ایک ہی رات میں قسمت کا ستارہ ڈوبا
ایک ہی رات میں ہر خواب پریشان ہوا
وہ جو فرعون تھا کل
آج وہ سسکیاں بھرتا ہوا ہلکان ہوا
تاج اور تخت کو جو اپنی وراثت سمجھا
گھر کی لونڈی کی طرح جیسے حکومت سمجھا
ووٹ دے کر جو اسے لائےتھے ایواں میں انہیں
ان کو بھی شخص یہ پھر طوقِ ملامت سمجھا
خاک زادوں کو یہ شاہزادہ تھا ذلت سمجھا
تخت اور اپنی حکومت کو بچانے کے لیئے
عصر حاضر کے یزیدوں سے بھی پیمان کیئے
سازشی ذہنوں سے کتنی ہی اہم جانوں کے نقصان کیئے
نوجواں کتنے ہی بم حملوں میں بے جان کیئے
عاقبت کی نہ کوئی فکر نہ فردا کا خیال
رات دن بُنتا رہا ذہنوں میں تخریب کے جال
مصلحت کے لیئے قرآں کو بنا لیتا تھا ڈھال
بھول بیٹھا تھا سزا کو تھی نہیں فکرِ زوال
اپنی وردی کے نشے میں یہ خدا تھا جیسے
عدل کو اس نے طوائف کے برابر سمجھا
اور عدالت کو کیا اپنی ہی خواہش کا اسیر
اس کے ہر ایک حواری پہ تھاطاقت کا نشہ
ہاں اسی وقت کے نمرود کی حکمت کے طفیل
شہر در شہر قطاروں میں کھڑے لوگوں نے
دو کلو آٹے کی خاطر وہ اٹھائی ذلت
دیکھ کر جس کو ہواؤں کا بھی دم گھُٹنے لگا
اور یہاں اونچے محلات میں ان حاکموں کے کتوں کو
گھی میں گوندھی ہوئی روٹی کا ثمر ملتا تھا
اور ان فاقہ زدہ لوگوں کے
جلتے شہروں میں نہ بجلی نہ میسر پانی
اور یہاں رقص کی محفل تھی سجی حجروں میں
ایک نحوست تھی اُگی ایسے کریہہ چہروں میں
اور اک رات میں پھر جیسے یہ سب ڈوب گیا
رنگ لائی ہے غریبوں کی دہائی دیکھو
تاج اور تخت کی لٹتی ہے کمائی دیکھو
اک عجب طرح سے بدلا ہے نظامِ ہستی
جو بلندی ہی بلندی تھے ہوئے ہیں پستی
اب ہر اک صاحبِ دستار یہ باور کر لے
ووٹ میں فاقہ زدہ شخص کے یہ طاقت ہے
وہ اگر چاہے تو حاکم کو رعایا کر دے
ظلم کے ساتھ میں ظالم کا صفایا کر دے
سرکشوں کا وہ جو تھا سرغنہ جنگ ہار گیا
اسکواب اپنے مظالم کا چکانا ہے حساب
اسکو بھی دینا ہے ان بھوک کے مارے ہوئے بچوں کو جواب
اسکا بھی آئے ہوگا اسی دنیا میں اب روزِ حساب
یاد تو ہو گا کبھی میں نے قلم سے اپنے
یہ بھی لکھا تھا کہ ہم جھکنے کو تیار نہیں
اور اب میرے قلم کا یہ لکھا سچ ہے ہوا
وہ سمجھتا تھا خدا خود کو جو اب اس کے لیئے
پھر قلم نے مرے اک بار سے پھر لکھا ہے
‘‘اپنے انجام کو پہنچا ہے ‘یزیدِ دوراں
سر سے دستار گئی سر کی اب فکر کرے‘‘