معروف سوز خوان طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد اس جہاں فانی سے کوچ کر گئیں کل بروز اتوار مرحومہ کو اسلام آباد
والد محترم سید شرف الحسن زیدی کے پہلو میں مدفن کر دیا گیا

میں جب اُس لاشہ نیم جاں کی تم سے خریت معلوم کرتا تو ایسا لگتا تھا کہ میرے حواس کا شیرازہ منتشر ہو رہا ہے اور میر نظام تنفس بکھر گیا ہے اور میرے عزم کا پیکر بکھراتا اور ٹوٹتا ہوا نظر آ رہا ہے آج جب انسانیت کی اقدار تباہی لوٹ کھسوٹ اور ان گنت خواہشات اور ان تمام غیر انسانی قوتوں کی طرف رواں دواں ہے مگر اس جانب سب کی توجہ نہ ہے کہ موت ہم ہم اس کی جانب توجہ نہیں دیتے اور انسان کے لئے موت کا خوف فطری ہے مگر میں تنویر باجی کو ایک مرثیہ خوان کی حثیت سے زیادہ اور رشتہ داری کے بنا کم جانتا ہوں اور شاید یہ ہی وجہ تھی کہ تنویر باجی ایک مرثیہ خوان کی حثیت سے موت کا جو تصور جو کربلا کے مجاہدین حق سے ان کو حاصل ہوا تھا اس سے کبھی بھی خائف نہیں تھی۔ اور اسی وجہ سے ان کی زندگی ان مردان حق نگا ہ کے ٹھوس قوانین پر عمل پیرا تھی اور امام عالی مقام سید شہدا کے تزکرہ کو اولین جانتی تھی ۔
چند دنوں پہلے جب تم نے بتایا تھا کہ نیم بے ہوشی کی حالت میں ان کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے اور کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر دیکھتی ہیں اور کسی کو پہچانتی بھی نہیں تو میں بلک پڑا اور ایک حسرت کے ساتھ ان کی زندگی کے لئے دعا گو رہا مگر نہ تو دوا اور نہ ہی دُعا کام آئی اور بساط مرثیہ خوانی کی ایک تنویر ہمشیہ ہمشیہ کے لئے گل ہو گئی ایک آواز ہمشیہ کے لئے خاموش ہو گئی وہ تنویر باجی جو رونق مجلس و محافل تھیں 22 رجب المرجب 1434 کی شام کو یہ سوز خوانی کی گداز بلبل باغ و بہار آواز کی مالک ایک اپنے عزیز و اقارب اور اپنے سننے والوں کو بلکتا سکستا چھوڑ کر اسلام آباد کی ایک ویران قبر میں کا کونہ روشن کرنے چلی گئی۔
خدا ان کی برادرن اور ہمشیرگاں اور خصوصا یاسمین اور تمام بچوں کو صبر جمییل عطا کرے اور دعا گو ہوں یہ خدا اپنی رحمتوں اس ذکر کہ صدقے میں جو مدتوں منبر
سے موتی برستاتی رہیں اور مرثیہ خوانی کو عبادت جانتی تھیں مرحومہ کو محمد و آل محمد کے گھنے سایہ دار درخت میں رکھے اور ان کی قبر پر اپنی رحمت کے چراغ روشن رکھے آمین۔ ثمہ آمین۔۔۔۔۔۔۔
مرحومہ سیدہ تنویر زیدی سید قمر زیدی کی چچازادہ اور عالمی اخبار کے بیور سید اکمل حسین کی بھابھی کی بڑی ہمشیرہ تھیں اور سید شرف الحسن زیدی کی بڑی دختر تھیں مرحومہ کا سویم آج بروز منگل اسلام آباد جی سکس میں ہو گا۔ مرحومہ نے چار برادران اور تین ہمشیرہ گان کو سوگوار چھوڑا ہے مرحومہ سید جعفر زیدی کی زوجہ تھیں جو چند برس قبل اس دارفانی سے کوچ کر چکے ہیں عالمی اخبار سیدقمر زیدی اور سیداکمل حسین اور ان کی ہمشیرگان اور برادارن کے دکھ میں برابر کا شریک ہے اور دع گو ہے کہ مرحومہ کو اعلی عالیاں میں جگہ عطا فرماءے۔ آمیں