سیتاپور 07 جولائی(پریس رلیز) جب کہیں ادب کا ذکرہوتا ہے اور ادبی کاوشوں کی بات ہوتی ہے تو سیتاپور کی بزم اردو کا ذکر کئے بنا کوئی بات مکمل کر پانا ناممکن سا لگتا ہے۔ گزشت تیس برسوں سے میں بزم اردو کے فعال پروگراموں کو سن، دیکھ اور پڑھ رہا ہوں۔
اکثر ایسے موقع بھی آئے ہیں جب مجھے اس معروف ادبی تنظیم کے پروگرام میں شرکت کرنے کا موقع ملا ہے۔ مذکورہ بات بزم اردو کے دسویں ماہانہ طرحی پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے عوام کو خطاب کرتے ہوئے ممتاز نثر نگار اور سابق پرنسپل گورنمنٹ انٹر کالج حسین لکھنؤ ڈاکٹر رضا رضوی نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار بزم اردو نے طرحی مشاعروں کے ذریعہ ایک انقلاب پیدا کیا ہے جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے کیوں کہ انٹر نیٹ کے ذریعہ ہمارے شعراء کی رسائی عالمی سطح پر بزم اردو نے ممکن کی ہے۔
صدر مشاعرہ مست حفیظ رحمانی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا اردو کی بقا کی ذمہ داری اب صرف ہم اردو والوں کی ہے اور ادبی تنظیمیں اس کام کو بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو حکومتیں ہم سے وعدہ کرکے حکومت سازی کر رہی ہیں اور اردو اور مسلمانوں کا دم بھرتی نظر آتی ہیں وہ اردو کی جانب سے بے بہرہ ہیں۔ پرائمری درجات میں جبکہ سبھی مضامین کی درسی کتب حکومت کی جانب سے تقسیم کی جا رہی ہیں وہیں اردو کی کتابوں کی تقسیم حکومت نہیں کر رہی ظاہر ہے ایسا صرف اس لئے کیا جا رہا ہے کیوں کہ حکومت اردو دشمنی پر آمادہ ہے۔ اس موقع پر گزشتہ ماہ کے مصرع طرح لمحہ لمحہ ہے معتبر اپنا کے لئے بہترین غزل ایوارڈ قصبہ لہرپور کے ممتاز شاعر عمرؔ فاروقی کو پیش کیا گیا۔ عمرؔ فاروقی کا شمار ضلع کے معتبر شعراء میں کیا جاتا ہے جن کا تعلق حضرت شاہ مجتبیٰ عرف شاہ مجا قلندر کے چچازاد بھائی حضرت شاہ محمد ماہ قلندر کی خانقاہ سے کے سجادہ نشین بھی ہیں۔ اس مشاعرہ میں نیویارک امریکہ سے دستیاب ہونے والی غزل کو بھی شامل کیا گیا معلوم ہو کہ نیویارک کے ممتاز شاعر تنویر پھول نے اپنا کلام ائی میل کے ذریعہ آج کے مشاعرہ کے لئے بزم اردو کو ارسال کیا تھا۔
آج کے مشاعرہ میں تتلی کو پھولوں پہ مچلتے دیکھا ہے مصرع طرح پر جن شعراء نے اپنا طرحی کلام پیش کیا ان میں جناب مست حفیظ رحمانی، قمر گونڈوی، عمر فاروقی، مجاز سلطان پوری، حکمت شاہ آبادی، طارق کاظمی، منظر یٰسین، ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق،علیم ساحل، عارف محمد عارف، بدر سیتاپوری، شہرت انصاری، تنویر پھول، قادر لکھیم پوری، ڈاکٹر زبیر فاروقی، ڈاکٹر ثمر سنبھلی، اشتیاق علی صبا، محفوظ رحمانی، گلشن خیرآبادی، شفاعت خیرآبادی، ریحانہ عاطف، اختر خیرآبادی، ڈاکٹر عزیز خیرآبادی، ضیا انصاری، محور کھیروی، نفیس سیتاپوری اور نعیم بسیتوی نے اپنا طرحی کلا پیش کیا۔ مشاعرہ کو کامیابنانے میں سلیم اختر اور رضوان خان نے سر کردہ رول ادا کیا۔ مشاعرہ میں پسندیدہ اشعار اس طرح ہیں۔
منظر سارے چلتے چلتے دیکھا ہے
لمحہ لمحہ رنگ بدلتے دیکھا ہے
کیسا رنگ اور کیسی خوشبو دھوکا ہے
پھولوں کو پیروں سے مسلتے دیکھا ہے
مست حفیظ رحمانی
سچائی کی راہ پہ چلنے والوں کو
تلواروں کی دھار پہ چلتے دیکھا ہے
عمر فاروقی
موسیٰ بولے سب کا رازق ہے مولا
پتھر میں کیڑے کو پلتے دیکھا ہے
تنویر پھول، نیویارک امریکہ
ہم نے پاپی پیٹ کی خاطر دنیا میں
بچپن کو رسی پر چلتے دیکھا ہے
ڈاکٹر زبیر فاروقی
منظر جب سے چور ہوئے ہیں آنکھوں میں
خوابوں کو بھی آنکھیں ملتے دیکھا ہے
طارق کاظمی
اپنی منزل کی خواہش میں سورج کی
دھعوپ میں دیوانوں کو چلتے دیکھا ہے
منظر یٰسین
تم لے آئے بات کہاں سے غیروں کی
اپنوں کو اپنوں سے جلتے دیکھا ہے
شہرت انصاری
بے گانے تو دکھ کے ساتھی کیا ہوتے
اپنوں کو بھی روپ بدلتے دیکھا ہے
مجاز سلطان پوری
بھابھی کا وشواس کچلتے دیکھا ہے
بھیا کو کوٹھے سے نکلتے دیکھا ہے
ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق
جس کے حوصلوں میں مضبوطی ہے اس کو
گر گر کے سو بار سنبھلتے دیکھا ہے
حکمت شاہ آبادی
آپ کے قدموں کا ہے کوئی دوش نہیں
چکنی زمیں پر سب کو پھسلتے دیکھا ہے
بدر سیتاپوری
اپنی طاقت پر کیوں اتنے نازاں ہو
تم نے نہیں کیا سورج ڈھلتے دیکھا ہے
رضوان خان
جن کو نظر انداز کیا اس دنیا نے
عرف ان پیڑوں کو پھلتے دیکھا ہے
عارف محمد عارف
منصف کا انصاف بدلتے دیکھا ہے
سچائی کو جھوٹ میں ڈھلتے دیکھا ہے
علیم ساحل لاہرپوری
وقت کی ناقدری کے مجرم کو اک دن
پچھتاوے کی آگ میں جلتے دیکھا ہے
ڈاکٹر ثمر سنبھلی
رات کو جب دیر سے ہم گھر لوٹے ہیں
اماں کو بے چین ٹہلتے دیکھا ہے
محفوظ رحمانی
نیند نہیں جب آئی تنہا راتوں میں
وقت کا پہیا الٹا چلتے دیکھا ہے
اشتیاق علی صبا
ہم نے چراغ فکر کو راہ منزل میں
رات ہی کیا دن میں بھی جلتے دیکھا ہے
ڈاکٹر عزیز خیرآبادی
ہم نے غزل کے سورج چاند اگانے میں
صورت شمع خود کو پگھلتے دیکھا ہے
ریحانہ عاطف
ہم نے سیاسی تقدیروں سے اے قادر
لمحوں میں ماحول بدلتے دیکھا ہے
قادر لکھیم پوری
ماں کی دعا کو پھولتے پھلتے دیکھا ہے
آئی بلا کو ہم نے ٹلتے دیکھا ہے
محور کھیروی
ہر ظالم کو اہل وفا نے دنیا میں
نفرت ہی کی آگ اگلتے دیکھا ہے
گلشن خیرآبادی
کل تک جو تھے اپنے عالی شان محل
آج کھنڈر میں ان کو بدلتے دیکھا ہے
شفاعت خیرآبادی
خود کو تیری یاد میں جلتے دیکھا ہے
پتھر کو بھی ہم نے پگھلتے دیکھا ہے
ابرار اختر خیرآبادی
یارب کیسا دور ہے آج کی دنیا میں
بھائی سے بھائی کو جلتے دیکھا ہے
ضیا انصاری
سادہ پتھر بن جاتے ہیں تاج محل
شاہ کو جس پر عشق میں ڈھلتے دیکھا ہے
نفیس سیتاپوری