لیجئے پہلے یہ خبر پڑھیں جو آپ میں سے بہت سے افراد نے نہیں پڑھی ہو گی۔
‘‘
اسلام
آباد کے مہمندنیشنل آرٹ کالج میں منعقد نجی ایوارڈ تقریب کے دوران ہال اس
وقت تالیوں سے گونج اٹھا جب ہاورڈ یونیورسٹی سے اسکالر شپ لینے والے
پاکستانی طالبعلم صمد خرم سرٹیفکٹ لینے اسٹیج پر آئے تو صمد خرم نے مہمند
ایجنسی پر امریکی فورسز کے حملے کے خلاف احتجاجاً پاکستان میں متعین
امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹر سن سے سرٹیفکٹ لینے سے انکار کردیا اور واپس
اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئے جس پر امریکی سفیر حواس باختہ ہوگئیں اور اس
طالبعلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس حملے پر افسوس ہے ،یہ
واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پرہوا‘‘اس واقعے کی بعد کی
اطلاعات یہ ہیں کہ روٹس کالج کی تقریب میں امریکی سفیر کے ہاتھوں ڈگری
لینے سے انکار کرنے والے طالب علم صمد خرم کا نیشنل لائبریری سے انتظامیہ
کے ہمراہ جانے کے بعد کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ دارالحکومت کے صحافی گزشتہ
روز صمد خرم سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر نہ اس کا کوئی اتہ پتہ
معلوم ہوسکا نہ روٹس ہیڈ آفس راولپنڈی سے کوئی اطلاع مل سکی جبکہ طالب علم
کے انکار کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسے ہارورڈ یونیورسٹی کی ڈگری
سے محروم کردیا جائے گا جہاں اس نے امریکی سکالرشپ پرتعلیم حاصل کی۔
میں
سمجھتا ہوں کہ اگر ایسا ہو بھی جائے کہ اسے ہارورڈ یونیورسٹی کی ڈگری سے
محروم کردیا جائے تو یہ ملکی عزت کے لیئے کوئی بہت بڑا سودا نہیں ہے۔ صمد
کو اپنے نام کی مناسبت سے ‘‘اللہ وصمد‘‘ کی رحمتوں پر یقین رکھا چاہیئے
اور مجھے یہ بھی احساس ہے کہ اس کے اندر یقین کی یہ دولت وافر ہے جو اس نے
یہ اقدام کیا ہے۔
صمد خرم انتہائی غیر معمولی صلاحیتوں کا
حامل طالب علم ہے کیمبرج انٹرنیشنل امتحان 2005ء میں اس نے Aلیول میں 7اے
حاصل کئے۔ بعدازاں ہارورڈ یونیورسٹی سے اسے 2لاکھ 50ہزار ڈالر کی فل
سکالرشپ ملی جہاں وہ 4سال تک زیر تعلیم رہا۔ اب وہ یونیورسٹی کی ڈین لسٹ
میں شامل ہے اور شمالی امریکہ کے انگلش پارلیمانی مقررین میں اس کا دوسرا
نمبر ہے۔ ہارورڈ فاؤنڈیشن اسے ایوارڈ دے چکی ہے۔ فزکس اولمپیڈ2005ء کے لئے
اسے پاکستان سے بہترین فزیشسٹ کے طورپر منتخب کیا گیا تھا۔
اب
آپ خود ہی بتائیں کہ ایسا ذہین طالبعلم کیا صرف جذباتی طور پر ایسا فیصلہ
یا اقدام کرے گا۔ بلا شبہ نہیں، صمد نے بہت آگے دیکھ کر اور اپنی زندگی کے
آنے والے دنوں کو ناپ تول کر یہ اقدام کیا ہے۔رہی چند درباری تبصرہ نگاروں اور صحافیوں کی یہ بات کہ
‘‘صمد
خرم برخوردار ! ہوسکتا ہے کہ تمہاری طرح کے سیکڑوں جذباتی اس پر دو چار دن
واہ واہ کر لیں کہ تم نے اسلام آباد کے بھرے مجمع میں مسز جنرل اشفاق
کیانی کی موجودگی میں امریکی سفیر کے ہاتھ سے ہاورڈ سکالر شپ لینے سے
انکار کرکے دونوں کو بھونچکا کردیا اور یوں تم نے مہمند ایجنسی پر امریکی
بمباری پر احتجاج کرتے ہوئے کچھ اخبارات میں جگہ حاصل کرلی، کاش تمہیں
معلوم ہوتا کہ تمہاری طرح کے جذباتی لوگوں کی اس طرح کی حرکتوں سے ملکوں
کی پالیسیاں بدلتی ہیں اور نہ ڈھٹائیاں ختم ہوتی ہیں، اگر تمہیں معلوم
ہوتا کہ تم ہاورڈ کی تعلیم سے مسلح ہو کر اپنے ”کاز“ کے لیے زیادہ بہتر
طور سے لڑ سکتے ہو تو شاید تم اپنے بچکانہ پن کو ذرا دیر کے لیے قابو میں
رکھتے، وہ ہاورڈ سکالر شپ جس کے خواب دیکھتے دیکھتے لاکھوں طلبا اپنے
تصورات میں جیتے اور مرتے ہیں، تم نے اسے لات مار دی، پیارے صمد خرم ! اس
دنیا میں کامیابی اسے ملتی ہے جو تمہاری طرح تنک مزاج نہ ہو اور جس کی
کھال گینڈے سے زیادہ موٹی ہو، تم ویسے چیز کیا ہو ؟ کیا سارتر ہو جس نے
نوبل پرائز دھتکار دیا تھا یا پھر ڈڈلی نکولس، جارج سکاٹ یا مارلن برانڈو
ہو جنہوں نے آسکر مسترد کرکے اپنی عظمت کی ٹوپی میں سرخاب کے ایک اور پر
کا اضافہ کرلیا، صمد خرم ! یا تو تم چریا ہو یا پھر امریکہ پاگل ہے !‘‘صمد
خرم کے اقدام پر یہ تبصرہ اور رائے پاکستان کے ایک موقر اخبار کے نمائندے
اور تبصرہ نگار نے اور دنیا کے ایک بہت بڑے عالمی نشریاتی ادارے کے ایک
نام نہاد معروف کالم نگار نے دی ہے۔ مجھے تو ایسے قلم کاروں کے جواب میں
صرف اتنا کہنا ہے کہ ”صمد خرم پاگل نہیں مشرف اورامریکہ پاگل ہیں“
پاکستان
میں ہی ایسے اداروں کی کمی نہیں ہے جو ہاورڈ سے زیادہ سکالر شپ ایسے باعزت
اور وطن پرست نوجوانوں کو دے سکتے ہیں اور تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ
‘‘پاکستان میں ہی میاں محمود علی قصوری فاؤنڈیشن نے پاکستانی طالبعلم صمد
خرم کو اعلیٰ تعلیم کیلئے مکمل وظیفہ دینے کی پیشکش کی ہے انہیں یہ پیشکش
اس جرآت پر کی گئی ہے جو انہوں نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے ہاورڈ
یونیورسٹی کا وظیفہ لینے سے انکار کر کے دکھائی تھی۔یہ وظیفہ مرحوم میاں
محمد قصوری کے صاحبزادے اور سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری کے
بھائی دانیال قصوری نے انہیں دینے کا اعلان کیا ہے،دانیا ل نے مزید کہا کہ
صمد خرم نے کوئی چھوٹا کام نہیں کیا اس نے اپنے انکار کے ذریعے ہمارے سر
فخر سے بلند کردیئے ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے‘‘۔