دوسری قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ ‘‘سویڈن کو یورپی یونین کی رکنیت یکم جنوری 1995میں ملی‘‘اسی سویڈن کو دیکھنے کے لیئے دل تو ایک مدت سے چاہتا تھا لیکن میرا ایمان ہے کہ کوئی ایک چیز بھی آپکی
مرضی سے طے نہیں ہوتی بلکہ ہر چیز کا ایک وقت اور ایک معین موقع ہوتا ہے۔میرے ڈنمارک کے اسفار کی تفصیل خاصی طویل ہے اور مختلف حوالوں سے ہونے والے ان اسفار کے دوران میرا میزبان گھر نناوے فیصد معروف شاعر اور ادیب نصر ملک کا دولت کدہ رہا ہے اور جب بھی کوپن ہیگن کی سیر کے لیے میں نصر ملک اور امانت چوہدری کے ساتھ نکلا تو اس پُل کے قریب کھڑے ہو کر سویڈن جانے کا ذکر رہا جس کے ایک طرف ڈنمارک اور دوسری طرف سویڈن ہے۔
 |
| سائیں سُچا |
قلم کار اور صحافی ہونے کے ناطے سویڈن میں مقیم شاعروں اور ادیبوں سے ناموں کے حوالے سے آشنائی تو ضرور رہی ہے لیکن سوائے برادرم مشتاق المعروف سائیں سُچا کے کسی سے ملاقات نہ ہو سکی۔
اس پہلے سفر سویڈن میں بھی صرف برادرم جمیل احسن سے ملاقات ہوئی اور میری بدقسمتی کہ دیگر دوستوں سے ملاقات کا شرف نہ مل سکا۔میرے لیئے اسکی وجوہات نا معلوم ہیں۔ مجھے علم ہے کہ ہمارے پرانے شناسا پی ٹی وی کے پروڈیوسر آصف شاہکار بھی اسی شہر میں ہیں شاید، احمد فقیہہ ‘ولید میر اور باسط میر بھی یہیں مقیم ہیں۔لیکن ان افراد سے ملاقات نہ ہونے کا قلق ضرور رہے گا۔میری ایک طویل عرصے سے یہ عادت ہے کہ مسلسل سفر کی وجہ سے
 |
| ج،یل احسن اور صفدر ھمٰدانی |
میں اپنے بیرونی ممالک کے پروگرام ڈھائی تین ماہ پہلے ترتیب دیتا ہوں اور اسی اصول کے تحت جنوری کے آخر میں سٹاک ہولم کے سفر کا یہ پروگرام نومبر کے وسط میں طے پا گیا تھا جب بھائی سائیں رحمت علی ناتھن شاہی نے اپنا شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے پاکستانیوں کی تنظیم اور اپنے احباب کے فیصلے مطلع کیا۔
ہوائی جہاز سے ان دنوں ٹکٹ بک کروانا بہت آسان ہو چکا ہے اور اس عمل میں سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ آپکا ٹکٹ ایجنٹ کی نہ تو دوکان کا بار بار چکر لگانا پڑتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی کی نشست حاصل کرنے کے لیئے منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ اب میرے جیسے لوگ جو بہت حد تک کمپیوٹر کی ٹیکنالوجی کی جیسے غلام ہو چکے ہیں کہ ٹکٹ کی بکنگ سے لیکر بورڈنگ پاس تک گھر سے پرنٹ کر کے ہوائی اڈے پر جاتے ہیں اب اگر انکو کسی وجہ سے ہوائی اڈے پر لائن میں لگنا پڑ جائے تو جیسے انکی موت واقع ہو جاتی ہے۔
یہاں یورپ کی تو لگ بھگ ہر ایک ہوائی کمپنی نے یہ تمام سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں لیکن اپنی
پی آئی اے ابھی بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر ہے۔ٹیکنالوجی ہے بھی اور نہیں بھی۔اندرون ملک صرف ٹکٹ خریدنے کی سہولت ہے لیکن باقی سب کچھ ناپید۔
اسی طرح غیر ممالک میں کہیں انٹر نیٹ پر ٹکٹ بک ہو سکتا ہے اور کہیں نہیں۔لیکن مرضی کی نشست اور بورڈنگ کارڈ پرنٹ کرنے کی سہولت کہیں بھی نہیں۔
یہاں سویڈن آ کر یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں کے پاکستانیوں کو جو جذبہ حب الوطنی میں کسی سے بھی کم نہیں قومی ایر لائینز نے یہ سہولت بھی نہیں دی کہ یہ براہ راست یہاں سے اپنے ملک جا سکیں۔ کسی حیرت کی بات ہے کہ ان لوگوں کو پہلے سٹاک ہولم سے کسی قریبی ملک جانا پڑتا ہے جہاں سے یہ لوگ پی آئی اے سے پاکستان جاتے ہیں۔ لیکن کمال تو انکی محبت کا ہے کہ یہ ان حالات میں بھی قومی ایر لائینز کو استعمال کرتے ہیں کسی دوسری ہوائی کمپنی سے اکثر نہیں جاتے۔ اس معاملے کو بھی زرا تفصیل سے آگے چل کے لکھوں گا۔
میں نے سویڈن روانگی کی اپنی ٹکٹ سویڈن کی قومی ایرلائینز جو دراصل پورے سیکنڈے نیویا کی قومی ایر لائینز ہے اور ‘‘ایس اے ایس‘‘ کہلاتی ہے اسی سے کروائی تھی اور اسکی ایک وجہ اسکی ٹکٹ برٹش ایرویز سے جس سے کہ میں اکثر سفر کرتا ہوں صرف پندرہ پاؤنڈ کم تھی۔ اب کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ آخر پندرہ پاؤنڈ کا فرق کیا ہےِ تو یہ مسلہ پندرہ پاؤنڈ کا نہیں ایک خود ساختہ اسول کا ہے اور وہ یہ کہ میں جب اپنے گھر کے لیئے ٹکٹ دیکھتا ہوں تو جس قدر ممکن ہو سستا ٹکٹ دیکھتا ہوں اسی وجہ سے چونکہ میں غیر ممالک میں پاکستانیوں کی دینی،مذہبی اور سامجی تنظیموں اور اور مالی پوزیشن سے بخوبی واقف ہوں اس لیئے چاہتا ہوں کہ اگر کسی تنظیم کے دس پندرہ پاؤنڈ بھی بچ جاتے ہیں تو اسمیں مجھے کیا فرق پڑتا ہے اور کیا نقصان ہوتا ہے۔ یہ بس ایک رویہ ہے۔غلط یا صحیح۔میرا رویہ ہے۔
ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایسی ہوائی کمپنیاں جو دس پندرہ پاؤند کرایہ کم رکھتی ہیں تو انکا فرق صرف اتنا ہے کہ دوران پرواز یہ آپکو

کھانے پینے کو کچھ نہیں دیتیں حتیٰ کہ پانی بھی نہیں اور یہ سب کچھ آپکو نقد ادائیگی سے خریدنا پڑتا ہے۔
میرے قریب دوست اور اہل خانہ میری اس اچھی بری عادت سے بخوبی واقف ہیں کہ میں کہیں بھی جانے کے لیئے میں ہفتے بھر قبل ساری پیکنگ وغیرہ کر لیتا ہوں اور چوبیس گھنٹے قبل انٹر نیٹ پر نشست مختصر کے اور بورڈنگ کارڈ گھر پر پرنٹ کر کے بھی علاقائی پرواز کے لیئے بھی کم از کم ڈھائی تین گھنٹے پہلے ہوائی اڈے پہنچ جاتا ہوں۔انتیس جنوری دوہزار نو جمعرات کی صبح لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے سے میری سٹاک ہولم میری روانگی ایسی اے ایس کی پرواز ایس کے 526کے ذریعے صبح دس بجکر پنتیس منٹ پر ہیتھرو کے ٹرمینل تین سے تھی اور اپنےاسی اصول کے تحت اٹھائیس جنوری کو بورڈنگ پاس پرنٹ کرنے وا لے آن لائن چیک ان ہونے کے باوجود میں گھر سے صبح پونے آٹھ بجے نکلا اور کوئی بیس منٹ کی مسافت کے بعد ہیتھرو کے ٹرمینل تین پر تھا۔
نائن الیون اور برطانیہ میں بم حملوں کے بعد سے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کی صورت حال ایسی سخت ہے کہ بعض اوقات یہ سارا عمل تضحیک محسوس ہوتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ انسان گھر سے صرف نیکر اور بنیان پہن کر چلے۔ لیکن کیا کریں کہ اب تو ہم سکیورٹی کے اس سارے عمل کے عادی ہو چکے ہیں اور سدھائے ہوئے جانور کی طرح تمام مراحل سے گزرتے رہتے ہیں۔اس سکیورٹی کے عمل سے گزر کر اور کچھ دیر ہیتھرو کی دوکانوں میں ونڈو شاپنگ کرنے کے بعد جہاز کی روانگی کے لیئے اعلان ہوا اور اب باقی ماندہ مراحل سے گزر کر جہاز میں جب بیٹھ چکے تو جہاز کے کپتان نے یہ خبر سنائی کہ ایر پورٹ پر جہازوں کی آمدورفت کی ٹریفک کی وجہ سے پروا نصرف گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہو گی۔ قہر درویش پر جان درویش۔ بالآخر کوئی پچیس منٹ کے بعد جہاز ہیتھرو سے سٹاک ہولم کے لیئے روانہ ہوا تو اللہ کا شکر ادا کیا۔

ل
ندن سے سٹاک ہولم کا سفر کوئی ڈھائی گھنٹے کا ہے اور گرینچ ٹائم کے مطابق سویڈن کا وقت لندن سے ایک گھنٹہ آگے ہیں اور اس مناسبت سے اس پرواز کو سٹاک ہولم مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بجکر دس منٹ پر پہنچنا تھا لیکن تاخیر سے روانگی کی وجہ سے سٹاک ہولم بھی کوئی بیس منٹ کی تاخیر سے پہنچی۔جہاز جب سٹاک ہولم کے ہوائی اڈے پر اترا تو ایک لمحے کو یوں لگا جیسے برف کی چادر پر اتر گیا ہو۔ سارے ہوائی اڈے پر جہاں تک نظر جارہی تھی چاروں جانب برف ہی برف تھی اور ہوائی میزبان کی اطلاع کے مطابق درجہ حرارت منفی پانچ تھا۔جہاز سے نکل کر مختلف برقی سیڑھیوں اور بڑے بڑے دالانوں سے ہوتے ہوئے امیگریشن پر پہنچے اور یہاں بس کوئی ایک ڈیڈھ منٹ کے بعد اب میں ہوائی اڈے سے باہر نکلنے کے EXITکے سائن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
لوگ اپنااپنا سامان وصول کر رہے تھے اور میں چونکہ فقط ایک بیگ کے ساتھ تھا اس لیئے براہ راست باہر نکلنے کے اشارے سے باہر نکلا...جاری ہے