15.10.2026, 11:22pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

اصحاب امام حسین علیہم السلام (حصۂ سوم) مولانا میرزا محمد جواد شبیر
29.05.2013, 12:15am , بدھ (GMT+1)

تحریر: حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر
اصحاب  امام حسین علیہم السلام (حصۂ سوم) مولانا میرزا محمد جواد شبیر
حسینی دائرۃ المعارف کی روشنی میں زندگانی اصحاب امام حسینؑ علیہم السلام پر ایک نظر
تحریر: حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر
اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اجتماع پسند بنایا ہے یعنی انسان ابتدائے خلقت سے اپنے گرد و نواح میں موجود افراد سے انس پاتا ہے خواہ وہ افراد ماں باپ کی شکل میں ہوں یا بھائی بہن یا دوست کی شکل میں، جن سے وہ اپنی خوشیاں اور دکھ درد  بانٹتا ہے ۔
ماں باپ، بھائی بہن، اور دیگر تمام رشتوں  کی طرح ایک رشتہ دوستی کا بھی  ہے جس میں انسان اپنے دوست سے وہ تمام راز کی باتیں کرتا ہے  کہ جو بسا اوقات ماں باپ اور بھائی بہن سےنہیں کی جاسکتیں، لہذا دین مبین اسلام میں دوست کو بڑی اہمیت دی گئی ہے چونکہ اگر دوست نیک اور خیر خواہ ہو تو وہ انسان کے ساتھ کبھی خیانت نہیں کرسکتا، لہذا بے دین، بے علم و عمل افراد سے دوستی کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔
نیک دوست وہ ہے جو اپنے دوست کی فکری، علمی، مالی اور جانی امداد  کے لئے ہمہ تن اور ہمہ وقت آمادہ ہو، گرچہ دوستی کے دعویدار دنیا میں بہت نظر آتے ہیں لیکن دوست کی صحیح پرکھ مصیبت کے موقع پر ہوتی ہے، لہذا ہر  انسان کو چاہیے کہ وہ دوستی سے پہلے اپنے دوست کو آزماکر دیکھ لے کہ آیا وہ  دوستی میں مخلص ہے یا نہیں۔
تاریخ اسلام میں معاویہ بن ابی سفیان کے انتقال کے بعد بہت سارے مسلمان امام حسین علیہ السلام کی دوستی کا دم بھرتے تھے، یہاں تک کہ جب یزید بر سر اقتدار آیا اور امام حسین علیہ السلام نے مثلی لا یبایع مثل یزید (میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا)  کہہ کر اس کی بیعت کو ٹھکرادیا اور مدینہ سے ہجرت فرماکر مکہ مکرمہ میں وارد ہوئے تو کوفیوں نے  ۱۲ ہزار خطوط امامؑ  کی خدمت میں بھیجے  جن میں سے اکثر خطوط  میں چالیس افراد کے اسماء اور ان کے دستخط موجود تھے( )،  کوفیوں نے ان خطوط میں امام عالی مقام  کی دوستی کا دم بھرتے ہوئے آپ  کو کوفہ تشریف لانے کی دعوت دی۔
امام حسین علیہ السلام نے جناب مسلم ابن عقیل کو اپنا نمایندہ بنا کر کوفہ روانہ کیا،  اٹھارہ ہزار ( )  لوگوں نے آپ  کی  بیعت کی لیکن جیسے ہی ابن زیاد کوفہ میں وارد ہوا اور اس نے لوگوں کو قتل  کی دھمکی دی  تو  تمام دوستی کے دعوے دار یکے بعد دیگرےحضرت مسلم کا ساتھ چھوڑ نے لگے  یہاں تک کہ آپ کو کوفہ میں بڑی بے رحمی کے ساتھ شہید کردیا گیا، حالات کے بدلنے سے آہستہ آہستہ جھوٹے دعویدار  امامؑ سے  جدا ہوتے گئے یہاں تک کہ ایک قلیل تعداد نے روز عاشوراء اپنی جانوں کو  آپ پر قربان کیا۔
بیشک حقیقی اصحاب و مددگار  کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے  لیکن کربلا میں اصحاب امام حسین علیہ السلام کی قلیل تعداد نے وہ کر دکھایا کہ جس کی مثال تاریخ میں کسی نبی و و لی کے اصحاب میں نظر نہیں آتی، بہ الفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح اصحاب  امام حسینؑ نے دوستی کے تقاضوں کو پورا کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں بے نظیر ہےجو  رہتی دنیا  تک  تمام بشریت کے لئے نمونہ عمل ہے۔
کربلا کے جانبازوں کی قربانیوں کو ہر قوم و ملت نے سراہا ہے، چونکہ اصحاب کربلا نے سخت ترین حالات  میں امام عالی مقام کا ساتھ نہیں چھوڑا، ان کی امام سے اس محبت و  جذبہ قربانی کے ادراک کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کی سوانح حیات  و سیرت پر غور و فکر کریں تاکہ ان کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ بن سکے، اسی مقصد کے پیش نظر  محقق آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے حسینیؑ دائرۃ المعارف کی چند جلدوں کو اصحاب امام حسین علیہ السلام کی سوانح حیات سے مخصوص فرمایا ہے جس میں مصنف نے ان کی زندگی پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے، شیخ کرباسی نے یاران امام حسینؑ کے بیان میں  بنی ہاشم کو اولویت دی ہے  اور اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ کربلا میں شہید ہونے والے تمام ہاشمی جوان نسل ابوطالب سے تھے۔
ہم اس مقام پر معجم انصار الحسینؑ(الھاشمیون)  کی جلد سوم(جو  ۴۰۲ صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ ۲۰۰۸م  زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہے) میں موجودہ اصحاب امام حسینؑ کی سوانح حیات پر مختصر سی روشنی ڈالتے ہیں:


فضل بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
فضل بن علیؑ تقریبا سنہ ۳۹ھ  کو متولد ہوئے، صرف مؤرخ کاشانی نے اپنی کتاب روضۃ الشہداء میں آ پ کی شہادت کا تذکرہ کیا ہے۔

قاسم بن حسنؑ بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
قاسم بن حسنؑ سنہ ۴۶ھ کو متولد ہوئے، آپ کی شہادت اس قدر عظیم تھی کہ امام عسکریؑ نے زیارت ناحیہ میں آپ پر ان الفاظ میں سلام بھیجا:
السلام علی القاسم بن الحسن بن علی، المضروب ھامتہ، المسلوب لامتہ، حتی نادی الحسین عمہ، فجلی علیہ عمہ کالصقر، وھو یفحص برجلیہ التراب، والحسین یقول: بعدا لقوم قتلوک، و من خصمھم یوم القیامۃ جدک و ابوک، ثم قال: عز واللہ علی عمک ان تدعوہ فلا یجیبک، او یجیبک و انت قتیل جدیل، فلا ینفعک، ھذا واللہ یوم کثر واترہ، و قل ناصرہ، جعلنی اللہ معکما یوم جمعکما، وبوأنی مبوأکما، و لعن اللہ قاتلک عمرو بن سعد بن نفیل الأزدی و أصلاہ جحیما و أعد لہ عذابا الیما (بحار الانوار جلد ۹۸ ص ۲۷۰)
سلام ہو قاسم بن حسنؑ بن علیؑ پر، کہ جنہیں زخموں سے چھلنی کر دیا گیا، اور  ان کی زرہ سلب کرلی گئی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے چچا حسینؑ کو  پکارا  تو ان کے چچا عقاب کی مانند ان تک پہنچ گئے، اور دیکھا کہ وہ ایڑیاں رگڑ رہے ہیں، اس وقت امام حسینؑ نے یہ فرمایا: تباہ ہو تجھے قتل کرنے والے لوگ، قیامت کے دن آپ کے جد اور آپ کے بابا ان کی شکایت خدا سے کریں گے، اس کے بعد امام حسینؑ نے کہا:خدا کی قسم تیرے چچا پر یہ بات گران ہےکہ تو اسے پکارے اور وہ تجھے جواب نہ دے سکے، یا جواب تو دے لیکن اس وقت تک تو شہید ہو چکا ہو اور تیرے لئے اس کا جواب  فائدہ بخش نہ ہو، خدا کی قسم اس دن اس کے دشمن زیادہ اور اس کے مددگار کم ہیں، اللہ مجھے(امام عسکریؑ)  آپ دونوں کے ساتھ اس دن اکٹھا کرے جب آپ دونوں اکٹھے ہوں، اور مجھے آپ دونوں کے ٹھکانے میں جگہ دے، اور آپ کے قاتل عمرو بن سعد  بن نفیل ازدی پر لعنت کرے اور اسے دوزخ میں جلائےاور اس کے لئے دردناک عذاب مقرر کرے۔

قاسم بن عباس بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
قاسم بن عباس کی ولادت قبل از  سنہ ۴۰ھ کو ہوئی، اسفرایینی( )  اور مظفر ( )نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے، اسفرایینی فرماتے ہیں کہ جب جناب قاسم بن عباس کے بھائی شہید ہوئے تو آپ نے امام حسین علیہ السلام سے اجازت لی اور میدان جنگ میں وارد ہو کر یہ رجز پڑھا:
الیکم من بنی المختار ضربا، یشیب لھولہ الطفل الرضیع، الا یا معشر الکفار جمعا، ھلموا دونکم ضرب فظیع
اب تمہاری طرف اولا د رسولؐ میں سے وہ میدان میں آ رہا ہے جس کی ہیبت شیرخوار بچے کو بوڑھا کردیتی ہے، ہاں اے کافروں کی جماعت، اب تم ایک کاری و مہلک ضرب کھانے کو تیار ہو جاؤ۔
اس رجز کے بعد آپ نے حملہ کیا اور ۱۰۸ دشمنوں کو واصل جہنم کرکے شربت شہادت نوش فرمایا۔

قاسم بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
قاسم بن علیؑ تقریبا سنہ ۳۹ھ کو متولد ہوئے، ابن شہر آشوب نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا کے ذیل میں کرتے ہوئے فرمایا کہ عبد اللہ بن علیؑ کے بعد قاسم بن علیؑ میدان کارزار میں وارد ہوئے اور آپ نے ان کلمات کو اپنی زبان پر جاری فرمایا:
یا عصبۃ جارت علی نبیھا، و کدرت من عیشھا ما قد نقی، فی کل یوم تقتلون سیدا، من اھلہ ظلما و ذبحا من قفا
اے وہ لوگو کہ جنہوں نے اپنے نبیؐ پر ظلم کیا ہے، اور اس طرح تم نے اپنی صاف ستھری زندگی کو آلودہ  کردیا ہے،  تم ہر روز ان کی اولاد میں سے ایک سید کو نہایت بے دردی سے قتل کرتے ہو اور اسے پشت کردن سے ذبح کرتے ہو۔
کربلا کی اس معرکہ آرا جنگ میں آپ کو   عمرو بن سعید ازدی نے شہید کیا۔

قاسم بن محمد الاکبر بن جعفر  بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
قاسم بن محمد تقریبا قبل از سنہ ۳۷ھ کو متولد ہوئے، بعض ارباب مقاتل نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے،  روز عاشورا آپ نے امام حسین علیہ السلام سے اجازت لی اور میدان کارزار میں وارد ہو کر اس رجز کو پڑھا:
انا الغلام الابطحی الطالبی، من معشر من ھاشم من غالب، و نحن حقا سادۃ الذوائب، ھذا حسین اطیب الاطائب، من عترۃ الطھر  النقی العاقب
میں ابطحی جوان ہوں جو ابوطالب کی نسل سے ہے، اس کی رگوں میں بنی ہاشم و بنی غالب کا لہو دوڑتا ہے، ہم ہی حقیقت میں لوگوں کے سردار ہیں اور یہ حسینؑ پاک، پاک نسل کے پاک تریں فرد ہیں، یہ اس پاک عترت سے ہیں جو اپنی پاکیزگی میں منفرد ہے۔
اس رجز کے بعد آپ نے حملہ شروع کیا اور  ۸۰ گھوڑسوار اور ۱۲ پیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، جس کے بعد دشمنوں نے گھیر کر آپ کو شہید کردیا (وسیلۃ الدارین: ۲۴۵)۔

محمد بن ابو سعید الاحول بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد بن ابوسعید سنہ ۳۵ھ کو متولد ہوئے، کربلا میں وقت شہادت آپ کی عمر ۲۵ سال تھی، امام عسکریؑ زیارت ناحیہ میں آپ پر یوں سلام بھیجتے ہیں:
السلام علی محمد بن ابی سعید بن عقیل، و لعن اللہ قاتلہ لقیط بن ناشر (یاسر) الجھنی
سلام ہو محمد بن ابی سعید بن عقیل پر، اور اللہ لعنت کرے ان کے قاتل لقیط بن ناشر  (یاسر) جہنی پر۔

محمد الاصغر بن جعفر بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد الاصغر سنہ ۴ھ کو حبشہ میں متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام اسماء بنت  عمیس تھا، آپ اپنے والدین کے ساتھ  ۷ھ کو حبشہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے، جب آٹھ ہجری میں جناب جعفر طیار کی شہادت واقع ہوئی تو رسولؐ اسلام نے آپ کے تمام اہل  خانہ کی کفالت اپنے ذمہ لی، آ نحضرتؐ کی وفات کے بعد محمد الاصغر حضرت امیر کے ساتھ تھے اور آپ نے جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں شرکت بھی کی، محمد الاصغر کو رسولؐ اسلام، حضرت علیؑ، امام حسنؑ اور  امام حسینؑ علیہم السلام کی صحابیت کا شرف حاصل تھا آپ سنہ ۶۱ھ کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا میں شہید کئے گئے۔

محمد الاصغر  بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد الاصغر سنہ ۳۸ھ کو کوفہ میں متولد ہوئے، چونکہ محمد حنفیہ آپ سے بزرگ تھے لہذا آپ کو محمد الاصغر کہا گیا، دربندی کی روایت کے مطابق معرکۂ کربلا میں جس وقت آپ نے پہلا حملہ کیا تو  ۱۵۰۰ سواروں  کو موت کے گھاٹ اتارا، جب پیاس کا غلبہ ہوا تو امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی درخواست کی، امام عالی مقام نے صبر کی وصیت کی اور فرمایا کہ جاؤ عنقریب رسولؐ اللہ آپ کو سیراب کریں گے، یہ سن کر محمد میدان جنگ میں تشریف لائے اور اس دفعہ آپ نے ۲۵۰ سواروں کو واصل جہنم کیا، یہاں تک کے دشمنوں نے اجتماعی حملہ کے ذریعہ آپ کو شہید کر دیا، زیارت ناحیہ میں آپ پر اس طرح سلام وارد ہوا ہے:
السلام علی محمد ابن امیر المومنین قتیل الأبانی الدارمی لعنہ اللہ و ضاعف علیہ العذاب الألیم، و صلی اللہ علیک یا محمد و علی اھل بیتک الصابرین
سلام ہو محمد بن امیر المومنینؑ پر کہ جو  ابانی دارمی کے ہاتھوں شہید  ہوئے، اللہ کی لعنت ہو  دارمی پر  اور وہ اس پر دردناک عذاب میں اضافہ کرے، اور آپ پر دورو ہو اے محمدؐ اور آپ کے اہلبیتؑ پر جو کہ صبر کرنے والے  ہیں، مؤرخ محلاتی( ) نے زرعہ بن شریک الدارمی کو آپ کا قاتل جانا ہے۔

محمد الاصغر  بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد الاصغر کا لقب طاہر تھا، آپ سنہ ۵۳ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے ، آپ کو آپ کے بھائی ابراہیم کے ساتھ کوفہ میں شہید کیا گیا، آپ کے قاتل کا نام حارث بن عروہ الطائی تھا۔

محمد الاکبر  بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد الاکبر سنہ ۳۳ھ کو متولد ہوئے، کربلا میں آپ کی عمر ۲۷ سال تھی، بعض روایات کے مطابق میدان جنگ میں آپ نے ۱۷ دشمنان اسلام کو واصل جہنم کیا، جس کے بعد  مریم(یا مرھم)  ازدی اور لقیط بن یاسر جھنی نے آپ کو  شہید کیا۔ 

محمد الاوسط بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد الاوسط تقریبا سنہ ۱۲ھ کو  مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام امامہ بنت ابو العاص تھا، حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ  امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی مصاحبت میں رہے، مؤرخ زنجانی فرماتے ہیں کہ معرکہ کربلا میں آپ نے خوب جنگ کی اور مختلف دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد شربت شہادت نوش فرمایا، آپ کی کیفیت شہادت کے بارے میں تاریخ میں تفصیلات موجود نہیں ہیں۔


محمد بن حسنؑ بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد بن حسنؑ سنہ ۳۷ ھ کو متولد ہوئے، آپ کی والدہ کا نام ام کلثوم بنت فضل بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم تھا، صاحب معالی السبطین نے ذہبی سے نقل کرتے ہوئے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے۔ 

محمد بن حسینؑ بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابن فندق نے محمد بن حسینؑ کو فرزندان امام حسین علیہ السلام میں شامل کیا ہے اور کتاب شجرۃ انساب العلویۃ میں آپ کو شہدائے کربلا میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر نے آپ کا نام اسرائے کربلا کے ذیل میں بھی کیا ہے، واللہ العالم۔

محمد بن عباس الاکبر بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد بن عباس کی ولادت سنہ ۳۶ھ کے بعد  واقع ہوئی، گرچہ مؤرخین نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا میں کیا ہے لیکن آپ کی شہادت کے بارے میں زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔

محمد بن عبد اللہ الاکبر  بن جعفر  بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد بن عبد اللہ تقریبا سنہ ۲۵ ہجری کو متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام خوصاء بنت حفصہ بن ثقیف تھا، ابن شہر آشوب نقل فرماتے ہیں کہ آپ عبد الرحمان بن عقیل کے بعد میدان کارزار میں وارد ہوئے اور  دس دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد شربت شہادت  نوش فرمایا، امام عسکریؑ زیارت ناحیہ میں آپ پر اس طرح سلام بھیجتے ہیں:
السلام علی محمد بن عبد اللہ بن جعفر، الشاھد مکان ابیہ و التالی لاخیہ، وواقیہ ببدنہ، لعن اللہ قاتلہ عامر بن نھشل التمیمی
سلام ہو محمد بن عبد اللہ بن جعفر پر ، کہ جو اپنے باپ کی جگہ پر پہنچا ہے ، اور اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے چلا ہےاور اپنے بدن سے اس کی حفاظت کی ہے، اللہ لعنت کرے اس کے قاتل عامر بن نہشل تمیمی پر۔

محمد بن عبد اللہ الاکبر  بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد بن عبد اللہ الاکبر سنہ ۳۷ھ کو  متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام میمونہ بنت علیؑ بن ابی طالب تھا،  حسن بن محمد قمی( )نے آپ کا ذکر شہدائے کربلا کے ذیل میں کیا ہے۔

محمد الاکبر بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد الاکبر بن عقیل تقریبا سنہ ۲۰ ھ کو متولد ہوئے، آپ نے زینب صغری بنت علیؑ سے عقد فرمایا تھا، جن سے اللہ نے آپ کو دو فرزند بنام عبد اللہ الاحول ( ) اور جعفر عطا فرمائے، خوارزمی، دینوری اور  ابن شہر آشوب جیسے مورخین نے آپ کا تذکرہ شہدائے کربلا کے ذیل میں کیا ہے، محمد الاکبر  بن عقیل کو حضرت علیؑ امام حسنؑ اور امام حسینؑ علیہم السلام کی صحابیت کا شرف حاصل رہا ہے، آپ اور آپ کے بھائی مسلم بن عقیل کا شمار فقہائے آل عقیل اور  بزرگان تابعین میں ہوتا ہے۔

محمد الباقرؑ بن علیؑ بن حسینؑ بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
امام محمد باقر علیہ السلام پہلی رجب سنہ ۵۷ھ کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئے، معرکۂ کربلا میں امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ آپ بھی تشریف لائے تھے،شہادت امام حسین علیہ السلام سے پہلے اور شہادت کے بعد آپ نے دیگر اسیران کربلا کی طرح اسیری کی تمام صعوبتوں کو تحمل فرماتے ہوئے مدینہ سے مکہ، مکہ سے کربلا، کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ کے طولانی سفر کو طے فرمایا، گرچہ امام باقر  علیہ السلام کربلا میں کمسن تھے لیکن پھر بھی آپ کا شمار انصار امام حسین علیہ السلام میں ہوتا ہے لہذا  دائرۃ المعارف کے مصنف آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے اس مقام پر  امام باقر علیہ السلام کی ولات (سنہ ۵۷ھ)  سے سنہ ۱۱۳ھ (سال وفات) تک ہرسال رونما ہونے والے واقعات پر سلسلہ وار  روشنی ڈالی ہے، جسے ہم طوالت کی وجہ سے اس مقام پر بیان کرنے سے قاصر ہیں، لہذا قارئین مزید معلومات کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع فرمائیں۔

محمد بن عمرو بن حسنؑ بن علیؑ بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
محمد بن عمرو سنہ ۴۹ھ کو  متولد ہوئے، براقی نے اپنی کتاب الحدائق الوردیۃ میں آپ کا تذکرہ اسیران کربلا کے ذیل میں کیا ہے۔


مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
جناب مسلم ابن عقیل تقریبا سنہ ۳ھ کو متولد  ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام علیّۃ النبطیۃ تھا،آپ نے پہلے جناب رقیہ کبری بنت علیؑ سے عقد فرمایا جن سے اللہ نے آپ کو عبد اللہ الاکبر (ولادت ۳۴ھ ۔ شہادت۶۱ھ) اور علی (ولادت ۳۶ھ ۔وفات قبل از ۶۱ھ) نامی فرزند عطا کئے، اور جب سنہ ۴۵ھ میں رقیہ کبری کا انتقال ہوا تو آپ نے رقیہ صغری بنت علیؑ سے عقد فرمایا جن سے اللہ نے آپ کو عبد اللہ الاصغر (عبید اللہ)(ولادت ۴۶ھ  ۔شہادت ۶۱ھ)، حمیدہ (ولادت ۴۹ھ ۔ وفات تقریبا سنہ ۱۴۲ھ)، عاتکہ (ولادت ۵۲ھ ۔ شہادت ۶۱ھ) محمد الاصغر  (ولادت ۵۳ھ ۔ شہادت۶۲ھ) اور ابراہیم(ولادت ۵۴ھ ۔ شہادت ۶۲) جیسے فرزند عطا فرمائے، آپ کو دیگر کنیزوں سے جو اولاد ہوئی ان کے اسماء کچھ اس طرح ہیں:
محمد الاکبر (ولادت ۳۳ھ ۔ شہادت ۶۱ھ)، جعفر (ولادت تقریبا سنہ ۳۵ھ ۔شہادت سنہ ۶۱ھ)، عون (ولادت تقریبا سنہ ۴۰ھ ۔ وفات قبل از ۶۱ھ)، عبد الرحمان(ولادت سنہ ۴۲ھ ۔ شہادت سنہ ۶۱ھ )، عبد العزیز (ولادت قبل از ۶۰ھ ۔ وفات ۶۱ھ)، مسلم (ولادت تقریبا سنہ ۴۰ھ ۔ شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر خود رسولؐ اسلام نے فرمادی تھی ایک روز  حضرت علیؑ نے آںحضرت سے پوچھا:
یا رسول اللہ انک لتحب عقیلا؟ قال: ای واللہ انی لاحبہ حبین، حبا لہ و حبا لحب ابی طالب لہ، و ان ولدہ لمقتول فی محبۃ ولدک، فتدمع علیہ عیون المومنین، و تصلی علیہ الملائکۃ المقربون (کتاب الشہید مسلم بن عقیل ص ۲۲۱)
یا رسولؐ اللہ کیا آپ عقیل کو دوست رکھتے ہیں؟ آںحضرت نے فرمایا: مجھے عقیل سے دو حوالوں سے محبت ہے، ایک خود ان کے اپنے حوالہ سے اور دوسری اس حوالہ سے کہ ابوطالب کو ان سے محبت تھی اور یہ کہ ان کا فرزند آپ کے  فرزند کی محبت میں قتل کیا جائے گا جس پر مومنین کی آنکھیں اشکبار ہوں گی اور ملائکہ مقربین اس پر نماز پڑھیں گے۔
رسولؐ اسلام کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور آپ کو   ۹ ذی الحجہ سنہ ۶۰ھ کو  کوفہ میں بڑی بے رحمی کے ساتھ  شہید کردیا گیا،  آج بھی آپ کا مزار مسجد کوفہ  کے قریب موجود ہے، اور مومنین آپ پر گریہ و زاری کرتے ہیں۔

مسلم بن مسلم بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
مسلم بن مسلم تقریبا سنہ ۴۰ھ کو  متولد ہوئے، مؤرخ اسفرایینی  کتاب نور العین میں فرماتے ہیں کہ مسلم بن مسلم جناب علی اکبر  بن حسینؑ کے بعد معرکۂ کارزار میں وارد ہوئے اور یہ رجز پڑھا: 
الیوم القی مسلما وھو ابی، و فتیۃ ماتوا من اتباع النبی، و التقی بسادۃ نالوا المُنی، اولاد مولانا الرسول العربی
آج میں مسلم سے ملاقات کروں گا کہ جو میرے بابا ہیں، اور ان جوانوں سے ملوں گا جو نبیؐ کے پیروکار ہوتے ہوئے دنیا سے چل بسے، اور میں ان سرداروں سے ملوں گا جو شہادت کی سعادت حاصل کر چکے ہیں یعنی اپنے آقا و مولا رسولؐ عربی کی اولاد سے۔
اس رجز کے ساتھ آپ نے حملہ کیا اور  ۹۰ سواروں کو موت کے گھاٹ اتار نے کے بعد شربت شہادت نوش فرمایا۔




معین بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
ابومخنف ( ) کی کتاب مقتل الحسینؑ میں جناب ام کلثوم کی طرف چند ابیات منسوب کئے گئے ہیں کہ جن میں شہادت معین بن عقیل اور ان کے بھائی عون کا تذکرہ ملتا ہے اور وہ ابیات یہ ہیں:
اضحکنی الدھر و ابکانی، والدھر ذو صرف و الوان
فھل بنا فی تسعۃ صرعوا ، بالطف اضحوا رھن اکفان 
و ستۃ لیس یجاری بھم، بنو عقیل خیر فرسان
و اللیث عون و اخوہ مُعِیْ، نٌ ذکرھم جدد احزانی
مجھے زمانے نے ہنسایا بھی ہے اور رلایا بھی ہے، زمانہ ہے ہی بے وفا اور رنگ بدلنے والا، کیا ان افراد کو یاد نہ کیا جائے کہ جو کربلا میں شہید کئے گئے، اور ان چھ افراد کو بھی کہ جو بنی عقیل کے ایسے شجاع و بہادر تھے کہ جن کا کوئی مد مقابل نہ تھا، اور وہ شیر ببر عون اور ان کے بھائی معین کہ جن کی یاد نے میرے غموں کو  تازہ کردیا ہے۔
مذکورہ حوالہ کے علاوہ تاریخ میں کسی اور مقام پر آپ کا تذکرہ نہیں ملتا ہے۔

موسی بن عقیل بن ابوطالب بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی:
موسی بن عقیل تقریبا سنہ ۳۸ھ کو متولد ہوئے، آپ کی مادر گرامی کا نام خوصاء بنت عمرو تھا،  ابومخنف اپنی کتاب مقتل الحسینؑ میں نقل فرماتے ہیں کہ موسی بن عقیل، مالک بن داود کی شہادت کے بعد معرکۂ کربلا میں وارد ہوئے اور یہ رجز پڑھا:
یا معشر الکھول و الشبان، اضربکم بالسیف و السنان، احمی عن الفتیۃ و النسوان، و عن امام الانس ثم الجان، ارضی بذاک خالق الانسان، ثم رسول الملک الدیان
اے بوڑھو اور جوانو، میں تم پر اپنی تلواروں سے اور  نیزوں سے ضرب لگاؤں گا،  میں بچوں اور عورتوں کی مدد کو نکلا ہوں، اور میں انس و جن کے امام کی حمایت میں میدان میں آیا ہوں، میں اس طرح اپنے خالق کہ جو خالق انسان ہے اور پھر اس حاکم بر حق کے رسولؐ کو راضی کرنا چاہتا ہوں۔
اس رجز کے بعد آپ نے حملہ کیا اور ستر  (۷۰) سواروں  کو موت کے گھاٹ اتار کر درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
یہ تھے بنی ہاشم کے وہ شہداء کہ جن کی سوانح حیات پر ہم نے اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی ہے، لیکن  تاریخی شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ شہدائے کربلا کی تعداد ۷۲ سے زائد تھی، اور ممکن ہے کہ ۷۲ کا عدد ہاشمی شہداء سے مخصوص ہو    چونکہ کتاب نفس المہموم اور  اسرار الشہادۃ  میں اس بات کی صراحت ان الفاظ میں پائی جاتی ہے :
 ان الحسین لما  نظر الی اثنین و سبعین رجلا من اھل بیتہ صرعی۔۔۔۔۔۔ 
یعنی جب امام حسین علیہ السلام نے ۷۲ اہلبیتؑ کو زمین پر شہید ہوئے پایا۔۔۔۔۔ اس جملہ سے واضح ہوتا ہے کہ ۷۲ شہداء سے مراد ہاشمی شہیدوں کی تعداد  ہیں۔
ہم اس مقام پر شہدائے کربلا کی تعداد میں جو  ۱۵  اقوال پائے جاتے ہیں انھیں اجمال کے ساتھ پیش کرتے ہیں:
(الف) ۶۱ شہید، (ب) ۷۰ شہید، (ج) ۷۲ شہید۔ ۳۲ سوار اور ۴۰ پیادہ، (د) ۷۳ شہید۔ ۳۳ سوار اور ۴۰ پیادہ، (ھ) ۷۷ شہید، (و) ۸۰ شہید ۔ ۳۲ سوار  اور ۴۸ پیادہ، (ز) ۸۲ شہید۔ ۳۲ سوار اور  ۵۰ پیادہ، (ح) ۹۲ شہید۔ ۳۲ سوار اور ۶۰ پیادہ، (ط) ۱۱۲ شہید۔ ۳۲ سوار اور  ۸۰ پیادہ، (ی) ۱۱۴ شہید ۳۲ سوار اور  ۸۲ پیادہ، (ک) ۱۴۰ شہید ۔ ۴۰ سوار اور ۱۰۰   پیادہ، (ل) ۱۴۵ شہید ۔  ۴۵ سوار اور ۱۰۰   پیادہ، (م) ۱۷۰ شہید ۔ ۷۰ سوار اور ۱۰۰   پیادہ، (ن) ۲۸۱ شہید، (س) ۱۱۰۰ شہید ۔ ۱۰۰۰ سوار اور ۱۰۰   پیادہ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ اختلاف، ہاشمی و غیر ہاشمی شہداء دونوں سے تعلق رکھتا ہے لہذا حسینیؑ دائرۃ المعارف کے مصنف آیت اللہ محمد صادق الکرباسی نے اس کتاب کے خاتمہ میں  پانچ جدول پیش کئے ہیں جن کے ذریعہ  شہدائے بنی ہاشم کی تعداد میں اختلاف کو بالوضوح درک کیا جا سکتا ہے اور وہ پانچ جدول یہ ہیں:


پہلا جدول:
اس جدول میں ان شہدائے بنی ہاشم کا تذکرہ ہے کہ جن کی شہادت میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں پایا جاتا اور  ان کی تعداد  ۵۱ ہے:
۱۔  ابراہیم بن الحسین الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۲، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۔  ابراہیم بن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۔  ابوبکر بن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ۴۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۔  ابوبکر بن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۸ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۵۔  ابوسعید بن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۱۶ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۶۔  احمد  بن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۴۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۷۔  احمد  بن محمد الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۸۔  جعفر الاکبر  ابن عقیل الہاشمی  (ولادت سنہ ۳۷ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۹۔  جعفر الاکبر ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۱ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۰۔  جعفر بن الحسن الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۹ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۱۔ جعفر بن محمد الہاشمی  (ولادت سنہ ۳۹ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۲۔ جعفر بن مسلم الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۳۵ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۳۔  حمزہ بن الحسن الہاشمی (ولادت  قبل از سنہ ۴۱ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۴۔ سعد بن عبد الرحمان الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۵۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۵۔  سعید بن عقیل الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۶۔  عباس الاصغر ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۷۔ عباس الاکبر ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۱۸ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۸۔ عبد الرحمان الاکبر ابن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۳۷ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۹۔ عبد اللہ بن ابی سفیان الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۸ قبل از ہجرت، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۰۔  عبد اللہ الاصغر  ابن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۴۹ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۱۔ عبد اللہ الاصغر   ابن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۲۷ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۲۔ عبد اللہ الاصغر   ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۷ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۳۔  عبد اللہ الاکبر   ابن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۲۵ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۴۔  عبد اللہ الاکبر ابن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۲۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۵۔ عبد اللہ الاکبر  ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۵ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۶۔  عبد اللہ بن حسین الہاشمی (ولادت سنہ ۶۱ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۷۔ عبد اللہ بن مسلم الہاشمی (ولادت سنہ ۳۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۸۔  عبید اللہ بن عبد اللہ الہاشمی (ولادت سنہ ۲۷ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۹۔  عبید اللہ بن مسلم الہاشمی (ولادت سنہ ۴۶ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۰۔ عثمان بن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۹ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۱۔  عقیل بن عبد الرحمان الہاشمی (ولادت سنہ ۵۵ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۲۔  علی الاصغر  ابن الحسین الہاشمی (ولادت سنہ ۶۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۳۔  علی الاصغر   بن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۲۲ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۴۔  علی الاکبر  ابن الحسین الہاشمی (ولادت سنہ ۳۸ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۵۔  عمر الاصغر  ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۶۔  عون بن جعفر الہاشمی (ولادت سنہ ۳ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۷۔ عون بن عبد اللہ الہاشمی (ولادت سنہ ۲۵ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۸۔ عون بن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۵۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۹۔  عون بن علیؑ الہاشمی  (ولادت سنہ ۱۶ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۰۔  قاسم بن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۴۶ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۱۔  قاسم بن العباس الہاشمی (ولادت قبل از سنہ  ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۲۔ محمد بن ابوسعید الہاشمی (ولادت سنہ ۳۵ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۳۔  محمد الاصغر   ابن جعفر الہاشمی (ولادت سنہ ۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۴۔  محمد الاصغر  ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۸ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۵۔  محمد الاکبر  ابن مسلم الہاشمی (ولادت سنہ ۳۳ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۶۔  محمد الاوسط ابن علیؑ الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۱۲ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۷۔  محمد بن العباس الہاشمی (ولادت بعد از سنہ ۳۶ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۸۔  محمد بن عبد اللہ الاکبر  الہاشمی (ولادت سنہ ۲۵ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ) (الطیار) ۔
۴۹۔  محمد بن عبد اللہ الاکبر الہاشمی (ولادت ۳۷ھ،  شہادت سنہ ۶۱ھ ) (العقیلی)۔
۵۰۔  محمد بن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۲۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۵۱۔  موسی بن عقیل الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۳۸ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔


دوسرا جدول 
اس جدول میں ان ہاشمی شہداء کے نام ذکر کئے گئے ہیں کہ جن کی شہادت کے بارے میں چند ایک مقاتل میں تذکرہ ملتا ہے لیکن ان کی شہادت کو  ثابت کرنے کے لئے محقق محمد صادق الکرباسی کو کوئی قانع کنندہ دلیل میسر نہ ہو سکی (واللہ العالم) اور وہ  ۲۰  نام یہ ہیں:
۱۔  ابوبکر ابن الحسن الہاشمی (ولادت ۔۔۔، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۔ احمد  بن عقیل الہاشمی (ولادت قبل از سنہ ۴۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۳۔  احمد  بن مسلم الہاشمی (ولادت ۔۔۔، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۴۔  بشر  بن الحسن الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۹ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۵۔  جعفر الاصغر  ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۴۱ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۶۔  حکم بن عقیل الہاشمی (ولادت قبل از سنہ ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۷۔  حمزہ  بن عقیل الہاشمی (ولادت قبل از سنہ ۵۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۸۔  خالد  بن جعفر الہاشمی (ولادت ۔۔۔، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۹۔  خالد بن سعید الہاشمی (ولادت بعد از سنہ ۵۶ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۰۔ عبد الرحمان بن مسلم الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۲ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۱۔  عبد اللہ بن الحکم الہاشمی (ولادت سنہ ۵۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۲۔  عتیق بن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۳۔  عقیل بن عقیل الہاشمی (ولادت سنہ ۵۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۴۔  عون بن مسلم الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۰ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۵۔  فضل بن علیؑ الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۳۹ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۶۔  قاسم بن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۹ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۷۔  قاسم بن محمد الہاشمی (ولادت قبل از سنہ ۳۷ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۸۔  مسعود بن ۔۔۔ الہاشمی (ولادت ۔۔۔، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۱۹۔  مسلم بن مسلم الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۴۴ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
۲۰۔ معین بن عقیل الہاشمی (ولادت ۔۔۔، شہادت سنہ ۶۱ھ)۔
اگر جدول اول و دوم میں موجودہ ۵۱ اور ۲۰ افراد کو جمع کیا جائے تو ۷۱ افراد ہوتے ہیں،  اور اگر اس تعداد  میں امام حسین علیہ السلام کو شامل کیا جائے تو شہدائے کربلا کی ۷۲ تعداد پوری ہو جاتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  ۷۲ شہداء سے مراد شہدائے بنی ہاشم ہیں (واللہ العالم)۔


تیسرا جدول:
اس جدول میں ان چار شہداء کے نام  درج  ہیں کہ جن کی شہادت تو  کربلا میں واقع نہیں ہوئی لیکن ان کی شہادت کربلا سے ضرور  مربوط ہے:
۱۔  ابرہیم بن مسلم الہاشمی (ولادت سنہ ۵۴ھ، شہادت سنہ ۶۲ھ، مقام شہادت کوفہ)۔
۲۔  محسن بن الحسینؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۶۱ھ، شہادت سنہ ۶۱ھ، آپ حلب میں سقط ہو گئے تھے)۔
۳۔  محمد الاصغر ابن مسلم الہاشمی (ولادت سنہ ۵۳ھ، شہادت سنہ ۶۳ھ، مقام شہادت کوفہ)۔
۴۔  مسلم بن عقیل الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۳ھ، شہادت سنہ ۶۰ھ، مقام شہادت کوفہ)۔
چوتھا جدول:
اس جدول میں ان افراد کا تذکرہ ہے جو معرکۂ کربلا میں شریک ہو کر مجروح ہوئے اور درجہ شہادت پر فائز نہ ہو سکے، اسی طرح اس جدول میں ان افراد کا بھی تذکرہ ہے جو کربلا میں موجود  تو تھے لیکن کمسنی کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہو سکے اور  بعد از شہادت امام حسین علیہ السلام اسیر بنائے گئے:
۱۔ حسن بن حسن الہاشمی (ولادت سنہ ۳۹ھ، وفات سنہ ۹۲ھ)۔
۲۔ زید بن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۲۰ھ، وفات سنہ ۱۲۰ھ)۔
۳۔ عبد اللہ الاوسط بن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۴۶ھ، وفات  بعد از سنہ ۶۱ھ)۔
۴۔  عبد اللہ بن العباس الاکبر الہاشمی (ولادت سنہ ۵۶ھ، وفات بعد از سنہ ۶۱ھ)۔
۵۔  عبید اللہ بن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۳۹ھ، وفات سنہ ۶۷ھ)۔
۶۔  عقیل بن محمد الہاشمی (ولادت بعد از سنہ ۴۰ھ، وفات بعد از سنہ  سنہ ۶۱ھ)۔
۷۔  علیؑ بن الحسینؑ الہاشمی۔امام سجاد علیہ السلام (ولادت سنہ ۳۳ھ، شہادت سنہ ۹۲ھ)۔
۸۔  عمر الاطرف ابن علیؑ الہاشمی (ولادت سنہ ۱۳ھ، وفات  سنہ ۸۸ھ)۔
۹۔  عمرو   بن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۳۷ھ، وفات بعد از  سنہ ۶۱ھ)۔
۱۰۔  قاسم بن عبد اللہ الہاشمی (ولادت تقریبا سنہ ۵۰ھ، وفات بعد از  سنہ ۶۱ھ)۔
۱۱۔  محمد الاصغر  ابن الحسن الہاشمی (ولادت سنہ ۳۷ھ، وفات بعد از سنہ ۶۱ھ)۔
۱۲۔  محمد بن علیؑ الہاشمی ۔امام باقر علیہ السلام۔ (ولادت سنہ ۵۷ھ، شہادت سنہ ۱۱۳ھ)۔
۱۳۔  محمد بن عمرو الہاشمی (ولادت سنہ ۴۹ھ،  وفات قبل از سنہ ۱۱۳ھ)۔

پانچواں جدول:
اس جدول میں ان افراد کے اسماء درج ہیں کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کربلا میں موجود تھے لیکن شیخ کرباسی کی تحقیق کے مطابق کربلا میں یہ حضرات حاضر نہ تھے:
۱۔  اسماعیل بن عبد اللہ الہاشمی (ولادت سنہ ۵۶ھ، وفات سنہ ۱۴۵ھ)۔ 
۲۔  جعفر بن الحسین الہاشمی (ولادت بعد از سنہ ۲۰ھ، وفات قبل از  سنہ ۵۰ھ)۔
۳۔  عبید اللہ بن العباس الاکبر الہاشمی (ولادت سنہ ۵۰ھ، وفات  سنہ ۱۵۰ھ)۔
۴۔  علی بن مسلم الہاشمی (ولادت سنہ ۳۶ھ، وفات بعد از  سنہ ۶۱ھ)۔

چھٹا جدول:
اس جدول میں ان افراد کے اسماء درج ہیں کہ جن کا تذکرہ  تاریخ کی بعض کتب میں موجود ہے لیکن محقق کرباسی کی تحقیق کے مطابق ان افراد کا یا تو وجود  نہیں ہے یا پھر  ان کے ناموں میں خلط واقع ہوا ہے۔
۱۔  حمزہ بن الحسینؑ الہاشمی۔ ۲۔ زید بن الحسینؑ الہاشمی۔ ۳۔ عبد الرحمان الاوسط ابن عقیل الہاشمی۔ ۴۔ عدی بن عبد اللہ الہاشمی۔ ۵۔ علیؑ بن علیؑ الہاشمی۔ ۶۔ عمرو بن الحسینؑ الہاشمی۔ ۷۔ قاسم بن الحسینؑ الہاشمی۔ ۸۔ محمد بن الحسینؑ الہاشمی۔ ۹۔یحیی بن الحسن الہاشمی۔
ان تمام جدولوں کے بعد  چونکہ معجم انصار امام حسینؑ کی تینوں جلدوں میں زیارت ناحیہ کا حوالہ دیا گیا ہے لہذا اس مقام پر  زیارت ناحیہ کو  اسکی سند کے ساتھ نقل کیا گیا ہےہم یہاں  صرف سند زیارت کے بیان پر اکتفاء کرتے ہیں:
زیارت ناحیہ امام حسن عسکری علیہ السلام (ولادت ۲۳۲ھ شہادت ۲۶۰ھ)  کی جانب سے سنہ ۲۵۲ کو  وارد ہوئی ہے،  اس زیار ت کو  سید  ابن طاوس نے اپنی کتاب  الاقبال میں نقل کیا ہے جس کی سند محمد بن غالب الاصفہانی پر منتہی ہوتی ہے یعنی جب محمد بن غالب نے امام حسن عسکریؑ سے زیارت امام حسین علیہ السلام پر جانے کی اجازت لی تو آپ نے یہ اس زیارت کو پڑھنے کا حکم فرمایا، یہ زیارت امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت (۲۵۵ھ) سے تین سال پہلے وارد ہوئی ہے، البتہ اس زیارت کو امام زمانہ علیہ السلام کی طرف بھی  منسوب کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ کلمہ ناحیہ ہے جس کے معنی جانب اور طرف کے ہیں اور یہ لفظ  امام عسکریؑ اور امام زمانہ علیہما السلام کے لئے استعمال ہوتا ہے،امام عسکریؑ علیہ السلام نے اس زیارت میں شہدائے کربلا کے نام اور ان کی کیفیت شہادت  پر  روشنی ڈالی ہے۔

یہ تھا تمام شہدائے بنی ہاشم کا تذکرہ جو بحمد اللہ حسینی دائرۃ المعارف کی تین جلدوں میں مکمل ہوا ، جس کے بعد  اس دائرۃ المعارف کی ہر جلد کی طرح اس کتاب کے  آخر میں بھی فہارس کتاب کو درج کیا گیا ہے جس میں فھرست آیات مبارکہ، فھرست احادیث و اخبار، فھرست امثال و حکم، فھرست اعلام و شخصیات، فھرست قبائل و انساب و جماعات، فہرست طائفہ و ملل، فہرست اشعار، فہرست تاریخ، فہرست لغت، فہرست مصطلحات شریعت اور دیگر مفید فہرستیں شامل ہیں، ان فہرستوں کے بعد صابئی مذہب کے رئیس شیخ ستار جبار حلو  بغدادی عراقی کا مقالہ عربی زبان میں درج ہے جس میں انھوں نے کتاب الحسین و التشریع الاسلامی کی جلد سوم کے مطالعہ کے بعد فرمایا کہ بیشک امام حسین علیہ السلام نے حق کے استحکام کے لئے  کربلاء میں قربانیاں پیش کی ہیں،  وہ حق کہ جس کی طرف ہر دین الہی اور  آسمانی کتاب نے دعوت دی ہے،  کتاب حاضر میں الشیخ الجلیل محمد صادق الکرباسی نے امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی سوانح حیات اور شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، بیشک معجم انصار الحسینؑ کی تمام جلدوں میں موجودہ مطالب کسی بھی محقق کے لئے  ایک عظیم سرمایہ ہیں۔


:دیگر مضامین
(19.05.2013) راحا محرک ماوٴنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن گئیں
(19.05.2013) معروف صحافی مقرر اور ادیب جناب رضا علی عابدی کے ساتھ ایک شام
(17.05.2013) بھارت میں انجمن ترقی اُردو اُتر پردیش نے گورنر سے ملاقات کی ہے
(12.05.2013) مفکر اہلبیت ،شاعر آل عبا صفدر ھمدانی سویڈن میں محفل ذکر باب العلم سے خطاب کرینگے
(11.05.2013) مفکر اہلبیت صفدر ھمدانی کے دورہ سویڈن کے دوران کی اہم محافل
(06.05.2013)  بزم اردو سیتاپور کے آٹھویں ماہانہ طرحی مشاعرہ کی رپورٹ
(05.05.2013) آٹھارہ کروڑ بلیٹ پیپرز کی چھپائی کا کام مکمل اور ترسیل شروع
(04.05.2013) اسامہ بن لادن کے خلاف جان لیوا کاروائی کے دوسال مکمل ہو گئے
(03.05.2013) الیکشن کمیشن پاکستان نے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کی ہدایات جاری کردی
(01.05.2013) آہ ! شیخوپور ضلع کے معروف ماتمی سالار سید اطہر حسین زیدی کے والد سید منذر حسین زیدی
(28.04.2013) اصحاب امام حسینؑ علیہ السلام (حصۂ دوم)تبصرہ و تجزیہ
(24.04.2013) 23، اپریل دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کتاب کا عالمی دن منایا گیا
(23.04.2013) شعبہ قرآن وعترت کی جانب پورے ایران میں پہلے قرآن وعترت اولمپک کا انعقاد
(21.04.2013) مکہ و مدینہ کے اسلامی آثار مٹانا نہ صرف جائز بلکہ ضروری۔سعودی عرب کے مفتی اعظم
(16.04.2013) سنی اتحاد کونسل کےسربراہ صاحبزادہ فضل کریم کی نمازجنازہ فیصل آباد میں ادا کردی گئی
(07.04.2013) بنت مریم جو نایاب ہے ۔۔ از؛ شفق تعظیم نقوی ....۔ سڈنی
(03.04.2013)  انتخابات میں کئی سابق اراکین اسمبلی کوجماعتوں نے پارٹی ٹکٹ نہیں دیے ہیں۔
(02.04.2013) ماہر نشریات سید اظہار کاظمی کی تدفین پیر کے روز عمل میں لائی گئی
(01.04.2013) شہید سبط جعفر کی یاد میں لندن میں ادبی ریقرنس اتوار کو منعقد کیاگیا
(25.03.2013) پاکستان میں سی ایس ایس کے امتحانات میں معصومہ زہرا کی کامیابی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں