15 سورہ نحل / 23_ 16 تفسير سياسى جلد 2/257 ، مناقب جلد 4/ 66 ، جلاء العيون مرحوم شبر جلد 2/ 24_ 17 سمو المعنى / 104_ 18 رجال كشى / 94_ 19 مقتل خوارزمى جلد 1 /184، لہوف / 20 بحار جلد 44/ 326_ 20 ارشاد مفيد / 201 ، تاريخ طبرى جلد 341، بحار جلد 44/ 326_ 21 مناقب ابن شہر آشوب جلد 4/90 ،ارشاد مفيد / 204 بحار جلد 44/ 334 كامل ابن اثير جلد 4/21 22 ارشاد مفيد / 205 ،بحار جلد 44/ 336_ 23 مناقب ابن شہر آشوب جلد 4/ 91 ،بحار جلد 44 / 366 24 8ذى الحجة كو منى جانا ايك مستحب عمل ہے اس زمانہ ميں اس استحبابى حكم پر عمل ہوتا تھا ليكن اس زمانہ ميں حجاج ايك ساتھ عرفات جاتے ہيں_ 25 ارشاد مفيد /281 ،بحار جلد 44/ 363 ،اعلام الوري/ 227 ،اعيان الشيعہ ( دس جلد والي) جلد 1 / 593، نہضت الحسين مصنفہ ہية الذين شہرستانى /165 مقتل ابى مخنف / 66 ، ليكن بعض صحيح روايات سے استفادہ ہوتاہے كہ امام حسين(ع) نے حج تمتع كا احرام نہيں باندھا تھا كہ اس كو عمرہ مفردہ سے تبديل كرديں ملاحظہ ہو وسائل الشيعہ جلد 10 باب 7 از ابواب عمرہ حديث 2،3_ 26 ارشاد مفيد / 206 ،بحارجلد 44/ 340 مقاتل الطالبين /63_ 27 ارشاد مفيد / 212_ 28 ارشاد مفيد / 213 _216_ 29 '' قلوبہم معك و سيوف مع بنى اميہ ...'' تاريخ طبرى جلد 5/384 ، كامل ابن اثير جلد 4/ 40 ارشاد مفيد / 618 بحار ،جلد 44/ 195_ 30 بحار جلد 44/ 386_ البتہ لشكر يزيد كى تعداد كے بارے ميں دوسرى روايتيں بھى ہيں جن ميں سب سے كم بارہ ہزار كى روايت ہے _ مناقب جلد 4/98پر 35 ہزار افراد كى تعداد بھى لكھى گئي ہے_ اس مضمون کو انٹر نیٹ کی مدد سے تیار کیا گیا ہے ان تمام احباب کا ادارہ شکر گزار ہے جنہوں نے اس کی تیاری میں مدد کی |