تمام مغربی قومیں ہاتھ میں احتجاجی بینر لیئے اپنی اپنی حکومتی پارلیمنٹ ہاؤسز کے سامنے صبح سے شام تک کھڑے رہتے ہیں ۔ ہر روز کئی روز تک ایسا ہی ہوتا ہے اور ان کی حکومت ان کے مطالبات مانے یا نہ مانے انہیں توجہ سے سنتی ضرور ہے

۔
برطانیہ ہو یا یورپ کے دیگر ممالک احتجاج کی یہی ایک موثر صورت ہے کہ احتجاج کا بنیادی مقصد اپنی بات یا نکتہ نظر پالیسی سازوں یا فیصلہ سازوں تک پہنچانا ہے۔
سڈنی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ایک پر امن احتجاج کرنے والے سے میری بات ہوئی اور اپنی اس حیرانی کا اظہار بھی کیا کہ آخر پر امن احتجاج کا سلیقہ کہاں سے پایا ۔۔
وہ شخص مسکرا دیا اور بڑی شائئستگی سے انگریزی میں بولا ‘ حضرت امام حسین علیہ السلام “ سے ۔۔ اس نے کہا پوری کائینات کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیجئے سب سے پہلا پر امن ، با معنی ، پر تاثر عالمگیر احتجاج کربلا کے میدان میں دس محرم کی صبح تک جاری رہا ۔ ۔۔۔ وہ تو اور بھی بہت کچھ بتاتا رہا پر میں وہاں تک ہی اس کی سن سکی تھی ۔۔
میں خود سے کہہ رہی تھی ۔۔ مسلمان ملکوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے دیکھتی ہوں تو جب تک آگ اور توڑ پھوڑ املاک کو خاکستر نہ کر دے ۔۔ دس افراد کی موت واقع نہ ہو ، نا ہی مسلمان حکمران سنتے ہیں اور نا ہی مظاہرے کامیاب ہوتے ہیں ۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ تازہ ترین مثال مصر کی ہے جہاں حُسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے لیئے ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد اب صدر مرسی کی جمہوری حکومت کو چلتا کرنے کے لیئے تحریر اسکوائر میں اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے جنکا ایک جزو لاینفک درجن بھر افراد کی موت اور املاک کو نقصان ضرور ہوتا ہے
آیئے عالم اسلام کے کچھ ممالک کی حالت زار سے آگاہ ہوتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔آئے روز کئی بے گناہ فلسطینی شہید کردیے جاتے ہیں، بے گناہ فلسطینوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ چند روز قبل صرف ایک دن میں فلسطین کے مرکز مقبوضہ بیت المقدس میں ایک سو پندرہ فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا -
۔۔۔ عراق میں ظالمانہ مختلف واقعات میں سویلین ہلاکتوں کی تعداد 3,976 رہی ہے -
۔۔۔۔میانمار برما میں گزشتہ سال سے مسلمانوں پر ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہے، 2012 سے اب تک دو لاکھ سے مسلمان شہید کیے جاچکے ہیں۔مسلمانوں کو زندہ جلایا جاتا ہے،برما میں مسلمانوں کی سینکڑوں مساجد جلادی گئی ہیں یا ڈھادی گئی ہیں۔مدارس ملیامیٹ کردیے گئے ہیں -
۔۔۔۔آزادی کے مطالبے کی پاداش میں روز کئی بے گناہ مسلمانوں کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔اب تک ایک لاکھ سے بھی زائد کشمیری بھارتی دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں -
۔۔۔۔چند مہینوں میں افغانستان میں 7559 افراد مارے جاچکے ہیں جن میں سے خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔
۔۔۔مصر میں جاری مظاہروں کے دوران صدر کے حامی اور مخالفین کے درمیان دارالحکومت قاہرہ میں جھڑپوں کے دوران درجن بھر افراد ہلاک ہوگئے ہیں
پاکستان میں اب تک سینکڑوں افراد مظاہروں اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو چکے ہیں ۔۔۔
مسائل یا اختلاف رائے کہاں نہیں ہوتا ۔ گھر سے لے کر ملکی ادارے اور مختلف ملکی اداروں سے لے کر مختلف ملکوں کے اداروں کے درمیان یہی کچھ ہوتا ہے ۔
مسلہ یہ ہے کہ جو بھی کسی سے تھوڑاسا بھی برتر ہے اسے اپنا آپ منوانے کا شوق رعونیت سکھا دیتا ہے اور تحمل سے بات سننا اس کی شان کے خلاف ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ مذاکرات سے بہتر کوئی امن کی راہ نہیں ۔ پر مذاکرات کے لئے “ افہام تفہیم “ بہت ضروری ہے اور اس کے لئے تحمل اور بردباری ، کشادہ دلی ، اعلی ظرفی بہت ضروری ہے ۔
مذاکرات اور گفتگو کے لیئے قران پاک میں کچھ آیات تکبر سے پرہیز کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ بعض آیات میں صبر و عفو و درگذر اور نرم خوئي ، آرام و سکوں سے پیش آنے اور تہمت و افترا اور سرگوشیوں سے پرہیز کرنے کی تلقین کی گئي ہے۔
کیا آج عالم اسلام میں پھیلی ہوئی بے سکونی ،دربدری ، زلت و رسوائی اور شکست کی وجہ یہی تو نہیں ہے کہ ہم عوام سمیت حکمرانوں میں نا اپنی بات کہنے اور سمجھانے کا سلیقہ ہے اور نا دوسروں کی بات سننے اور سمجھنے کا حوصلہ ؟
سچ پوچھیں تو احتجاج کی بھی ایک تہذیب ہے لیکن کیا ہم اس تہذیب سے آشنا ہیں؟