جنہوں نے کل عوام
پر جوتا چلایا تھا انکو عوام نے آئینہ دکھا دیا لیکن یاد رکھیں جو آج عوام
پر جوتاچلا رہے ہیں انہیں بھی جلد ہی آنے والی کل کو یہ سزا ملنی ہی ہے
کیونکہ یہی مکافات عمل ہے

پہلے
عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر آج کا کالم پاکستان کی نقاب پوش جمہوری
حکومت کے نام کہ جو فروری کے انتخابات میں کامیابی کے نو ماہ بعد بھی یہ
فیصلہ نہیں کر پائی کہ جمہوری روش پر چلنا ہے یا پھر اپنے پیشرو آمر مشرف
کی پالیسیوں کو دوام بخشنا ہے۔
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مشرف کے جانے کے بعد آخر ملک میں کیا بدلا ہے؟

میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ یہ بتاؤ کہ کیا نہیں بدلا؟
ملک
کا صدر بدل گیا، وزیر اعظم بدل گیا، ایوان صدر کا نظام بدل گیا، عدالت کی
قسمت بدل گئی، ججوں کا کام بدل گیا، چوروں کا بھی احترام شروع ہو گیا، لوٹ
کھسوٹ کا انداز بدل گیا، گورنر پنجاب کے فرائض و اختیارات بدل گئے، وفاق
کی مخلوط حکومت کی جماعتیں بدل گئیں، سمجھوتے یا معاہدے کے معنی بدل گئے،
اداروں کے سربراہ بدل گئے، زرداروں کے دن بدل گئے، ایم کیو ایم کی وفاداری
بدل گئی، سیاسی لوٹوں کی جماعتیں بدل گئیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جمہوریت
کے معنی بدل گئے جمہوریت کی تعریف بدل گئی۔میرے
دوست کہتے ہیں کہ ھمدانی صاحب دنیا 1947سے بہت آگے جا چکی ہے اور آپ انہیں
پرانی باتوں ،روایات اور اصولوں کا رونا روتے رہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ
ہاں بھائی مانتا ہوں کہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے لیکن رونا تو یہی ہے کہ ہم
وہیں کھڑے ہیں۔ ہم کہاں آگے بڑھے ہیں۔ اور اگر روایات اورا صولوں کی بات
نہیں کرنا تو پھر چودہ سو سال پہلے کی باتوں کو بھی یکسر آج کی جدید زندگی
سے نکال باہر کرنا ہو گا۔

بات
اپنی اپنی سوچ کی اور فکر کی ہے ورنہ ابھی کل پاکستان کے ٹی وی چینل اے آر
وائی کے پروگرام ‘‘آف دی ریکارڈ‘‘ میں پیپلز پارٹی کے وزیر
راجہ اشرف
کو دیکھا تو احساس ہوا کہ حکومت میں آنے اور جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنے
کے بعد ان وزیروں اور انکے آقاؤں کو وہ ووٹ دینے والے کیسے چھوٹی چھوٹی
چیونٹیاں لگنے لگتے ہیں جنہوں نے اپنے ووٹ دے کر ان کو ایوانوں میں بھیجا
اور وزیر بنوایا ہوتا ہے۔
کیسےحکومت میں آتے اور وزیر بنتے ہی آنکھ
پر پٹی بندھ جاتی ہے اور مفادات کی عینک سے سب کچھ اچھا نظر آتا ہے۔ کس
طرح عقل پر نظریہ ضرورت حاوی ہو جاتا ہے اور غیروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے
والے اپنے ہی ہم وطن دہشت گرد اور شدت پسند لگنے لگتے ہیں۔کس طرح آسانی سے
ملکی سرزمین میں گھُس کر ہمارے شہریوں ہر حملہ کرنے والے دوست لگنے لگتے
ہیں۔ کس طرح ڈھیٹ بن کر کہا جاتا ہے کہ ‘‘ حالات کوئی اتنے خراب نہیں جتنے
میڈیا بڑھا چڑھا کر بتاتا ہے‘‘۔ کیسے ضمیر کا گلا گھونٹ کر عوام سے آنکھیں
نہ ملانے والے کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے
ہر مسلے کا الزام امریکہ پر نہیں ڈالنا چاہیئے۔
جی
چاہتا ہے ایسے وزیران با تدبیر نہیں بلکہ بے تدبیر سے پوچھا جائے کہ حضور
آپ ہی اپنی سیاسی دانشوری اور افلاطونی فلسفے کی روشنی میں بتائیں کہ جو
امریکہ آپکی اور آپکی پارٹی کی اشیر باد کے ساتھ کر رہا اسکا الزام امریکہ
پر نہ ڈالیں تو کس پر ڈالیں۔ چلیئے جناب راجہ اشرف صاحب آج سے طے کر لیتے
ہیں کہ اب سے ایسی تمام باتوں کا الزام ہم اور آپ مل کر ایران، عراق، سری
لنکا اور جبوتی پر ڈالا کریں گے۔ ٹھیک اب تو آپ خوش ہیں نا!
راجہ اشرف صاحب ابھی تو ایک سال بھی نہیں گزرا اور
عوام کے ووٹ دینے کی ‘‘برسی ‘‘ بھی نہیں منائی گئی اور
آپ اور آپ کے اہلِ جماعت وہ سب کچھ بھول گئے جو آپ ایسے ہی ٹی وی چینلوں
پر بیٹھ کر کہا کرتے تھے۔ جیسے یہ کہ ‘‘ ہم میڈیا کو سلام کرتے ہیں کہ وہ
عوام کو وہ اصل صورت حال دکھا رہا ہے جو آمریت اس ملک میں کر رہی
ہے۔۔۔۔۔میڈیا والے عدالت سے بڑا کام کر رہیں۔۔۔۔۔میڈیا تو وہی دکھائے گا
جو ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میڈیا کے لوگ مجاہد ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہم میڈیا والوں کے
ساتھ ہیں اور ہر مشکل وقت میں انکا ساتھ دیں گے وغیرہ وغیرہ‘‘۔
حضور
میڈیا آج بھی وہی کر رہا مسلہ صرف یہ ہے کہ اب آپ حکومت میں ہیں لیکن ٹی
وی کیمرے کو اس سے کوئی مطلب نہیں،وہ تو آج بھی وہی دکھا رہا ہے جو ہورہا
ہے۔ پہلے آپکو آٹے کے لیئے دن بھر لائن میں لگے ہوئے بیس پچیس لوگ بھی
سینکڑوں لوگ لگا کرتے تھے لیکن اب آپکو سینکڑوں کی لائن میں بھی دس پندرہ
لگتے ہیں اور آپ اس کا الزام میڈیا پر لگاتے ہیں۔

راجہ
اشرف صاحب ایک آپ ہی کونہیں ،یہ غریب شہر اسوقت کے صدر اور وزیر اعظم کے
ساتھ ساتھ اسوقت حذب مخالف میں بیٹھی ہوئی جماعتوں کے سربراہوں کو بھی
بتانا چاہتا ہے کہ حضور دو چیزیں اس وطن عزیز میں کسی بھی حکمران جماعت کو
کبھی بھی منظور نہیں ہوں گی۔
ایک آزاد عدلیہ اور ایک آزاد میڈیا۔خیر یہ چند روزہ وزیر تو نہ جانے کیوں میرے موضوع کے حصار میں آ گئے۔ میں تو بات کر رہا تھا آج پہلے عالمی یوم جمہوریت کی۔
آج
پہلا عالمی یومِ جمہوریت یوں تو دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے لیکن شاید
پاکستان کے لیئے اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے کیونکہ یہاں کے عوام نے فروری
کے انتخابات میں جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعتوں کو آمرانہ ذہنیت

کی
جماعتوں کے مقابلے میں فتح اس لیئے نہیں دلوائی تھی کہ وہ بھی آمرِ وقت
جنرل مشرف کی طرح امریکہ کی جھولی میں جا گریں بلکہ دو قدم آگے جا کر اپنے
آقا سے یہ کہیں کہ
‘‘سرکار کوئی مسلہ نہیں آپ بلاتکلف وطن عزیز کی سرزمین کے اندر آ کر ہمارے لوگوں کی تکا بوٹی کر جائیں‘‘۔
نو اپریل دو ہزار آٹھ
کو میں نے اسی طرح کا ایک کالم لکھاتھا لیکن اتفاق سے آج جمہوریت کے
پہلےعالمی دن کے موقع پر کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو اپنا ہی پانچ ماہ پہلے کا
لکھا ہوا کالم پڑھ کر حیرت ہوئی کہ اگر قلم بکنے والا نہ ہو تو آنے والے
دنوں کی تصویر کھینچ دیتا ہے۔
ذرا
دیکھیں تو پانچ ماہ پہلے کا لکھا ہوا کالم آج بھی کتنا تازہ ہے اور بقول
احمد فراز کے نہ ملک کے حالات بدلتے ہیں اور نہ ہی ہماری نظمیں۔‘‘آج
تو دل چاہتا ہے کہ اس ‘‘جدید قاعدے‘‘ سے کچھ اسباق لکھوں جو نئی صورت حال
میں لکھنا شروع کیا ہے لیکن کیا کرؤں کہ حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں
کہ جو بات آج لکھتا ہوں وہ اگلی صبح تک پرانی ہو جاتی ہے اور جب تک اُس
پرانی بات کو تازہ کرنے لگتا ہوں تو کوئی ایک اور نیا واقعہ یا سانحہ جنم
لیتا ہے۔

ابھی
کچھ ہی دن پہلے میں ‘‘جدید قاعدے‘‘ کا نصف مکمل کر کے ہٹا ہوں اور سوچ رہا
ہوں کہ اگلے نصف کو مکمل کرنے سے پہلے پچھلے نصف پر بھی نظر ثانی کرناپڑے
گی۔
الف۔۔۔۔ا۔سے۔الطاف ۔۔۔۔امریکہ۔۔۔ایم کیو ایم۔۔۔۔ایوان صدرآ۔۔۔۔آ۔سے۔آٹا۔۔۔۔آفات۔۔۔۔آصف زرداری۔۔۔۔آفرین۔۔۔۔آثاربے۔۔۔۔ب۔سے۔باٹا۔۔۔۔بلوچستان۔۔۔۔بھوربن۔۔۔۔بندر بانٹ۔۔باجوڑپے۔۔۔۔پ۔سے۔پتلون۔۔۔۔پٹائی۔۔۔۔پاکستان۔۔۔۔پارلیمانتے۔۔۔۔ت۔سے۔تخت یا تختہ۔۔۔۔تلوار۔۔۔۔تباہی۔۔۔۔تفریحٹے۔۔۔۔ٹ۔سے۔ٹٹو۔۔۔۔ٹاٹا۔۔۔۔ٹوٹی ٹانگیں۔۔۔۔ٹم ٹمجیم۔۔۔ج۔سے۔جوتا۔۔۔۔جج۔۔۔۔جہالت۔۔۔۔جگادری۔۔۔۔جیلاب
ظاہر ہے کہ جو نصف قاعدہ مکمل ہوا ہے وہ سارے کا سارا تو یہاں لکھا نہیں
جا سکتا اور اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت بھی جس
آمرانہ شان سے آ رہی ہے اُس پر یہ ہی کہا جس سکتا ہے کہ ‘
‘اس جمہوریت میں عزتِ سادات بھی گئی‘‘۔سندھ
اسمبلی میں سابق وزیر اعلیٰ ارباب رحیم کے ساتھ پیش آنے والا شرمناک واقعہ
ہو یا پھر داتا کی نگری لاہور میں میانوالی کے ‘‘شیر‘‘ ڈاکٹر شیر افگن کے
ساتھ ہونے والا قابل مذمت سلوک،یا پھر کل یا پرسوں کسی اور سیاستدان
،سرکاری اہل کار،سابق وزیر یا حاضر وزیر و مشیر کے ساتھ دوہرائے جانے والا
یہی سین۔ یہ سب کچھ ہمیں کس طرف لے کر جارہا ہے۔ یقین نہیں ہوتا کہ کیا
انتخابات کے نتیجے میں جمہوریت کی آمد کے بیانات سچے تھے یا ہمیشہ کی طرح
کے جھوٹے بیانات۔
میں بلاشبہ بہت سے دوسرے ‘‘محشر آشنا‘‘ لوگوں کی طرح مکافات عمل پر یقین رکھتا ہوں اور
یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جو ‘‘جوتا‘‘ آپ اپنے دور اقتدار
میں اُس عوام پر چلاتے ہیں جن کے ووٹ سے منتخب ہو کر پارلیمان میں پہنچتے
ہیں تو پھر عوام جب اپنی طویل تضحیک اور بے عزتی کا بدلہ لینے پر آتے ہیں
تو وہی جوتا پلٹ کر آپ کی طرف واپس بھی آ سکتا ہے اور اس کا زندہ مظاہرہ
ہم اپنے اپنے گھروں کے ٹی وی سکرینوں پر دیکھ چکے ہیں۔
جو
بات یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کل عوام پر جوتا چلانے والوں کو آج سزا
مل چکی ہے اور جو آج چلا رہے ہیں انہیں بھی کسی آنے والے کل کو یہ سزا
ملنی ہی ہے اور اسی کو مکافات عمل کہتے ہیں۔دراصل ہمارے
ہاں بر سراقتدار طبقہ اقتدار کے نشے میں یہ بھول ہی جاتا ہے کہ ایک دن یہ
اقتدار ان کے پاس نہیں رہے گا اور جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے تو
‘‘جوتا چل چکا ہوتاہے‘‘۔ہم اختلاف کو بھی زندگی اور موت کی جنگ بنا لیتے ہیں۔
سچ پوچھیں تو جو لوگ آج یہ بیان دے رہے ہیں کہ‘‘ارباب رحیم اور شیر افگن
کو پڑنے والے جوتے دراصل جمہوریت کے منہہ پر پڑنے والے جوتے ہیں‘‘انہیں
بھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیئے اور اصل بات تو یہ ہے کہ پہلا
پتھر وہ مارے جس نے خود یہ گناہ نہ کیا ہو۔

پیپلز
پارٹی کو شاید اقتدار ہضم نہیں ہو رہا اور انکی قیادت بھی اپنے کارکنوں کو
قابو کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔قومی اسمبلی میں ہونے والی نعرہ
بازی اور ہلڑ بازی ہو یا پھر سندھ اسمبلی میں دندناتے پھرتے ہوئے جیالے
اور ہاتھوں میں جوتیاں اٹھائے ہوئے سندھ اسمبلی کی راہداریوں میں دندناتی
پھرتی ہوئی عورتیں۔ یا سب آج کا نہیں آنے والی کل کا منظر نامہ تخلیق ہو
رہا ہے۔
اس سارے کھیل میں ایک بار پھر ملک کی خفیہ ایجنسیاں کسی کے
اشارے پر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور وہ حکومت جو ابھی بنی بھی نہیں ہے
اس کے لیئے امن و امان کا ایسا مسلہ پیدا کیا جارہا ہے کہ انہیں ووٹ دینے
والے خود کو مطعون کریں کہ انہیں کیوں منتخب کیا تھا اور لوگ یہ کہنے لگیں
کہ ہم جمہوریت کے قابل ہی نہیں ہیں اور ہمارے لیئے فوجی حکومت ہی ٹھیک ہے۔
سیاست
کا کھیل تو ہمیشہ سے ہی بڑا بے رحم کھیل ہے لیکن پاکستان میں موجودہ حالات
میں یہ کھیل اسقدر ظالمانہ ہو گیا ہے کہ ہر لمحہ خوف کی تصویر بنا ہوا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ طوائف الملوکی کا راج ہے اور قانون نام کی کوئی چیز ملک
میں موجود نہیں ہے۔یہ خوف بھی کھائے جاتا ہے کہ مستقبل میں بچے جب اردو کے قاعدے میں ج سے جوتا اور ج سے جمہوریت پڑھیں گے تو انکے محسوسات کیا ہوں گے؟

اس
ملک کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ فاٹا بھی اس ملک کا
مسلہ ہے اور آٹا بھی۔ اور اس میں ‘‘باٹا‘‘ کے جوتے کا اضافہ ہوا ہے اور ڈر
ہے کہ
کہیں یہ سب کچھ‘‘ٹاٹا‘‘ نہ ہو جائے اور خاکی وردی اور بھاری بوٹ پھر یہ اعلان کر رہے ہوں کہ
‘‘میرے
عزیز ہم وطنو۔۔۔۔میں ملک کو ٹوٹتے اور ڈوبتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا اس
لیئے قوم نے اب یہ ذمیداری میرے نازک کندھوں پر ڈالی ہے اور میں اگلے‘‘نوے
سال‘‘ تک کے عرصے میں نئے انتخابات کروا کے اقتدار عوام کے نمائیندوں کے
سپرد کر دوں گا۔۔پاکستان زندہ باد‘‘۔قارئین محترم آپ ہی بتائیں کیا اسکے بعد بھی کچھ لکھنے کی گنجائش ہے؟ ذرا سوچیں تو
ایسی صورت حال میں ہمارا بھلا جمہوریت سے کیا تعلق ہے اور ہم کیوں عالمی یوم ِجمہوریت منائیں۔ہاں اگر امریکہ بہادر کہے تو ہم سارا سال‘‘سالِ جمہوریت مناتے رہیں‘‘۔