لکھنؤ- انجمن ترقی اُردو اُتر پردیش کے ایک وفد نے اُتر پردیش کے گورنر عالی جناب بی۔ایل ۔ جوشی سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی وفد میں چودھری شرف الدین (لکھنؤ) ، محمودالظفررحمانی ایڈوکیٹ (رامپور)، شوق امروہوی (امروہہ)، صحافی حسین

امین(لکھنؤ)، محمد سلیم ایڈوکیٹ (سہارنپور)، قمر الحسن خاں(اُناؤ)، جنید الظفر ایڈوکیٹ(لکھنؤ) شامل تھے ۔
وفد نے گورنر موصوف ۹ نکاتی میمورنڈم پیش کیا جس میں اُردو کو صوبے کی دوسری سرکاری زبان عملی طور پر بنائے جانے، معلم اُردو کی ڈگری رکھے طالب علموں کو روزگار دینے کے سلسلے میں جو شرط لگائی اُسے ہٹا کر پاس کرنے والوں کو سرکاری نوکریوں میں لگایا جائے اور جو عمر کی حد پار کر چکے ہیں انکو خصوصی طور پر چھوٹ دینے اُتر پردیش اُردو اکیڈمی ، فخر الدین علی کمیٹی اور مدرسہ بورڈ کے عہدوں کو تشکیل کرنے اور صوبہ کی ہر ضلع و تحصیلوں میں اُردو میڈیم ہائی اسکول اور انٹر کالج کھولے جانے اور پرائمری و سکینڈری سطح کے نصاب کی کتابوں کو اُردو میں چھپوانے کا حکم صادر کرنے، اُردو اکیڈمی کا رسالہ خبر نامہ کو ہرماہ پابندی سے شائع کرنے سہ لسانی فارمولے کو نافذ کئے جانے اور اسمیں اُردو کو بھی شامل کرنے اور ملک کی آزادی میں اُردو اخبارات میں اہم کردار ادا کرنے والوں اور اپنی جان و مال کی قربانی دے کر اپنے وجود کو خطرے میں ڈالنے اور اس وقت سے آج تک امن و امان اور بھائی چارگی بنائے جانے کے مشن پر آج تک خدامات انجام دے رہے ہیں ان کی مجاہد آزادی تسلیم کرتے ہوئے تمام سہولیت فراہم کرنے اور سینئر سٹیزن صحافیوں کو جو ہر ماہ ایک ہزار رروپئے کی گرانٹ ملتی ہے اُسے پانچ ہزار روپئے کئے جائیں۔ اور فخر الدین علی کمیٹی اُردو اکیڈمی و مدرسہ بورڈ میں انجمن ترقی اُردو کو نمائندگی دی جانے کی مانگ کی گئی۔
انجمن کے صوبائی جنرل سکیریٹری محموڈ الظفر رحمانی ایڈوکیٹ نے بتایا کہ گورنر موصوف نے انجمن کے وفد کو ہر ممکن تعاون دئے جانے کی یقین دہانی کرائی۔