15.10.2026, 04:49pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
عالمی اخبار ادبیات
 

کشمکش ۔۔۔ایک سچی کہانی۔۔۔۔از۔۔فرخندہ رضوی
10.05.2016, 04:40am , منگل (GMT+1)

فر خندہ رضوی
 کشمکش ............... سچی کہانی
 بہت دنوں سے گھر کے ایک دو کام کر وانے والے تھے ،ہر روز ہی سوچ کر رہ جا تی ،کُچھ تو مصروفیت کی وجہ سے اور کُچھ سردی کے خوف سے باہر جانے کو دل ہی نہیں چاہتا تھا آج تو اِس کام کو کروانے کا طے کر چُکی تھی اِسی سوچ سے گھر سے نکلی اور اُنکے دروازے پر تھی ۔گاڑی اُن کے گھر کے باہر پارک کی اور گاڑی سے اُترتے ہی ہاتھ دروازے کی گھنٹی پر تھا ۔کئ سالوں سے اِس فیملی سے جان پہچان توتھی مگر گھر جانے کا یہ پہلا اتفاق تھا ۔گھنٹی پر ہاتھ رکھتے ہی ایک بچے نے دروازہ کھولا ،ایک ہی سانس میں بولتا گیا ۔کس سے ملنا ہے ؟
 میں نے مسکراتے ہوئے اُسے دیکھا اور پوچھا آپ کے نانا ابوگھر ہیں ۔ابھی وہ جواب دے بھی نہیں پایا تھا کہ اتنے میں پیچھے سے ایک آواز آئی ۔ بیٹا کون ہے ؟ پھر وہی آواز چند سیکنڈمیں میرے قریب تھی ۔۔ارے آؤ آؤ ۔۔۔آج کیسے آنا ہو گیا ادھر ۔۔ یہ وہی آنٹی تھیں جن کے خاوند سے گھر کا کُچھ کام کروانا تھا ۔ جان پہچان تو تب کی تھی جب اِن کی پیپرشاب ہوا کرتی تھی ۔وہیں اِنکی بیٹیوں سے اور اُن سے ملاقات ہو جاتی گھر آنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ایک دو بار گھر کے قریب سے گزرتے آنٹی ہی ہمارے گھر آئی تھیں ۔ اچھی خاصی باتونی خاتون ہیں ۔انکی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ۔بیٹوں کو تو کبھی ادھر دیکھا نہیں سُنا ہے وہ ماں باپ کے ساتھ رہتے ہی نہیں ۔ ایک بیٹی کی شادی تو آنٹی نے اپنے بھتیجے سے بہت عرصہ پہلی بینارائے لیئ کر دی تھی پھر اُسکا انجام وہی نکلا جو یہاں کے ہر اُس بچے کا نکلتا ہے جو اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ایک سال تک تو وہ اپنے خاوند کے ساتھ رہی ایک بچی کو جہنم دیا ۔اور پھر بچی کو والدین کی گود میں ڈال کر کسی مَن پسند لڑکے کے ساتھ گھر سے چلتی بنی۔اوپر سے غضب یہ کے لڑکا غیر مہذہب تھا ۔پھر گھر والوں نے اُس سے ہمیشہ کیلئ ناطہ توڑ لیا۔میں دروازے پر کھڑی خیالات کی
وادی میں بھٹکنے لگی ۔کہ آنٹی کی آواز نے چونکا دیا ۔ارے اندر تو آؤ ۔۔ آواز میں اتنی محبت تھی کہ ناچاہتے ہوئے بھی گھر کی دہلیز پھلانگ کر اندر داخل ہونا پڑا ۔مگر ایک نظر گھر کے اندر ڈالتے ہی حیرت میں پڑگئ گھر کَم اور تربیلا زیادہ لگ رہا تھا ۔ ہر طرف اتنا گند ،اتنی بے ترتیبی ،اف اللہ !! سڑک کا وہ چوراہالگ رہا تھا جسے ابھی ابھی کُچھ کاروباری لوگ ویسے کا ویسا سب کُچھ بکھرا چھوڑ کر جا چکے ہوں ۔۔
 میں نے ایک ہی پل میں ادھر سے اُدھر نظر دوڑائی مُجھے تو بیٹھنے کی کوئی جگہ نظر نا آئی اتنے میں آنٹی نے ایک کُرسی سے کُچھ بکھرے کپڑوں کو پیچھے کرنے کے بعد میرے لیئ جگہ بنائی تب میں شکریہ کہتے بیٹھ گئ ۔مگر سانس لینا بھی دشوار لگ رہا تھا
 سوچا چلو مروت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔اتنے میں سامنے کا دروازہ کُھلا آنٹی کی بیٹی نمودار ہوئی ۔لگا وہ ابھی ابھی بستر سے اُٹھ کر آرہی ہو۔حالانکہ اُس وقت دوپہر کے تین بجے تھے۔سلام ودعا ہوئی ۔وہ میرے سامنے ہی زمین پر بیٹھ گی۔
 تھا تو کارپٹ مگر جگہ جگہ سے رنگت اُڑی ہوئی یہاں تک کے رنگ کا اندازہ کرنا بھی مشکل تھا۔میں تو اِس گھر میں رہنے والوں کے اندر باہر کا اندازہ بھی نہیں کر پائی ۔جب کھبی باہر ملتیں میکپ سے چہروں کو سجائے اور کپڑوں کو لمبے کوٹ سے ڈھانپے اچھی خاصی سنوری ہوتیں ۔آج تو حیرت سے مُنہ کھولے میں بھی دیکھتی ہی رہ گء۔پھر اپنی ہی سوچ سے کُچھ شرمندہ ہو اُٹھی ۔آج ویسے آنٹی بھی کُچھ پریشان پریشان سی لگیں ۔میں نے آنٹی کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے سوال کر ڈالا۔کیا بات ہے ؟کافی ڈسٹرپ سی لگ رہی ہیں ۔اُنکی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی نظر آنے لگی۔اور وہ روندی روندی آواز میں بولیں ،کیا بتاؤں ۔۔۔ رخشی بھی گھر چھوڑ کر چلی گئ ہے ۔کیا ؟ میں ایک دَم چونک سی گئ
 مُجھے ایک دَم سے کرنٹ سا لگا ۔۔۔کیوں ؟ میرا دوسرا سوال تھا
 وہ کہتی ہے تُم لوگوں نے مُجھے زندگی کو انجوئے کرنے نہیں دیا۔
 اَب وہ اپنے خاوند کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی جبکے تجھے معلوم ہے اِسکے چار بچے ہیں ۔۔میں کیا کروں ؟
 میرے پاس بھی اِس بات کا جواب نہیں تھا بلکے بہت سے سوال سامنے اُبھر آئے۔کس نے کس کے ساتھ ذیادتی کی اِسکا فیصلہ کرنا آسان نہ تھا ،مُجھے یاد ہے جب اکثر ہی باتیں ہوتیں تورخشی!! نے بتایا کہ اُسکی ممی نے بڑی بیٹی کو بھی اپنے بھائی کے بیٹے سے صرف اسلیئے بیاہ دیا کہ بھائی کی مالی حالت کمزور تھی ،سوچا اسکا بیٹا انگلینڈآجائے گا بیٹی کا فرض بھی پورا ہوجائے گا اور بھائی کی مالی حالت بھی کُچھ سُدھر جائے گی اِس بات کا نتیجہ ایک سال بعد جو نکلا سب نے دیکھا ۔بیٹی ماں بنی ۔بچی کو نانی کی گود میں ڈالا اورکبھی نا ختم ہونے والا غم دے کر گھر چھوڑ کر چلتی بنی ۔کُچھ دن تو گھر میں صفحے ماتم بچھی،بہنوں نے بہن سے ماں باپ نے بیٹی سے ہر رشتہ توڑ دیا ۔اُدھر بھائی کے حالات پھر وہیں کے وہیں بہن کو نظر آنے لگے تو اُس نے اِس جُرم کے اعتراف میں ایک اور جُرم کر ڈالا ،عمروں کے تضادکو نظر اندازکرتے بھائی کے دوسرے بیٹے سے اپنی دوسری بیٹی کی شادی کر ڈالی ۔سولہ سالہ بیٹی کو تیس سالہ بھتیجے سے بیاہ دیا ۔کہتے ہیں نا سمجھی کی عمر جب گزرنے لگے تو فیصلوں کی طاقت بڑھنے لگتی ہے۔پھر رخشی نے یکے بعددیگر چار بچوں کو جہنم دیا ۔وقت کو گزرنا تھا گزرتا ہی گیا ۔اُسکی عمر کی لڑکیوں کی جب شادیاں ہونے لگیں تب وہ آٹھ سال کا عرصہ اِس رشتے میں گزار چُکی تھی ۔وہ پھر سے اندر ہی اندر کُھلنے لگی ۔سوچتی کیسا ظُلم کیا میرے وا لدین نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 وہ اِس رشتے میں نا سمجھی کی عمر تو گزار ہی چُکی تھی مگر روز خود کر توڑتی جوڑتی رہی ۔پھر اُس نے باہرنکل کر جاب کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔اُسے اپنی قید کے سال ختم ہوتے دیکھائی دیئے تو گھر کی طرف سے لاپرواہ سی ہونے لگی ۔ماضی کے گزرے دن تاریک جنگلوں سے لگے ۔شاید اُسے اپنی زندگی کی پہچان ہونے لگی تھی ماں بہت سمجھاتی رہی باپ نے تو کبھی نا کام کیا نا بچوں پر توجہ دی ،زندگی کے کئ سال جھوٹ موٹ کی معذوری کی حالت ظاہر کرتے یہاں کی گورنمنٹ سے پیسے لیتا رہا ۔ماں بھی کوئی تربیت نا کر پائی ،بچے بڑے تو ہوئے مگر سلیقہ شعاری کا مظاہرہ نا کر پائے۔میں باتیں سُنتے سُنتے ساتھ اُنکی پرانی کہانی میں کہیں کھو سی گئ ۔ ایسے میں آنٹی کی آواز نے چونکا دیا ۔جا تو صائمہ باجی کے لئے چائے بنا لاؤ۔۔میں اُنکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول اُٹھی ۔نہیں میں تو کھانا کھا کر چائے پینے کے بعد ہی نکلی تھی ۔آج نہیں پھر کبھی سہی ۔۔۔۔انہیں کیا معلوم کہ میں تو اپنا سانس بھی روکے بیٹھی تھی یہاں۔
 ایسے ہی ایک نُکڑ سے طوطے کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ سَر گھوما کر دیکھا تو ایک افریکن طوطے کا بڑا سا پنجرہ کونے میں پڑا اور پنجرے پر بیٹھا طوطا آوازیں لگانے لگا تھا ۔شاید وہ بھی آنٹی کی اونچی آواز سے اپنی نیند سے جاگ ااُ ٹھا تھا ۔۔ پھر مُجھے اُنکا گھر بھی ایک طوطے کا پنجرہ ہی لگا ۔جسکے اردگرد کھانے کے بکھرے ذرے ۔اور بے انتہا گند ،بے ترتیبی ۔آنٹی میرا جواب چائے کے انکار کا سُنکر پھر شروع ہو گیءں جہاں سے اُنکی گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوا تھا ۔
 اُنکی بیٹی رخشی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔ اُسکا مطالبہ طلاق کا تھا ۔میں اُنکی باتیں سُن کر کشمکش میں مُبتلا ہو گئ ۔کوئی فیصلہ کیسے کر پاتی ،کون ذمہ دار ہوا اِن سب حالات کا ۔ماں جو اچھی پرورش نا کر سکی ۔یا پھر باپ جو حق حلال کی روٹی کا نوالہ حلق میں نا اُتار سکا ۔اِسی کشمکش میں اُلجھی اپنا مسلہ حل کیے بغیر واپسی کی اجازت لے کر باہر نکل آئی ۔۔اپنی وہ سانس جو کافی دیر سے روکے بیٹھی تھی ۔باہر آکر ایک لمبی سانس لی اورگاڑی میں آبیٹھی ۔ بہت دیر ہو چُکی تھی شام کی نماز کا وقت ہو چلا تھا ۔
 میں آتے ہی وضو کرنے چل دی ۔ اُس بزرگِ برتر کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنے کی تیاری میں ۔جس کی ایک بھی نعمت کا شُکر ادا نہیں کر سکتی ۔۔ سب کے ساتھ اپنے بچوں کے نیک نصیب کی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دیے ۔۔۔
 فر خندہ رضوی
 ریڈنگ انگلینڈ

:دیگر مضامین
(08.05.2016) میری سہیلی .. میری ماں ۔۔۔۔۔ از۔۔۔۔ دلشاد نسیم
(08.05.2016) تو نے میری کمی نہ پائی ہو از شگفتہ شفیق
(06.05.2016) خدا کا دکھ ۔۔۔۔ از ۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(04.05.2016) پھر آ گئی اے مومنو سُن لو شبِ معراج ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ اعظم عظیم آعظم
(03.05.2016) بجھی بجھی سی نگاہیں سلام کہتی ہیں ۔ ذوالفقار نقوی
(01.05.2016) باضمیر ہر کہہ رہا ہے آج یہ اقرار سے از صفدر ھمدانی
(30.04.2016) محبت کا دوسرا نام ڈر ۔ از۔ تمنا راحت
(28.04.2016) دکھ مری آنکھوں میں اشکوں کو سجانے آئے۔۔۔از۔۔۔سائرہ بتول
(27.04.2016) کہہ رہا ہوں میں یہاں۔۔۔۔وقار نسیم وامق
(25.04.2016) شہر بھر میں اپنی عزت ہو گئی از صفدر ھمدانی
(24.04.2016) یاد رفتگان: بیاد ڈاکٹر ملکزادہ منظور احمد
(22.04.2016) باڑہ گلی کی ایک شام از جان عالم
(21.04.2016) نصویرِ درد ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ علامہ اقبال
(20.04.2016) اُبھارئیے، رُخِ طوفاں کو موڑنے کا خیال۔۔۔از۔۔۔ عزیز بلگامی
(20.04.2016) کڑی دھوپ میں سائباں کوئی تو ہو ... از ... زرقا مفتی
(19.04.2016) یہ قائدِ عوام ہیں .. از.. صفدر ھمدانی
(17.04.2016) خاموشی میں بھی جیسے تم ھی گویا ھو, از, ڈاکٹر نگہت نسیم
(15.04.2016) گلشن مرا ویران ہے ۔۔۔۔ از ۔۔۔ زرقا مفتی
(13.04.2016) نذر عقیدت بحضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری از احمد علی برقی
(11.04.2016) وقت پھر درمیاں آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد احمد



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں