چاند بن کر کبھی آغوش میں خندہ کی اُتر
میں تجھے موم کی مانند پگھلتے دیکھ
برطانیہ کے شہر ریڈنگ میں مقیم سخن گو فرخندہ رضوی کا دو سو سولہ صفحات کا شعری مجموعہ [زیر لب خندہ] طبع ہو گیا ہے جسکے ناشر بزم تخلیق ادب پاکستان کراچی ہیں اور اسکا سرورق سید اکمل حسین نے بنایا ہے
عالمی اخبار کا ادارتی بورڈ اور شعبہ ادب فرخندہ رضوی کو مبارکباد دیتا ہے
اس شعری مجموعے کا انتساب انہوں نے اپنی والدہ اور بہن کے نام کیا ہے جبکہ اس پر رائے تحریر کرنے والوں میں صفدر ھمدانی،ڈاکٹر مختار الدین، فرحت عباس شاہ،صابر ایوب،بانو ارشد،راحت زاہد، اکبر حیدر آبادی اور سید معراج جامی شامل ہیں
اظہار تشکر کے عنوان سے فرخندہ رضوی نے لکھا ہے کہ ۔۔۔ایک شاعر یا افسانہ نگار اپنے لفظوں کو یک جا تو کر لیتا ہے مگر اس سفر کی تکان کا اندازہ لکھنے والے کے سوا کسی کو نہیں ہوتا۔
اس شعری مجموعے میں حمد ونعت کے علاوہ غزلیں اور نظمیں بھی شامل ہیں

فرخندہ رضوی جلد ہی لندن میں اپنے شعری مجموعے [ زیر لب خندہ] کی تعارفی تقریب کا اہتمام آج ہفتے کے روز ریڈنگ میں کر رہی ہیں جسکی صدارت شاعر،ادیب،نقاد اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیِ صفدر مِدانی کر رہے ہیں
خندہ ہے قتل ایک کا بھی درجنوں کا قتل
رشتے جُڑے ہوئے ہیں بہت آدمی کے ساتھ