صوبہ پنجاب میں شامل کوٹ مٹھن خاص کر پیر غلام فرید کی وجہ سے مشہور ھے جو سرائیکی کے نامور صوفی شاعر ھیں بلکہ ان کو ہفت زبان شاعر بھی کہا جاتا ھے انھوں نے سرائیکی کے علاوہ اردو بنجابی فارسی سنسکرت اور انگریزی میں بھی

نظمیں کھی ھیں یوں کل ملا کر سات زبانیں بنتی ھیں جس میں غلام فرید نے شاعری کی ھے
ان کی شاعری میں عشق حقیقی اور عشق مجازی دونوں کی جھلک ملتی ھے ان کی شاعری پر بات پھر کسی وقت ھو گی فی لحال آپ کو اس علاقہ کے بارے میں کچھ معلومات دیتی ھوں ھمارے ملک کے پانچ دریا اس مٹھن کوٹ کے مقام پر آکر ملتے ھیں یوں کا دریا گرمی کے موسم میں پھیل کر آتھ میل چوڑا ھو جاتا ھے اور سردیوں میں دریاؤں میں پانی کی کمی کی وجہ سے سکڑ جاتا ھے اور ایک خاص بات یہ ضلع ابھی تک پسماندہ ھی ھے
کوئی بڑا ھسپتال کوئی بڑا خاص تعلیمی ادارہ ادھر اس ضلع میں نھیں ھے جو بھی ضرورت مند ھیں وہ تعلیم کے سلسلہ میں دوسرے شہروں کا رخ کرتے ھیں اسی طرح علاج معالجہ کے لئے بھی سھولیات نا ھونے کی وجہ سے دوسرے شہر میں ھی جاتے ھیں قریبی شہروں میں رحیم یار خان ھے مگر وہاں جانے کا سفر سردی کے موسم میں آسان ھوتا ھے اور گرمی میں کافی تکلیف دہ اور لمبا کیوں کہ سردیوں میں ادھر کشتیوں کی پل بنا دی جاتی ھیں جو دریا کی چوڑائی کم ھونے کی وجہ سے پانج جگہ پل بنتا ھے مگر جسے ھی دریا بھرتا ھے اور دریا کی چوڑائی بڑھ جاتی ھے اور پل ٹوٹ جاتا ھے پھر لوگ بہت مشکل سے دریا پار کر کے دوسرے کنارے جاتے ھیں

یوں قریبی شہر بھی پکا پل نا ھونے کی وجہ سے دور ھو جاتا ھے کافی لوگ کاروبار کے لئے آتے جاتے ھیں اکثر تعلیم کے لیے کافی بار کوئی جلد چاھے تو وہ تکلیف دہ سفر کی وجہ سے کافی پرشانی سے سفر کرتے ھیں اب پکا پل بننے کا حکومت نے

اعلان کیا تھا خدا کرے سچ ھو اور جلد بن جائے ،۔ ایک اور چیز جو دیکھنے کی ھے دریا سندھ میں مٹھن کوٹ دریا کنارے ٹھہرا بحری جہاز ھے جسے ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں بھاولپور کے نواب کو تحفہ میں دیا گیا تھا اور نواب صاحب نے اپنے پیر ،خواجہ غلام فرید کو ہدیہ کیا تھا بحری جہاز کا نام انڈس کوئین ھے
مگر افسوس ھے ھمارے لوگوں پر کہ اس کو ناکارہ بنا کر ٹھرایا ھوا ھے جبکہ اس سے سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ھے اس کی مرمت کر کے چلایا جائے استعمال کیا جائے کافی آمدنی ھو سکتی ھے ساتھ پکنک پوآنینٹ بنا دیا جائے لوگوں کو تفریح ملے گی اور سرکاری خزانہ کو آمدنی ھو گی ۔
ایک اور بحری جہاز بھی اس دریا میں ناکارہ بنا کر ٹھرایا ھوا ھے جس کا نام مسافر خانہ ھے دونو ں کی تصویریں دی جاری ھیں ساتھ کشتیوں کے پل کی بھی