عرب دینا میں رمضان اور کھجوریں لازم ملزوم ھیں کجھوروں سے روزہ افطارکرنا سنت ھے

کھجور ایک قسم کا پھل ہے۔ کھجور زیادہ تر خلیج فارس کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے اعلٰی کھجور عجوہ ہے جو سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔ کھجور کا درخت دنیا کے اکثر مذاہب میں مقدس مانا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں اس کی اہمیت کی انتہا یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام درختوں میں سے اس درخت کو مسلمان کہا ہے کیونکہ صابر، شاکر اور اللہ کی طرف سے برکت والا ہے۔
قرآن مجید اوردیگر مقدس کتابوں میں جابجا کھجور کا ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ گھر ایسا ہے کہ جیسے اس میں کھانا نہ ہو“ اور جدید سائنس نے اب یہ بات ثابت کردی ہے کہ کھجور ایک ایسی منفرد اور مکمل خوراک ہے جس میں ہمارے جسم کے تمام ضروری غذائی اجزاءوافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔رمضان المبارک میں افطار کے وقت کھجور کا استعمال اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے چونکہ دن بھر فاقہ کے بعد توانائی کم ہوجاتی ہے اس لیے افطاری ایسی مکمل اور زود ہضم غذا سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ طاقت و توانائی فراہم کرسکے اور کھجور یہ تمام مقاصد فوراً پورا کردینے کی اہلیت رکھتی ہے
شدید گرمی کے عالم میں توانائی فوری طور پر بحال کرنا ہو تو کھجور اس کیلئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔
پیٹ کے کیڑے مارنے کیلئے نہار منہ اس کا استعمال مفید ہے۔
تازہ پکی ہوئی کھجور کا مسلسل استعمال خون کثرت سے آنے والی بیماری میں فائدہ مند ہے۔ یہ کیفیت غدودوں کی خرابی‘ جھلیوں کی سوزش، غذائی کمی اور خون میں فولاد کی کمی وغیرہ سے پیدا ہوسکتی ہے۔ کھجور ان میں سے ہر ایک کا مکمل علاج ہے۔
دل کے دورے میں کھجور کو گٹھلی سمیت کوٹ کر دینا جان بچانے کا باعث ہوتا ہے چونکہ دل کا دورہ شریانوں میں رکاوٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے شریانوں میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہونے والی تمام بیماریوں میں کھجور کی گٹھلی تریاق کا اثر رکھتی
ہے۔
چونکہ کھجور رافع قولنج اور جھلیوں سے سوزش کو دور کرنے کیلئے مسکن اثرات رکھتی ہے اس لیے دمہ خواہ وہ امراض تنفس سے ہو یا دل کی وجہ سے اسے دفع کرتی ہے۔
کھجور کا مسلسل استعمال اور اس کی پسی ہوئی گٹھلیاں دل کے بڑھ جانے میں مفید ہیں۔ یہی نسخہ کالاموتیا کے مریضوں کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔
بلغم کو خارج کرتی ہے لہٰذا بعض ماہرین اسے تپ دق میں موثر قرار دیتے ہیں۔
پرانے قبض کی بہترین دوا اور بہترین علاج ہے۔٭کھجور کے درخت کی جڑوں کو جلا کر زخموں پر مرہم کی صورت میں لگانے سے زخم بہت جلد ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اس سفوف کے منجن سے دانت کا درد جاتا رہتا ہے۔ سوزش میں ایک بہترین ٹانک کا درجہ رکھتا چند دنوں تک کھجور کے باقاعدہ استعمال سے کوڑھ کے مرض میں فائدہ ہوتا ہے۔
نوزائیدہ بچے کو کھجور منہ میں چبا کر تھوڑی تھوڑی کھلائیے۔
جلی ہوئی کھجور زخموں سے خون بہنے کو روکتی ہے اور زخم جلدی بھرتی ہے‘ خشک کھجور کو جلا کر راکھ بناکر بوقت ضرورت استعمال میں لایا جاتا ہے۔
کھجور کو خشک کرکے ہمراہ گٹھلی رگڑ کر منجن بنایا جاتا ہے جو دانتوں اور مسوڑھوں کومضبوط کرتا ہے۔
مغز بادام دو تولے اور کھجور دو تولے کھانا باہ کو مضبوط کرتا ہے۔
کھجور کے ساتھ کھیرا کھانے سے جسم توانا اورخوبصورت ہوجاتا ہے۔
کھجور کو دھو کر دودھ میں ابال کر دینا زچگی کے بعد کی کمزوری اور بیماری کے بعد کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔
کھجور کو نہار منہ کھایا جائے تو یہ پیٹ کے کیڑے مارتی ہے۔
کھجور کھانے سے عمر میں اضافے کے ساتھ نظر کی کمزوری کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت اندھے پن کی شکایت رفع کرنے میں کھجور کی افادیت مسلم ہے۔ جو لوگ اکثر قبض کے شاکی ہوتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ
کھجور سے استفادہ کریں ، اس لئے کہ کھجور میں موجود حل پذیر ریشے آنتوں کو متحرک کرکے فضلے کے اخراج میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے کھجور کو ایک گلاس پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیا جائے ، بعد میں اسی پانی میں انہیں حل کر کے شربت کی صورت میں صبح کے وقت پی لیا جائے تو یہ بہترین قبض کشا دوا کا کام کرے گی۔
کھجور کھانے میں احتیاطیں
کھجور کے ساتھ منقہ یا کشمش نہیں کھانا چاہیے نہ ہی اسے انگور کیساتھ استعمال کریں۔
نیم پختہ کھجور کو پرانی کھجور کیساتھ ملا کر مت کھائیں۔
کھجور کا ایک وقت میں زیادہ استعمال ٹھیک نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سات آٹھ دانے کافی ہیں وہ بھی اس صورت میں جب کھانیوالا حال ہی میں بیماری سے نہ اٹھا ہو۔
جس کی آنکھیں دکھتی ہوں اس کیلئے کھجوریں کھانا مناسب نہیں۔
کھجور کیساتھ اگر تربوز کھایا جائے تو اس کی گرمی تربوز کی ٹھنڈک سے زائل ہوجاتی ہے۔
کھجور کیساتھ مکھن استعمال کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
جو خواتین دبلے پن کا شکار ہوں وہ تازہ پکی ہوئی کھجوریں اور کھیرے کھائیں بہت جلد اپنے جسم میں نمایاں تبدیلی محسوس کریں گی۔
کھجور کیساتھ انار کا پانی معدہ کی سوزش اور اسہال میں مفید ہے۔
مسلمانوں اور عرب ملکوں کے حوالے سے کھجور کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں کھجور کا استعمال پوری اسلامی دنیا میں بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت کھجور سے روزہ افطار کر کے سنت

محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتی ہے۔ افطارکے موقع پر کھجور استعمال کرنے کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ کھجور کی مٹھاس بھوک کی شدت کو بڑی حد تک کم کر دیتی ہے اور اس سے روزہ کھلونے کے بعد بہت زیادہ کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کھجور کو بجا طور پر صحت بخش غذا کا درجہ دیا جا سکتا ہے، اس میں بے شمار معدنی غذائی اجزا شامل ہیں۔
کھجور کی معتدد اقسام ھیں
أفندي جبيلي مكتومي سويدا عجوة
كعيكه منيفي شهل عنبرة خلاص
مسكاني شلابي بيض خضري مشوكة
شقري برني خصاب ربيعة صفري
برحي لونة رشوديه سكري غر
لبانة صفاوي صقعي حلوة مبروم
شيشي ونانة حلية سارية ذاوي
انکے نام انکی اشکال انکے ذائقہ سب مختلف مگر بہت مفید ھوتے ھیں
کاش ھم اپنے روزمرہ کھانوں میں ان لذت و غذايئت بخش کھجوروں کو شامل کرلیں
کھجور۔ ۔ ۔ ایک صحت بخش غذا بھی، دوا بھی
خالقِ کائنات نے انسان کے لئے اس دنیا میں انواع و قسام کی نعمتوں کو عام کیا ہے۔ ۔ ان میں سے ایک بڑی نعمت کھجور ہے جو نبی علیہ السلام کی من پسند غذا تھی۔ ۔۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے۔ ۔ کہ کھجور کا گھابھا آیا۔ ۔ آپ نے ہم سے فرمایا۔ ۔ “درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جسے اللہ تعالٰی نے ایسی برکت دی ہے جیسے وہ مسلمان ہے۔” میں نے گمان کیا کہ آپ کی مراد کھجور کے درخت سے ہے۔ اور میرا ارادہ ہوا کہ میں جواب میں عرض کروں کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ درخت کھجور کا ہے مگر مجبوراً اس لئے چپ رہا کہ اتنے لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ ۔۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا کہ “وہ درخت کھجور کا ہے۔۔”
ایسی کونسی چیز کھجور کے اندر ہے جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک کھجور اور اس کی گھٹلی پر سارا دن گزار دیتے تھے۔ ۔ ۔ کھجور کو اگر طبعی طور پر دیکھا جائے تو اس کے سینکڑوں فوائد سامنے آتے ہیں۔ ۔ ۔
کھجور سے روزہ افطاری سنت رسول ہے۔ ۔
مسلمانوں کو کھجور سے روزہ افطار کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا دن بھر بھوک اور پیاس کی مشقت برداشت کرنے کے بعد روزہ دار کو کھجور ہی سے روزہ افطار کرنے کی ترغیب کیوں دی گئی ہے۔ ۔ ۔؟ دراصل روزہ رکھنے

کی وجہ سے جسمانی قوتوں میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔ دوسرے، دن بھر کچھ نہ کھانے کی وجہ سے معدے میں تیزابی رطوبتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ ۔ ۔ اس لئے افطار ایسی شے سے کرنا چاہیے جو ان دو کیفیات میں مفید ثابت ہوں۔ ۔ ۔ کھجور میں قدرت نے ایسے اہم غذائی اجزاء شامل کر دیئے ہیں جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کھجور میں پائے جانے والے نمکیات اور معدنیات معدہ کی بڑھی ہوئی تیزابیت کو اعتدال میں لے آتے ہیں۔ ۔ ۔ اسکے علاوہ ان کی وجہ سے معدہ اور آنتوں پر مسکن (سکون دینے والے) اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ۔ خاص طور پر وہ افراد جو زخم معدہ (السر) کے مریض ہوں، ان کے لئے تو ایسے عالم میں کھجور بے حد مفید ثابت ہوتی ہے۔ ۔۔
اسی طرح یہ بات واضح ہے کہ کھجور سے روزہ افطار، نہ صرف باعث ثواب ہے بلکہ طبی اعتبار سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ۔۔ کھجور صرف روزہ افطار کرنے کی صورت میں ہی مفید نہیں۔ بلکہ اس کے اور بہت سے فوائد ہیں۔ ۔ غذائیت کے لحاظ سے یہ ایک بہترین اور مقوی غذا ہے۔
ھمارے ملکوں میں کھجور کھانے کا رواج زیادہ نہیں ہے۔ ۔ بڑے شہروں میں تو کھجور صرف رمضان المبارک میں نظر آتی ہے۔ ۔ اور اس سے روزہ افطار کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ ۔
لیکن افطار میں بھی یہ ہوتا ہے کہ لوگ محض ایک کھجور منہ میں رکھ کر پکوڑوں، دہی بڑوں اور دیگر چٹ پٹی اشیاء کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ ۔ حالانکہ دن بھر کے روزے کے بعد اگر کھجور سے فائدہ اٹھانا مقصود ہی ہے۔ ۔ تو کم از کم چھ سات کھجوریں تو ضرور کھانی چاہئیں۔
آيئے ھم کوشش کریں کہ اپنی روزمرہ کی غذا کے طو ر پر اس رمضان سے کجھور وں کو اپنے کھانے کی زنیت بناتے ھیں
تاریخ اسلام میں سب سے پہلا ہارٹ اٹیک حضرت سعد بن ابی وقاص کو ہوا نبی اکرم نے ان کاعلاج عجوہ کھجور کی گٹھلیاں کھلا کر کیا اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہوگئے۔
 |
| عجوہ کھجور |
عجوہ آج بھی مدینہ کی عمدہ ترین،لذیز ترین اور انتہائی مہنگی کھجور ہے۔
حضرت محمد نے فرمایا کہ “جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں وہ گھر ایسا ہے کہ جیسے اس میں کھانا نہ ہو،اور جدید سائنس نے اب یہ بات ثابت کردی ہے کہ کھجور ایک ایسی منفرد خوراک ہے جس میں ہمارے جسم کے تمام ضروری غذائی اجزاءوافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ نہار منہ اس کے سات عدد کھانے میں زہر اور سحر سے حفاظت ہوگی۔
عالم اسلامی و عالم العربی میں کھجوروں کو بہت ھی خاص مقام حاصل ھے کھجور کا ذکر رشد و ھدایت کی مقدس کتاب قرآن کریم میں بھی آیا ھے اور احادیث میں بھی کھجور کا ذکر کثرت ومحبت کیا گیا ھے
دینا ميں 450 اقسام کی کھجوریں ھیں یہ انتہائ قدیم پھل ھے تاريخ کی کتابوں میں لکھا ھے کہ 6 ھزار سال قبل سے کھجور کی کاشت و تجارت کی جاتی تھی
اسکو عرب بلح ، رطب و تمر بھی کہتے ھیں
مجھے اس بات کی بہت خوشی ھوئ کہ دینا کے 20ممالک جو کھجور کی پیداوار میں اپنا نام رکھتے ھیں ان میں پاکستان بھی شامل ھے
مصر 1,352.95
السعودية 1,078.30
إيران 1,023.13
الإمارات 775.00
پاکستان 759.20
الجزائر 710.00
العراق 566.83
السودان[11] 431.30
عمان 276.40
ليبيا 161.00
الصين 147.60
تونس 145.00
المغرب 119.36
اليمن 57.85
النيجر 38.50
تركيا 26.28
قطر 23.50
فلسطين[12] 21.60
الولايات المتحدة 21.50
موريتانيا 19.90
اس مضمون کی تیاری میں گوگل سرچ سے بھی مدد لی گئی ہے