تیسری قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ ‘‘لوگ اپنااپنا سامان وصول کر رہے تھے اور میں چونکہ فقط ایک بیگ کے ساتھ تھا اس لیئے براہ راست باہر نکلنے کے اشارے سے باہر نکلا‘‘۔ باہر نکلتے ہی جو شخص کھلے ہوئے بازؤں اور کشادہ سینے کے ساتھ سعادت حسن منٹو جیسی عینک لگائے ہوئے آگے بڑھ کر پوری طاقت سے بغلگیر ہوا وہ سائیں رحمت علی تھا۔
اب جو سائیں رحمت علی نے اپنا تعارف کروانے کی کوشش کی تو میں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ ایسی محبت سے بغلگیر ہونے والے آدمی کو کیا اپنا تعارف بھی کروانا پڑے گا۔ رحمت علی سے ہماری غائبانہ شناسائی اور ٹیلی فونک آشنائی تو ایک عرصے سے تھی لیکن اگر چہ بالمشافہ ملاقات یہ پہلی تھی اس کے باوجود یوں محسوس ہوا جیسے اللہ کی اس رحمت سے برسوں سے شناسائی ہے۔
رحمت کے ساتھ جو صاحب ہوائی اڈے پر مجھے لینے کے لیئے آئے تو وہ سرخ و سفید اور دراز قدمومن تھے جنکا تعارف رحمت علی نے جعفر مغل کہہ کر کروایا لیکن انہوں نے خود فوری طور پر جعفر مغل کے ساتھ بلتستانی کا اضافہ بھی کیا۔ انکی یہ بات سن کر اس امر کی خوشی ہوئی کہ ہم اکثر پاکستانی کہیں بھی رہیں اپنی بنیاد اور اپنے آبا کی سرزمین اور اس سے نسبت کو کبھی نہیں بھولتے۔
رحمت علی کے بعد جعفر مغل بلتستانی نے بغلگیر ہو کر سفر کی رہی سہی تھکاوٹ بھی ختم کر دی۔ اب جو ہم ہوائی اڈے سے باہر نکلے تو سردی کے پہلے جھونکے نے تھکاوٹ زدہ چہرے کو بوسہ دیکر ‘‘ویلکم ٹوسٹاک ہولم‘‘ کہا۔ باہر رحمت اور جعفر کے تیسرے ساتھی سکندر میر گاڑی میں بیٹھے ہم سب کا انتظار کر رہے تھے۔ جنہوں نے ہمیں دیکھتے ہی جیسے گاڑی سے جست لگائی اور گلے ملکر خوش آمدید کہا جس سے سویڈن کی سردی کی پہلی لہر کا اثر خاصی حد تک زائل ہو گیا۔ہوائی اڈے سے اقامت گاہ کی طرف روانہ ہوئے تو سڑکوں پر چاروں جانب جیسے برف کے پہاڑ کھڑے تھے اور معلوم ہوا کہ رات بھر ہونے والی برفباری کا سلسلہ میری آمد سے چند گھنٹے قبل صبح میں ختم ہوا ہے۔لیکن سڑکوں کی صفائی سے کسی طرح یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ رات بھر یہاں برفباری ہوئی ہے۔

کشادہ سڑکوں اور تیز دوڑتی بھاگتی گاڑیوں کے درمیان ہماری گاڑی بھی اپنی منزل کی جانب رواں تھے اور اب یہاں دوپہر کے اس پہر میں ہی سڑکوں اور دوکانوں کی روشنیاں جل اٹھی تھیں۔
سٹاک ہولم کا ہوائی اڈہ شہر کے شمال میں واقع ہے اور وسط شہر سے ہوائی اڈے کا فاصلہ کوئی 27میل یعنی 43 کلومیٹر ہے۔ہوائی اڈے کے نیچے سے چلنے والی آرلینڈا ایکسپریس ٹرین دیگر شہروں کو بھی جاتی ہے اور کوئی بیس منٹ میں وسطی سٹاک ہولم میں بھی پہنچا دیتی ہے۔ اسی طرح یہاں سے چلنے والی بسیں دیگر شہروں کو بھی جاتی ہے اور کوئی 45منٹ میں سٹاک ہولم پہنچا دیتی ہیں۔
اسی مناسبت سے ہمیں بھی اپنی قیام گاہ تک پہنچنے میں کوئی ایک گھنٹے سے کم کا وقت ہی لگتا لیکن ہم کوئی ڈیڈھ گھنٹے میں اس لیئے Fittja کے علاقے میں پہنچے کیونکہ راستے میں کچھ دیر ہمیں جعفر مغل کے گھر رکنا پڑا کہ رات کا کھانا انکی اہلیہ نے تیار کر کے رکھا تھا جو انہیں ساتھ لیکر برادرم نوید بٹ کے در دولت پر جانا تھا جہاں ہمارا قیام تھا۔ جی ہمارا قیام۔ یعنی جب تک میں سویڈن میں رہا میرے علاوہ رحمت اور جعفر بھی یہیں رہے اور آخری دو ورز تو جعفر کا بیٹا سروش جسے میں پیار سے خرگوش کہتاتھا وہ بھی بضد ہو کر یہیں قیام پزیر ہو گیا۔
ہمارا قیام یہاں نوید بٹ کے در دولت پر تھا اور جب ہم انکے ہاں پہنچے تو وہ اپنی ملازمت پر جانے کو تیار تھے اور شاید بریڈ فورڈ برطانیہ میں اپنی اہلیہ سے ٹلی فون پر گفتگو کر رہے تھے۔ ہم جونہی انکے گھر میں داخل ہوئے انہوں نے فون پر خدا حافظ کہا اور پرتپاک طریقے سے بغلگیر ہوئے۔ نوید بٹ ایک منفرد سی شخصیت ہیں اور انکا تعلق لاہور سے ہے۔ دو بچے ہیں اور اہلیہ بریڈفورڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہیں جبکہ خود نوید اکیلے گھر میں زندگی کے دن ملازمت،دائری لکھنے اور بیگم بچوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کرنے میں گزارتے ہیں۔
نوید بٹ یہاں کے پاکستانیوں میں ایک ہر دلعزیز اور مقبول شخصیت ہیں اور مجھے جو بات ان میں سب سے اچھی لگی وہ انکی جستجو اور زیادہ سے زیادہ جاننے کی اپچ ہے۔ وہ ہر وقت کوئی نہ کوئی سوال کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور میں ہمیشہ سے ایسے افراد کا گرویدہ ہوں جو استفسار اور جستجو کی نعمت سے نوازے ہوں۔نوید بٹ نے زمانہ طالب علمی میں لاہور کی ایک مقبول تنظیم ‘‘بلیک ایگل‘‘ سے بھی وابستگی رکھی اور شاید پہلے بھی میں لکھ چکا ہوں کہ پیپلز پارٹی کے عشق میں ایسے پڑے کی جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔ لیکن بعد میں سویڈن میں آکر نئے سرے سے اپنی زندگی بنائی اور الحمد اللہ خوب اچھی طرح گزار رہے ہیں۔

نوید صاف گو آدمی ہیں اور زیادہ تر لگی لپٹی بغیر بات کرتے ہیں۔ جب میں لندن سے سٹاک ہولم کے لیئے چلنے والا تھا تو ایک رات قبل انکی اہلیہ کا بریڈ فورڈ سے فون آیا کہ سویڈن سے نوید مجھ سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن فون نہیں مل رہا۔ میں نے نوید کی اہلیہ سے کچھ دیر بات کی تو پتہ چلا کہ خاتون کا تعلق علمی ادبی گھرانے سے ہے اور خود انکی گفتگو کا انداز بھی مہذب خاندان سے ہونے کا پتہ دے رہا تھا۔ ان سے بات کے بعد میں نے جب سویڈن نوید بٹ کے گھر پر فون کیا تو برادرم رحمت بھی یہین موجود تھے اور یہ دونوں دوست مجھے سویڈن کی سردی سے آگاہ کرنا چاہتے تھے تا کہ میں گرم کپڑے لیکر جاؤں اور سخت سردی کا سامنا کرنے کے لیئے ذہنی طور پر تیار ہوں۔
ان دونوں احباب سے جب فون پر بات ختم ہوئی تو میں سوچنے لگا کہ کچھ لوگ دوسرے بہت سے لوگوں کی نسبت بہت محتاط اور ذمیدار ہوتے ہیں اور رحمت کے ساتھ نوید بٹ بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ نوید کا شعری زوق بہت اچھا ہے۔اسے کئی مقبول شاعروں کا کلام زبانی بھی یاد ہے اور متعدد کلام اس نے ایک ڈائری میں لکھ چھوڑا ہے۔ نوید بٹ کو اللہ تعالیٰ نے اچھی آواز کے ساتھ خوبصورت ترنم بھی دیا ہے جس کا مظاہرہ ہم نے یہاں کے مشاعرے کے دوران دیکھا۔نوید اب دفتر جانے کو تیار تھا اور اسے رات گئے کوئی دو بجے واپس آنا تھا جو عموی طور پر میرے جاگنے کا ہی وقت ہوتا ہے۔ اسی دوران جعفر بھائی کچن مین میز پر کھانا لگا چکے تھے جو میرے حساب سے نہ دوپہر کا اور نہ رات کا کھانا تھا اور میں

اس معاملے میں بھی خاصا سخت ہوں کہ بے وقت نہیں کھا سکتا۔ اس لیئے ان دوستوں سے معذرت چاہی اور صرف ساتھ دینے کے لیئے سلاد اور دہی سے لگ بھگ شکم سیری کر ہی لی۔
جعفر کی اہلیہ نے جو کھانا بنا کر بھیجا تھا وہ صرف اور صرف گوشت تھا اور حتیٰ کہ اگر بھنڈیوں کی سبزی بھی تھی تو وہ بھی گوشت میں پکی ہوئیں۔میں مزاج کے اعتبار سے گوشت خور نہیں بلکہ دال اور سبزی زیادہ پسند کرتا ہوں۔ بحر حال طے یہ پایا میں رات کو دس بجے کے قریب کھانا کھاؤں گا ان دوستوں نے جسیے میرے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔
اسی دوران سکندر میر ہم سب سے اجازت لیکر اس وعدے کے ساتھ چلے گئے کہ اگلے روز آئیں گے۔ایک ماہ سے مسلسل اسفار کی وجہ سے میرا گلا شدید خراب تھا اور سویڈن جانے سے کوئی ایک ہفتہ پہلے میں برسلز سے آیا تھا جہاں برادرم علی رضا کی والدہ کی برسی کی مجلس ہوتی ہے۔ یہاں سے ہر سال سے میں خراب

گلے کے ساتھ آتا ہوں اور اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ خود علی رضا اور عمران بہت شدت سے سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور اسی وجہ سے میرا گلا جواب دے جاتا ہے۔ مجھے چونکہ علم تھا کہ رحمت علی بہت اچھی آواز کے مالک ہیں اس لیئے یہ بھی احساس تھا کہ وہ اپنے گلے کی حفاظت کے لیئے کوئی تیر بہدف نسخہ بھی جانتے ہوں گے ۔
اسی لیئے لندن سے چلنے سے پہلے میں نے رحمت علی کو اس خواہش سے آگاہ کر دیا تھا کہ مجھے انکے مجرب نسخے کی ضرورت ہے تا کہ گھنٹے ڈیڈھ گھنٹے کا مرثیہ بھی پڑھا جاسکے اور مشاعرے میں بھی پڑھنے میں کوئی دقت نہ ہو۔اسی لیئے گھر پہنچتے ہی میں نے رحمت کو نسخے کے بارے میں یاد کروا دیا تھا۔کھانے سے فارغ ہو کر رحمت علی نے میرے گلے کے لیئے لیموں،شہد اور کچھ اور مرکبات سے تیار کردہ گرم محلول مجھے دیا جسے پینے کے بعد واقعی گلے میں ایک واضع فرق محسوس ہوا۔تھوڑی دیر کے لیئے میں نے کمپیوٹر پر رحمت علی عالمی اخبار کا بلاگ لکھنے کا طریقہ سکھایا اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ صرف پندرہ منٹ دورانیے میں رحمت علی نے یہ سار عمل اس طرح سیکھ لیا کہ اب آج کل عالمی اخبار پر کالم کے ساتھ ساتھ بلاگ میں بھی اس نے جیسے ایک گلستان کھلایا ہوا ہے اور خاص طور پر گزشتہ دنوں اسکی ‘‘کھوتا کہانی‘‘ بہت مقبول ہوئی ہے۔
سکندر میر کے ساتھ ہی نوید بٹ بھی گھر سے روانہ ہو گئے تو اب میں،رحمت اور جعفر باتوں میں مصروف ہو گئے۔
جعفر نہایت سلجھی ہوئی طبیعت کے مالک ہیں اور اصول پسند آدمی ہیں۔ باتوں باتوں کے دوران انہوں نے میرے ایک مرحوم دوست اور محب محمد و آل محمد ‘‘ بلی بھائی‘‘ کا ذکر کیا جو جعفر مغل کے بھی دوست تھے اور یہان انکے ہاں قیام کر کے جا چکے تھے۔ بلی بھائی ایک کمال کی شخصیت تھی جو دو سال پہلے شام دمشق میں چہلم امام حیسن علیہ السلام کے سلسلے میں گیا تھا اور وہاں سے پاکستان گیا جہاں موت اسکی منتظر تھی۔ ہمیں جب لندن میں اسکے انتقال کی خبر ملی تو جیسے ایک ایک فرد اسکی یاد میں اشکبار تھا۔ہفتہ بارہ مئی 2007کو مشرقی لندن کی امام بارگاہ سکینہ ٹرسٹ میں مرحوم منیر مغل ال معروف بلی بھائی کے ایصال ثواب کی مجلس آج بھی مجھے یاد ہے جب ہر ایک انسان اس کو یاد کر رہا تھا۔
بلی بھائی 1954میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے اتبدائی تعلیم پنڈی میں حاصل کی اور اسی راولپنڈی کی مٹی نے اسے اپنی آغوش میں چھپا لیا۔ وہ بلی بھائی کے نام سے اسقدر مابول تھے کہ انکا کا اصل نام منیر مغل ہم سے اکثر
دوستوں کو انکی وفات کے بعد معلوم ہوا۔جعفر مغل بلتستانی سے بہت دیر تک بلی بھائی کی باتیں ہوتی رہیں اور رحمت علی بھی ان سے ملاقات کا ذکر کرتے رہے،مجھے پل بھر کو یوں محسوس ہوا جیسے بلی بھائی اسی کمرے میں کہیں موجود ہے اور ہماری باتیں سُن سُن کر مسکرا رہا ہے۔
ابھی ہم بلی بھائی کا ذکر کر رہے تھے کہ دروازے پر گھنٹی بولی اور اندر آنے والےصاحب کا تعارف رحمت علی اور جعفر مغل نے میاں جاوید کہہ کر کروایا جنہوں نے مجھ جیسے فقیر کو میرے قیام کے دوران بہت عزت دی اور لندن روانگی سے قبل صبح کا رات کے کھانے کی طرح کا ناشتہ بھی جو ہم نے کیا تو وہ انہیں میاں جاوید کے گھر پر تھا۔ ۔۔
جاری ہے