کویت میں اردو ادب و تہذیب کے فروغ کے لیئے تشکیل پانے والی نئی تنظیم انجمن تخلیق و تہذیب کویت کے زیر اہتمام تیرہ جون دوہزار تیرہ جمعرات کی شب ہونے والا پاک وہند مشاعرہ چار گھنٹے تک جاری رہا جسے صدر محفل سمیت تمام شرکا اورمہمانوں نے اس اعتبار سے تاریخی مشاعرہ قرار دیا کہ اسمیں کویت،بھارت اور پاکستان کے قومی ترانے ایک ہی نشست میں پیش کیئے گئے
نماز مغرب کے بعد شہر کے ایک معروف بڑے ہوٹل کے انتہائی خوبصورتی سے سجائے گئے ہال میں
لگ بھگ چار سو مہمانوں کی موجودگی میں شروع ہونے والے اس مشاعرے کی صدارت کویت میں پاکستان کے سفیر عزت مآب سید ابرار حسین نے کی جبکہ مہمان خصوصی لندن سے خصوصی دعوت پر تشریف لائےشاعر،ادیب،محقق اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی تھے
بھارت سے اس مشاعرے میں نواز دیو بندی،اور مجاور مالیگانوی کے علاوہ انور جلال پوری نے شرکت کی جنہوں نے مشاعرے کے دوسرے حصے کی نظامت اہنے مخصوص اندز میں کر کے سامعین سے داد حاصل کی۔مشاعرے کے پہلے حصے کی صدارت کویت کے معروف شاعر طارق اقبال نے کی
ہال کو انہتائی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور اسٹیج کے عقب میں وسیع و عریض بینر مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہا تھا ۔دونوں جانب لگی ہوئی قد آدم اسکرہینوں پر ہال کے مناظر دیکھے جا سکتے تھے
سفیر پاکستان کی آمد پر انکا پر تپاک استقبال کیا گیا ۔ انجمن تخیلیق و تہذیب کویت کی جانب سے تنظیم کی صدر شاہین رضوی، کے علاوہ رمضان بھٹی، احتشام،طارق اقبال،شہزاد خان اور دیگر اراکین نے سفیر موٍصوف کو خوش آمدید کہا
مشاعرے کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکی سعادت حافظ محمد شبیر کے حصے میں آئی جس کے بعد انتہائی خوش الحانی سے اللہ کے حبیب کی قدسی کی لکھی فارسی نعت شاہین رضوی نے پیش کی
طارق اقبال نے تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے طور پر اس شام کے مہمانوں کو ٍخوش آمدید کہا کہ جبکہ شاہین رضوی نے تنظیم کی صدر کی حیثیت سے مختصر طور پر تنظیم کا تعارف کروایا اور اسکے اغراض و مقاصد پیش کیئے۔ انکے علاوہ ہاشم خان،جناب احتشام اللہ دتہ اور دیگر احباب نے بھی انجمن تخلیق و تہذیب کویت کے قیام پر مبارکباد دی
مشاعرے کا آغاز فائزہ صدیقی کے کلام سے ہوا جنہوں نے پہلی بار بڑی کامیابی سے کسی پہلے بڑے مشاعرے میں شرکت کی اور جرآت مندی سے اپنا کلام پیش کیا۔ امید کی جاتی ہے کہ فائزہ آگے چل کر اردو شاعری میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہو نگی
مشاعرے کے دوران انجمن تخلیق و تہذیب کویت کی جانب سے صدر مشاعرہ سفیر پاکستان، مہمان خصوصی صفدر ھمدانی،مہمان شعرا اور تعاون کرنے والے اہم مہمانوں کو یادگاری شیلڈیں پیش کی گئیں جنکی تیاری کا سہرا جناب رمضان بھٹی کے سر جاتا ہے۔ اسی موقع پر ہال میں موجود اور اسٹیج پر بیٹھے مہمانوں کو اس عالمی مشاعرے کا تیار کردہ خصوصی میگزین بھی پیش کیا گیا جسکی تزئین و طباعت کی ذمیداری بھی جناب رمضان بھٹی نے نبھائی
ہال میں ساؤنڈ سسٹم کا بہترین انتظام سمعی اور بصری دونوں صورتوں میں موجود تھا جس ذمیداری شکور شیخ اور انکی ٹیم نے سرانجام دی جبکہ شہزاد خان انتہائی فعال اور متحرک کارکن کے طور پر تصویر کشی اور ہال کی سجاوٹ کے علاوہ دیگر متعدد انتظامی امور میں مصروف رہےمشاعرے میں مقامی شعرا کی بڑی تعداد نے شرکت کی جس کے بعد مہمان شعرا میں مجاور مالیگانوی،انور جلال پوری،نواز دیوبندی اور صفدر ھمدانی نے اپنا کلام پیش کیا اور باذوق سامعین سے خوب خوب داد وصول کی
چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے کے اختتام پر مہمانوں کے پرتکلف عشایئے کا اہتمام تھا اور یوں مہمانوں کی رخصتی کا سلسلہ رات تین بجے تک جاری رہا۔
سامعین کی کثیر تعداد نے اس مشاعرے کو یادگار اور انتہائی کامیاب مشاعرہ قرار دیا جو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر صدر شاہین رضوی کے ساتھ محمد رمضان بھٹی اور انکی ٹیم کا ایک ایک رکن قابل مبارکباد ہے
مشاعرے کی تفصیلی رپورٹ وڈیوز اور تصاویر کے ساتھ جلد ہی پیش کی جائے گی