|
شہرِ رمضان فصل کی کٹائی کا مہینہ ۔۔از؛ جویریہ بتول ، کراچی
15.07.2013, 01:04am , سوموار (GMT+1)
جویریہ بتول ، کراچی
رمضان المبارک کا نام آتے ہی ذہن میں کچھ خاص کیفیات تازہ ہوجاتی ہیں،یہ خاص ذہنی کیفیت، یہ محسوسات، یہ معمولات اور یہ خاص ذہنی اور شعوری فضا جو رمضان کے نام سے ذہن میں آتی ہے ہر شخص کیلئے اپنا ایک الگ معنی و مفہوم رکھتی ہے، کچھ لوگوں کیلئے یہ ایک روٹین کانام ہے، کچھ کیلئے رمضان افطاریوں، دعوتوں،ملاقاتوں اور پروگراموں کا نام ہے ،کچھ کیلئے ایک لگے بندھے افعال کا مجموعہ ہے جبکہ اہل ایمان کیلئے اللہ کی رضا وخوشنودی کے حصول کا نام ہے۔
ماہ رمضان المبارک ہر سال آتا ہے ،اللہ ربّ العزت کی رحمتیں، مغفرتیں اور پروانہ نجات عطا کرتا ہے،اہل سعادت اپنے دامن بھرتے اور محروم رہ جانے والے محروم رہ جاتے ہیں،رمضان قلب اور شعور کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے اورہر شخص کیلئے رمضان کا مفہوم اس لیے مختلف ہے کہ وہ اس مفہوم کو اپنے کرداروعمل سے خود متعین کرتا ہے،یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص کا اپنا ”رمضان“ ہے،اس کا انحصار دراصل اس بات پر ہے کہ کوئی شخص رمضان میں خود کو کیا پاتا ہے۔بہرحال ہر مسلمان ”اپنے اپنے رمضان“ کا منتظر ہے جو چند دنوں میں آیا چاہتا ہے اور اس کے گزر جانے کا پتہ تک نہ چلے گا۔ البتہ اصل سوال یہی رہے گا کہ رمضان ہمیں کیا دے کر گیاہے۔؟
جب ایسا ہے تو پھر ان گنتی کے دنوں کے حوالے سے اپنا مفہوم اور اپنی توقعات درست کر لینا اورایک بار ازسرنو متعین کرلینا ضروری عمل بن جاتا ہے،کیونکہ آپ رمضان سے کیا پاتے ہیں،اگر اس کا انحصار اس کے دینے پرنہیں بلکہ آپ کے لینے پر منحصر ہے تو پھر آپ کو اپنی طلب کیلئے یقینا کچھ محنت کی ضرورت ہے،ویسے بھی دنیا میں سب کچھ ملتا ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ آپ کو یہاں سے کیا چاہیے۔؟ بہت سے لوگ بس اسی سوال کا تعین نہیں کرپاتے جس کے سبب سے ان کیلئے زندگی بے معنی ہوجاتی ہے، تب وہ اس زندگی سے اس چیز کی امید لگا لیتے ہیں جس کا دے دینا اِس زندگی کے بس کی بات نہیں۔جب ہوش آتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اوروقت نکل چکا ہوتا ہے۔کہتے ہیںکسی عمل میں نیت اور قصد کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے، آپ کا یہ تعین نہ کر سکنا کہ آپ کو ایک عمل سے کیا برآمد کرنا ہے، آپ کی پہلی ناکامی ہے، کامیاب عمل وہ ہے جو آپ کا وہ مقصد پورا کرے جو اس عمل سے آپ کے پیش نظر ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ آپ کی ناکامی ہے، اس کا الزام عمل کو نہیں جاتا،یاد رکھیںعملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کے حصہ میں وہی کچھ آئے گا جو (عمل سے) دراصل اس کی منشا ومراد تھی، تو آئیے رمضان شروع ہونے سے پہلے اپنے مقصود او رمطلوب کا تعین کرلیں۔
ماہِ رمضان میں اللہ تعالیٰ بندوں کے رزق میں اضافہ فرماتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ماہ ِ رمضان میں جس نے اپنے ماتحتوں سے ہلکاکام لیااس کے لیے بھی جہنم سے نجات ہے“۔(مشکوۃ) رمضان المبارک جلد ہی ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔یقینا ہمارے دل میں اس ماہ کی بڑی قدرہے لیکن کیاہم اس کے لیے تیاری کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے اہل خانہ کو توجہ دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس سلسلے میں تیاری کریں اور غفلت سے کام نہ لیں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے میں صحابہ کرام کو اکٹھاکرتے اورخطبہ دیتے جس میں انھیں رمضان کی آمدکی خوش خبری سناتے تھے۔رمضان کی فضیلت اور اہمیت کے پیش نظر اس کی تیاری کے سلسلے میں توجہ دلاتے۔ایسے ہی خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اے لوگو! عنقریب تم پر ایک عظیم الشان ماہ مبارک سایہ فگن ہونے والا ہے۔اس ماہ مبارک میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزارراتوں سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے فرض کیے،اس کے قیام کو اپنی خوشنودی کا ذریعہ قراردیا،توجس شخص نے اس ماہ میں ایک چھوٹا سا کارخیرانجام دیااس نے دیگرماہ کے فرائض کے برابرنیکی حاصل کرلی،یہ صبراورہمدردی کا مہینا ہے۔
ساتھ ہی یہ وہ ماہ مبارک ہے،جس میں اللہ اپنے بندوں کے رزق میں اضافہ فرماتاہے۔اس ماہ مبارک میں جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا۔ روزے دار کے روزے میں کمی کے بغیراس نے روزے دارکے برابرثواب حاصل کیا۔ اورخود کو جہنم سے بچالیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ہرشخص تو روزے دارکو افطارکرانے کی استطاعت نہیں رکھتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزے دار کو پانی کا گھونٹ پلایا،یا دودھ کا گھونٹ پلایا،یا ایک کھجورکے ذریعے افطار کرایااس کا اجراسی کے برابر ہے اوراس کے لیے بھی جہنم سے نجات ہے۔ اس سے روزے دار کے اجرمیں کمی نہیں ہوگی۔جس نے اپنے ماتحتوںسے ہلکاکام لیااس کے لیے بھی جہنم سے نجات ہے۔(مشکوۃ) اگرہم استقبال رمضان کے لیے تیارہیں تو ہمیں چندباتوںکا لحاظ کرنا ہوگا۔سب سے پہلے یہ کہ ہم اپنے نفس کو آمادہ کریں اوراس ماہ مبارک میں امور خیر انجام دینے کے لیے عملی اقدام کریں۔اس ذیل میں چندچیزیں آتی ہیں جن کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے۔
۔کوئی بھی کام بغیرمشیت الٰہی کے ممکن نہیں تو ہمیں اس کے لیے خدا سے توبہ واستغفار کے ساتھ دعاکا اہتمام کرنا چاہیے۔اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاﺅں کا اہتمام کیا جائے۔
توبہ کا اہتمام کیاجائے توبہ میں انسان اپنے رب کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتا ہے۔ گناہوںکا جوفاصلہ انسان اوراس کے رب کے درمیان ہوتاہے وہ ختم ہوجاتاہے۔نیک کاموںکی طرف رغبت بڑھتی ہے جورمضان کی دیگر عبادات میں بھی معین ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:اے مومنو! تم سب مل کراللہ سے توبہ کرو،توقع ہے کہ تم فلاح پا جا گے (النور:31)توبہ سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو،میں دن میں سو بار توبہ کرتاہوں(مسلم)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعاکا بھی اہتمام کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعامنقول ہے۔” الھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان“”اے اللہ ہمیں رجب وشعبان میں برکت دے اور رمضان تک صحیح سلامت پہنچا۔“
۔گزشتہ رمضان کے روزے رہ گئے ہوں تو اُنہیں فوراً شعبان کے مہینے میں ہی ادا کرلینا چاہیے۔ ابوسلمی کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: میرے ذمہ رمضان کا کوئی روزہ ہوتاتھا تومیں اسے شعبان میں ہی پورا کرلیتی تھی۔(متفق علیہ)
رمضان المبارک کی سب سے اہم عبادت روزہ رکھنا ہے ،اس لیے اس کی عادت ڈالنے کے لیے شعبان کے مہینے میں وقفے وقفے سے روزے رکھنے چاہییں، تاکہ پوری طرح نشاط رہے اوراس بات کا احساس رہے کہ آئندہ ماہ کے تمام روزے رکھنے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ شعبان کے مہینے میں بکثرت روزے رکھاکرتے تھے۔مگرپورے ماہ کے روزے صرف رمضان کے ہی رکھتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رمضان ہی میں پورے ماہ کے روزے رکھتے اور ماہ شعبان میں زیادہ ترروزے رکھتے تھے۔(متفق علیہ)
ایک مشہورحدیث ہے کہ اعمال کا دارومدارنیتوںپر ہے۔جیسی نیت ہوتی ہے ، معاملہ اسی اعتبارسے ہوتاہے۔ اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے کہ انسان کسی نیک کام کی نیت کرتاہے تواس کا عمل اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیاجاتاہے۔(مسلم) اس لیے ہم رمضان المبارک کے آغازہی میں اپنی نیت کو درست کریں اوربہت سے نیک اعمال کرنے کی نیت کرلیں۔مثلا ً تلاوت قرآن کی کثرت،گناہوںسے توبہ کا اہتمام،دعاواذکارکی پابندی،عبادات کا التزام،لوگوںسے معاملات درست کرنے کی نیت، شعبان کے کچھ روزے رکھنا تاکہ آئندہ ماہ کے لیے مشق ہوجائے،دینی وتربیتی کتابوںکا مطالعہ ،رمضان سے متعلق دینی بیانات جوسی ڈی وغیرہ کی شکل میں ہوںتوان کا سننا تاکہ رمضان کااحساس دل میں رہے اوراس کی تیاری پرتوجہ ہوسکے۔
رمضان المبارک کی خصوصیت ہے کہ اس ماہ مبارک میں نزول قرآن ہوا۔اس مناسبت سے عام دنوں کے مقابلے میں لوگ قرآن کو زیادہ پڑھتے ہیں تلاوت ایک عبادت ہے اس لیے بھی اس ماہ مبارک میں اس کا اہتمام کیاجاتاہے۔مگریہ عمل بھی تیاری چاہتاہے چنانچہ ہم شعبان کے مہینے سے ہی اپنی یومیہ مسلسل تلاوت شروع کردیں اوراس بات کی نیت کرلیں کہ رمضان میں ایک بار پورے قرآن کا ترجمے کے ساتھ اعادہ کرناہے۔ اللہ کا فرمان ہے”ماہ رمضان جس میںقرآن کریم کا نزول ہواجوتمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔“
ایک کسان جب تک کھیت میں بیج نہیں ڈالے گا ، موقع بہ موقع سیراب نہیں کرے گا توکھیت کے لہلہانے کی توقع فضول ہے۔ٹھیک یہی حال رمضان اور اس کی تیاری کا ہے۔ شیخ ابوبکرالبلخی رحم اللہ علیہ کہتے ہیں”ماہ رجب کا شت کاری کا مہینہ ہے،ماہ شعبان اس کی سیرابی کا مہینہ ہے اورشہر رمضان کھیت کٹائی کا مہینہ ہے،اسی طرح ماہ رجب کو ہوا،شعبان کو غیم اور رمضان کو بارش سے تعبیرکرتے ہیں۔جس نے اعمال کی کھیتی کے موسم بہارمیں کاشتکاری نہیں کی اورماہ رجب میں اس کا پودانہیں لگایا اورشعبان میں اسے سیراب نہیں کیاتو وہ ماہ رمضان اعمال میںکے کھیتی کی کٹائی کیسے کرسکتاہے۔اگرماہ رجب گزرگیاہے تو کم ازکم شعبان کے مہینے سے اس کی کوشش کی جائے۔یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلاف کا طریقہ رہا ہے۔“‘
آج کل مسلمان دین کے معاملے میں غفلت کا شکارہیں اوراپنے کاموںمیں اس قدر محوہیں کہ اس کی تیاری کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا، حالانکہ گھرکے ذمہ دارفرد کو اتنا وقت نکالناچاہیے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے درمیان رمضان اوراس کے احکام کی تعلیم دے سکے،اگروہ نہیں جانتاتوعلماسے معلوم کرے اورمساجد کے ائمہ کے خطبات سے فائدہ اٹھائے۔ ماہ رمضان کا یومیہ پروگرام یہ ذہن بنائیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں صرف کرنا ہے ،فرض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی بکثرت اہتمام کرنا ہے۔اس کے لیے یومیہ پروگرام ترتیب دیں جس میں درج ذیل باتوںکا خیال رکھیں۔
الف۔ فجرسے پہلے کے کام۔ تہجدکا اہتمام: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:” یا وہ جومطیع وفرماں بردارہے رات کے پہرمیں سجدہ اور قیام کی حالت میں ہوتا ہے اوراپنے رب سے رحمت کی امید لگاتا ہے۔“ ‘ (الزمر:9
ب۔ سحرگاہی کا اہتمام۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: سحری کا اہتمام کیاکروکہ اس میں برکت ہے۔(متفق علیہ) فجرکی سنت کا اہتمام۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ فجرکی دورکعت دنیا اوراس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔‘ ‘( مسلم)
ج۔ دعا اوراذکارمیں اپنا وقت لگائیں خاص طورسے اذان اورنماز کے درمیان ِ اوقات میں، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اذان اور نماز کے درمیان کے وقت دعائیں ردنہیں کی جاتیں۔“(متفق علیہ
د۔ فجرکے بعد سے طلوع شمس تک ذکر اور تلاوت قرآن کے لیے مسجدمیں قیام کو لازم پکڑلیں ۔” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجرکی نمازکے بعدطلوع شمس تک اپنے مصلے پر بیٹھے رہتے تھے۔(مسلم) ایک جگہ ارشادہے،فجرکی نماز کے بعد طلوع شمس تک اللہ کا ذکرکرتارہا پھردورکعت نماز ادا کی اس کا اجرایک مکمل حج اورعمرے کے مانند ہے۔ (ترمذی
ھ۔ اس دعاکا اہتمام کہ اللہ ہمارے دن میں برکت دے۔ اللھم انی اسالک خیرمافی ہذا الیوم فتحہ ونصرہ ونورہ وبرکتہ وہداہ واعوذبک من شرمافیہ وشرمابعدہ( ابوداﺅد
و۔ ظہرکی نماز کی تیاری کرے ،فراغت کے بعد بدن کو تھوڑی راحت دے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے”سحری کھا کر روزے پر اور قیلولہ (دوپہرکے وقت سونے ) کے ذریعے رات کی نماز پر مددحاصل کرو۔“ (ابن ماجہ )
ز۔ اگرصاحب حیثیت ہیں اور خدانے مال ودولت سے نوازا ہے توغرباپر مال خرچ کریں اورانھیں افطار کرانے کا نظم کریں۔ کیوں کہ یہ عمل اللہ کو بے حد پسندہے۔
|