بچے ہر ملک کا قیمتی سرمایا ھوتے ھیں خاص کر طالب علم جن سے ھمارے مقدر اور ترقی وابسطہ ھوتی ھے ، آجکل پورے ملک میں اننٹر میڈیت کے امتحان ھو رھے ھیں یہ ایسا اہم امتحان ھے جس کو پاس کرنے کے بعد ایک طالب علم اپنے مستقبل کا تعین کرتا ھے ڈاکٹر انجنئر یا پروفیس ھو یا کوئی بھی دوسری فیلڈ یا شعبہ اس امتحان میں طالب علم کی کارگردگی پر ھی منحصر ھوتا ھے کہ وہ کس شعبہ کے معیار پر پورا اترتا ھے ، لیکن ھمارے با اختیار لوگ جو تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ھیں اس بات کو سنجیدگی سے نھیں لیتے اگر لیتے ھوتے تو طالب علموں کا احساس کرتے ھوئے بہتر منصوبہ بندی کی جا سکتی ھے۔
جیسا کہ چھ سات سال سے ملک میں توانائی کا بحران بجلی کی بندش ھوتی ھے کیا اس کے بارے میں کسی صاحب منصب لوگوں نے سوچا کہ بچوں کے امتحان کے دورانیہ میں کم سے کم انھیں یہ ازیت نا دی جائے ھمارا ملک ایک گرم ترین ملک ھے جس میں گرمیاں حد سے بڑھ جاتی ھے کافی علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے بھی زیادہ ھوتا ھے پھر اس طرح کی گرمی میں بچوں کے امتحان ھوتے ھیں۔
اوپر سے بجلی کی بندش زوروں پر ھے کیا محکمہ تعلیم بچوں کو سہولت نھیں دے سکتا کہ امحانات کے مرکز میں بجلی کا متبادل انتظام کیا جائے جنریٹر وغیرہ چلا کر ، یا پھر اس مسلے کا حل اس طرح سے نکالا جائے کہ تمام امتحانات کا شیڈ ول بدل دیا جائے گرمی کا موسم شروع ھونے سے پھلے تمام امتحانات لے لئے جائیں کیوں کہ پورے ملک کا درجہ حرارت یا موسم تقریبا ایک جیسا ھی ھے ، اگر ایسا کوئی سوچتا تو کتنا اچھا تھا لوڈ شیڈینگ کے عزاب سے اگر چھٹکارا نھیں پا سکتے تو کم سے کم اتنا تو کیا جا سکتا ھے ۔
امتحانات کی تاریخیں بدل دی جائیں جو گرمی کے موسم سے پہلے کر دی جائیں اس طرح بچے یا طالب علم دوھری ازیت سے بچ جائیں گے شدید گرمی جھلسا دینے والا موسم اگ برساتا سورج بجلی کی بندش پھر امتحانات کا بوجھ کم سے کم امتحان تو اس موسم میں نا ھوں تا کہ بچے سکون میں ھوں اور گرمی اور لوڈ شیدنگ کی ازیت ھی کافی ھے ، یہ ایک سچی حقیقت ھے کہ لائق سے لائق طالب علم بھی امتحان میں زھنی دباؤ کا شکار رھتا ھے پڑھائی کے بوجھ کی وجہ سے پھر کیا ھی اچھا ھو کہ انھیں کوئی اور مزید پریشانی نا دی جائے امتحان کی پریشانی ، ھر طالب علم خوشگوار موسم میں ھی اپنے امتحان دے فارغ ھو چکا ھو گا تو کافی اطمینان میں ھو گا میری آواز ارباب اختیار تک پہنچے تو برائے بھر بانی ضرور غور کریں ۔