مفکر اہلبیت،مرثیہ نگار ،نقاد اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیِ صفدر ھمدانی
اپنے حالیہ دورہ سویڈن کے بعد واپس لندن پہنچ گئے ہیں۔ اپنے قیام کے آخری روز تیرہ مئی سوموار کو سٹاک ہولم کے سرکاری سکولوں میں اردو کی تعلیم کےانتظامات کے سلسلے میں ایک خصوصی بریفنگ میں شرکت کی اور سرکاری سکولوں کے اعلیٰ حکام سے اس ضمن میں تبادلہ خیال کیا جسکے بعد کل چودہ مئی منگل کے روز وہ واپس لندن روانہ ہوگئے
اس سے قبل بارہ مئی کی شام جناب صفدر نے
سٹاک ہولم کے علاقہ فیتیا میں پاکستان سوسائٹی کے صدر جناب حیدر شکوہ کی دعوت پر محفل ذکر باب العلم میں دو گھنٹے دورانیئے کا خصوصی خطاب کیا جس میں طلب علم اور حصول علم کے حوالے سے فکری اور شعور کی بیداری کی گفتگو ہوئی جسے خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے انتہائی دلچسپی اور انہماک سے سنا
دردو کی بارش میں اس محفل کا آغاز جناب ایوب خان نے اپنی خوبصورت آواز میں مناقب امیرالمومنین علی علیہ السلام سنا کر کیا
اس فکری محفل میں نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جسے جناب صفدر ھمدانی نے سراہا اور کہا کہ گزشتہ بیس برس سے عزا خانوں کے منبر پیشہ ور مولویوں کے قبضے میں آ گئے ہیں جنہوں نے اب باقاعدہ اپنا دباؤ بڑھانے کے لیئے اپنی تنظیمیں بنا لی ہیں اور مختلف طریقوں کے عبادت گاہوں کے منتظمین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ انکی مرضی کے لوگوں کو خطابت و تقریر کے لیئے مدعو کیا جائے بصورت دیگر بائیکاٹ تک کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں
جناب صفدر ھمدانی نے کہا کہ علی کے در سے وابستہ ہر ایک فرد پر انفرادی طور پر علم حاصل کرنے کی ذمیداری کیونکہ سلسلہ محمدی کے بارہ در علم کے در ہیں اور یہ انتہائی شرمندگی کا مقام ہے کہ علی کا ماننے والا دینی اور دنیاوی علم سے بے بہرہ ہو۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیشہ ور لوگوں سے جان چھڑانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پہلے ہم اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر اپنے ذہین بچوں کو دینی تعلیم دلوائیں تا کہ منبر علی ورسول سے منافرت پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ منبر سے پیغام اہلبیت کو موثر اور بہتر طریقے سے پہنچائیں
انہوں نے کہا کہ نفس رسول علی علیہ السلام نے اپنی حیات میں اپنی شجاعت پر خود ایسے ناز نہیں کیا جیسے اپنے علم پر کیا۔ بلکہ انکی شجاعت کی تعریف انکے دشمن نے کی۔ علی علیہ اسلام کی ذات صرف علم ہی علم ہے اسی لیئے آپکا ارشاد ہے کہ میرے نزدیک آسمانوں کے راستے زمینوں کے راستوں سے زیادہ روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفس رسول علی کو علم خود شہر علم نے دیا اور مولا علی نے فرمایا کہ حضور نے مجھے علم ایسے دیا جیسے پرندہ چونچ سے اپنے بچے کو دانہ دیتا ہے
انہوں نے کہا کہ عام پیشہ ور مولوی اپنے لیئے عالم دین کا لفظ استعمال کرتا ہے اور عالم دین کا لبادہ اوڑھ کر حق کی ترویج و تشہیر کی بجائے ذاتی مفادات کو عملی جامہ پھیلا رہا ہے اور عام مومن کو حصول علم کی ترغیب بھی نہیں دیتا۔ ہم نام علی کا لیتے ہیں لیکن ہمارا عمل بے عملی کی تصویر ہے۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دنیاوی علم کے ساتھ ساتھ دینی علم بھی حاصل کریں تا کہ ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری ختم کی جاسکے
مفکر اہلبیت کی دو گھنٹے کی طویل گفتگو کا تفصیل جلد ہی رپورٹ میں پیش کی جائے گی
محفل کے اختتام پر شریک خواتین وحضرات کے لیئے نزر امام کا اہتمام کیا گیا تھا جبکہ معدودے چند افراد کو جناب حیدر شکوہ نے اپنے در دولت پر عشایئے کے لیئے مدعو کیا تھا