|
شہید کے خون کے چھینٹوں سے انقلاب جنم لیتا ہے۔از ۔سید محمد ثقلین
05.05.2013, 07:04am , اتوار (GMT+1)
سید محمد ثقلین
شہید قوم کا سرمایہ ہوتا ہے، اس شہید کے خون کے چھینٹوں سے انقلاب جنم لیتا ہے اور شہادت ایک ایسی معراج ہے کہ اس معراج تک پہنچنے کے لئے ہر ولی نے شہادت کی تمنا کی۔ شہادت وہ شیریں چشمہ ہے کہ جس سے سیراب ہونے کے لئے اپنے خون کے دریا سے گزر کر ہی اس کی مٹھاس و لذّت کو محسوس کیا جا سکتا ہے اس لئے تو شہزادہ ٔ قاسم لخت جگر امام حسن علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں موت (شہادت) کے ذائقہ کو شہد سے بھی زیادہ میٹھا محسوس کرتا ہوں۔ سرزمین پاکستان اور خصوصاً سرزمین ڈیرہ اسماعیل خان ایسے کئی مردان خدا کے خون سے سیراب ہو چکی ہے کہ جن کی زندگیاں ملک و ملت اور مکتب اہلبیت کی ترویج و تبلیغ کیلئے وقف تھیں۔ ایسی کئی ہستیاں ہم سے جدا ہو کر محمدۖ وآل محمدۖ کی صحبت میں جا چکیں کہ جن کی پاکیزہ زندگیوں کے فیوض و برکات سے ابھی اس ملت مظلومہ کو بہرہ مند ہونا تھا۔ لیکن دشمن دین و ملک و قوم ان ہستیوں کی فعالیت و کردار کو سمجھ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے ہم سے بہت جلد قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی جیسی سینکٹروں شخصیات چھین لیں۔
یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے اپنی زندگیاں ملت کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے وقف کر رکھیں تھیں ان کی شہادت کے بعد گلی کوچوں میں ہمارا خون بہایا گیا، ہمارے بھرے گھر اجاڑ دیئے گئے، ہمارے نوجوان تہہ تیغ کئے گئے۔ ہماری خواتین اور بچوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا، ہمارے جنازوں پر خودکش حملے کیے گئے، ہمارے جلوسوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور ہزاروں لوگ اپنے خالق حقیقی سے اس فریاد کے ساتھ جا ملے کہ'' ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا ''۔ شہداء تو اپنی منزل پا گئے لیکن اپنے پیچھے سینکڑوں یتیم بچے، دسیوں بیوائیں اور بوڑھے والدین صرف یاس و حسرت کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے چھوڑ گئے۔ آج بھی کئی بہنیں اپنے پیارے بھائیوں کے چھن جانے پر، کئی خواتین اپنے سہاگ اجڑنے پر، کئی بچے اپنے سر سے سایۂ شفقت پدری کے اٹھ جانے پر اور کئی والدین اپنے بڑھاپے کے سہارے چھن جانے پر نوحہ کناں ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں زخمی ہونے والے جوان اور بچے جن کے جسم کے اعضاء کٹ چکے ہیں اور جو ابھی تک زندگی اور موت کی کشمکش میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ ان کے گھر و خاندان والے جس کرب و اندوہ سے گزر رہے ہیں وہ صرف وہی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں جانتی ہیں جو اپنے لخت جگر کو بستر پر روزانہ تڑپتا دیکھ رہی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ملت تشیع پر جہاں دہشت گردوں نے بربریت کی انتہا کی وہاں ہمارے قومی سلامتی کے اداروں نے بھی ان دہشت گردوں کی پشت پناہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جہاں دہشت گردوں نے سینکڑوں کو شہید و زخمی کیا۔ بم بلاسٹ و خودکش حملے کئے اور اغواء کر کے کروڑوں کا نقصان اس ملت کو پہنچایا وہاں امن کے نام پر قومی سلامتی کے اداروں نے بھی اس ملت کے نوجوانوں کو کئی کئی سال قید میں رکھنے کے بعد اپنے ظلم کا نشانہ بنایا اور ان کی لاشوں کو اپنے شہر سے دسیوں میل دور ویرانوں میں یہ اعلان کرتے ہوئے پھینک دیا کہ "ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات"۔ جبکہ یہاں خودکش و بم بلاسٹ کر کے سینکڑوں لوگوں کو شہید و زخمی کرنے والے، ٹنوں کے حساب سے اسلحہ رکھنے والے، پولیس، فوج اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔
اے مکتب اہلبیت (ع) کے پیروکارو! شہداء اپنا کام کر گئے، کار حسینی انجام دے چکے۔ اب ہماری باری ہے کہ کار زینبی کو انجام دیں۔ اگر کربلا میں حضرت علی اکبر (ع)، قاسم(ع)، عباس اور امام حسین(ع) نے دین کی راہ میں شہادت کا جام نوش کیا تو ان کی شہادت کے بعد بچ جانے والے بچوں، بوڑھوں اور خواتین نے بےکسی و بےبسی کے عالم میں بھی کربلا سے لے کر شام تک امام حسین (ع) کے مشن کو سنگینوں کے سائے تلے اور جابر، ظالم و حاکم کے سامنے دربار کوفہ و شام میں اپنی جرأت و بہادری کے ساتھ پہنچایا۔ اتنے بڑے لشکر سے بھی کربلا والوں کا کوئی ایک بچہ بھی نہیں ڈرا بلکہ شام میں ان ظالموں کو اعتراف کرنا پڑا کہ ہم نے ان پر جتنا ظلم کیا اتنا ہی ان کا حوصلہ اور بلند ہوا۔ ان کی اس جرأت و استقامت کا نتیجہ و ثمر آج تک اور رہتی دنیا تک حاصل ہوتا رہے گا۔ اسی طرح شہداء سرزمین ایران و لبنان کا نتیجہ وہاں کی عوام حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں کے شہداء کے وارثان نے اپنی ذمہ داریوں کو آگہی و بصیرت کے ساتھ انجام دیا۔ آج ملک پاکستان اور خصوصاً ڈی آئی خان میں سینکڑوں شہادتیں دینے کے بعد بھی اگر ہماری مشکلات دور نہیں ہو رہیں تو اس لئے کہ ہم کارزینبی انجام نہیں دے رہے اور ان شہداء کے نقش قدم پر نہیں چل رہے جو ملت کی سربلندی کے لئے اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ اس وقت ملک میں الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں اور چونکہ ووٹ ایک امانت ہے اور امین شخص وہ ہوتا ہے جو امانت کو اسکے وارث تک پہنچا دے۔ اسلئے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس الیکشن میں خصوصاً اپنے شہداء کے خون کی لاج رکھتے ہوئے ایسے افراد کو ووٹ دیں جو آپ کے و طن و مکتب کے دفاع، آپ پر ہونے والے مظالم کا راستہ روکنے اور امن قائم کرنے کے ذمہ دار اداروں کو سیدھی ڈگر پر چلانے کے اہل ہوں۔ اگر آج بھی شہداء کے ورثاء نے اپنی ذمہ داری کو بصیرت و تدبّر کے ساتھ انجام نہ دیا تو گذشتہ پانچ سالہ دور سے بھی بدترین دور آئے گا اور اس کے ذمہ دار وہ مفاد پرست ہونگے جو چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ آپس کی معمولی رنجشوں کے باعث اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے یا پھر وہ ضمیر فروش افراد ہونگے کہ جو ملت کو ہمیشہ گروی رکھنے کے درپے ہوتے ہیں۔ "خدارا! شہداء کے مشن کے حقیقی وارث بن کر اپنی اپنی ذمہ داری کو ادا کریں تاکہ سیدالشہداء (ع) آپ سے راضی و خوشنود ہوں۔ دعا ہے کہ خداوند کریم بصیرت کے ساتھ ہمیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے"۔ آمین
|