15.10.2026, 09:21pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

شہید کے خون کے چھینٹوں سے انقلاب جنم لیتا ہے۔از ۔سید محمد ثقلین
05.05.2013, 07:04am , اتوار (GMT+1)

سید محمد ثقلین
‎شہید قوم کا سرمایہ ہوتا ہے، اس شہید کے خون کے چھینٹوں سے انقلاب جنم لیتا ہے اور شہادت ایک ایسی معراج ہے کہ اس معراج تک پہنچنے کے لئے ہر ولی نے شہادت کی تمنا کی۔ شہادت وہ شیریں چشمہ ہے کہ جس سے سیراب ہونے کے لئے اپنے خون کے دریا سے گزر کر ہی اس کی مٹھاس و لذّت کو محسوس کیا جا سکتا ہے اس لئے تو شہزادہ ٔ قاسم لخت جگر امام حسن علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں موت (شہادت) کے ذائقہ کو شہد سے بھی زیادہ میٹھا محسوس کرتا ہوں۔ سرزمین پاکستان اور خصوصاً سرزمین ڈیرہ اسماعیل خان ایسے کئی مردان خدا کے خون سے سیراب ہو چکی ہے کہ جن کی زندگیاں ملک و ملت اور مکتب اہلبیت کی ترویج و تبلیغ کیلئے وقف تھیں۔ ایسی کئی ہستیاں ہم سے جدا ہو کر محمدۖ وآل محمدۖ کی صحبت میں جا چکیں کہ جن کی پاکیزہ زندگیوں کے فیوض و برکات سے ابھی اس ملت مظلومہ کو بہرہ مند ہونا تھا۔ لیکن دشمن دین و ملک و قوم ان ہستیوں کی فعالیت و کردار کو سمجھ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے ہم سے بہت جلد قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی جیسی سینکٹروں شخصیات چھین لیں۔

‎یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے اپنی زندگیاں ملت کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے وقف کر رکھیں تھیں ان کی شہادت کے بعد گلی کوچوں میں ہمارا خون بہایا گیا، ہمارے بھرے گھر اجاڑ دیئے گئے، ہمارے نوجوان تہہ تیغ کئے گئے۔ ہماری خواتین اور بچوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا، ہمارے جنازوں پر خودکش حملے کیے گئے، ہمارے جلوسوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور ہزاروں لوگ اپنے خالق حقیقی سے اس فریاد کے ساتھ جا ملے کہ'' ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا ''۔ شہداء تو اپنی منزل پا گئے لیکن اپنے پیچھے سینکڑوں یتیم بچے، دسیوں بیوائیں اور بوڑھے والدین صرف یاس و حسرت کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے چھوڑ گئے۔ آج بھی کئی بہنیں اپنے پیارے بھائیوں کے چھن جانے پر، کئی خواتین اپنے سہاگ اجڑنے پر، کئی بچے اپنے سر سے سایۂ شفقت پدری کے اٹھ جانے پر اور کئی والدین اپنے بڑھاپے کے سہارے چھن جانے پر نوحہ کناں ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں زخمی ہونے والے جوان اور بچے جن کے جسم کے اعضاء کٹ چکے ہیں اور جو ابھی تک زندگی اور موت کی کشمکش میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ ان کے گھر و خاندان والے جس کرب و اندوہ سے گزر رہے ہیں وہ صرف وہی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں جانتی ہیں جو اپنے لخت جگر کو بستر پر روزانہ تڑپتا دیکھ رہی ہیں۔

‎ڈیرہ اسماعیل خان میں ملت تشیع پر جہاں دہشت گردوں نے بربریت کی انتہا کی وہاں ہمارے قومی سلامتی کے اداروں نے بھی ان دہشت گردوں کی پشت پناہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جہاں دہشت گردوں نے سینکڑوں کو شہید و زخمی کیا۔ بم بلاسٹ و خودکش حملے کئے اور اغواء کر کے کروڑوں کا نقصان اس ملت کو پہنچایا وہاں امن کے نام پر قومی سلامتی کے اداروں نے بھی اس ملت کے نوجوانوں کو کئی کئی سال قید میں رکھنے کے بعد اپنے ظلم کا نشانہ بنایا اور ان کی لاشوں کو اپنے شہر سے دسیوں میل دور ویرانوں میں یہ اعلان کرتے ہوئے پھینک دیا کہ "ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات"۔ جبکہ یہاں خودکش و بم بلاسٹ کر کے سینکڑوں لوگوں کو شہید و زخمی کرنے والے، ٹنوں کے حساب سے اسلحہ رکھنے والے، پولیس، فوج اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔

‎اے مکتب اہلبیت (ع) کے پیروکارو! شہداء اپنا کام کر گئے، کار حسینی انجام دے چکے۔ اب ہماری باری ہے کہ کار زینبی کو انجام دیں۔ اگر کربلا میں حضرت علی اکبر (ع)، قاسم(ع)، عباس اور امام حسین(ع) نے دین کی راہ میں شہادت کا جام نوش کیا تو ان کی شہادت کے بعد بچ جانے والے بچوں، بوڑھوں اور خواتین نے بےکسی و بےبسی کے عالم میں بھی کربلا سے لے کر شام تک امام حسین (ع) کے مشن کو سنگینوں کے سائے تلے اور جابر، ظالم و حاکم کے سامنے دربار کوفہ و شام میں اپنی جرأت و بہادری کے ساتھ پہنچایا۔ اتنے بڑے لشکر سے بھی کربلا والوں کا کوئی ایک بچہ بھی نہیں ڈرا بلکہ شام میں ان ظالموں کو اعتراف کرنا پڑا کہ ہم نے ان پر جتنا ظلم کیا اتنا ہی ان کا حوصلہ اور بلند ہوا۔ ان کی اس جرأت و استقامت کا نتیجہ و ثمر آج تک اور رہتی دنیا تک حاصل ہوتا رہے گا۔ اسی طرح شہداء سرزمین ایران و لبنان کا نتیجہ وہاں کی عوام حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں کے شہداء کے وارثان نے اپنی ذمہ داریوں کو آگہی و بصیرت کے ساتھ انجام دیا۔
 
‎آج ملک پاکستان اور خصوصاً ڈی آئی خان میں سینکڑوں شہادتیں دینے کے بعد بھی اگر ہماری مشکلات دور نہیں ہو رہیں تو اس لئے کہ ہم کارزینبی انجام نہیں دے رہے اور ان شہداء کے نقش قدم پر نہیں چل رہے جو ملت کی سربلندی کے لئے اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ اس وقت ملک میں الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں اور چونکہ ووٹ ایک امانت ہے اور امین شخص وہ ہوتا ہے جو امانت کو اسکے وارث تک پہنچا دے۔ اسلئے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس الیکشن میں خصوصاً اپنے شہداء کے خون کی لاج رکھتے ہوئے ایسے افراد کو ووٹ دیں جو آپ کے و طن و مکتب کے دفاع، آپ پر ہونے والے مظالم کا راستہ روکنے اور امن قائم کرنے کے ذمہ دار اداروں کو سیدھی ڈگر پر چلانے کے اہل ہوں۔ اگر آج بھی شہداء کے ورثاء نے اپنی ذمہ داری کو بصیرت و تدبّر کے ساتھ انجام نہ دیا تو گذشتہ پانچ سالہ دور سے بھی بدترین دور آئے گا اور اس کے ذمہ دار وہ مفاد پرست ہونگے جو چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ آپس کی معمولی رنجشوں کے باعث اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے یا پھر وہ ضمیر فروش افراد ہونگے کہ جو ملت کو ہمیشہ گروی رکھنے کے درپے ہوتے ہیں۔ "خدارا! شہداء کے مشن کے حقیقی وارث بن کر اپنی اپنی ذمہ داری کو ادا کریں تاکہ سیدالشہداء (ع) آپ سے راضی و خوشنود ہوں۔ دعا ہے کہ خداوند کریم بصیرت کے ساتھ ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے"۔ آمین

:دیگر مضامین
(03.05.2013) حجر ابن عدی کی قبر مبارک کو کھود کر آپ کے مزار کو منہدم کر دیا
(02.05.2013) مولانا عبدالستار نیازی حریت ِ فکر کا مجاہد۔۔۔از۔احمد ترازی
(01.05.2013) ظہور خاتون جنت سیدہ عالم کی مبارک باد!۔۔۔از۔سید اکمل حسین
(30.04.2013) سیاچن سطح سمندر سے 20800فٹ بلندی پر واقع جسے مقامی زبان میں سیاہ گلاب کہتے ہیں
(26.04.2013) میں لیاری کی ہرلڑکی کی طرح بڑے ہو کربے نظیربھٹو بننے کے خواب دیکھتی تھی۔
(21.04.2013) جناب سِبطِ جعفرؔ کا چہلم ہے۔
(17.04.2013) آج کل نیوز چینلوں اور مسلکی چینلوں کی چمک دمک ماند پڑ رہی ہے؟
(16.04.2013) اشاعت مکرر۔خون کی ندیوں میں سلگتے چنار ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(09.04.2013) بزم اردو سیتاپورکے ساتویں ماہانہ طرحی مشاعرہ کی رپورٹ
(06.04.2013) منفرد براڈکاسٹر مرحوم اظہار کاظمی ایک یادگار انٹرویو۔ بشکریہ۔ سید کاظمی
(05.04.2013) لندن کے سبط جعفر ادبی تعزیتی ریفرنس کے مقررین اور مدح خوان
(02.04.2013) عالمی اخبار اور ولایت ٹی وی کی طرف سے سبط جعفر ادبی تعزیتی ریفرنس
(30.03.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔33ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(28.03.2013) پاکستان کے انتخابات۔ آٹھ کروڑ ستاون لاکھ اڑتیس ہزار سات سو نواسی ووٹرز
(26.03.2013) پاکستان کے نگراں وزیر اعظم میر ہزار کھوسو کی زندگی پر ایک نظر
(22.03.2013) سمٹ کر پہاڑ اِن کی ہیبت سے رائی۔ از۔ ارشاد ہاشمی۔جرمنی
(20.03.2013) سید سبط جعفر کو سید اکمل حسین کی جانب سے خراج عقیدت
(19.03.2013) تیرے بغیر مرثیہ،نوحہ اداس ہے۔ زینب ٹی وی کا سبط جعفر کو خراج تحسین
(16.03.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔32ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(13.03.2013) مشرقی لندن کی بارو آف ریڈ برج میں ایک کونسل کے کرایہ داران کی کانفرنس



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں