ، جس میں مصنف نے الفباء کی ترتیب کے تحت انصار امام حسین کا تذکرہ کیا ہے، ہم اس مقام پر معجم انصار حسینؑ (ہاشمی انصار) کی جلد دوم ( جو ۶۱۴ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۲۰۰۸ عیسوی میں زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکی ہے) میں موجودہ مطالب پر اجمالی روشنی ڈالتے ہیں۔
بشر بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
آپ تقریبا سنہ ۴۹ ہجری کو متولد ہوئے، صرف شہر ابن آشوب ( )نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے، لہذا تاریخ میں آپ کے متعلق زیادہ مطالب درج نہیں ہیں۔
جعفر الاصغر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
آپ محرم الحرام سنہ ۴۱ھ میں بعد از شہادت امام علی علیہ السلام متولد ہوئے، یعنی مولا علی کی شہادت کے وقت آپ کی مادر گرامی آپ سے حاملہ تھیں، چونکہ ام البنین کے فرزند کا نام جعفر اکبر تھا لہذا آپ کو جعفر الاصغر کے نام سے موسوم کیا گیا، ابن فندق ( ) نے شمر ذی الجوشن الضبانی کو آپ کا قاتل قرار دیا ہے۔
جعفر الاکبر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عقیل نے اپنے تین فرزندوں کو جعفر کے نام سے موسوم فرمایا تھا، جنھیں جعفر اکبر جعفر اوسط اور جعفر اصغر سے جانا جاتا ہے، جعفر اکبر سنہ ۳۷ ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام ام البنین الخوضا الثغریہ تھا جو کربلا میں حاضر ہوئیں اور اپنے فرزند کی شہادت کو خیمہ کے در پر کھڑے ہو کر دیکھا، جس وقت آپ نے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی اجازت لی اور میدان جنگ میں وارد ہوئے تو آپ نے یہ رجز پڑھا: انا الغلام الابطحی الطالبی، من معشر فی ھاشم و غالب، و نحن حقا سادۃ الذوائب، ھذا حسین اطیب الاطائب، من عترۃ البر التقی الغالب، میں ابطحی و طالبی جوان ہوں، ہاشم و غالب کی نسل سے ہوں، ہم ہی ہیں جو حقیقی معنی میں بہادر و سردار ہیں، یہ حسین ہیں جو پاک ہستیوں کی پاکیزہ ترین فرد ہیں، یہ نیک و صالح اور بلند پایہ عترت میں سے ہیں، اس رجز کے بعد آپ نے جنگ شروع کی اور پندرہ دشمنوں کو واصل جہنم کیا، بشر بن حوط ہمدانی نے آپ کو شہید کیا، امام عسکریؑ نے زیارت ناحیہ میں آپ پر اس طرح سلام بھیجتے ہیں: السلام علی جعفر بن عقیل لعن اللہ قاتلہ و رامیہ بشر بن حوط الھمدانی،سلام ہو جعفر بن عقیل پر ، اللہ لعنت کرے ان کے قاتل اور ان پر تیر چلانے والے بشر بن حوط ہمدانی پر۔
جعفر الاکبر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جعفر الاکبر سنہ ۳۱ھ کو متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی ام البنین فاطمہ کلابیہ تھیں، آپ ام البنین کے دوسرے فرزند تھے، روز عاشورا میدان جنگ میں وارد ہو کر آپ نے یہ رجز پڑھا: انی انا جعفر ذو المعالی، ابن علی الخیر ذی النوال، ذاک الوصی ذو الثناء الوالی، حسبی بعمی شرفا و خالی، احمی حسینا ذالندی المفضال، و بالحسام الواضح الصقال، میں جعفر ہوں جو اعلی صفات والا ہے، میں اس علی کا فرزند ہوں جو مجسمۂ خیر اور برکتوں والے تھے، وہ شائستۂ ثناء وصی و ولی تھے، میری عزت و شرف کے لئے میرے چچا اور میرے ماموں ہی مجھے کافی ہیں، میں حسین کا سپاہی ہوں کہ جو عظمتوں اور فضیلتوں والے ہیں، میں اس تیز دھار چمکتی تلوار کے ساتھ ان کا دفاع کرنے چلا ہوں۔
اس رجز کے بعد ایک معرکہ آراء جنگ واقع ہوئی، اور آخر میں ہانی بن ثبیت الحضرمی نے آپ کو شہید کیا، امام زمانہ زیات ناحیہ میں آپ پر یوں سلام بھیجتے ہیں: السلام علی جعفر ابن امیر المومنین، الصابر بنفسہ محتسبا، والنائی عن الاوطان مغتربا، المستسلم للقتال، المستقدم، للنزال، المکثور بالرجال، لعن اللہ ھانی بن ثبیت الحضرمی، سلام ہو جعفر بن امیر المومنین پر کہ جنھوں نے ہر مصیبت و تکلیف میں اپنے صابر ہونے کا ثبوت دیا، اور وطن سے دور غربت و پردیس کی سختیوں کو تحمل کیا، جو میدان جنگ میں قوت قلب کے ساتھ اترے، جو نیزوں کو سینے سے لگانے والے تھے، جو بہادروں سے کچھے بھرے میدان میں اترے تھے، لعنت ہو (آپ کے قاتل) ہانی بن ثبیت حضرمی پر۔
جعفر بن محمد بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جعفر بن محمد سنہ ۳۹ھ کو متولد ہوئے، آپ کربلا میں اپنے والد محمد بن عقیل اور اپنی والدہ زینب الصغری کے ہمراہ تھے، آپ کی شہادت کے متعلق مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے بعض (جن میں ابن شہر آشوب، مجلسی، خوارزمی، دربندی شامل ہیں) نے آپ کو شہدائے کربلا میں اور بعض دیگر نےشہدائے حرہ میں شامل کیا ہے۔
جعفر بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
آپ کی تقریبا سنہ ۳۵ ھ کو ولادت ہوئی، طریحی، دربندی جیسے مؤرخین نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے، دربندی نے نقل کیا ہے کہ روز عاشورا جس وقت آپ نے مبارز طلب کیا اور کوئی بھی مبارزہ پر آمادہ نظر نہ آیا تو آپ نے لشکر پر حملہ کیا اور ان میں سے کئی افراد کو ہلاک فرمایا جس کے بعد آپ نے عروہ بن عبد اللہ الجعفی کے تیر سے شہادت پائی۔
حسن مثنی بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
حسن مثنی سنہ ۳۹ھ میں متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام خولہ بنت منظور تھا، حسن مثنی کربلا میں اپنے چچا کے ساتھ تشریف لائے تھے، امام حسین علیہ السلام نے اپنی بیٹی فاطمہ صغری سے آپ کا عقد فرمایا، مؤرخین لکھتے ہیں کہ کربلا میں آپ نے انیس ۱۹ دشمنوں کو واصل جہنم کیا، اس جنگ میں آپ کے بدن پر ۱۸ ضربتیں وارد ہوئیں جن کی وجہ سے آپ غش کھاکر زمین پر گر گئے، جب سب شہدا کے سر جدا کئے جا رہے تھے تو لوگوں نے آپ کے بدن میں رمق حیات پائی، لشکر دشمن سے اسماء بن خارجہ فزاری نے آپ کی شفاعت کی اور اس طرح حسن مثنی کربلا میں شہید نہیں ہوئے، ولید بن عبد الملک نے آپ کو زہر دیا جس کے نتیجہ میں آپ سنہ ۹۲ھ ہجری کو اس دار فانی سے وداع کر گئے۔
حکم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
حکم بن عقیل کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات درج نہیں ہیں، ربعی نے اپنی کتاب تاریخ مولد العلماء و وفیاتھم میں آپ کا نام شہدائے کربلا میں ذکر کیا ہے۔
حمزہ بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابن فندق اور عمری نے اپنی کتب میں آپ کو فرزندان امام حسن علیہ السلام میں شامل کیا ہے، جبکہ کتاب مناقب ابن شہر آشوب میں آپ کا شمار کربلا میں شہید ہونے والے فرزندان امام حسین علیہ السلام میں کیا گیا ہے، آپ کی کیفیت شہادت کے متعلق بھی مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا شمار ان بچوں میں ہو جو گھوڑوں کی ٹاپوں میں آکر یا دم گھٹ کر شہید ہوگئے۔
حمزہ بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
مؤرخ عمری نے آ پ کا تذ کرہ شہدائے کربلا کے ذیل میں کیا ہے، آپ کے متعلق تاریخ میں زیادہ معلومات درج نہیں ہیں۔
خالد بن جعفر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
کتاب غصن الرسول میں آپ کو شہدائے آل عقیل کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
خالد بن سعید بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
چونکہ آپ سنہ ۵۶ ہجرت کے بعد متولد ہوئے، لہذا آپ کا شمار ان اطفال میں ہوتا ہے کہ جو کربلا میں کسی حادثہ کا شکار ہو کر شہید ہوگئے تھے۔
زید بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب زید سنہ ۲۰ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے اور سنہ ۱۲۰ھ میں بمقام بطحاء آپ کی وفات ہوئی، آپ کربلا کی جنگ میں شریک تھے جس کے بعد آپ کو اسیر بنایا گیا، امام سجاد علیہ السلام کی سفارش پر تمام اسرائے کربلا کے ساتھ جناب زید کو بھی آزاد کیا گیا۔
زید بن حسین بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابن شہر آشوب نے علی اکبر، ابراہیم، عبد اللہ، محمد، حمزہ، علی اصغر، جعفر، عمر، زید کو ان فرزندان امام حسین علیہ السلام میں شامل کیا ہے جو کربلا میں شہید ہوئے، گرچہ ان اسماء اور ان کی تعداد میں اختلاف پایا جاتاہے۔
سعد بن عبد الرحمان بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
سعد بن عبد الرحمان تقریبا سنہ ۵۴ ھ کو متولد ہوئے، آپ کے والد عبد الرحمان الاکبر اور والدہ خدیجہ بنت علی علیہ السلام تھیں، آپ کے والد کربلا میں شہید ہوئے، شیخ حسن شویکی کی کتاب مقتل الحسین میں وارد ہوا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد جس وقت لشکر دشمن نے خیام پر حملہ کیا تو شدت عطش اور خوف و ہراس سے سعد اور ان کے بھائی عقیل شہید ہو گئے۔
سعید بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
دربندی نے کتاب اسرار لشھادۃ میں نقل کیا ہے کہ روز عاشورا جعفر بن مسلم بن عقیل کے بعد سعید بن عقیل میدان جنگ میں وارد ہوئے، اور ستر دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارا یہاں تک کہ ایک تیر آپ کے گلے پر پیوست ہوا جس کے نتیجہ میں آپ کی شہادت واقع ہوئی، شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۰ سال سے زیادہ تھی۔
عباس الاصغر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عباس الاصغر سنہ ۴۰ھ کو متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام ورقاء تھا، کتاب تاریخ خلیفہ، لباب اور ناسخ التواریخ میں عباس الاصغر کا تذکرہ شہدائے کربلا کے ذیل میں کیا گیا ہے، ناسخ التواریخ کی روایت کے مطابق آپ کی شہادت اس وقت ہوئی کہ جب شب عاشور امام حسین علیہ السلام کی طرف سے پانی لانے کے لئے نہر فرات پر حملہ ہوا تھا۔
عباس الاکبر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عباس کی ولاد ت کے متعلق مؤرخین کے درمیان مخلتف اقوال پائے جاتے ہیں بعض نے آپ کی ولادت کو سنہ ۱۸ ھ اور بعض دیگر نے سنہ ۲۶ھ کو ذکر کیا ہے، چونکہ ام البنین فاطمہ بنت حرام ( ) کا نکاح امام علی سے سنہ ۱۱ھ میں ہوا تھا، لہذا سنہ ۱۸ھ میں آپ کی ولادت کا احتمال قوی تر معلوم ہوتا ہے، آپ کے القاب قمر بنی ہاشم، سقا اور کنیت ابو الفضل، ابو القاسم، ابو قربۃ تھی، جابر ابن عبد اللہ انصاری نے زیارت کے وقت آپ کو یوں مخاطب فرمایا: السلام علیک یا ابا القاسم، السلام علیک یا عباس ابن علی، آپ نے امیر المومنین کے ساتھ جنگ صفین میں شرکت کی تھی جہاں آپ نے ابن شعثاء جو دس ہزار شجاعوں پر بھاری تھا کو اس کے سات فرزندوں کے بعد موت کے گھاٹ اتارا۔
حضرت عباس نے لبابہ بنت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب سے عقد فرمایا جن سے اللہ نے آپ کو دو فرزند فضل اور عبید اللہ عطا فرمائے، واقعہ کربلا کے وقت فضل کمسن تھے لہذا وہ اپنی مادر کے ساتھ مدینہ ہی میں مقیم رہے اور کمسنی میں رحلت فرماگئے، لیکن عبید اللہ (جو کہ فقیہ و عالم تھے ) نے ۵۵ سال عمر کی۔
جناب عباس کے حسن، قاسم، محمد نامی اور تین فرزند تھے جن کی مائیں تین مختلف کنیزیں تھیں، جن میں سے قاسم اور محمد کربلا میں شہید ہوئے تھے، بعض مؤرخین نے عبد اللہ کو بھی آپ کے فرزندوں میں شامل کیا ہے، جو کہ کمسن تھے اور کربلا میں اسیر کئے گئے تھے۔
جناب عباس کی عظمت کو ائمہ علیہم السلام کے اقوال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے، امام سجاد نے آپ کے بارے میں فرمایا: رحم اللہ عمی العباس فلقد آثر و ابلی وفدی اخاہ بنفسہ حتی قطعت یداہ، فابدلہ اللہ عز و جل بھما جناحین یطیر بھما مع الملائکۃ فی الجنۃ، کما جعل لجعفر بن ابی طالب، و ان للعباس عند اللہ تبارک و تعالی منزلۃ یغبطہ بھا جمیع الشھداء یوم القیامۃ، اللہ رحمت فرمائے میرے چچا عباس پر ، کہ جنھوں نے اپنے بھائی پر اپنی جان قربان کی، ایثار و فداکاری اور نہایت سختیاں برداشت کرتے ہوئے میدان میں بہادری کے جوہر دکھائے، یہاں تک کہ ان کے دونوں ہاتھ قطع ہو گئے، جن کے بدلے اللہ تعالی نے انھیں بہشت میں دو پر عطا کئے ہیں، جن سے وہ فرشتوں کے ساتھ بہشت میں پرواز کرتے ہیں، یہ اسی طرح سے ہے جیسے اللہ تعالی نے جعفر بن ابوطالب کو دو پر عطا کئے تھے، بیشک اللہ تعالی کے نزدیک عباس کا بہت بلند مقام ہےکہ قیامت کے دن تمام شہداء ان پر رشک کریں گے۔
کربلا میں جناب عباس جنگ کے لئے سب سے آخر میں تشریف لے گئے تھے ( ) چونکہ جب کبھی آپ امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی اجازت مانگتے تو امام فرماتے کہ آپ میرے لشکر کے علمدار ہیں، اگر آپ شہید ہوگئے تو لشکر متفرق ہو جائے گا، اور جب آخری وقت اجازت دی تو پانی مہیا کرنے کا حکم فرمایا۔
عبد الرحمان الاکبر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد الرحمان الاکبر تقریبا سنہ ۳۷ھ کو متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام خلیلہ تھا، ابن شہر آشوب نقل کرتے ہیں کہ عبد الرحمان اپنے بھائی جعفر بن عقیل کے بعد میدان جنگ میں وارد ہوئے اور مبارز طلب کرتے ہوئے آپ نے یہ رجز پڑھا:
ابی عقیل فاعرفوا مکانی، من ھاشم و ھاشم اخوانی، کھول صدق سادۃ الاقران، ھذا حسین شامخ البنیان، و سید الشیب مع الشبان، میرا مقام جان لو کہ میرے بابا عقیل ہیں کہ جو ہاشمی ہیں اور میرے بھائی ہاشمی خاندان سے ہیں، وہ پیکر صداقت اور ہمتاؤں کے سردار ہیں، یہ حسین ہیں جو بلند و عالی مرتبت ہیں، پیری میں جوانوں کے سردار ہیں۔
اس رجز کے بعد آپ نے ۱۷ دشمنوں کو واصل جہنم کیا اور آخر میں جام شہادت کو نوش فرمایا، امام عسکریؑ نے زیارت ناحیہ میں آپ پر اس طرح سلام بھیجا: السلام علی عبد الرحمان بن عقیل، لعن اللہ قاتلہ و رامیہ عمر بن خالد بن اسد الجھنی، سلام ہو عبد الرحمان بن عقیل پر ، اللہ کی لعنت ہو ان کے قاتل اور ان پر تیر چلانے والے عمر بن خالد بن اسد جہنی پر۔
عبد الرحمان بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب مسلم بن عقیل کے چودہ فرزند اور دو بیٹیاں تھیں جن کے اسامی یہ ہیں:
۱۔ ابراہیم شہید کوفہ ۔۲۔احمد شہید کربلا ۔۳۔جعفر شہید کربلا ۔۵۔عبد الرحمان۔۶۔عبد العزیز۔۷۔عبد اللہ شہید کربلا ۔۸۔عبید اللہ شہید کربلا۔۹۔علی۔۱۰۔ عو ن شہید کربلا۔۱۱۔محمد الاصغر شہید کوفہ ۔۱۲۔محمد الاکبر شہید کربلا ۔۱۴۔مسلم۔۱۵۔حمیدہ آپ کربلا میں حاضر ہوئیں۔۱۶۔عاتکہ۔
جناب عبد الرحمان کی شخصیت کے متعلق تاریخ میں اختلاف ہے لہذا احتمال ہے کہ آپ شہدائے کربلا میں شامل ہوں۔
عبد اللہ بن مغیرہ بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشمی:
ابن حجر عسقلانی، ابن عساکر اور ابن سعد نے طبقات میں آپ کا ذکر شہدائے کربلا میں کیا ہے، عبد اللہ بن مغیرہ کربلا کے وہ واحد ہاشمی ہیں کہ جو ابوطالب کی اولاد سے نہیں تھے، آپ تقریبا سنہ ۸ قبل از ہجرت کو مکہ میں متولد ہوئے، فتح مکہ کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کی، رسول اسلام کی وفات کے بعد امام علی علیہ السلام کے ہمراہ کوفہ تشریف لے گئے اور جنگ جمل، صفین اور نہروان میں شرکت کی، بعد از شہادت امیر المومنین مدینہ مراجعت کی اور امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ کربلا میں شہادت پائی۔
عبد اللہ الاصغر بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد اللہ الاصغر سنہ ۴۹ھ کو متولد ہوئے،آپ کی مادر گرامی کا نام زینب بنت سبیع تھا، تاریخی منابع سے معلوم ہوتا ہے کہ کربلا میں آپ سب سے آخر ی شہید تھے۔
عبد اللہ الاصغر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد اللہ الاصغر تقریبا سنہ ۲۷ھ کو متولد ہوئے، آپ اپنے بڑے بھائی عبد اللہ الاکبر سے پہلے شہید ہوئے۔
عبد اللہ الاصغر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد اللہ الاصغر سنہ ۳۷ ھ کو متولد ہوئے، آپ کی والدہ کا نام لیلہ نہشلیہ تھا جن سے حضرت علی علیہ السلام نے سنہ ۳۶ھ میں عقد فرمایا تھا، عبد اللہ الاصغر اپنے حقیقی بھائی ابوبکر کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے۔
عبد اللہ الاکبر بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد اللہ الاکبر سنہ ۲۵ھ کو متولد ہوئے، روز عاشورا ہانی بن ثبیت الحضرمی نے آپ کو شہید کیا۔
عبد اللہ الاکبر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد اللہ الاکبر تقریبا سنہ ۲۰ھ کو متولد ہوئے، آپ نے میمونہ بنت علی ابن ابیطالب سے عقد فرمایا جن سے اللہ تعالی نے آپ کو علی،عبد الرحمان، عقیل اور محمد جیسے فرزند عطا فرمائے، روز عاشورا آپ اپنے بھائی عبد اللہ الاصغر کے بعد میدان کارزار میں تشریف لائے اور یہ رجز پڑھا:
خلوا عن المصحر دون الغیل، خلوا عن الواضح من عقیل، یمنع عن صریخۃ الرسول، بسیفہ المھند المصقول، شیر بہادر کے سامنے سے ہٹ جاوؐ اور دھوکے میں مت رہو ، عقیل کے شیر سے مقابلہ نہ کرو ، وہ رسول کے لخت جگر کے دفاع میں اپنی تیز دھار چمکتی تلوار کے ساتھ میدان میں آیا ہے۔
اس رجز کے بعد آپ نے جنگ شروع کی اور بہتیروں کو قتل کرنے بعد درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ۔
عبد اللہ الاکبر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عبد اللہ الاکبر ام البنین کے چار فرزندوں (یعنی عباس،جعفر،عبد اللہ الاکبر، عثمان الاکبر) میں سے تیسرے فرزند تھے جو سنہ ۳۵ھ میں متولد ہوئے، آپ جناب عباس سے پہلے میدان کارزار میں تشریف لے گئے اور ایک عظیم جنگ کے بعد شربت شہادت کو نوش فرمایا، آپ پر امام عسکریؑ نے زیارت ناحیہ میں یوں سلام بھیجا ہے: السلام علی عبد اللہ ابن امیر المومنین مبلی البلاء والمنادی بالولاء فی عرصۃ کربلاء، المضروب مقبلا و مدبرا، لعن اللہ قاتلہ ھانی بن ثبیت الحضرمی، سلام ہو عبد اللہ بن امیر المومنین پر جو سخت ترین امتحان سے گزرے، اور جنھوں نے میدان کربلا میں صدائے ولایت بلند کی، انھیں سامنے اور پشت دونوں جانب سے تیروں کا نشانہ بنایا گیا، ان کے قاتل ہانی بن ثبیت حضرمی پر اللہ کی لعنت ہو۔
عبد اللہ الاوسط بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
بعض مؤرخین نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا اور بعض دیگر نے اسیران کربلا کے ذیل میں کیا ہے۔
عبد اللہ بن حسین بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
شہدائے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے دو نومولود فرزندوں کا تذکرہ ملتا ہے جن میں سے ایک کا نام عبد اللہ رضیع اور دوسرے کا نام علی اصغر تھا ، حسینی دائرۃ المعارف کے مصنف آیت اللہ محمد صادق کرباسی نے اس مقام پر سب سے پہلے مختلف مقاتل کی ان روایات کہ جن میں عبد اللہ رضیع اور علی اصغر کا تذکرہ ملتا ہے کو ذکر کیا ہے جن میں تسمیۃ من قتل مع الحسین(مصنف فضیل اسدی)، الحدائق الوردیۃ(مصنف البراقی)، مقاتل الطالبین(مصنف ابو الفرج اصفہانی)، الارشاد(مصنف شیخ مفید)، شرح اخبار(مصنف ابوحنیفہ النعمان)، مقتل الحسین(مصنف خوارزمی)، ملہوف(مصنف ابن طاوس)، مناقب آل ابی طالب(مصنف ابن شہر آشوب)، تاریخ الامم و الملوک(مصنف طبری)، الفتوح(مصنف ابن اعثم کوفی)، طبقات کبری(مصنف ابن سعد)، مثیر الاحزان(مصنف ابن نما)، مقتل ابی مخنف، الاحتجاج(مصنف طبرسی)، اسرار الشھادۃ(مصنف دربندی)، معجم الکبیر(مصنف طبرانی)، تذکرۃ الخواص(مصنف سبط ابن جوزی)، لباب الانساب(مصنف ابن فندق)، انساب الاشراف(مصنف بلاذری)، مطالب السؤل(مصنف ابن طلحہ) جیسی کتابیں شامل ہیں۔
ان کتب میں موجودہ روایات پر تحقیق و بررسی کے بعد مصنف آیت اللہ کرباسی اس نتیجہ پر پہنچے کہ:
عبد اللہ بن الحسین علیہ السلام کی والدہ کا نام رباب بنت امریٔ القیس تھا، آپ روز عاشورا کو بوقت ظہر کربلا میں متولد ہوئے، جناب سکینہ آپ کی بہن تھیں، امام حسین علیہ السلام آپ کو اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے در خیمہ پر تشریف فرما تھے کہ اسی وقت حرملہ بن کاہل اسدی کا تیر لگا اور آپ شہید ہو گئے، امام عسکری علیہ السلام نے زیارت ناحیہ میں آپ پر اس طرح سلام بھیجا ہے: السلام علی عبد اللہ بن الحسین، الطفل الرضیع، المرمی الصریع، المتشحط دما، المصعد دمہ فی السما، المذبوح بالسھم فی حجر ابیہ، لعن اللہ رامیہ حرملہ بن کاھل الاسدی و ذویہ، سلام ہو عبد اللہ بن حسین پر، وہ طفل شیرخوار، وہ تیر سے چھلنی بدن، وہ خون میں لت پت، کہ جس کا خون آسمان کی طرف اٹھا یا گیا، جسے اس کے باپ کی گود میں تیر سے ذبح کیا گیا، اللہ لعنت کرے اس پر تیر اندازی کرنے والے حرملہ بن کاہل اسدی اور اس کے ساتھیوں پر۔
لیکن آیت اللہ کرباسی کے نزدیک علی اصغر بن حسین علیہ السلام بنا بر مشہور رجب المرجب سنہ ۶۰ ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، آپ کی والدہ کا نام ام اسحاق تھا، روز عاشورا امام حسینؑ علیہ السلام دشمنوں سے سوال آب کے لئے آپ کو اپنی آغوش میں مقتل لے گئے جہاں پانی کے بجائے ھانی بن ثبیث الحضرمی نے تیر چلا کر آپ کو شہید کردیا، شہادت کے بعد امام حسینؑ نے علی اصغر کو خیمہ کے نزدیک دفنایا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض مؤرخین عبد اللہ رضیع اور علی اصغر کو ایک ہی فرد جانتے ہیں۔
عبد اللہ بن حکم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد اللہ بن حکم تقریبا سنہ ۵۶ھ کو متولد ہوئے، ربعی نے آپ کا تذکرہ شہدائے آل عقیل میں کیا ہے، لیکن دوسرے کسی مقتل میں آپ کا ذکر نہیں ملتا، لہذا آپ کی کیفیت شہادت کے بارے میں معلومات موجود نہیں ہیں، ممکن ہے کہ آپ کمسنی میں شدت پیاس اور خوف کی وجہ سے کربلا میں شہید ہوئے ہوں۔
عبد اللہ بن عباس الاکبر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عبد اللہ بن عباس کے بارے میں مؤرخین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں، بعض نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے اور بعض دیگر نے آپ کی کمسنی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کا تذکرہ اسراء کربلا میں کیا ہے،قول دوم محقق کرباسی کے نزدیک قوی تر ہے۔
عبد اللہ بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبد اللہ بن مسلم سنہ ۳۴ھ کو متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام رقیۃ الکبری بنت علی علیہ السلام تھا، جب آپ امام حسینؑ سے جنگ کی اجازت طلب کرنے تشریف لائے تو امام علیہ السلام نے آپ کو اپنی مادر کے ساتھ معرکہ کارزار چھوڑ نے کے لئے کہا یہ سن کر آپ نے فرمایا اے میرے آقا مولا میں آپ کو کس طرح دشمنوں کے درمیان چھوڑ کر چلا جا سکتا ہوں، پھر آپ نے اس شعر کو پڑھا:
نحن بنوھاشم الکرام، نحمی عن ابن السید الامام، نسل علی الاسد الضرغام، سبط النبی المصطفی التھامی، ہم عظمت والے خاندان بنی ہاشم کی اولاد ہیں، ہم سید الانام کے فرزند کا دفاع و حمایت کرتے ہیں، ہم شیر بیشۂ کربلا، نواسۂ نبی مصطفی پر جان قربان کردیں گے۔
جناب عبد اللہ اجازت ملنے پر میدان کارزار میں تشریف لائے اور آپ نے حملہ کرتے ہوئے اس رجز کو پڑھا: الیوم القی مسلما وھو ابی، وفتیۃ بادوا علی دین النبی، لیسوا بقوم عرفوا بالکذب، لکن خیار و کرام النسب، من ھاشم السادات اھل الحسب، آج میں مسلم سے ملاقات کروں گا کہ جو میرے پدر بزرگوار ہیں، اور ان نوجوان سے کہ جنھوں نے دین نبی پر فداکاری کی، وہ ایسی قوم نہیں جو جھوٹی ہونے کی شہرت رکھتی ہو، لیکن وہ نیک و صالح اور اعلی نسب والے ہیں، وہ ہاشمی سادات سے ہیں جو بلند پایہ کردار کے مالک ہیں۔
جناب مظفر فرماتے ہیں کہ حضرت مسلم کی اولاد میں عبد اللہ سب سے زیادہ شجاع تھے، جس وقت آپ نے لشکر یزید پر حملہ کیا تو ان میں سے ۹۸ افراد کو واصل جہنم فرمایا، اس دوران آپ نے اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھا ہی تھا کہ کسی دشمن کا تیر آپ کے ہاتھ اور پیشانی پر پیوست ہو گیا، وقت کو غنیمت سمجھ کر دشمنوں نے پے در پے ضربات کے ذریعہ آپ کو شہید کردیا، امام عسکری علیہ السلام زیارت ناحیہ میں آپ پر اس طرح سلام بھیجتے ہیں:السلام علی القتیل ابن القتیل عبد اللہ بن مسلم بن عقیل و لعن اللہ قاتلہ عامر بن صعصعۃ، سلام ہو قتیل ابن قتیل عبد اللہ بن مسلم بن عقیل پر، اور لعنت ہو ان کے قاتل عامر بن صعصعہ پر۔
عبید اللہ بن عباس الاکبر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبید اللہ بن عباس الاکبر سنہ ۵۰ ھ کو متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام لبابہ تھا، فضل آپ کے سگے بڑے بھائی تھے، اکثر مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ آپ اپنی مادر گرامی اور بھائی فضل کے ساتھ مدینہ منورہ ہی میں قیام پذیر تھے اور کربلا میں کمسنی کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے، گرچہ بعض دیگر نے آپ کو شہدائے کربلا میں اور بعض نے اسرائے کربلا میں شامل کیا ہے لیکن قول اول کو اکثر مؤرخین نے منتخب فرمایا ہے، آپ کا شمار ان کبار فقہاء، اہل معرفت و بصیرت اصحاب امام سجاد علیہ السلام میں ہوتا ہے کہ جن سے امام سجاد علیہ السلام بے حد محبت فرماتے تھے۔
عبید اللہ ابن عبد اللہ الاکبر بن جعفر بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبید اللہ تقریبا سنہ ۲۷ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے آپ کی مادر گرامی کا نام ام الخوضاء تھا، چونکہ جناب عبد اللہ خود کربلا میں حاضر نہ ہو سکے لہذا آپ نے اپنے فرزندوں کو امام حسین علیہ السلام کے سپرد فرمایا تاکہ وقت ضرورت وہ امام کی نصرت کر سکیں، عون و محمد کے علاوہ جناب عبید اللہ کو ابو الفرج اصفہانی، ابن شہر آشوب، خوارزمی، امین جیسے مؤرخین نے شہدائے کربلا میں شامل کیا ہے۔
عبید اللہ بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عبید اللہ سنہ ۳۹ ھ کو متولد ہوئے، آپ نے معرکۂ کربلا میں شرکت کی، اس جنگ میں آپ پر شدید جراحتیں وارد ہوئیں لیکن آپ زندہ رہے اور آپ کو اسیر بنایا گیا آپ سنہ ۶۷ھ میں بصرہ کے مذار نامی مقام پر شہید کر دیئے گئے، آپ کے قاتل کے بارے میں کسی کو کوئی اطلاع نہ مل سکی۔
عبید اللہ بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
روز عاشورا آپ نے امام حسین علیہ السلام سے اجازت لی اور معرکۂ کربلا میں اس رجز کو پڑھتے ہوئے وارد ہوئے: اقسمت لا اقتل الا حرا، وقد وجدت الموت شیئا مرا، اکرہ ان ادعی جبانا فرا، ان الجنان من عصی و فرا، میں نے قسم کھائی ہے کہ حر (آزاد) ہی قتل کیا جاؤں، میں نے موت کو تلخ چیز پایا ہے، مجھے پسند نہیں کہ مجھے بزدل و میدان چھوڑ کر بھاگنے والا کہا جائے،بیشک بزدل وہ ہے جو نافرمان ہو اور میدان چھوڑ کر فرار کر جائے۔
اس رجز کے بعد آپ نے تیرہ دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارا جس کے بعد آپ شہید ہوگئے۔
عتیق بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
بعض مؤرخین جن میں یافعی،دیار بکری ابن عماد شامل ہیں نے جناب عتیق کو شہدائے کربلا میں شامل کیاہے، جبکہ آپ کی شہادت کی تفصیلات ہماری دسترس میں نہیں ہیں۔
عثمان بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عثمان بن علی سنہ ۳۹ھ کو متولد ہوئے، حضرت علی نے آپ کا نام رسول اسلام کے جلیل القدر صحابی عثمان بن مظعون کے نام پر رکھا، عثمان جناب عباس کے بھائی اور ام البنین کے فرزند تھے، روز عاشورا جناب عباس نے آپ کو خود سے پہلے میدان جنگ میں بھیجا، امام عسکریؑ زیارت ناحیہ میں آپ پر یوں سلام بھیجتے ہیں: السلام علی عثمان ابن امیر المومنین سمی عثمان بن مظعون، لعن اللہ رامیہ بالسھم خولی بن یزید الاصبحی الایادی و الابانی الدارمی، سلام ہو عثمان بن امیر المومنین پر ، کہ جو عثمان بن مظعون کے ہمنام ہیں، اللہ کی لعنت ہو ان کے تیر چلانے والے خولی بن یزید اصبحی ایادی اور ابانی دارمی پر۔
عقیل بن عبد الرحمان الاکبر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عقیل سنہ ۵۵ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، مؤرخ شعرانی کی نقل کے مطابق آپ کے والد عبد الرحمان الاکبر کربلا میں شہید ہوئے اور خیام حسینی کو لوٹتے وقت عقیل اور آپ کے بھائی سعد، شدت پیاس و خوف کی وجہ سے شہید ہو گئے۔
عقیل بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
صرف زرندی نے جناب عقیل بن عقیل کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیاہے، تاریخ میں آپ کےبارے میں تفاصیل موجود نہیں ہیں۔
عقیل بن محمد بن بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عقیل بن محمد سنہ ۴۰ھ کے بعد متولد ہوئے، آپ کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا آپ کربلا میں شہید ہوئے یا اسیر بنائے گئے۔
علی اصغر بن حسین بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عبد اللہ بن حسین کے تذکرہ کے ذیل میں عرض ہوا کہ دائرۃ المعارف الحسینیہ کے مصنف آیت اللہ کرباسی کے نزدیک جناب علی اصغر بن حسین علیہ السلام بنا بر مشہور رجب المرجب سنہ ۶۰ ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، روز عاشورا امام حسینؑ علیہ السلام دشمنوں سے سوال آب کے لئے آپ کو اپنی آغوش میں مقتل لے گئے تھے جہاں پانی کے بجائے دشمنان اسلام نے تیر چلا کر آپ کو شہید کردیا، شہادت کے بعد امام حسینؑ علیہ السلام نے علی اصغر کو خیمہ کے نزدیک دفنایا، مزید تفصیلات کے لئے عبد اللہ بن حسین علیہ السلام کی طرف رجوع کیا جائے۔
علی اصغر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابو الفرج اصفہانی نے علی اصغر بن عقیل کا تذکرہ شہدائے کربلا کے ذیل میں ملتا ہے جبکہ آپ کی کیفیت شہادت تک ہمیں دسترسی حاصل نہیں ہے۔
علی اکبر بن حسین بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب علی اکبر اور امام زین العابدین کی عمر میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے لہذا آیت اللہ محمد صادق کرباسی نے ۲۹ کتابوں میں موجودہ مطالب پر تحقیق و بررسی کے بعد یہ نتیجہ اخذ فرمایا کہ جناب علی اکبر ۱۱ شعبان سنہ ۳۸ھ کو کوفہ میں متولد ہوئے، آپ کی والدہ کا نام لیلی بنت ابو مرۃ تھا، جناب زین العابدین کی ولادت سنہ ۳۳ھ کو واقع ہوئی لہذا چوتھے امام آپ سے سن میں بزرگتر تھے اور جناب علی اکبرؑ کو علی اصغرؑ کے مقابلہ میں اکبر کہا جاتا ہے۔
مختلف روایات کی روشنی میں جناب علی اکبر ہاشمی شہداء میں سب سے پہلے شہید ہیں، امام عسکریؑ نے بھی زیارت ناحیہ میں آپ کو شہید اول کے عنوان سے مخاطب کیا ہے: السلام علیک یا اول قتیل من نسل خیر سلیل من سلالۃ ابراھیم الخلیل (بحار الانوار ج ۴۵ص ۶۵)، آپ پر سلام ہو اے ابراہیم خلیل اللہ کی پاک نسل سے پاک ذریت کے سب سے پہلے شہید ۔
علی بن حسین بن بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب علی بن حسین سنہ ۳۳ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام شاہ زنان بنت یزدجرد تھا، آپ کا شمار یاران امام حسین علیہ السلام میں اس عنوان سے ہے کہ آپ کربلا میں موجود تھے لیکن شدید علالت کی بنا پر جنگ میں شریک نہ ہوسکے، اللہ تعالی نے امامت کے تحفظ کے لئے آپ پر بیماری کو عائد کیا تاکہ آپ جنگ میں شرکت نہ کر سکیں اور اس طرح امامت کا سلسلہ جاری و ساری رہے، شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد آپ نے ۳۲ سال تک قیام کربلا کے اسباب، مظلومیت امام حسین علیہ السلام اور کربلا میں رونما ہونے والے مظالم کو لوگوں کے سامنے بیان فرمایا، سنہ ۹۲ھ میں ولید بن عبد الملک نے آپ کو زہر دے کر شہید کردیا، آپ کو جنت البقیع میں امام حسن مجتبی کے قریب دفنایا گیا۔
علی بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
براقی نے کتاب حدائق الوردیۃ میں اولاد ام البنین کے ذیل میں علی بن علی کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے، جبکہ تاریخ میں ام البنین کے چار فرزندوں یعنی عباس جعفر، عبد اللہ، عثمان کے نام موجود ہیں، اس بات کا احتمال ہے کہ مصنف کتاب حدائق سے علی اصغر یا علی اکبر اور علی بن علی میں خلط واقع ہوا ہو۔
عمر الاصغر بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عمر الاصغر سنہ ۴۰ھ کو متولد ہوئے، کہا جاتا ہے کہ فرزندان امام علی علیہ السلام میں آپ سب سے آخری فرزند تھے، آپ میدان جنگ میں اس رجز کے ساتھ وارد ہوئے: اضربکم و لا اری فیکم زجر، ذا الشقی بالنبی قد کفر، یا زجر یا زجر تدان من عمر، لعلک الیوم تبوا من سقر، شر مکان فی حریق و سعر، لانک الجاحد یا شر البشر، میں تم پر ایسی کاری ضرب لگاؤ ں گا کہ تم میں زجر زندہ نہیں بچ پائے گا، وہ زجر جو شقی و کافر ہے، اے زجر یہ عمر کی طرف سے تیرے لئے سزا ہے، عین ممکن ہے کہ تو آج سقر میں وارد ہو ، وہ سقر کہ جو بدترین ٹھکانہ ہے کہ جس میں آگ اور اس کے شعلے ہیں، یہ تیرا ٹھکانہ ہے چونکہ تو اے شر یر ترین بشر، کافر ہے۔
پھر آپ نے زجر بن بدر النخعی نامی فرد پر حملہ کیا اور اسے قتل کرنے کے بعد یہ رجز پڑھا: خلوا یا عداۃ اللہ خلوا عن عمر، خلوا عن اللیث الھصور المکفھر، یضربکم بسیفہ ولا یفر، و لیس فیھا کالجبان المنجحر،میرے سامنے سے ہٹ جاؤ اے عمر کے دشمنوں، اس سے دور ہو جاؤ جو بپھرا ہوا شیر ہے، وہ تم پر اپنی تلوار سے ایسی ضرب لگائے گا کہ تمہارے فرار کا راستہ کوئی نہ ہوگا، تم میں کوئی بھی طاقتور نہیں بلکہ سبھی بزدل و بھگوڑے ہو۔
اس رجز کے ساتھ آپ جنگ کرتے رہے یہاں تک کے درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔
عمر الاطرف بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم ا لقرشی:
عمر الاطرف سنہ ۱۳ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، آپ معرکۂ کربلا میں شریک تھے، جنگ میں مجروح ہونے کے بعد آپ کو شفا حاصل ہوئی، اس طرح آپ واقعہ کربلا کے بعد بھی زندہ رہے اور آپ نے سنہ ۸۸ھ کو پائی حجاز میں وفات پائی۔
عمرو بن حسن بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عمرو بن حسن تقریبا سنہ ۳۷ھ کو متولد ہوئے، آپ کے بارے میں مؤرخین کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں، بعض نے آپ کو شہدائے کربلا میں اور بعض دیگر نے اسیران کربلا میں شامل کیاہے، بعض نے یہ بھی کہا کہ آپ قبل از عاشورا سفر حج میں بمقام ابواء رحلت کر گئے واللہ العالم۔
عون بن جعفر بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب عون بن جعفر سنہ ۳ھ کو حبشہ میں متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام اسماء بنت عمیس تھا، سنہ ۷ھ کو عون والدین کی معیت میں مدینہ منورہ تشریف لائے، جناب جعفر طیار کی شہادت کے بعد آپ کی کفالت کا ذمہ رسول اسلام نے لیا اور آنحضرت کی وفات کے بعد آپ امام علی کے ساتھ رہے اور جنگ جمل،جنگ صفین و نہروان میں شرکت کی، امام علی کی شہادت کے بعد آپ نے ساری زندگی امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ گزاری اور اپنی زوجہ ام کلثوم بنت علی کے ساتھ معرکۂ کربلا میں حاضر ہوئے، جناب علی اکبر کے بعد آپ میدان جنگ میں تشریف لائے اور یہ رجز پڑھا: ان تنکرونی فانا ابن جعفر، شھید صدق فی الجنان ازھر، یطیر فیھا بجناح اخضر، کفی بھذا شرفا فی المحشر، اگر تم نہیں جانتے تو جان لو کہ میں جعفر کا فرزند ہوں، ایسے شہید کا فرزند جو شہادت کے بعد بہشت بریں میں سبز پروں کے ساتھ پرواز کر رہے ہیں، اور قیامت کے دین میرے لئے یہی اعزاز کافی ہے۔
عون بن جعفر کی جنگ کی تفصیلات تک ہمیں دسترسی حاصل نہ ہوسکی البتہ اس میں کوئی تردید نہیں کہ آپ کے قاتل کا نام زید بن رقاد جہنی ہے۔
عون بن عبد اللہ بن جعفر بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عون بن عبد اللہ سنہ ۲۵ھ کو مدینۂ منورہ میں متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی زینب بنت علی تھیں، روز عاشورا جس وقت آپ میدان کارزار میں وارد ہوئے تو آپ نے اس طرح رجز پڑھا: اقسمت لا ادخل الا الجنۃ، موالیا لاحمد و السنۃ، والفوز من بعد انقطاع المنّۃ، ھو الذی انقذنا بمنّہ، صلی علیہ اللہ باری الجنۃ، میں نے قسم کھائی ہے کہ بہشت ہی میں جاؤں گا کہ میں احمد اور سنت نبوی کا دلدادہ ہوں، کامیابی کا راز دنیا سے منہ موڑنے میں ہے، اللہ نے ہمیں اپنے احسان کے ساتھ اس ہستی کے ذریعہ نجات عطا فرمائی ہے، اس پر خدا کا درود ہو۔
آپ نے اس رجز کے ساتھ جنگ شروع کی اور کئی دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد شربت شہادت کو نوش فرمایا، امام عسکریؑ زیارت ناحیہ میں آپ پر یوں سلام بھیجتے ہیں: السلام علی عون بن عبد اللہ بن جعفر الطیار فی الجنان، حلیف الایمان، و منازل الاقران، الناصح للرحمان، التالی للمثانی و القرآن، لعن اللہ قاتلہ عبد اللہ بن قطنۃ النبھانی، سلام ہو عون بن عبد اللہ بن جعفر طیار پر کہ جو جنت میں محو پرواز ہیں، جو حلیف الایمان (خوگر ایمان) ہیں، بلند مرتبہ شخصیتوں کے ساتھ ہیں، جنھوں نے ہمیشہ خدائے رحمان کی طرف لوگوں کو بلایا ہے، جو ہمیشہ تلاوت قرآن میں رہتے ہیں، اللہ ان کے قاتل عبد اللہ بن قطنہ نہبانی پر لعنت کرے۔
عون بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابن شہر آشوب، سبط جوزی نے عون بن عقیل کو شہدائے کربلا میں شامل کیا ہے، آپ کی شہادت کی تفصیلات تک ہمیں دسترسی حاصل نہیں ہے۔
عون بن علی بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عون بن علی سنہ ۱۶ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے آپ کی مادر گرامی کا نام اسماء بنت عمیس تھا، مامقانی نقل فرماتے ہیں کہ آپ امام حسین علیہ السلام کے وہ بھائی ہیں جو میدان کارزار میں سب سے پہلے وارد ہوئے، جس وقت عون بن علی نے اصحاب امام حسین علیہ السلام کی ایک کثیر تعداد کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا تو امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جنگ کی اجازت طلب کی، امام نے پوچھا اے بھائی کیا آپ مرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں موت کے لئے کیونکر آمادہ نہ ہو جاؤں جبکہ آپ کا کوئی یاور و مددگار نہیں ہے، یہ سن کر امام عالی مقام نے آپ کو جنگ کی اجازت فرمائی جس کے بعد آپ نے کئی دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار کر جام شہادت کو نوش فرمایا۔
عون بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
عون بن مسلم تقریبا سنہ ۴۰ھ کو متولد ہوئے، صرف مؤرخ دربندی نے آپ کا شمار شہدائے کربلا کے ذیل میں کیا ہے ۔
آل عقیل سے یہ وہ تمام شہدائے کربلا ہیں کہ جن کی مختصر سی سوانح حیات ہم نے اس مقالہ میں پیش کی ہے یہ مطالب اس قطرے کی مانند ہیں کہ جو ایک کوزۂ آب سے اخذ کیا جائے، لہذا قارئین مزید تفصیلات کے لئے اصل کتاب معجم انصار الحسین الھاشمیون جلد ۲ کی طرف مراجعہ فرمائیں۔
آخر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حسینی دائرۃ المعارف کی ہر کتاب کی طرح اس کتاب کے آخر میں بھی مفید فہرستوں کو درج کیا گیا ہے جس کے بعد ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے استاد ریاضیات J.Jangbahadur کا مقالہ بھی موجود ہے جس میں انھوں نے فرمایا کہ درسگاہ امام حسین علیہ سے سارا عالم مستفیض ہے اور اسی درسگاہ کی تعلیمات کو اس دور میں حسینی دائرۃ المعارف کے مصنف آیت اللہ کرباسی نے بڑی محنت و مشقت کے ساتھ ۶۰۰ جلدوں میں پیش کیا ہے۔