گزشتہ قسط میں آپ قارئین کی خدمت میں عرض کی تھی کہ دو اقساط پر مشتمل ایک سلسلہ آپکی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر احباب کی ایک بڑی تعداد ہے جس میں اب فکری بیداری کی لہر آ رہی ہے اور وہ ملا و ملائیت کے بارے میں ہر روز کسی نہ کسی پیرائے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔
میں نے اس ضمن میں فیس بک سے صرف ایک ہفتے کی ایسی تحریروں میں کوئی صرف پانچ فیصد تحریریں اکٹھی کی ہیں اور انہیں آپکی نذر کر رہا ہوں۔ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس سلسلے کی تیسری قسط بھی آپ لوگوں کی خدمت میں پیش

کرنا ہو گی
قارئین کی قابل ذکر تعداد نے اس سلسلے کو پسند کیا ہے اس لیئے کوشش کریں گے کہ آئیندہ بھی کسی نہ کسی صورت میں خلق خدا کی اس آواز کو آپ تک پہنچایا جا سکے۔
جہاں اس سلسلے کو پسند کرنے والوں کی ایک خاصی تعداد ہے وہاں ظاہر ہے کچھ لوگوں کو یہ ناپسند بھی ہے اور ایسے ہی دو احباب نے ای میل میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ہم دین ومسلک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان احباب کی خدمت میں صرف اتنی گزارش ہے کہ ذرائع ابلاغ تو فقط آئینہ ہوتے ہیں ۔جو معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے وہ اسکی تصویر دکھا رہے ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آپ ایسے احباب مندرجات سے اختلاف کرتے ۔
اب ذرا یہ بھی تو سوچیئے کہ جن کرداروں کا ذکر کیا جا رہا ہے کیا وہ دین ومسلک کی بدنامی کا باعث ہیں یا ہم لوگ۔ آپ جیسے ہی لوگوں نے اندھی تقلید کے نام پر ایسے بے عمل لوگوں کو خود پر مسلط کر رکھا ہے۔ ہم بار بار اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ علم کسی کی بھی میراث نہیں بلکہ اسلام میں خاص طور پر یہ فرد کی ذمیداری ہے کہ وہ عام دنیاوی علم اور دینی علم حاصل کرے ،ہاں جہاں کسی بات کسی معاملے کو سمجھنے کی ضرورت ہو اسمیں اپنے سے بہتر صاحب علم کی مدد لی جائے
آیئے آج کی قسط کی جانب
شاہد حسن نے کس طرف اشارہ کیا خود دیکھ لیں
یہ سجدہ گاہیں یہ فرش و منبر جو ہیں ہمارے ہی کون سے تر
لہو کی یہ رت ٹھہر نہ جائے ہوا قیامت کی چل رہی ہے
عجب سی ساعت ہے آج سر پر کہ آنچ آئی ہوئی ہے گھر پر
دعا کہیں بے اثر نہ جائے ہوا قیامت کی چل رہی ہے
ڈاکٹر صفی حیدر نے کچھ اس طرح محرومی ظاہر کی کہ
جانے کونسی محرومی کے زخم نظر میں تھے
آگ لگی تو اپنے گھر کو جلتا چھوڑ گیا
عمریں کٹ جائینگی اُس کی شرحیں کرنے میں
ایک سوال لبوں پر سب کے ایسا چھوڑ گیا
ضیار کرنٹکی نے ان مولیوں کی سیاست پر کچھ ایس اظہار خیال کیا
سیاست کے یہ بازیگر کچھ ایسا کھیل کھیلیں گے
گلی کوچوں میں ہوگا رقص پھر دن بھر تباہی کا
دلوں میں نفرتوں کا بیج بوکر رہنما کوئی
تماشہ دیکھتا ہوگا کہیں چھپ کر تباہی کا
دوستو دیکھ لو زخموں کو ہمارے خود ہی
کیا تمہیں چیر کے دل اپنا دکھانا ہوگا
دفن ہوجائے گا فن میرا، مری موت کے ساتھ
نظم ہوگی نہ غزل اور فسانہ ہوگا
ہندوستان ایک معروف شاعر نے کس طرح اپنے الفاط کے شیشے میں ڈھالے ہیں
صلح جوئی کے عوض ملا ہیں مائل بہ فساد
دوست کے پہین میں جال بچھائے صیاد
قول اور فعل میں ملا کے ہے بغض عناد
آج ہر ملا کے ہے پیش نظر اپنا مفاد
ایک چہرے میں نہاں ہوتے ہیں کتنے چہرے
سیرتا فتنہ و سر صورتا اُجلے چہرے
خمس کو زیست کا اپنی جو ساہرا سمجھیں
شانہ غیر کو وہ سیلاب کا دھارا سمجھیں
وہ زرا قوم کے تیور کا اشارہ سمجھیں
جو نہ سمجھے ہیں مگر آج خدا را سمجھیں
غیر کی بخشش پہیم کا پھروسہ کیا ہو
کچینچ لے ہاتھ جو منعم تو نتیجہ کیا ہو
اپنی چارد سے سوا پیر جو پھیلاءے ملا
غیر کے خوان عنایت پہ جو اَترائے ملا
جھوٹی شہرت کی ہوس میں جو مر جائے ملا
اُن چراغوں کی طرح بزم میں کجلائے ملا
جس چراغوں کے کفِ دست میں روغن ہی نہ ہو
لاکھ کوشیش پہ گوشہ کئی روشن ہی نہ ہو
لو جی اب ایک اور تحریر جو ملا محمد حیسن ڈھکو نے تحریر کی ہے اس کو بھی پڑھ لیں تاکہ انداہ ہو جائے 
بی بی پا دامن لاہور کی زیارات کی کوئی ھقیقت نہیں (اصلاح الرسوم ص ٣٣٠)
٢٢ رجب کی نزر (کونڈے) کی نذر ناجائزہے (اصلاح الرسوم ص ٢٨٣)
بی بی فاطمہ کی نذر بھی نذر امام جعفر صادق (کونڈے) کی طرح جائز نہیں (اصلاح الرسوم ص ٢٨٥)
پھل فروٹ سامنے رکھ کر فاتحہ دینا یا ختم پڑھنا جائز نہیں (اصلاح الرسوم ص ٢٧٧)
قبرستان میں رقم یا گندم یا شیرنی تقسیم کرنا جائز نہیں (اصلاح الرسوم ص ٢٨١)
قل خوانی دسواں چالیسوان اور برسی منانا جائز نہیں (اصلاح الرسوم ص ٢٦٥)
تعیزیہ کے ساتھ عرضیاں باندھنا حاجت طلب کرنا کھلم کھلا شرک ہے (اصلاح الرسوم ص ١٥٣)
بنی اور امام کے لئے ضروری نہیں کہ وہ علم غیب اور مالکان و ملیکوں کا علم بھی رکتھے ہوں ( اصول الشریعہ ص ١٩٩)
آئمہ طاہرین روح القدس کے زریعے علم و فضل حاصل کرتےہیں ( اصول الشریعہ ص ٥٧) یہ صرف ایک صفہ کے حوالہ جات ہیں
ڈاکٹر مظہر عباس نے بھی کچھ اس طرح سے اشارہ کیا ہے کہ
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
وہاں اور اودھم ہی اودھم دیکھتے ہیں
تیری دوستی بھی بری دشمنی بھی
کہ دونوں ہی راہوں میں خم دییکھتے ہیں
ہا ہاتھوں میں کشکول پوشاک شاہی
ہمار ہو چاہ و حشم دیکھتے ہیں
سڈنی کے عالم باعمل اور مستند شاعر سید نجم سبطین حسنی لکھتے ہیں 
کسی شیعہ قبیلے میں جنم لینا نہیں کافی
ضروری ہے
لبو سے تارگِ جاں
فکر کے سارے ترازُو
آرزووں کے سبھی خُلیے بھی شیعہ ہوں
اسی مہمل یقین والے جب اپنی کم نسب سوچوں کی
بے ادراک ریڑہی پر
کیس بے موشمی تربوز کے ٹیلے کی صورت
عزاز یلی عمل کی باریا ڈھیری سجاتے ہیں
تا افلاسَ سعور و غُربتَ عرفان کے مارے
تمائش خور طبقوں کو
عمل کی روشنی کہہ کر اندھیرا یچ دیتے ہیں
عقیدے کی علوہیت کو بہتانَ غُلو دے کر
دلوں میں وسوے بونا
امین پر جنتہ و الناس شیطانوں کی عادت ہے
کہا ہیں عدل کے پیرو
کہاں ہیں اعتدال دین کے مکتب کے پروردہ
کہاں ہیں جو عمامے کی امانت کے مکلف ہوں
کہاں کھوئے ہوئے ہیں وارثان، خلی و طوسی
کہ جن کے فیض کا ثمرہ
بروجردی ، حکیم و مرعشی و شاہروردی ہوں
کہاں ہین جو عیدہ سیکھتے ہوں اردبیلی سے
نجف مین جس پہ ابواب ھرم کود آپ کُھلتے ہوں
کہاں ہیں اب صدوق و طبرسی بحرانی و نوری
کہ جو ال محمد کی حدیثوں کے محافظ ہوں
کہاں ہیں جو ولایت کے سبق سیکھیں کمینی سے
کہاں ہیں جو عمل مین بہجتی ہوں و ستغیبی ہوں
کوئی تو لوگ ایسے ہوں
جو سلمانی خیالات و عمل دونوں پہ عامل ہوں
جو میثم کی طرح حق بات کہہ دینے میں کامل ہوں
کبھی تو ہو کہ جب تسبیح زہرا کے تصدق مین
تشیع کے سبھی بکھرے ہوئے دانے سمٹ جائیں
وہی باراماموں کے گھرے شیعہ
جو ہانی ہوں زرارہ ہوں جو مختار و ثمالی ہوں
عزاداری میں ٰیکساں کیفیت کے ساتھ حاضر ہوں
اسی مہمل یقین والے
جب اپنی کم نسب سوچوں کی
بے ادراک ریڑہی پر
کیس بے موسمی تربوز کے تیلے کی صورت میں
عزازیلی عمل کی با ریا ڈحیری سجاتے ہین
تو افلاس شعور و غربت عرفان کے مارے
نمائش خور طبقوں کو
یہ پانے ہر کھلے ہزیاں کو تحقیق کہتے ہیں
عداوت کا کہیں اصل السریعہ نام رکھاہے
کہں اپنے نمل رفتار شرک منکرانہ کو
یہ اصلاغَ رسوم دیں کا عنوان دیتےبیں
یہ اعادائے زیارت یہ حریفان عزا کانہ
حُسینی تعزیوں کو بت پرستی کا لقب دیکر
عقیدت کے سرف کو شرک و بدعت کا حسب دے کر
کئی زہنوں سے تعظیم شعائر چھین لیتے ہیں
کبھی نخل امامت کی حدیثوں پر خزان باری
کہیں پر اجتہاد و مرجعیت میں ریاکاری
کہیں تائید ھق حضرت زیہرا سے غداری
کہیں بینات و فضل کے بردے میں عیاری
کئی ابیلس ایسے ہیں
کہ جب زنجیر ڈھیلی ہو
تو دام ظلہ کے لفظ پر مغور رہتے ہیں
تفنگ و ترکش حُرمل میں کب اتنے نشانے تھے
سقیفائی نظر کو عدسہ تحقیق پہنا کر
یہاں طاغوت کے بندے کئی پہروپ رکھتے ہیں
کبھی تشکیک بر عصمت
کبھی مشکل کشائی کے عقیدے پر کھلا فتویٰ
کبھی مخلوق اول کے وجود نور پر حملہ
کبھی معجز نمائی پر توسل پر گمان گاری
کبھی ذکر علی سے کلمہ و درس و اذان جاری
لباس گوسفنداں پھیڑیوں نے اوڑھ رکھا ہے
فقط مردم شماری مین عدد بہتر ہے شیعہ کا
مگر مقتل شماری میں عد ابتک بہتر ہے
بہت سے دین کے تاجر
عمل کے لفظ کی ضد عقید میں ہوا دیک
رخ ایمان کا نقشہ بدل دینے کے در پے ہیں
فضائل کی عداوت میں
جناب شیخ کے بلو نے جتنی منطقیں کھولیں
کہ تخریب عقائد کے لئے
شیعہ لبادہ اوڑھ کر لڑنا ضروری ہے
تسیع کے لبادے میں
سعودی جنس کے تاجر
تبھی سے عام پھرے ہیں
سو اب ملت پہ واجب ہے
فقط پوشک پر چشم عقیدت خیز مت رکھے
تغافل سے نہیں ادراک سے دیکھے کہ بستی میں
کہیں افکار کی تلوار سے تقسیم جاری ہے
زبان پر بیعت آل محد کا عقید ہ
عمل پر بیعت نفس نبی سفیان طاری ہے
انہیں قول و عمل کے درمیاں حائل خیجوں نے
گئی فتنہ گروں کو مہت سب خون دے دی ہے
جو صدیوں سے تشیع کی صادقت سے ہراسں تھے
ہمیشہ ذوالفاقار علم کنے کاٹے تھے سر جنکے
اُنہی ہارے ہووں نے اک نئی تریکب ٹھانی ہے
زبانی لفظ ولایت کی
زمانی خدمتیں کرنے کے تن آسان دھندے میں
ولایت پر عقیدے کے عوض
عائد تقاضوں کی ہدایت بھول پیٹھے ہیں
ولایت کے اراکین ازل سے ربط کا کلمہ
اُنہیں کردار کے لب سے ادا کرنا نہیں آتا
کہیں پر بے اطاعت فیصلوں کی باسداری ہے
کہیں پر حوزہ علمی کی جانب سنگباری ہے
یہ کچھ کو یہ ضد ٹھہری
کہ اعمال و عقائد مین
انہیں اصل و اصول دین کے حوزات سے ہٹ کر
فقط اخبار کافی ہے
اُنہیں غیبت کے عرصے مین کسع دست نیابت کے وسلیے کی کدورت ہے
وہ اس مرکز گریزی کے شر کو دین کہتےہیں
عمل کے ذوق سے عاری
نشان ماتم شبیر ہو گر پشت و سینہ پر
تو ماتھوں پر نشان سجدہِ معبود روشن ہو
جب اس انداز کے شیعہ نظر آئیں زمانے میں
تو ہجت خود پکارے گی یہی اہل ولایت ہیں
امام عصر کے آنے کے لمحوں سےبہت پہلے
تشیع کی صفیں آراستہ کرنا ضروری ہے
وگرنہ دین داری کا ہر ایک دعویٰ عُبوری ہے
صدائے العجل تو ہے مگر نصرت اَدُھوری ہے
۔۔۔۔
حسنی صاحب کے اس فکری کلام پر ہر شعبے کے ہر فرد کو غور کرنے کی ضرورت ہے اور سید قمر زیدی کی اس فکر پر بھی گواہ رہنا ہو گا۔
معروف منصنف مصتنصر حسین تارڑ کی اس تحریر پر بھی غور کرلیں کہ اپنے مطلب کے لءے دین کو کسی طرح وہ

استمعال کیا جاتاہے
ارم نقوی نےاپنے خیالات کا اظہار اس طرح سے کیا سچے فکر اور غور کرنے کے بعد آپ فیصلہ خود کریں کہ ہم کہاں پر کھڑے ہیں۔

مجھےہمیشہ کی طرح آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا