اب جب وطن عزیز میں الیکشن اپنے انجام کو پہنچے ھیں اور مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے جیت گئی ھے ۔ پہلے تو کامیابی کی مبارک ھو تمام جیتنے والوں کو اور اللہ سے دعا ھے کے اسمبلی میں پہنچنے والا ہر بندہ اپنے ووٹر کے میعار پر پورا اترے جس میں حب الوطنی سر فہرت ھو آمین ۔
بلاشبہ ن لیگ بہت خوش ھے اپنی جیت پر ھونا بھی چاھیئے یہ قدرتی امر ھے ہر انسان اپنے مقصد کو پا لنے میں خوش ھوتا ھے لیکن یہ بھی ایک کڑی حقیقت ھے کے حکومت کو چلانا پھولوں کی سیج نھیں ھو گی ملک عزیز کو بے شمار ممسائل کا سامنا ھے جس میں دہشت گردی ، توانائی کا بحران ، بے روزگاری ، سر فہرست ھیں اس طرح کہا جا سکتا ھے نئی آنے والی حکومت کو ابھی بہت سے دریا عبور کنے ھیں ان تما م مسائل کو نبٹانا ھے اور ساتھ ساتھ وہ وعدے بھی پورا کرنے ھیں جو عوام سے کئے گئے ھیں ۔پھر ان تمام سائل کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک اور سب سے بڑا مسلہ جہالت ھے تعلیم کی کمی اگر مسلے حل کنرنے میں طے دل سے مخلص ھو کر سوچیں تو یہ بہت بڑا مسلہ ھے جس کی کڑی کسی نا کسی طرح سے ہر بڑے مسلے سے جا کر ملتی ھے اور اس طرح جہالت کی وجہ سے کوئی بھی مسلہ سلجھنے کی بجائے بڑھ جاتا ھے۔
ھماری عوام میں اکثریت ان پڑھ جاہل لوگوں کی ھے وہ اپنا اچھا برا نھیں سمجھتے تو ملک کے بارے کیا سمجھیں گے بد قسمتی سے اس طرف ھر آنے والی حکومت نے کم ھی توجہ دی ھے اگر تعلیم پر زیادہ توجہ دے کر پڑھا لکھا پاکستان بنانے کا سوچا جائے تو کافی دوسرے مسائل خود ھی حل ھو سکتے ھیں اس سلسلہ میں ہر شعبہ کو کام کرنا ھو گا اور اس طرح کے پیکج متعارف کرانا ھوں گے جس میں لوگوں کا رحجان زیادہ سے زیادہ تعیلم کی طرف ھو کیوں کے تعلیم ہافتتہ انسان ھی بھتر سوچ سکتا ھے بانسبت جاہل کے - جیسا کے شدت پسندی عدم برداشت ناکارہ پن بے مقصد مشاغل کاہلی ھنر مندی کی قدر نا ھوںا یا آبادی میں اضافہ ، صحت کے مسائل ،آلودہ ماحول گداگری چائلڈ لیبر صفائی کی قدر نا کرنا غیر مفید سرگرمیاں بچوں کی تربیت کا شعور نا ھونا یہ سب جہالت کی وجہ سے ھے ۔
اس کے لئے حکومت جو بھی کام خاص طور سے عوام کو ریلیف دینے والے کام اس میں تعلیم کو سر فہرت رکھا جائے جیسے کے پچھلی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا یہ بات مثالکے طور پر کہی گئی ھے اگر آنے والی حکومت اس طرح کا کوئی امدادی پروگرام لے کر آئے تو تعلیم ہافتہ افراد یا طالب علموں کو فائدہ دینے میں سر فہرست رکھے تو لوگوں میں علم حاصل کرنے کی رغبت ھو گی جیسے کوئی بھی ریلیف کا کام کریں ان لوگوں کو اہمیت دیں جو پڑھے لکھے ھیں یا اپنے بچوں کو پڑھا رھے ھیں اس طرح ان کی علم پسند ھونے کی قدر بھی ھو گی اور ان کی مدد بھی ھو جائے گی ۔
کافی لوگ غربت میں تنگ دستی کے باوجود اپنی اولاد کو اپنا پیٹ کاٹ کر پڑھا رھے ھیں وہ فائدہ حاصل کر سکیں گے اور جو اپنے اولاد کو پڑھانے میں دلچسپی نھیں رکھتے وہ تعلیم کا شوق کریں گے بچوں کو سکول بھیجنے لگیں گے ابھی تو اکثیریت اپنے بچوں کو اوائل عمر سے ھی کمانے کی طرف یا محنت مزدوری کی طرف لگا دیتے ھیں ،اگر کوئی پڑھا بھی رہا ھے تو اس شوق میں کے وہ بڑے افسر بنیں گے ،محنت کے کام یا ھنر مندی کی تربیت لینا خلاف شان سمجھتے ھیں یہ بھی جہالت کی وجہ سے جب کے تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزی کمائی کا سکتی ھے بجائے ناکارہ فارغ بیٹھ کر تنگد ست ھو کر جینے سے یہ بات پڑھا لکھا انسان زیادہ سمجھ سکتا ھے کافی لوگ زکوۃ کی رقم لینے میں زیادہ تگ و دو کرتے ھیں بجائے یہ سوچنے کے کے ھم خود محنت کر کے کمائیں وہ زیادہ باعزت ھے ، یا اکثریت بھیک مانگنا بہتر خیال کرتے ھیں بجائے محنت مزدوری کے خاص طور سے خواتین ۔
یہ بھی جہالت ھی کی وجہ ھے پھر اکثر لڑائی جھگڑے د نگے فساد بھی جہالت ھی کے باعث ھیں ، اپنا نظریہ دوسرے پر تھوپنا ایک پڑھا لکھا شخص اس کو کسی طرح بھی پسند نھیں کرے گا عدم برداشت کم علمی کا نتیجہ ھوتاھے ۔ آبادی میں اضافہ بچپن کی شادی یہ سب جہالت کی وجہ سے ھے ماحول کی آلودگی بھی جہالت ھی کی وجہ سے ھے اس طرح غور کرتے جائیں تو ھمارے ملک کے بیشتر مسائل تعلیم کی کمی ھی کی وجہ سے ھیں اس لئے اس مسلہ کو گمبھیر سمجھتے ھوئے اس سے نبر د آزما ھونے کا سوچتے ھوئے عملی اقدام کئے جائیں جس کے لیئے گاؤں ، دور دراز بستیوں میں ایسے سکول قائم کئے جائیں جو تعلیم کے ساتھ ساتھ ھنر مندی کی تربیت بھی دیں۔