16.10.2026, 08:55am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

ریڈیو پاکستان جیسے تاریخی ادارے پر رحم کریں
14.10.2008, 04:13pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمٰدانی-لندن

ریڈیو پاکستان انتظامی طور پر ایک کارپوریشن ہے لیکن کسی بھی میونسپل کارپوریشن سے بہت مختلف ،اس لیئے یہاں کے انتظامی فیصلوں میں ایسا ہی واضح اور وسیع فرق نظر آنا چاہیئے۔
ریڈیو پاکستان سے ایک طویل وابستگی کی وجہ سے جب بھی اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوئی وجہ بنی ہے تو اس ادارے کے اکثر احباب اور دوستوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے اور میں نے کسی نفع اور نقصان کو بالائے طاق رکھ کر جس بات کو حق سچ جانا ہے ضرور لکھا ہے چاہے ایسی تحریر کی گرفت میں خود میرے اپنے دوست اور ساتھی ہی کیوں نہ آتے ہوں۔

مجھے یہ بھی فخر رہا ہے کہ میں نے ریڈیو پاکستان کی اسلام آباد کی تربیت گاہ‘‘ پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈمی میں کئی برس نئے پروڈیوسروں کو پڑھایا اور نشریاتی تربیت بھی دی ہے اور آج پروگرام مینجر اور ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے کے کتنے ہی دوستوں کی ترقی اور اہلیت اور استعداد کو میں نے خود اپنی آنکھوں سے پروان چڑھتے دیکھا ہے۔

میں ریڈیو پاکستان کے ان معدودے چند لوگوں میں سے ہوں جس کی اس تاریخی ادارے سے نسلوں کی یا خاندانی وابستگی رہی ہے۔میرے والد تاریخ کا ایک باب ہیں جنہوں نے اس نشریاتی ادارے سے تیرہ اور چودہ اگست انیس سو سنتالیس کی درمیانی رات کو پاکستان کے قیام کا پہلا اعلان اردو میں کیا تھا اور جب 1980میں انکی وفات کے بعد کچھ مفاد ہرستوں ،طالع آزماؤں اور نام نہاد محققین نے اس تاریخی امر کو متنازعے بنانے کی کوشش کی تو اسوقت بھی میں نے اپنا قلمی اور نشریاتی فرض ادا کرتے ہوئے متعدد اقساط پر مشتمل ایک دستاویزی تحریر قلمبند کی تھی جسے ریڈیو کے حلقوں نے بالخصوص اور دیگر حلقوں نے بالعموم یہ کہہ کر سراہا تھا کہ کم ازکم ایک تاریخی دستاویز اپنے متعدد ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہے اب جس کا جو جی چاہے وہ کرے۔

ریڈیو پاکستان کا پروگرام کا شعبہ جو دراصل اس ادارے کی ریڑھ کی ھڈی ہے اور اس ادارے کی نشریات کا 90فیصد سے زیادہ وقت یہی شعبہ پورا کرتا ہے ۔ ایک وقت تھا جب ‘‘حالات حاضرہ‘‘ بھی اسی پروگرام کے شعبے کا ہی حصہ ہوا کرتے تھے جو بعد میں شعبہ خبر میں شامل ہو گیا لیکن ایک طویل عرصے تک پروگرام کے شعبے کا فرد ہی شعبہ خبر کے تحت حالات حاضرہ کے شعبے کو چلاتا رہا اور ان لوگوں میں سب سے زیادہ نمایاں نام سید حسن ذکی کاظمی کا ہے جو سو فیصد تھے تو پروگرام کے آدمی لیکن شعبہ حالات حاضرہ کو بھی انہوں نے ایک منفرد کامیابی کے ساتھ چلایا اور اب حال ہی میں ہماری ساتھی اور بہت اچھی دوست سیما مشتاق یہی خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں۔

مجھے آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی کسی قسم کی کوئی افتاد پڑی تو سب سے پہلے پروگرام ہی کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا اور نقصان بھی پہنچایا گیا۔ مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ مئی 2006میں بھی پروگرام کے شعبے کے ساتھ ایک سازش کے تحت زیادتی کی گئی تو مجھ سے دوستوں نے رابطہ کیا تھا جس پر میں نے چھ اقساط پرمبنی ایک سلسلہ تحریر کیا تھا۔

اسوقت مسلہ یہ تھا کہ انفارمیشن گروپ سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو ریڈیو پاکستان کے شعبہ پروگرام میں بحیثیت پروگرام مینیجر متعین کیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے پی بی سی پروگرام سٹاف میں شدید بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی تھی اور جہاں تک مجھے علم ہے کہ پروگرام کے شعبے کے لوگوں نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تھا اور میری اسوقت کی تحریریں عدالتی کاروائی کے حصے کے طور پر شامل ہوئی تھیں کہ ان میں وہ سب حقائق تھے جن سے اکثر ہمارے ہاں سیکرٹری اور متعلقہ وزیر کو آگاہ ہی نہیں کیا جاتا۔

اس وقت بھی جس بات کو میں نے مرکزی نکتہ قرار دیا تھا وہ بات آج کی نئی نام نہاد جمہوری اور عوام دوست حکومت کے آنے کے بعد بھی جوں کی توں ہے۔میں یہاں اس بات کی وضاحت بھی کر دوں تا کہ میرے الفاظ کو ملک دشمنی پر مامور نہ کیا جائے کیونکہ حکومت اور ریاست دو الگ الگ چیزیں ہیں اور پھر میری نسل کے لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی نظریاتی پارٹی کے ساتھ اپنا فکری سفر شروع کیا تھا اور ایف سی کالج لاہور سے جامعہ پنجاب کے شعبہ صحافت تک اور اپنی ریڈیو کی ملازمت کے دوران بھی اُسی نظریاتی فکر کو زندہ رکھا جس کے لیئے ذوالفقار علی بھٹو کو سفرِ دار کرنا پڑا تھا۔

جہانگیر بدر،ثمر خان، راجہ اعجاز اللہ ، جمیل الدین راٹھور،خالد عباد اور ایسے کتنے دوستوں کے ساتھ کہ اب جن کا نام بھی کوئی نہیں جانتا ہم نے جو جیل کاٹی تھی تو یہ سب تپسیا اسلام آباد میں پلاٹ لینے کے لیئے اور ملازمت میں بے جا ترقی حاصل کرنے کے لیئے نہیں تھی بلکہ اس نظریے کی بقا اور اسے آگے بڑھانے کے لیئے تھی جس کا بنیادی نکتہ ملک کے ان غریب اور نادار عوام کی حالت بدلنا تھا جو آج غربت کی لکیر سے بھی بہت نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔

ریڈیو پاکستان میں ادبی محاذ پر بھی مجھ سمیت حامد جیلانی،شائستہ حبیب،افضال بیلا،طاؤس بانہالی، فقیر حیسن ساحر،ستار سید اور ایسے کتنے ہی دوستوں نے اپنی اس نظریاتی اور فکری وابستگی کو برقرار رکھاجس کے باعث کتنے ہی نقصانات برداشت کرنا پڑے۔

لیکن پھر جب پارٹی پر مفاد پرستوں کا غلبہ ہوا تو ہم جیسے متعدد دوستوں نے خود کو اس گناہ میں شامل کرنے سے اجتناب کیا اور خاموشی سے اپنی زندگیوں کی کتاب میں سے اس باب کو پھاڑ کر پھینک دیا کہ ہمارا مسلک اور کیش کبھی یہ رہا ہی نہیں کہ ‘‘حیسن سے بھی محبت یزید کو بھی سلام‘‘۔

یہ چند سطور پیپلز پارٹی کی نظریاتی دنیا سے اپنی وابستگی بتانے کے لیئے نہیں لکھیں بلکہ صرف اس لیئے لکھی ہیں کہ میری باتوں کو کوئی کسی جماعت اسلامی یا مسلم لیگ ا ب پ ت ق ن کے کسی آدمی کی باتیں قرار نہ دے۔

بات ہو رہی تھی ریڈیو پاکستان کے شعبہ پروگرام کے لوگوں سے ہونے والی زیادتیوں کی اور ذکر تھا دو ہزار چھ کا اور اسوقت میں نے 3 مئی 2006کے ایک کالم کی ابتدا جن الفاظ سے کی تھی وہ ایک بار پھر من وعن یہاں تحریر کر رہا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ ‘‘زمیں جنبد نہ جنبد گُل محمد‘‘ والی بات کتنی صادق ہے۔میں نے لکھا تھا۔۔۔۔۔

‘‘میں نے اب سے کچھ برس پہلے جب ریڈیو پاکستان کو مجبوراً ہمیشہ کے لیئے خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل اور سابقہ سیکرٹری اطلاعات جناب انور محمودکو ایک خط میں یہ تحریر کیا تھا کہ ’’ میں نے اپنی تین نسل کے اس ادارے کو خیر باد کہنے کا کڑا فیصلہ صرف اور صرف ریڈیو کے کلرکانہ ذہنیت کے اُن افسران کے رویے سے تنگ آ کر کیا ہے جنہیں نہ تو اس ادارے کی تاریخ معلوم ہے اور نہ ہی اس ادارے کے کام کی نوعیت اور نزاکت کا احساس ہے. یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بھی کسی شہر کی میونسپل کارپوریشن کی طرح چلانا چاہتے ہیں‘‘.

آج کل ایک بارپھر ریڈیو پاکستان کے شعبہ پروگرام میں ایک عجب بے بسی کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ ملک میں پیپلز پارٹی کی نئی حکومت کے قیام کے بعد سے حکومت نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کلیدی اداروں میں اپنے من پسند افراد کی تعنیاتی شروع کی جس کا عمل اب لگ بھگ مکمل ہو چکا ہے۔

مجھے اس امر کا ادراک بھی ہے اور شعور بھی کہ ساری دنیا میں ہر حکومت وقت کا یہ حق بھی ہوتا ہے اور اختیار بھی کہ وہ ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے اپنے ہم فکر افراد کو اہم اداروں کا سربراہ بنائے اور اس عمل میں ایسے لوگ بھی سامنے آتے ہیں جن کی تعیناتی انکی پیشہ وارانہ اہلیت اور صلاحیت کی بجائے اُس سیاسی جماعت سے وابستگی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

مجھ جیسے بے بساط آدمی کو بھلا اس سارے عمل پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور اگر ہو بھی تو بھلا میرا اعتراض یا نکتہ نظر کس گنتی میں؟ جس ملک میں نوے فیصد سے زائد عوام کی کوئی آواز،رائے یا مشورہ نہ سنا جاتا ہو وہاں بھلا ہم جیسے قلم کار اور بھی سچ کو سچ اور حق کو حق کہنے والے اور شاہ کے دربار سے میلوں دور رہنے والے لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔ مگر اپنا زندگی بھر کا نظریہ یہ رہا ہے کہ اپنی بات کو کہتے رہو اسوقت تک جب تک بات کہنے کی ہمت اور وسائل میسر ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں سیاسی اور حکومتی تبدیلی کے بعد جن دو چار اداروں پر حکومت وقت سب سے پہلے اپنا کنٹرول مضبوط کرتی ہے ان میں سے ایک ‘‘وزارت اطلاعات اور اسکے ذیلی ادارے ‘‘ خاص طور ریڈیو ،ٹی وی اور پریس انفرمیشن ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے وزارت اطلاعات کا قلمدان ‘‘موجودہ پیپلز پارٹی‘‘ کی ترجمان فعال کارکن شیری رحمان کے حوالے کیا جو ایک عملی صحافی ہیں اور ذرائع ابلاغ سے خاصی حد تک آشنا ہیں۔

اسکے ساتھ ہی سیکرٹری اطلاعات انور محمود کی آخر کار رخصتی ہوئی اور امریکہ میں متعین پریس اتاشی اکرم شہیدی کو سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا۔ ان تعیناتیوں میں حیرت ناک دو تعیناتیاں ہوئیں ۔

ایک ‘‘میرے مطابق‘‘ والے ڈاکٹر شاہد مسعود کی پاکستان ٹیلی ویژن کے ایم ڈی اور چیرمین کی حیثیت سے کہ یہ تعنیاتی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس انداز میں کی گئی کہ جہاں چیرمین ہمیشہ سکرٹری اطلاعات ہوتا تھا اور ایم ڈی کی تقرری الگ ہوتی تھی۔ اس بار یہ دونوں منصب ایک ہی فرد میں جمع کر دیئے گئے اور یہ وہ ہی اختیارات کے ارتکاز کا فلسفہ ہے جس نے اس ملک کے ہر شعبے کو ہر سطح پر نقصان پہنچایا ہے۔


کچھ دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو زبان بند رکھنے کے لیئے ایسا گرانقدر پیکج دیا گیا ہے کیونکہ حکومت کو حکومت سے زیادہ عقل مند مشیروں نے یہی مشورہ دیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی زبان کی کاٹ کو ٹھنڈا کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ انہیں ‘‘آف مائیک اور آف سکرین ‘‘ کر دیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ حکمت عملی کہاں تک کامیاب ہوتی ہے۔

وزارت اطلاعات میں دوسری حیران کُن تقرری ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل کے طورپر مرتضیٰ سولنگی کی ہوئی جن سے میں بزات خود خاصی حد تک آشنا ہوں۔ مرتضیٰ سولنگی صوبہ سندھ میں پرنٹ میڈیا سے صحافی کے طور منسلک رہے اور گزشتہ چند برس سے امریکہ میں وائس آف امریکہ کی اردو سروس میں ایک پروڈیوسر کے طور پر کام کر رہے تھے اور وائس امریکہ کی اردو سروس میں میرے اپنے ذرائع کے مطابق انہوں نے وہاں سے رخصت لیکر ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا ہے۔ان سے قبل اس عہدے پر انفرمیشن گروپ کے جاوید اختر کام کررہے تھے ۔

موجودہ ڈائریکٹر پروگرام نیر محمود اسی ماہ چند روز بعد ریٹائرڈ ہونے والی ہیں اور انکی جگہ ستار سید نئے ڈائریکٹر پروگرام ہوں گے اور یہ بات واضح کر دوں کہ یہ دونوں لوگ میرے ہم عصر بھی ہیں اور ہم سب ریڈیو پاکستان میں ایک ہی دن ملازم ہوئے۔ نیر محمود کا ڈائریکٹر پروگرام بننا ایک الگ قصہ ہے اور اگر کوئی اور ملک ہوتا جہاں عدل اور عدالت آزاد ہوتی تو اس تقرری کو بھی چیلنج کیا جا سکتا تھا لیکن وہ تو بھلا ہو انتخابی نتائج کا کہ حکومت بدل گئی اور اسی تبدیلی کی نذر انور محمود ہوئے اور اب اسی کے نتیجے میں نیر محمود کو بھی ریٹائرڈ ہونا پڑ رہا ہے ورنہ دوستوں کے مطابق وہ ریڈیو پاکستان کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل بننے کا اعزاز بھی اسی طرح حاصل کر سکتی تھیں جیسے وہ اسی ادارے کی پہلی خاتون ڈائریکٹر پروگرام بنائی گئیں۔

ستار سید میرے بہت قریبی اور مخلص دوست ہونے کے علاوہ ایک اچھے شاعر اور صاحب فکر انسان ہیں لیکن اداروں میں انتظامی نوعیت کے ایسے مناصب ایسی ذاتی خوبیوں سے کچھ زیادہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ مجھے ستار سید کی انتظامی صلاحیتوں پر خاصہ یقین ہے کیونکہ انہوں نے کئی برس کامیابی سے لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر کے طور پر گزارے ہیں۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اب ڈائریکٹر پروگرام کے طور پر وہ پورے پاکستان میں ریڈیو کے شعبہ پروگرام کے سینکڑوں افراد کے سربراہ ہوں گے اور انکے تمام مفادات کی ذمیداری انکی ہو گی کیونکہ ڈائریکٹر جنرل پورے ریڈیو کا سربراہ ہوتا ہے لیکن باقی ہر شعبے کا سربراہ اسکا ڈائریکٹر ہوتا ہے۔

میں اس موقع پر ستار سید کو جلد ہی یہ منصب سنبھالنے پر مبارکباد بھی دیتا چلوں اور یہ یاد دہانی بھی کرواتا چلوں کہ انکو پورے ریڈیو پاکستان میں پروگرام کے شعبے کے لوگوں کے مفادات کا خیال رکھنا ہو گا اور اگر کہیں کوئی زیادتی ہوتی ہے تو انہیں اس لیئے بھی اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنا ہو گا کہ وہ اپنی ملازمت کا ننانوے فیصد حصہ گزار چکے ہیں اور انہیں آنے والوں کے لیئے ایک روشن مثال چھوڑ کر جانا ہو گا
ا۔

یہ ساری قدرے طویل تمہید اس لیے لکھنا پڑی ہے کہ ریڈیو پاکستان کے نئے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری کے بعد سے پروگرام کے شعبے میں بے چینی روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اس کا تازہ ترین شاخسانہ ایسا ہے کہ جسکی شاید ریڈیو پاکستان کی پوری تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔

لاہور،اسلام آباد،کراچی،کوئٹہ اور پشاور کے علاوہ متعدد دیگر نشریاتی مقامات سے جن دوستوں نے گزشتہ چند روز میں مجھے درجن بھر سے زیادہ ای ملیز بھیجی ہیں ان کے مطابق نئے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے دورہ کراچی کے موقع پر‘‘مناسب پروٹوکول‘‘ نہ ملنے کی پاداش میں کراچی ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر معروف شاعر،ادیب ،دانشور اور ریڈیو کے تجربہ کار پروڈیوسر،کمپیئر اور افسر اقبال فریدی کو فوری طور پر انکے اس منصب سے الگ کر کے ریڈیو کے مجلے‘‘آہنگ‘‘ میں متعین کر دیا ہے اور انکی جگہ کراچی کے ہی ‘‘کنٹرولرانجینئرنگ حفیظ میمن‘‘ کو اسٹیشن ڈائریکٹر کراچی متعین کیا۔

مجھے علم نہیں کہ میمن صاحب کی یہ تقرری عارضی ہے یا مستقل،لیکن اس قضیے میں پڑے بغیر میں سمجھتا ہوں کہ اس سے قبل ریڈیو کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اگر اقبال فریدی کی جگہ کسی کو عارضی یا مستقل متعین کرنا ہی تھا تو ایف ایم کراچی کے علاوہ سنٹرل پروڈکشن میں بھی پروگرام کے شعبے کے سینئر لوگ موجود ہیں جن میں سے کسی کو اس منصب پر لگایا جاسکتا تھا اور ماضی میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

حفیظ میمن کی اس تقرری پر اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں کنڑولر ہوم اور میرے بہت پیارے دوست اور ریڈیو کے ایک مستعد اور فعال کارکن مجتبیٰ عامر نے اختلاف کیا جس پر انہیں فوری طور پر مظفر آباد ٹرانسفر کر دیا گیا۔ کراچی میں پروگرام کے شعبے کے لوگ اس پر احتجاج کر رہے ہیں اور باقی نشریاتی مراکز پر پروگرام کے عملے میں شدید بے چینی ہے۔

مجھے ایسے انتظامی فیصلوں کا خوب اچھی طرح سے ادراک ہے کہ یہ کیسے اور کیوں کیئے جاتے ہیں اور پھر ایک طویل عرصے تک ان کے منفی اثرات کس حد تک ادارے کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔

میں اس امر کا حامی ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو اگر اپنے مخصوص لوگوں کو نوازنا ہی ہوتا ہے اور انہیں اعلیٰ مناصب پر فائز کرنا ہی ہوتا ہے تو وہ کم از ریڈیو جیسے پرفیشنل اداروں کو ایسی ‘‘شاہانہ عنایات‘‘ سے محفوظ رکھیں۔ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ اپنے سیاسی ہم فکر ساتھیوں کو کسی ملک میں سفیر لگا دیں،کسی صوبے کا گورنر بنا دیں یا پی آئی اے یا ریلوے کا چیر مین بنا دیں لیکن کم از کم ریڈیو پاکستان جیسے ملک کے تاریخی اور اساسی ادارے کی حُرمت کا خیال رکھیں۔

نیر محمود، ستار سید اور مجتبیٰ عامر ،عبیدہ سید اورسیما مشتاق کی طرح اقبال فریدی بھی ہمارے ساتھ ایک ہی روز اس ادارے میں شامل ہوئے اورتین عشروں سے زیادہ عرصے تک اپنی تمام فنی اورتخلیقی صلاحیتیں اس ادارے کی نذر کیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ستر کے عشرے کے اوائل میں براہ راست پروڈیوسر کے طور باقاعدہ اسوقت کے سٹاف ٹریننگ سکول سے تربیت لیکر اس تاریخی ادارے میں شامل ہوئے تھے۔

اب جبکہ ان دوستوں کی ریٹائر منٹ میں چند ماہ یا ایک ڈیڈھ سال کا عرصہ باقی ہے تو انہیں عزت سے رخصت کیا جانا چاہیئے کہ عزت کرنا بھی ایک صدقہ جاریہ ہے اور ایسا صدقہ جاریہ جسکا انعام اور پھل اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل کی یہ کُرسی ایسی کُرسی ہے جس پر زیڈ۔اے۔بخاری،خواجہ شاہد حیسن،اجلال حیدر زیدی،کے جی مرتضیٰ، قاضی احمد سعید،عبدالخالق اعوان، (اپنے تمام تر تحفظات اور اختلافات کے باوجود) ماہر نشریات سلیم گیلانی اوراشفاق گوندل جیسے انتظامی اور نشریاتی ماہر بیٹھ چکے ہیں اور اس کرسی کی عزت و حُرمت کو برقرار رکھنا ہر نئے آنے والے پر فرض ہے۔

میں ذاتی طور پر محترم مرتضیٰ سولنگی سے درخواست کرؤں گا کہ اقبال فریدی جیسے لوگ یقین کریں موجودہ ریڈیو پاکستان کا سرمایہ ہیں اور یہ تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود ریڈیو پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک نہیں گئے۔

یہ لوگ ریڈیو پاکستان کے حوالے سے فیض احمد فیض،احمد ندیم قاسمی، ناصر کاظمی، مختار صدیقی، صادقین،احمد ظفر،رضی اختر شوق۔ضیا جالندھری،ن م راشد،جعفر طاہر،احمد ھمدانی،سلیم احمد،احمد فراز، رضی ترمذی،ایوب رومانی، عزیز حامد مدنی،حاجی یوسف ظفر، بشیر زیدی اسیر،عطا حیسن کلیم اور ایسے کتنے ہی بڑے ناموں کا تسلسل ہیں جنہوں نے ریڈیو پاکستان کو تہذیب اور نشریات کا ادارہ بنانے میں اپنی تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کا استعمال کیا اور انہی لوگوں کی وجہ سے ریڈیو پاکستان کا بڑا نام ہوا۔

میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی ادارے میں وہاں کے کلرک اور چوکیدار کی مدت ملازمت کا تو علم ہوتا ہے لیکن اس ادرے کے سربراہ کی مدت تعیناتی کا کچھ علم نہیں ہوتا اور خاص طور پر ایسی تعیناتیاں جو پیشہ وارانہ اہلیت و صلاحیت کی بجائے سیاسی بنیادوں پر ہوں انکا تو قطعی طور علم نہیں ہوتا کہ کب تک قائم رہیں۔

اس لیئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے منصب پر فائز افراد کو اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بجائے انہیں مستحکم کرنے پر وقت صرف کرنا چاہیئے،نام نہاد مشیروں کے مشوروں پر عمل کرنے کی بجائے اپنی آنکھیں کھُلی رکھنی چاہیئیں اور ان کارکنوں کی تکالیف میں اضافے کا موجب بننے کی بجائے انکے مصائب کم کرنے یا دور کرنے کا موجب بننا چاہیئے جنکے دم قدم سے ایسے اداروں میں زندگی کی لہر دوڑ رہی ہے۔

ریڈیو پاکستان انتظامی طور پر ایک کارپوریشن ہے لیکن کسی بھی شہر کی میونسپل کارپوریشن سے بہت مختلف ،اس لیئے یہاں کے انتظامی فیصلوں میں ایسا ہی واضح اور وسیع فرق نظر آنا چاہیئے۔

:دیگر مضامین
(14.10.2008) اردو شاعری کی ایک روشن سحر‘‘سحر علی‘‘
(14.10.2008) صمدخرم پاگل نہیں مشرف اورامریکہ پاگل
(14.10.2008) وینکور میں ۔روشنی حرا سے۔ کی تقریب رونمائی
(14.10.2008) جب راج کرے گی خلق خدا !
(14.10.2008) رداری،امریکہ اور مشرف مفادات کے نگہبان؟
(14.10.2008) سید قمر عباس کی پہلی برسی
(14.10.2008) ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
(14.10.2008) الف سے آٹا،ف سے فاٹا،ج سے جوتا ج سے جمہوریت
(14.10.2008) کابینہ کے مجرم یا مجرموں کی کابینہ
(14.10.2008) عبیدہ سید۔ہمہ جہت قلمکاراورمنفردشخصیت
(14.10.2008) اب ٹوٹ جائیں گی زنجیریں اب ایوانوں کی خیر نہیں!
(14.10.2008) غیر ملکی لکھاریوں کا نام نہاد پاکستانی پبلشرز کے ہاتھوں استحصال
(14.10.2008) الفاظ کی طلب نہیں تصویر کو ذرا
(14.10.2008) بے راہ اور بے عمل قوم اپنی موت خود ہوتی ہے
(14.10.2008) سید حسن عباس ایک یادجو برسوں ذہن میں تازہ رہے گی
(14.10.2008) کشمیر سنگھ رہا لیکن جسٹس افتخار چوہدری؟
(14.10.2008) جنرل ریٹائرڈ مشرف۔خطرے کی گھنٹی بج گئی
(14.10.2008) ‘‘اب یہ بہتر ہے کہ سرکار بھی تیاری کریں‘‘
(14.10.2008) ‘‘ہم نہ کہتے تھے کہ دستار میں سر ہوتا ہے‘‘
(14.10.2008) انتخابات کا ایک مرحلہ ختم اوردوسرا شروع



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں